Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

یہ لڑکا فیصل اباد کا ہے کل پولیس نے اسے دھرنے سے پکڑا اور اتنا مارا کے اس کا بازو ٹوٹ گیا سر زخمی ہے۔ پھر جیل بھیج دیا جیل والے زخمی کو لیتے نہیں تو اج اس کے بھاٸی نے فیصل اباد سے آ کر اس کی رہاٸی...

72,402 views • 1 year ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں
0:30

Sensitive content

🚨🚨🚨 مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میں عمران خان کی حکومت میں آزاد ہوئی، انہوں نے مجھے فرانس بھیجا، آسیہ ملعونہ اس وقت عمران نیازی اور اس کے ذہنی غلام شخصیت پرست یوتھیے بھاولے ہو رہے تھے کہ یہ عدالت کا فیصلہ ہے اس میں حکومت یا عمران خان کا کوئی قصور نہیں ہے، حالانکہ ریکارڈ پر ہر چیز موجود ہے جیسے کہ عمران نیازی نے امریکہ میں خود کیمرے کے سامنے اعتراف کیا کہ ہم نے ایک مذہبی سیاسی جماعت کے قائدین کو جیلوں میں ڈالا اور آسیہ کی رہائی ممکن بنائی، عمران نیازی نے یہ بھی کہا کہ اس سے پہلے کسی اور حکومت نے یہ جرت نہیں کی کہ اس کو رہا کر کے باہر بھیجتے یہ کام میری حکومت نے کیا ہے، پہلے تو کہہ رہے تھے یہ عدالت کا فیصلہ ہے پھر خود ہی اپنی زبان سے اقرار کہ کہاں ہم نے رہا کروایا۔ اب کل بلہ کیس پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنا دیا بلہ پی ٹی آئی سے چھن گیا، اب یہ بھی تو سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ منافقوں

Khawaja Yaseen Usmani

73,638 views • 2 years ago

#JusticeForIqra سرگودھا کی معصوم گھریلو ملازمہ اقراء پر بد ترین تشدد، 43جنوبی میں کہرام مچ گیا والدہ پر غشی کے دورے ۔ نواحی علاقہ 43جنوبی کی اقرا کے والد نے بتایا کہ بچی راولپنڈی اسلام آباد کے ایک تاجر عبد الرشید کے گھر ملازمہ تھی دو سال پہلے سے وہاں کام کرنے والی 15سالہ بچی کو محض چاکلیٹ گم ہونے کا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اس کے سر ، بازوں ، ٹانگوں اور چہرے کو تیز دھار آلہ سے کاٹا گیا بازو ٹانگیں توڑی گئیں۔ باپ ثناء اللہ خود دو بچوں کے ساتھ منڈی بہت دن کے گاؤں میں ایک زمیندار کے گھر پر کام کرتا ہے غربت کے باعث اس نے اپنی بیٹی اقرا کو اسلام اباد میں ایک تاجر کے گھر پر چھوڑا لیکن ان ظالموں کی طرف سے اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے بچی جان کی بازی ہار گئی ثنا اللہ کا مطالبہ ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب محترمہ مریم نواز معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائیں اور ان کی فوری گرفتاری بھی کی جائے غریب ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس طرح کا بہمانہ تشدد بھی کوئی انسان کر سکتا ہے اس کو بتانا تھا کہ بچی کو شدید اذیت دیتے ہوئے اس کے جسم پہ کٹ لگائے گئے جسے دیکھنا بھی اس کے لیے مشکل ہو رہا ہے اس کا بتانا تھا کہ پولیس کی طرف سے اسے راولپنڈی بلایا گیا جہاں پر ہسپتال میں اسی انکھوں کے سامنے اس کی لختہ جگر نے دم توڑ دیا لیکن یہ بے بس اور بیچارگی کے عالم میں اپنی بیٹی کی ڈیڈباڈی اٹھا کر سرگودھا اگیا ہے اس کا مطالبہ ہے کہ ملزمان کو گرفتار کیا جائے سرگودہ کے نواحی علاقہ 43 جنوبی میں بچی کی تدفین کا عمل جاری ہے

