Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

یہ ملک شریف لوگوں کا تو ہے ہی نہیں ۔ سڑک پر غنڈا گردی والوں کا بنتا جا رہا ہے۔۔ ویسے بھی اس ملک میں عورتوں کو کیا ہی حقوق کی ضرورت جہاں وہ آئے روز سڑکوں پر سلطانہ ڈاکو بنی پھرتی ہوں اور مرد جان بچاتے پھر رہے...

18,283 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

آخری بادشاہ ہم ہیں 👇 اس ملک/قوم کی قسمت اس ایک کلپ میں دیکھیں۔ سب سمجھ آ جائے گا کہ انسانی تاریخ میں اقتدار کے لیے ترک اور مغل حکمران اپنے سگے بھائیوں تک کے گلے کیوں کاٹ دیتے تھے۔ شاہد خاقان عباسی اس ملک کا وزیراعظم تھا۔ شہباز شریف وزیراعظم بن بیٹھے اور انہیں دوبارہ وزیراعظم نہیں بنایا گیا تو وہ پی آئی اے کی یورپ پرواز شروع ہونے پر افسردہ اور غم زدہ ہے۔ سابق وزیراعظم شریفوں سے ناراضی کابدلہ ملک اور قوم سے لے رہا ہے۔ دوسرا سابق وزیراعظم عمران خان جیل میں ہے۔ ان سے مجھے پوری ہمدردی ہے لیکن وہ بھی اپنے اوورسیز حامیوں کو کہہ رہا ہے اس ملک میں ڈالر نہ بھیجیں تاکہ پورا ملک تباہ ہو۔ڈیفالٹ کرے۔ اس ملک میں خانہ جنگی ہو کیونکہ وہ جیل میں ہے۔ وہ بھی جنرل عاصم منیر سے پرانی لڑائی کا بدلہ اس ملک اور قوم کو تباہ کر کے لینا چاہتا ہے۔ یہ ہے اس ملک اور قوم اس کے سابق سیاستدان جو دوسری دفعہ وزیراعظم نہیں بنے تو ان کی بلا سے ریاست ملک عوام بچے یا تباہ ہو۔ ان کی جوتی کو بھی پرواہ نہیں۔ یہ ہوتی ہے نرگیست، اپنی ذات سے اندھا رومانس، محبت اور خود سے عاشقی۔ ان نرگیست کے مارے لوگوں کے لیے اپنی ذات اور اس سے جڑے ذاتی مفادات اہم ہیں، ان کے لیے وزیراعظم بننا اہم ہے ملک اور عوام نہیں۔ ان سے زیادہ داد اس عوام کو دیں یا ان فوجی جرنیلوں کو جنہوں نے ان لوگوں کو پاکستان کا بادشاہ بنایا۔ یہ سب تا عمر وزیراعظم بننے آئے تھے، نہیں بنے تو اب سب کچھ تباہ ہو جائے انہیں پرواہ نہیں۔ یہ وزیراعظم بننے کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ اس سے کم عہدے پر یہ راضی نہیں ہوں گے۔ انہوں نے عوام پر حکمران لگ کر زندہ رہنا ہے اس سے کم پر راضی نہیں ہوں گے۔ ان کی سوچ ہے اگر میں بادشاہ ہوں تو ملک اور ریاست بھی ہے، پھر سب ٹھیک ہے، سب اچھا ہے۔ اگر میں وزیراعظم نہیں رہا تو بھلا میری بلا سب کچھ ڈوب جائے۔ تباہ ہو جائے۔ آخری بادشاہ ہم ہیں۔ #RaufKlasra

