正在加载视频...

视频加载失败

یہ غیر ملکی کے ٹو پہاڑ سر کرنے کے لیے کیمپ جا رہا ھے ایک دریا کا پُل پار کرتے ھوئے اسکا تراہ نکلا ھوا جبکہ اسکا سامان لیکر جانے والا پاکستانی بنا کسی خوف کے چل رہا ھے اسی لیے سعودی کہتے ہیں پاکستانی معافی خوف

99,350 次观看 • 2 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

یہ شخص کہتا ہے کہ ایک پاکستانی کی جان ہزار افغانیوں کی جانوں پر مقدم ہے۔ کاش یہ بات تم ارشد شریف کی ماں سے جا کر کہتے جس کا بیٹا ایک سچا پاکستانی تھا، جس نے صرف تم جیسے غداروں کو بے نقاب کرنے کی جرات کی اور اسی جرم میں اسے جلاوطنی، تعاقب اور آخرکار قتل تک پہنچا دیا گیا۔ یا پھر ظلے شاہ کے والدین سے پوچھتے جس کو مارنے سے پہلے اس کے نازک اعضاء تک کو ٹارچر کیا گیا۔ کسی پاکستانی جان کی قدر پوچھنی تھی تو وقار ستی کے والد سے پوچھتے جس کے بچے کے سر میں ڈی چوک پر فوجیوں نے گولی ماری اور پھر لاش دینے سے بھی انکار کر دیا۔ یا مریدکے کے فیصل کی ماں سے پوچھتے جو اپنے بچے کا چہرہ تک نہ پہچان سکی کیونکہ اسے مارنے کے بعد اس کے سر پر فوجی گاڑی گزار دی گئی تھی۔ پاکستان اور پاکستانیوں کا خون بیچ کر تم نے اپنا اقتدار بھی بنایا جائیدادیں بنائیں بیرون ملک کاروبار خریدے جزیرے بناۓ پزا سٹور خریدے محل بناۓ اور اپنے بچوں کے مستقبل بھی۔ اس لیے تمہاری گندی زبان سے جب لفظ پاکستان یا پاکستانی نکلتا ہے تو وہ لفظ نہیں لگتا وہ شہید پاکستانیوں کے خون پر کیا گیا ایک تلخ مذاق لگتا ہے۔