Shehr Bano Official

39,229 views • 1 year ago

"خون کی فطرت میں جم جانا ہے ' دھلنا نہی " آج سٹوڈنٹس میں سکالر شپ کی تقسیم کی اس تقریب میں چشم تخیل کی طاقت سے میں بھی موجود تھا - جب مریم نواز صاحبہ Maryam Nawaz Sharif نے یہ والا بھاشن شروع کیا تو میں نے ہاتھ کھڑا کیا اور پوچھا کہ " میڈم ! طلباء کو بھی شوق نہیں ہے کہ وہ یونیورسٹی کی جگہ ڈی چوک میں احتجاج کیلئے جائیں لیکن جب ان کا ووٹ چوری کرنے والا جیل کی بجاے سی ایم ہاؤس پہنچ جاتا ہے ' اس چوری کو روکنے کیلئے زمہ دار الیکشن کمیشن خود ہی سہولت کار بن جاتا ہے ' اس چوری پر بازپرس کرنے والی عدلیہ خود بیکار بن جاتی ہے ' اس چوری کو آشکار کرنے والا میڈیا خود ساہوکار بن جاتا ہے ' اس پر آواز اٹھانے والا صحافی ' سٹوڈنٹ اور ایکٹوسٹ مغوی اور پاسبان ہی اس کا اغواکار بن جاتا ہے ' --- تو پھر طلباء کو اپنے حق کی اس چوری پر جواب مانگنے کیلئے خود ہی یونیورسٹی چھوڑ کر ڈی چوک میں بھی بیٹھنا پڑتا ہے- آپ کا بیٹا جنید اس لئے آرام سے گریجویٹ کرگیا کیوں کہ وہ سارق (چور ) کا بیٹا تھا ' مسروق کا نہیں---اگر طلباء یونیورسٹی میں اچھے لگتے ہیں ڈی چوک پر نہیں ' تو طلباء کے حق کی چوری کرنے والے جیل میں اچھے لگتے ہیں ' سی ایم ہاؤس میں نہیں " - یہ سٹوڈنٹس وہاں موجود پنجاب پولیس کے جلادوں کے ہاتھ مجبور ہونگے ورنہ بہت سے نوجوان ذہنوں میں یہ بھاشن سن کر یہی سوال ابھرے ہونگے جو میں نے پوچھے - اس ملک کی قسمت چیک کریں کہ پہلے جن لوگوں کا حق کھایا جاتا ہے اور پھر انہی کے سامنے کھڑا ہو کر بھاشن بھی دیا جاتا ہے - سی ایم صاحبہ کے لہجے میں جو اعتماد ہے وہ ایسے ہی نہیں آتا - ڈھٹائی اور بےشرمی کی نجانے کتنی بوتلیں لگوانی پڑتی ہیں ' معصوموں کے خون کے کتنے پیالے پینے پڑتے ہیں ' تب جاکر لہجے میں یہ والا اعتماد آتا ہے کہ آپ مسروق (جس کی چوری ہوئی ہو ) کے سامنے اس کو منع کریں کہ پڑھائی پر توجہ دو اور اپنے سامان مسروقہ کی برآمدگی کا مطالبہ نہ کرو - پچھلی کچھ تقریروں میں جتنا گند اور غلاظت مریم نے اسلام آباد احتجاج کے شرکا کے خلاف اگلا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ "پٹھان " ہونا اس ملک میں جرم ہی بن گیا ہے اور کی پی کے ڈیورنڈ لائن کے اسطرف واقع ہے - اس ملک کی دوتہائی سے زائد آبادی تیس سال سے نیچے کے نوجوان ہیں جس میں سے اکثریت جس کو سپورٹ کرتی ہے آپ اس کو "دہشت گرد اور انتشاری" کہتی ہیں - آج وہ بیشک آپ کے پریشر اور آپ کے زہر کے خوف سے آپ کے سامنے تالیاں بجائیں ' لیکن یہی وہ یوتھ ہے جو آپ کو اور آپ کے سہولت کاروں کو اپنے حق انتخاب اور آج ملک میں جاری فسطائیئت کا زمہ دار سمجھتی ہے - آپ کیلئے اس یوتھ کی یہ تالیاں منہ پر ہویے اسی رنگ روغن کی طرح ہیں جو پانی کا ایک چھینٹا پڑتے ہی جب اترتا ہے تو اندر سے زہر سے بھرا ہوا نفرت انگیز چہرہ سامنے آتا ہے - اس تقریر میں نہ چاہتے ہویے بھی مریم کے منہ سے یہ نکل ہی گیا کہ "اسلام آباد میں نہتے لوگ ..." . پھر خود کو ٹوکا اور بولا "نہتے پولیس والے " اگر ایک- کے 47 اور سنایپرگنوں سے لیس وہ پولیس والے ' رینجرز اور فوجی نہتے تھے تو پھر مریم کی نظر میں اسلحہ سے لیس اسی پولیس افسر کو کہا جائیگا جو نیوکلیر بمب کی ڈیوائس اور آر ڈی ایس کی جیکٹ ساتھ لے کر گھوم رہا ہو - خون میں قدرت نے ایک خاصیت رکھی ہے - یہ جب بہتا ہے تو جم جاتا ہے اور اس کے نشان نہیں جاتے کیوں کہ اس کی فطرت میں جمنا ہے ' دھلنا نہیں - اس حکومت اور اس کی سہولت کار ریاست کے چہرے پر بھی یہ خون اب جم گیا ہے جو بچوں کو یوں لارا لپا لگانے اور "میں پنجاب کی ماں " والی کہانیاں سنانے سے نہیں دھلے گا اور بار بار پوچھتا رہیگا کہ #گولی_کیوں_چلائی ؟ #IslamabadMassacre --------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