Rauf Klasra

78,515 görüntüleme • 1 yıl önce

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 görüntüleme • 3 ay önce

اس اسکیم میں جو بھی دکاندار آئے گا، اور یہ اسکیم ایک اختیاری نوعیت کی اسکیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جو جو دکاندار اس اسکیم میں آئے گا، اس فارم کو جمع کرائے گا تو اس کو ایف بی آر (FBR) کی طرف سے ایک پلیٹ ملے گی جسے وہ اپنی دکان کے باہر لگا سکے گا۔ اس پلیٹ کے اوپر دکان کا نام، دکان کا این ٹی این (NTN) نمبر اور ٹیکس کا سال (Tax Year) عیاں ہوں گے۔اور ساتھ ہی ساتھ نیچے یہ لکھا ہوا ہوگا کہ یہ دکاندار ایک 'فرض شناس ٹیکس گزار' ہے۔ ساتھ ہی ایک کیو آر کوڈ (QR Code) ہے۔ اس کیو آر کوڈ کا مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی بھی ایف بی آر کا انسپکٹر بازار میں پھر رہا ہے اور اپنی انسپکشن (معائنہ)، یعنی اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیے پھر رہا ہے، اور اگر وہ کسی دکان کے باہر یہ پلیٹ دیکھتا ہے، تو اس پر یہ لازم ہوگا کہ اگر اس دکان کی طرف وہ جانا چاہتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس پلیٹ پر موجود کیو آر کوڈ کو اسکین کرے گا۔اور اگر وہ پلیٹ درست (Genuine) ہے، تو پھر قانونی طور پر وہ اس دکان میں ایف بی آر کے مقاصد (FBR Purposes) کے لیے داخل نہیں ہو سکے گا،بلال اظہر کیانی

میاں عامر 🦁

13,182 görüntüleme • 3 ay önce

ا ےآروائی نیوز/ 7 دسمبر 2025 یہ بات واضح ہے کہ آئی ایس پی آر کا جوابی مؤقف بالکل مناسب تھا، کیونکہ اگر کوئی سیاسی جماعت، اس کے کارکن اور اس کے ترجمان ملک اور بیرونِ ملک مسلسل فوج کو نشانہ بناتے رہیں تو ایک نہ ایک دن ادارے کا صبر بھی ختم ہو جاتا ہے۔ طاقت کے حصول کے لیے انسان گھٹنے ٹیک دیتا ہے اور گدھے کو بھی باپ بنا لیتا ہے۔ ایسے رویّوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا۔گزشتہ ایک دو برسوں میں پی ٹی آئی نے شہداء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار تک نہیں کیا، نہ ہی وہ دہشت گرد حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔ جب صورتحال یہ ہو تو ڈی جی آئی ایس پی آر کیوں جواب نہ دیں؟ انہیں مکمل حق حاصل ہے کہ وہ ایسے بیانیوں کا جواب دیں جو اداروں کو کمزور کرتے ہوں۔اگرچہ ہمارے درمیان کئی اختلافات اور تنازعے موجود ہیں، لیکن دہشت گردی کے مسئلے پر پوری قوم کو متحد رہنا چاہیے۔ اگر پی ٹی آئی اس واحد قومی ایجنڈے، پاکستان کی سلامتی اور قومی خود مختاری، پر بھی متفق نہیں ہوتی، تو پھر کسی اور معاملے پر اتفاق ممکن ہی نہیں۔ دہشت گرد اس ملک کے دشمن ہیں، وہ مسلسل ہمارے جوانوں اور افسران کو نشانہ بنا رہے ہیں؛ ایسے عناصر سے بات چیت نہیں کی جا سکتی۔ اس کے باوجود وہ شخص جو صرف طاقت، اقتدار اور اختیار کی بات کرتا ہے، اس نے آج تک دہشت گردی کے خلاف ایک واضح لفظ تک نہیں کہا۔یہ بحث کہ کس کو جواب دینا چاہیے اور کس کو نہیں، اب ختم ہو جانی چاہیے۔ میرا ماننا ہے کہ جب ایک ایسا شخص، جو ملک کا وزیرِ اعظم رہ چکا ہے اور خود کو سب سے مقبول قرار دیتا ہے، پھر بھی دہشت گردی کی مذمت کے لیے تیار نہیں، تو ہر اُس فرد اور ادارے کو جواب دینا چاہیے جو اس بیانیے کا نشانہ بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہی دشتگردوں کو اسی نے ماضی میں یہاں جگہ دی تھی۔*

