正在加载视频...

视频加载失败

یہ سُن کر آصف غفور یاد آ گیا کہ چھ مہینے میڈیا مثبت رپورٹنگ کرے 😆😆 اخے میں میڈیا اور سھیل وڑائچ سے ریکویسٹ کروں گا وہ صوبوں کی تقسیم پر اپنا مصالحہ تیز کر دیں کل سھیل وڑائچ کالم لکھے اور جو جو میڈیائی قلم فروش پنجاب کی...

61,162 次观看 • 1 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

یہ ابراہیم ہے، اسما نواز شریف کا بیٹا اور مریم نواز کا بھانجا، ایک سپیشل بچہ مگر سب سے بڑھ کر ایک مکمل انسان، جنید صفدر کی شادی کی تقریب میں اگر کوئی ایک منظر دل کو چھو گیا تو وہ اسی معصوم بچے کا تھا جو موسیقی کی دھن پر بے ساختہ خوشی سے جھوم رہا تھا، افسوس اس بات کا ہے کہ سوشل میڈیا پر اس معصوم بچے کی ویڈیو پر کچھ لوگوں نے منفی تبصرے کیے اور اسے والدین کے گناہوں کی سزا قرار دیا، حالانکہ سپیشل بچے گناہ اور سزا نہیں ہوتے بلکہ خدا کا تحفہ ہوتے ہیں، معذوری، آزمائش، صحت اور بیماری غریبی بیماری ان سب میں اللہ کی رحمت پوشیدہ ہوتی ہے جسے ہم دوسروں کی سزا سمجھ رہے ہوتے ہیں، بنانے والی ذات اللہ کی ہے اور وہ جسے جیسا بناتا ہے حکمت کے ساتھ بناتا ہے، گناہ تو وہ سوچ ہے جو خدا کی تخلیق کا مذاق اڑاتی ہے، مریم نواز خود کئی مواقع پر ابراہیم کا ذکر کر چکی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ بچہ توجہ اور احترام کا حقدار ہے، جنید صفدر کی شادی میں اس سپیشل بچے کی موجودگی اور اسے دی جانے والی محبت ایک مثبت مثال ہے کہ سپیشل بچوں کو الگ نہیں بلکہ ساتھ لے کر چلنا چاہیے، ضرورت اس امر کی ہے کہ سپیشل بچوں پر خصوصی توجہ دی جائے، انہیں پورا وقت دیا جائے کیونکہ کمی ان میں نہیں بلکہ ہماری سوچ میں ہے، اللہ نے ہر انسان کو خوبصورت بنایا ہے اور خدارا سپیشل افراد کا مذاق نہ اڑائیں اور نہ ہی ان پر تنقید کریں کیونکہ یہ معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا امتحان ہوتے ہیں۔

