Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

یہ دل مانتا ہے کہ دونوں بچیوں کو ایک ہی وقت میں ہارٹ اٹیک ہو گیا؟ اور دونوں بچیاں ایک ہی وقت میں مر گئی؟ آج ہم صحافی اتنے بے ہس ہو چکے ہیں؟ کہ غریب کی دو بچیوں کے لیے آواز نہیں اٹھا پا رہے؟ اسد علی طور

89,243 views • 17 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

کہتے ہیں انسان کا عروج بھی ہوتا ہے اور زوال بھی۔ اور اگر عروج کے بعد زوال دیکھنا ہو تو مولانا طارق جمیل کی مثال سامنے ہے۔ ایک وقت تھا جب مولانا طارق جمیل کی آواز میں ایسا اثر تھا کہ تبلیغی اجتماعات میں لاکھوں لوگ ان کی دعا میں شریک ہوتے تھے۔ بڑے بڑے لوگ عزت و احترام سے انہیں اپنے گھروں میں بلاتے تھے۔ خود مولانا کا بیان ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے بطور وزیراعظم انہیں اپنے گھر دعوت پر بلایا اور خصوصی طور پر ان کے لیے کھانا تیار کروایا۔ اگر کسی نے محبت اور خلوص سے ایک انسان کے لیے کھانا بنوایا ہو تو انسان کم از کم دو نوالے ہی اس کی خوشی کے لیے کھا لیتا ہے۔ لیکن صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ “مجھے بھوک نہیں تھی، اس لیے نہیں کھایا”، کسی کی محبت کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ اصل سبق یہ ہے کہ عروج ہمیشہ نہیں رہتا۔ انسان کو اپنے عروج میں عاجزی، شکر اور اخلاق نہیں چھوڑنے چاہئیں، کیونکہ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ آج مولانا طارق جمیل کے حوالے سے جو حالات اور فاصلے نظر آتے ہیں، وہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہیں۔ ہر عروج کا زوال ہوتا ہے۔ انسان کو عروج میں ہی عاجزی اختیار کرنی چاہیے، کیونکہ زوال کے بعد پچھتاوا کسی کام نہیں آتا۔

Sajid usmani

81,503 views • 10 days ago

عمران نیازی کا ایک اور بین الاقوامی سکینڈل آنے کو ہے۔۔ ایپسٹن سکینڈل کیا ہے؟ جیفری ایپسٹن اور اسکی پارٹنر گیزلین میکسول پر ایک کیس چلا جس کے مطابق نوے کی دہائی میں ایپسٹن نے اپنے جزیرے پر ایک مکروہ دھندہ شروع کیا جس میں تیرہ سے سترہ سال کی بچیوں کو سیکس کے لیے انٹرنیشنل کلائنٹس کو پیش کیا جاتا ، جزیرے تک آنے کے لیے جہاز کا بندوبست بھی یہی لوگ کرتے اور کام مکمل ہونے کے بعد کلائنٹ کو واپس چھوڑا جاتا ، اس کیس کی شروعات انہی متاثرہ بچیوں میں سے ایک بچی کی شکایت پر شروع ہوئی اور دونوں کو مجرم قرار دے دیا گیا اب تک کی کارروائی کے مطابق لسٹ میں سے چند نام سامنے آ چکے ہیں جبکہ بہت سے نام سامنے آنا باقی ہیں جن لوگوں کے نام آئے ہیں ان میں مشہور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ سابق امریکی صدر ٹرمپ عمران خان کے سسر گولڈ سمتھ کے علاوہ بہت سے ماڈل ایکٹرز اور بزنس مین شامل ہیں یہ سب وہ مکروہ کردار ہیں جنہوں نے جنسی خواہشات کے لیے بچیوں کے ساتھ زیادتی کی اس لسٹ میں ایک شخص کے بارے میں عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ وہ ایک وزیراعظم ہے یاد رہے یہ کیس 2020 میں چلا تھا اور اس وقت ایک ہی ایسا وزیراعظم تھا جس کے میکسول یا ایپسٹن کے ساتھ لنکس تھے اور وہ کوئی اور نہیں عمران خان ہے اب کہانی یہاں پہنچی ہے کہ اس وزیر اعظم کے وکیل نے اپنے کلائنٹ کے کوڈ نیم Doe 107 سے درخواست دائر کی ہے کہ اسکے کلائنٹ کا نام شائع نہ کیا جائے کیونکہ اسکا جس ملک سے تعلق ہے وہاں ایسی باتوں کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور اسکا ملک کی روایات کی وجہ سےسوسائٹی میں بہت بڑا ردعمل آئے گا یہاں یہ بات بھی یاد رہے کہ وسیم اکرم نے ایک ٹی وی شو میں بتایا تھا کہ ایک دفعہ عمران خان ایک خاتون دوست کے ہمراہ ایک پرائیویٹ جہاز میں سوار ہو کے کسی جزیرے میں چلا گیا تھا اور اب وقت نے بتا دیا وہ جزیرہ کونسا تھا اور جہاز کسکا تھا لیکن ابھی تک نام کی باقاعدہ تشہیر نہ کرنے کا فیصلہ نہیں آیا اور نام شائع ہو رہے ہیں.. (اسد آر چوہدری)

Asad R Chaudhry

77,501 views • 2 years ago