12,319 views • 1 year ago

اسلام اباد دی کبوتری پھڑا بیٹھا ہاں ۔۔ یہ ہے بھولا ریکارڈ ہے جسکا دھندہ نائیٹ پارٹیز ارینج کروانا دوسرااس کا دھندہ چٹی دلالی کا ہے کسی فنکشن کیلے یا پھر رات گزارنے کیلے لڑکی چاہیے تو یہ خود دنیا کہ جس کونے میں ہو لڑکی پہنچ جاے گی ۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے اس کی سروس یو اے ای اور پاکستانی میں جاری و ساری ہے ۔ تیسرااسکا دھندہ جسم فروشی کے دھندے میں انے والی نئی لڑکیوں کو پرموٹ کرنا ہے ۔۔ یہ بندہ اک بار پکڑا گیا تھا پھر بندے کا پتر بن گیا تھا مگر کتے کی دم سیدھی ہو سکتی ہے مگر یہ بیشرم سیدھا نہی ہو سکتا ۔۔ قانون کا پستول بھی ہمیشہ نیفے دیکھ کر چلتا ہے ۔۔ اداروں سے اپیل ہے ایسا شخص جو کھلے عام سیکس ورکرز کی پرموشن کرے ننگے جسم کے ساتھ لڑکیوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دے کیا اس کے خلاف کوی کاروای ہو گی ۔ پنجاب اور پاکستان کے تمام اداروں سے اپیل ہے اس انسان کو فوری گرفتار کیا جاے ۔۔ یاپھر اگر اپکی نظر میں یہ شریف ہے تو پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھانے والے اس شخص کو ایوارڈ سے کیوں محروم کیا گیا ہے ۔۔
0:17

Sensitive content

اسلام اباد دی کبوتری پھڑا بیٹھا ہاں ۔۔ یہ ہے بھولا ریکارڈ ہے جسکا دھندہ نائیٹ پارٹیز ارینج کروانا دوسرااس کا دھندہ چٹی دلالی کا ہے کسی فنکشن کیلے یا پھر رات گزارنے کیلے لڑکی چاہیے تو یہ خود دنیا کہ جس کونے میں ہو لڑکی پہنچ جاے گی ۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے اس کی سروس یو اے ای اور پاکستانی میں جاری و ساری ہے ۔ تیسرااسکا دھندہ جسم فروشی کے دھندے میں انے والی نئی لڑکیوں کو پرموٹ کرنا ہے ۔۔ یہ بندہ اک بار پکڑا گیا تھا پھر بندے کا پتر بن گیا تھا مگر کتے کی دم سیدھی ہو سکتی ہے مگر یہ بیشرم سیدھا نہی ہو سکتا ۔۔ قانون کا پستول بھی ہمیشہ نیفے دیکھ کر چلتا ہے ۔۔ اداروں سے اپیل ہے ایسا شخص جو کھلے عام سیکس ورکرز کی پرموشن کرے ننگے جسم کے ساتھ لڑکیوں کے ساتھ ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دے کیا اس کے خلاف کوی کاروای ہو گی ۔ پنجاب اور پاکستان کے تمام اداروں سے اپیل ہے اس انسان کو فوری گرفتار کیا جاے ۔۔ یاپھر اگر اپکی نظر میں یہ شریف ہے تو پاکستان کا مثبت چہرہ دیکھانے والے اس شخص کو ایوارڈ سے کیوں محروم کیا گیا ہے ۔۔