عباس خٹک

104,598 次观看 • 8 个月前

جو میں ایک مہینے سے لکھ رہا تھا۔۔ وہ اب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی بھی کہہ رہا ہے۔ اور بلوچستان چیمبر آف کامرس والے بھی۔ میں نے عوام کے لیے تیل کی قیمتیں کم کرنے کے طریقے پر سب سے زیادہ ٹویٹس کیں۔ (چند ٹویٹس کو کمنٹس میں دوبارہ شئیر کرنے لگا ہوں) میں لکھ رہا تھا کہ پاکستان میں "پرائیویٹ سیکٹر"کو تیل کی سپلائی پورا کرنے کا موقعہ دیں۔ جو تیل پہلے ہی بلوچستان میں بک رہا ہے۔وہ ہی تیل 200 روپے میں پورے پاکستان میں ہر جگہ میسر وہ خود کر دیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے بھی کہا کہ آئل سیکٹر کو"ڈی ریگولیٹ"کر کے پرائیویٹ شعبے کے حوالے کر دیں وہ خود ہی مقابلے بازی میں سستا تیل لائیں گے جہاں بھی لائیں۔ میں اس پر بار بار لکھ رہا تھا کہ تیل کی قیمتیں چاہے پوری دنیا میں بڑھیں لیکن پاکستان کو ایڈوانٹیج یہ ہے کہ پاکستان۔۔اس ایران کا ہمسایہ ہے جس ایران میں پاکستانی 10 روپے لٹر تیل بک رہا ہے اور وہاں سے پہلے بلوچستان اور کراچی تک تیل آ ہی رہا ہے۔ بلوچستان چیمبر آف کامرس والوں کی پریس کانفرنس سن لیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم پورے پاکستان میں 200 روپے فی لٹر تیل ہر پٹرول پمپ پر مہیا کر سکتے ہیں۔ Shah e Rawan نے بھی کل کی یہ ویڈیو ریکارڈ کی جس میں 220 روپے لٹر پٹرول پورے بلوچستان میں بک رہا ہے۔ ایران کا تیل اگر بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ تک آ رہا ہے اور عالمی پابندیاں نہیں لگیں تو مزید پنجاب تک آ جائے گا تو کیا قیامت آ جانی ہے۔ اس کو کوئی"ثابت"ہی نہیں کر سکتا۔ پاکستان IMF کو مطمئن اس طرح کر سکتا ہے کہ اپنی آفیشل تیل کی امپورٹ بہت کم کر کے جاری رکھے۔ اور کہے کہ ملک میں ڈیمانڈ کم ہو گئی ہے۔ اور جو مہنگا تیل آئے اس کو بھی پٹرول پمپس پر مہیا کروا Mixing کر کے ایرانی تیل کی کوالٹی بھی بہتر کر لی جائے اور تھوڑی بہت آفیشل تیل کی سیل بھی دکھا دی جائے۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ حکومت ہر مہینے تیل پر 100 ارب روپے لیوی کماتی ہے۔ صرف وہ لیوی کمانے کے چکر میں عوام کی جیب سے مزید 100 ارب نکلوا کر آئل کمپنیز اور خلیجی ملکوں کی جیب میں مہنگا تیل خرید کر دے رہے ہیں۔ اپنےفارن ریزرو کے تقریبا 1 ارب ڈالرز ماہانہ آگ میں جھونک کر مفت میں ضائع کر رہے ہیں۔ ایرانی تیل تو صرف"مال کے بدلے مال"کی صورت میں آ جانا ہے۔ شاہد خاقان کی پریس کانفرنس کا 3 منٹ کا کلپ سن لیں کہ دنیا میں کوئی حکومت ایسے نہیں کر رہی جس طرح یہ حکومت کر رہی ہے۔۔مہینے میں 5 مرتبہ پالیسی چینج کی۔ اگر سستا ترین تیل معیشت میں آئے گا تو معیشت بند نہیں کرنی پڑے گی۔لاک ڈاون نہیں کرنے پڑیں گے۔ تو دوسری مد میں ملک بند کرنے سے جو ٹیکسسز کی کمی میں نقصان ہونا ہے وہ بھی حکومت کو نہیں ہو گا۔ حکومت کو دوسری مد میں ٹیکسسز آ جائیں گے جو ایرانی تیل کی پرائیویٹ سیکٹر کے زریعے آمد پر کم لیوی اکٹھی ہو گی مگر سستے تیل سے جتنی معیشت تیز چلے گی اس سے دوسری جگہوں سے ٹیکسسز زیادہ اکٹھے ہو جائیں گے۔ خدا کی قسم۔۔۔یہ حکومت اپنے ایک پاو گوشت کے لیے عوام کی گائے حلال کر رہی ہے۔ یہ صرف IMF اور امریکہ کا ڈراوا دے دے کر کمزور فیصلے کر رہی ہے۔ حالانکہ امریکہ تو ان کا یار ہے اور یہ ایران/امریکہ کے مزاکرات کروانے کا دعوی بھی کر رہے ہیں۔ ان کے یار نے تو دنیا کو ایرانی تیل خریدنے کی اجازت دی ہوئی ہے۔ ویسے۔۔ان کا یار امریکہ اور IMF اس پرائیویٹ سیکٹر کی رسد(سپلائی) کو پکڑ ہی نہیں سکتا ہے۔ کیونکہ وہ تو ٹینکروں میں پمپمس پر آتا ہے اور استعمال ہوتا جاتا ہے۔ پہلے کونسا بلوچستان اور کراچی سمیت سندھ میں وہ پکڑ پا رہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ چند درجن دہہاڑی دار درباری انہوں نے"حجتیں"کرنے کے لیے رکھے ہوئے ہیں جو ان کی اور عوام دونوں کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ آخر میں اتنا لکھوں گا۔۔۔ کہ غیر معمولی حالات غیر معمولی فیصلوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔ حکومت اگر اسی طرح کے فیصلے کر کے عوام کو نچوڑتی رہی تو حکومت خود بھی مزید غیر مقبول ہو گی اور اسٹیبلشمنٹ کو بے پناہ نقصان پہنچوائے گی۔ (اسد آر چوہدری) Nawaz Sharif Shehbaz Sharif DG ISPR Maryam Nawaz Sharif Shahid Khaqan Abbasi