Waqar khan

46,737 次观看 • 6 个月前

اہلِ لاہور کے لیے خوشخبری! مجھے بطور صدر BSF یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ لاہور کے معروف اور مرکزی علاقے جوہر ٹاؤن میں، ڈاکٹرز ہسپتال کے قریب اور اسلام آباد ڈائیگنوسٹک سینٹر کے ساتھ واقع، BSF پلیٹ فارم کے تحت “میڈی زن فارمیسی” کی ایک جدید، معیاری اور بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے والی آؤٹ لیٹ کا افتتاح عنقریب کیا جا رہا ہے۔ ایڈریس: 📍 شاپ نمبر 113-G، نزد ڈاکٹرز ہسپتال، جوہر ٹاؤن، لاہور یہ فریچائز جنابِ محترم وصف شیخ صاحب نے اپنی اہلیہ کے لیے حاصل کی ہے، جبکہ اپنی مثالی لوکیشن، وسیع رقبے اور جدید انفراسٹرکچر کی بنیاد پر کمپنی نے اس آؤٹ لیٹ کو باضابطہ طور پر Flagship Franchise کے طور پر لانچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ آؤٹ لیٹ معیار، سہولت اور اعتماد کی علامت بنے گا۔ یہ بات باعثِ فخر ہے کہ یہ منصوبہ کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے لیے ایک اجتماعی سہولت ہے۔ اس کامیابی میں آپ سب کا کردار نہایت اہم ہے۔ ہم تمام دوستوں، اہلِ علاقہ اور معزز شہریوں سے گزارش کرتے ہیں کہ اس فریچائز کے ساتھ کھڑے ہوں، اسے کامیاب بنائیں اور خود بھی انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ کی فارمیسی سہولیات سے مستفید ہوں۔ براہِ کرم اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور عزیز و اقارب کو بھی اس سہولت کی جانب متوجہ کریں۔ زندہ دلانِ لاہور کے لیے خصوصی دعوت! آؤٹ لیٹ پر تشریف لا کر رجسٹریشن کروائیں، جس کے نتیجے میں آپ کو: تمام ادویات کاسمیٹکس اور منتخب سمال گروسری آئٹمز پر 3٪ تک خصوصی رعایت فراہم کی جائے گی۔ مزید یہ کہ جو احباب آؤٹ لیٹ پر جا کر رجسٹریشن کروائیں گے (رجسٹریشن کا آغاز سوموار سے ہوگا) اور وہیں سے اپنی ویڈیو یا تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کریں گے، ان کے درمیان قرعہ اندازی کے ذریعے 50,000 روپے نقد انعام کمپنی کی جانب سے دیا جائے گا۔ یہی ماڈل آئندہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی متعارف کروایا جائے گا، اور ہر فریچائز کے لیے اسی طرز کی ڈیجیٹل اور لوکل مارکیٹنگ مہم لانچ کی جائے گی، جس میں: ـ لوکل مارکیٹنگ ـ بروشرز ـ فلائرز ـ بینرز پر مشتمل بھرپور تشہیری مہم شامل ہوگی۔ اس کے علاوہ، افتتاح کے روز شرکت کرنے والے معزز مہمانوں کے لیے بھی ایک خصوصی قرعہ اندازی منعقد کی جائے گی، جس میں 1,00,000 روپے نقد انعام دیا جائے گا۔ آئیں، صحت مند پاکستان کے اس وژن کا حصہ بنیں، اعتماد، معیار اور سہولت کے اس سفر میں ہمارا ساتھ دیں۔ Ch Sajaad Husein Big Success Family

Gulbaz Mushtaq

24,579 次观看 • 9 个月前

ایک خاتون تیماردار اس وقت مریض کے ساتھ موجود ہیں۔ ڈاکٹر صاحب مریض کا گلاسگو کومہ اسکیل (GCS) جانچنے کے لیے Painful Stimulus استعمال کر رہے ہیں، جو طبی معائنے کا ایک معمول، مستند اور عالمی طور پر تسلیم شدہ طریقہ ہے۔ وہ یہ معائنہ مکمل پیشہ ورانہ انداز میں انجام دے رہے ہیں۔ نہ کوئی غیر مناسب حرکت ہے، نہ کوئی مذاق، اور نہ ہی کوئی ایسا رویہ جس پر اعتراض کیا جا سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کل بغیر حقائق جانے کیمرہ نکال کر لوگوں کو بدنام کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی، حالانکہ اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ڈاکٹر مریض کی اعصابی حالت جانچنے کے لیے کن طبی طریقوں کا استعمال کرتے ہیں۔ جن ڈاکٹر صاحب کی ویڈیو بنائی گئی، ان کے بارے میں ساتھیوں اور مریضوں کی رائے یہی ہے کہ وہ ایک نہایت قابل، محنتی اور ذمہ دار معالج ہیں، جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انتہائی دیانت داری اور لگن کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اگر ڈاکٹر مریض کا مکمل اور باریک بینی سے معائنہ کرے تو بھی اعتراض، اور اگر جلدی میں معائنہ کرے تو بھی شکایت۔ آخر ڈاکٹر جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک طرف ہم چاہتے ہیں کہ مریض کو بہترین طبی نگہداشت ملے، اور دوسری طرف انہی طبی طریقہ کار کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کر کے ڈاکٹروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تنقید ضرور ہونی چاہیے، لیکن حقائق، علم اور انصاف کے دائرے میں رہ کر۔ کسی چند سیکنڈ کی ویڈیو کی بنیاد پر کسی معالج کی نیت یا کردار پر فیصلہ دینا نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی ذمہ دارانہ طرزِ عمل.