Saleem Speaks

39,533 views • 2 months ago

گروپ کپٹن عاصم طارق کو گولی مارنے کے بعد سعد عباسی نے صرف ایک کال کی... پھر فوراً اپنا موبائل بند کر دیا۔ وہ سیدھا غوری ٹاؤن پہنچا، موٹر سائیکل ایک گلی میں چھوڑ دی، بائیکیا لی اور دوست کے میڈیکل سٹور پہنچ گیا۔ بیگ وہیں رکھوایا، پستول دوسری جگہ چھپا دی، پھر کپڑوں کی دکان سے شرٹ بدل کر اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کی۔ اگلا پڑاؤ فیض آباد بس اڈہ تھا، جہاں اس نے لاہور کی ٹکٹ خریدی اور روانہ ہو گیا۔ ادھر پولیس اس کے دوست تک پہنچ چکی تھی۔ سعد نے پولیس کو گمراہ کرنے کے لیے بھیرہ کے قریب بس سے اتر کر دوبارہ اسلام آباد کا رخ کیا۔ اسے لگا پولیس لاہور میں اسے تلاش کرتی رہے گی، مگر اس کا یہی منصوبہ اس کی سب سے بڑی غلطی ثابت ہوا۔ اسلام آباد پہنچ کر اس نے کسی اور کے فون سے دوبارہ اسی دوست کو کال کی اور کہا: "میں اپنا سامان لینے آ رہا ہوں۔" بدقسمتی سے پولیس پہلے ہی وہاں موجود تھی۔ سعد خود سامنے آنے کے بجائے ایک بچے کو بیگ لینے بھیجتا ہے۔ جیسے ہی بچہ بیگ لے کر اس کے پاس پہنچا، پولیس نے گھیر لیا اور ملزم گرفتار ہو گیا۔ اب اس کے فرار کے دوران مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی سامنے آ چکی ہیں، جنہوں نے پوری فرار کی کہانی کو بے نقاب کر دیا۔

Shehroz Azhar

148,597 views • 1 month ago

یہ شخص کہتا ہے کہ ایک پاکستانی کی جان ہزار افغانیوں کی جانوں پر مقدم ہے۔ کاش یہ بات تم ارشد شریف کی ماں سے جا کر کہتے جس کا بیٹا ایک سچا پاکستانی تھا، جس نے صرف تم جیسے غداروں کو بے نقاب کرنے کی جرات کی اور اسی جرم میں اسے جلاوطنی، تعاقب اور آخرکار قتل تک پہنچا دیا گیا۔ یا پھر ظلے شاہ کے والدین سے پوچھتے جس کو مارنے سے پہلے اس کے نازک اعضاء تک کو ٹارچر کیا گیا۔ کسی پاکستانی جان کی قدر پوچھنی تھی تو وقار ستی کے والد سے پوچھتے جس کے بچے کے سر میں ڈی چوک پر فوجیوں نے گولی ماری اور پھر لاش دینے سے بھی انکار کر دیا۔ یا مریدکے کے فیصل کی ماں سے پوچھتے جو اپنے بچے کا چہرہ تک نہ پہچان سکی کیونکہ اسے مارنے کے بعد اس کے سر پر فوجی گاڑی گزار دی گئی تھی۔ پاکستان اور پاکستانیوں کا خون بیچ کر تم نے اپنا اقتدار بھی بنایا جائیدادیں بنائیں بیرون ملک کاروبار خریدے جزیرے بناۓ پزا سٹور خریدے محل بناۓ اور اپنے بچوں کے مستقبل بھی۔ اس لیے تمہاری گندی زبان سے جب لفظ پاکستان یا پاکستانی نکلتا ہے تو وہ لفظ نہیں لگتا وہ شہید پاکستانیوں کے خون پر کیا گیا ایک تلخ مذاق لگتا ہے۔

Waqar khan

46,737 views • 5 months ago