Asad R Chaudhry

42,218 次观看 • 5 个月前

ایک خاتون تیماردار اس وقت مریض کے ساتھ موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مریض کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) جانچنے کے لیے Painful Stimulus استعمال کر رہے ہیں، جو طبی معائنے کا ایک معمول، مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔ وہ یہ معائنہ مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ نہ کوئی غیر مناسب حرکت ہے، نہ کوئی مذاق، اور نہ ہی کوئی ایسا رویہ جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بغیر حقائق جانے کیمرہ نکال کر لوگوں کو بدنام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی، حالانکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر مریض کی اعصابی حالت جانچنے کے لیے کن طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جن ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو بنائی گئی، ان کے بارے میں ساتھیوں اور مریضوں کی رائے یہی ہے کہ وہ ایک نہایت قابل، محنتی اور ذمہ دار معالج ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کا مکمل اور باریک بینی سے معائنہ کرے تو بھی اعتراض، اور اگر جلدی میں معائنہ کرے تو بھی شکایت۔ آخر ڈاکٹر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو بہترین طبی نگہداشت ملے، اور دوسری طرف انہی طبی طریقہ کار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ڈاکٹروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن حقائق، علم اور انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ کسی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی بنیاد پر کسی معالج کی نیت یا کردار پر فیصلہ دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل.

Dr M Shujat Rasool

121,946 次观看 • 3 个月前

سوشل میڈیا: نئی نسل کا دوست یا دشمن؟ سویڈن نے سکولوں میں سکرین اور ڈیجیٹل طریقہ تعلیم پر پابندی لگا کر دوبارہ سے روایتی طریقہ تعلیم کو فروغ دیا ہے اس وقت دنیا بھر میں بالخصوص ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا کے اثرات زیر بحث ہے کئی ممالک نے سولہ سال تک کے بچوں کو سوشل میڈیا تک رسائی ختم کر دی ہے کئی ممالک نے ختم نہیں کی محدود کر دی ہے تاہم ایک بات پر اتفاق ہے کہ سوشل میڈیا لوگوں کو کند ذہن بنا رہا ہے کیونکہ یہ انکو دماغی لحاظ سے سہل پسند اور غیر تنقیدی بنا رہا ہے اسکے سبب ذہنی یکسوئی ختم ہوتی جا رہی ہے صارفین کا کسی بھی نقطے پر سوچ کو مرتکز کرنا چند سیکنڈ تک محدود ہو گیا ہے اور یہ بحران بچوں کے معاملے میں اور خطرناک ثابت ہوتا ہے کیونکہ یہ انکی دماغی اور جسمانی نشوونما کی عمر ہوتی ہے وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو رہے ہیں کھیل کود کی بجائے سکرین پر زیادہ ٹائم گزار رہے ہیں جس سے وہ کئی ذہنی امراض کا شکار ہو رہے ہیں اور اسکے ساتھ ساتھ ان میں بین الشخصی تعلق بنانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے وہ ایک دوسرے سے بات کرنے کی بجائے سوشل میڈیا میں مصروف رہنے کو ترجیح دیتے ہیں ان میں emotional intelligence کا فقدان ہے سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان میں اس بارے سوچ بچار پائی جاتی ہے جواب بدقسمتی سے نفی میں ہے حکومت تو دور کی بات والدین کو بھی اس بارے زیادہ آگاہی نہیں بلکہ وہ فون کو کھلونے کا درجہ دیتے ہیں کہ بچے کے ہاتھ میں دے دیں وہ اس فون پر لگا رہے اور یہ اپنے فون پر

Umar Cheema

13,621 次观看 • 5 个月前