Khawaja M. Asif

16,043 görüntüleme • 9 ay önce

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟
6:46

Sensitive content

آج بھی میگا پروجیکٹس پاکستان کے اندر معطل ہیں،گزرے کئی سالوں سے ملٹی نیشنل کمپنیاں درجنوں کے حساب سے ملک سے باہر جا چکی ہیں، سرمایہ یہاں سے منتقل کر دیا ہے،پاکستانی اپنا سرمایہ منتقل کر رہے ہیں اور کوئی باہر کی کمپنیاں پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ افغانستان کی سرحدات ہوں یا انڈیا کی سرحدات ہوں، شرق و غرب ہم نے اپنے اوپر بند کر دیے ہیں۔ تجارت نہیں ہے، کاروبار نہیں ہے، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو گیا ہے۔ چین کا ہم اعتماد کھو چکے ہیں، وہ پاکستان کے اندر سرمایہ کاری میں دلچسپی بھی نہیں لے رہا۔ تو پاکستان نے محصور ریاست کی شکل اختیار کر لی ہے۔ بدامنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پولیس اور فوجی جوانوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ریاستی قوت دفاعی پوزیشن میں آ گئی ہے۔ کتنی بری بات ہے یہ! ہم ماضی کے معاملات اور مشکلات، اس سے تو ہم نمٹ نہیں پا رہے۔ گھر میں آگ لگی ہوئی ہے، نئے نئے مسائل ہم پیدا کر رہے ہیں۔ کبھی صوبوں کے سوال چھیڑ دیتے ہیں، کبھی این ایف سی ایوارڈ کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں، کبھی معدنی ذخائر کا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ اور پہلے جو ملک جس مشکل میں گھرا ہوا ہے اور جو ہمارے سروں پر مشکلات ہیں، موت ہمارے سروں پر منڈلا رہی ہے، آگ برس رہی ہے، بارود جو ہے، ہم ڈھیر پر بیٹھے ہوئے ہیں، اور ان حالات میں نئے نئے مسائل کھڑے کرنا، اس سے بڑھ کر غیر سنجیدگی اور نہیں ہو سکتی۔ مسائل ڈسکس کیے جائیں، پارلیمنٹ میں لائے جائیں اور حکومت کا ایک حصہ وہ صوبوں کی بات کر رہا ہے، صوبوں کو ٹکڑے کرنے کی بات کر رہا ہے۔ حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ پارلیمانی لیڈرز کا ایک بند کمرے کا اجلاس، میرے خیال میں، وہ کافی نہیں ہے اور اس میں اپوزیشن دلچسپی بھی نہیں لے رہی۔ تو اس اعتبار سے یہ ساری چیزیں ایسی ہیں کہ اس وقت قوم تشویش میں ہے۔ سعودی عرب پر حملہ، معاہدہ ہو چکا ہے ہمارا ان کے ساتھ۔ گو کہ وہ جنگی معاہدہ نہیں ہے، وہ دفاعی معاہدہ ہے، لیکن جب اس کے ساتھ یہ لفظ وابستہ کیا گیا کہ کسی بھی ملک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ تصور کیا جائے گا تو اس میں کچھ ذمہ داریاں آ جاتی ہیں، ہمارے اوپر بھی آتی ہیں۔ اب ترکی بھی اس میں شامل ہو گیا۔ اس کو آگے بڑھنا چاہیے تھا، اس میں مصر کو شامل ہونا چاہیے تھا، اس میں ایران کو شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن عالمی قوتوں نے ایسے حالات پیدا کر دیے کہ وہ جو اسلامی اتحاد کے عمل کا ایک تسلسل تھا، وہ فلحال رک گیا ۔ قوم کو تو بتایا جائے کہ وہ کیا کر رہے ہیں، پارلیمنٹ کو تو بتایا جائے،اس ساری صورتحال سے قوم کو بے خبر رکھا جا رہا ہے،اور ملک کے اندر تشویش بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ اور پھر پیسہ نہیں آئے گا ملک کے اندر، پھر اسلحہ ملک کے اندر آئے گا۔ ملک کے اندر اسلحہ کے راستے بنائے جا رہے ہیں، اور حالات آپ کے رویوں کی وجہ سے بنتے چلے جا رہے ہیں۔ پھر شکایت کس سے؟ ہم نے ٹی ٹی پی سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے بی ایل اے سے امن کی درخواست نہیں کرنی، ہم نے اتحاد المجاہدین سے امن کی درخواست نہیں کرنی۔ ہم نے امن کا مطالبہ حکومت سے کرنا ہے، ہم نے امن کا مطالبہ اپنے اداروں سے کرنا ہے، جو ہمارے قیامِ امن اور ہماری جان، مال و عزت و آبرو کے محافظ ہیں، اور یہ ان کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کرنا ہے کہ آپ ہمیں کیا امن دے رہے ہیں؟

Maulana Fazl-ur-Rehman

23,845 görüntüleme • 7 gün önce