Dr M Shujat Rasool

121,988 次观看 • 4 个月前

ایک بیل، ایک عیدگاہ اور ایک لمحۂ فکر یہ واقعہ کراچی کے علاقے نارتھ کراچی سیکٹر 9 کی ایک عیدگاہ کا بتایا جا رہا ہے، جہاں عیدالاضحیٰ کی نماز کے دوران ایک بیل رسی تڑوا کر نمازیوں کے اجتماع میں جا پہنچا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس نے نہ کوئی بھگدڑ مچائی، نہ کسی کو نقصان پہنچایا اور نہ ہی اشتعال کا مظاہرہ کیا، بلکہ خاموشی سے ایک طرف کھڑا ہو کر ماحول کا حصہ بن گیا۔ اس ویڈیو کو دیکھ کر بعض افراد کے ذہن میں یہ سوال آ سکتا ہے کہ شاید یہ مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کی گئی ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک حقیقی واقعہ ہے۔ یہ بیل میرے ایک عزیز دوست کا ہے اور یہ ویڈیو بھی ان کے گھر والوں نے اپنے موبائل فون سے خود ریکارڈ کی ہے۔ یقیناً ہم یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ اس واقعے میں کوئی غیر معمولی روحانی راز پوشیدہ ہے، لیکن یہ منظر انسان کو غور و فکر کی دعوت ضرور دیتا ہے۔ جانور عموماً شور، خوف اور اشتعال پر فوری ردِعمل دیتے ہیں، جبکہ سکون، اطمینان اور محفوظ ماحول ان کے رویّے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ہزاروں نمازیوں کے درمیان پہنچنے کے باوجود یہ طاقتور جانور پُرسکون رہا۔ یہ مختصر سا منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عبادت صرف انسان کے دل و دماغ پر ہی اثر نہیں ڈالتی بلکہ اس کے اردگرد کے ماحول میں بھی سکون، نظم اور اطمینان پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق اپنے اپنے انداز میں اس کی قدرت اور حکمت کی گواہی دیتی ہے۔ کبھی پرندوں کی چہچہاہٹ، کبھی چیونٹیوں کی نظم و ضبط، کبھی شہد کی مکھیوں کا نظام، اور کبھی ایک طاقتور بیل کا غیر متوقع سکون انسان کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کائنات کی ہر شے اپنے رب کے حکم کی پابند ہے۔ یہ ویڈیو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک خوبصورت جھلک اور غور و فکر کا ایک موقع محسوس ہوئی، اس لیے آپ کے ساتھ شیئر کر دی۔ "آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں اور رات اور دن کے بدلنے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔" #عیدالاضحی #قربانی #عیدگاہ #اللہ_کی_قدرت #قدرت_کے_مناظر #غور_و_فکر #اسلام #نماز #خشوع_و_خضوع #روحانیت #EidUlAdha #Qurbani #Faith #Prayer #Spirituality #NatureAndFaith #SubhanAllah #MashaAllah

Dairy & Cattle Farmers Association (DCFA) Pakistan

29,059 次观看 • 4 个月前

ابھی ابھی آغا شیخ سرور سے بات ہوئی، وہ کوریج میں مصروف تھا اور لوگوں کی کوریج کرنے کے لیے قافلے کی مرکزی گاڑیوں سے الگ ہو کر ایک موٹر سائیکل سوار سے لفٹ لے کر لوگوں کے درمیان کوریج کر رہا تھا، ویڈیوز بنا رہا تھا، اپنی کمنٹری کر رہا تھا کہ اچانک ایک ڈالہ اس بائیک کے آگے آیا اور ڈالے میں سوار لوگ اترے اور وہاں سے امین اللہ نام کا شخص اترا اور پھر انہوں نے آغا شیخ سرور کو مارنا شروع کر دیا۔ آغا شیخ سرور کو مارتے ہوئے وہ یہ بھی کہہ رہا تھا اپنے گارڈز سے کہ اس کو گولی مار دو۔ آغا شیخ سرور نے بتایا کہ اس کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے اور جبڑے ڈسلوکیٹ ہوئے ہیں زبان پہ کٹ لگے ہیں اور وہ بری طرح سے زخمی ہے۔ صرف آغا شیخ سرور کو نہیں زعیم لغاری اور ان کے ساتھ ساتھ شاکر اعوان کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ وہ کہتے ہیں اگر مینا خان آفریدی بیچ میں آ کر نہ بچاتے تو مجھے گولی ماری جا سکتی تھی۔ آغا شیخ سرور نے یہ بھی کہا کہ اس کو کارکنوں نے بھی بہت سپورٹ کیا اور مارنے والوں سے بچانے میں مدد کی۔ میں نے پوچھا کہ یہ امین اللہ نام کا شخص کیوں تشدد کروا رہا تھا، کیوں آپ کی جان کے پیچھے پڑ گیا؟ تو اس نے کہا مجھے کسی نے یہ بتایا کہ امین اللہ ہی ٹی آئی حیدر آباد کا کوئی عہدیدار ہے اور اسے اس بات پر غصہ تھا کہ لیاری کی کوریج کے موقع پر آغا شیخ سرور نے جب ایک جگہ کوریج کی تو امین اللہ کے کسی مخالف کو کوریج ملی تھی اور امین اللہ کو اس بات کا شدید رنج تھا۔ اب یہ تینوں صحافی اس کوریج کا بائیکاٹ کرنے ارادہ رکھتے ہیں

Tariq Mateen

72,391 次观看 • 1 个月前

میں نہیں کہتا کہ متحدہ عرب امارات مسلک کی بیناد پہ لوگوں کو نکل رہا ہے لیکن میں دو معاملات کا چشم دید گواہ ہوں اگر وہ یہاں بیان نہ کروں تو بددیانتی ہوگی میرے ایک جانے والے ہیں چھ سات سال پہلے وہ وزٹ ویزا پہ دوبئی گیا پھر جب وہاں پہ اسکا مستقل ویزا لگایا جانا تھا تو اسکے نام کیساتھ شاہ تھا ویزا نہیں لگا ابھی دو سال پہلے ایک دوست کے ویزے کے لئے اپلائی کیا اسکے نام میں علی تھا تو اسکا دوبئی کا ویزا مسترد ہوگیا اب آتے ہیں اصل مودے کی طرف اور اس ویڈیو کی طرف ان لوگوں کو گزشتہ ہفتے متحدہ عرب امارات سے نکلا گیا وہ تو وجہ یہ بتا رہیں ہیں کہ ہم ایک مخصوص مسلک کے ساتھ وابستہ ہیں تو ہمیں اس لئے نکلا گیا لیکن یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جنگ کے دوران انہوں نے کس ایسی سرگرمی میں حصہ لیا ہو جو وہاں کے قانون کے خلاف ہے ہوسکتا ہے انہوں نے ویڈیو یا تصویر بنائی ہوں ہوسکتا ہے کسی سوشل میڈیا پوسٹ کسی واٹس ایپ گروپ میں دوبئی کے بارے اپنی رائے کا اظہار کیا ہو ؟ کیونکہ جہاں اگر کسی کو علی نام کی وجہ سے ویزا نہیں ملتا وہاں بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کے نام کیساتھ علی ہے شاہ ہے وہ دوبئی میں کام کرتے ہیں میرے خیال میں انسان جس ملک میں روزی روٹی کمانے جاتا ہے اسکے قوانین کا احترام کرے مشکل وقت میں اس ملک کیساتھ کھڑا ہو جس نے اسکے گھریلو حالات بہتر کئیے /🙏

محفوظ الرحمن اعوان

32,686 次观看 • 5 个月前