Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

🚨🚨🚨یہ پی ٹی آئی کا چیئرمین ہے جو دوسروں کو اخلاقیات کا بھاشن دیتا کے لیکن ایک ٹویٹ کرنے پر کیسے بدتمیزی کررہا ہے ان کے حق میں لکھوں تو ٹھیک مگر ان کو آئینہ دکھاو تو پھر ایسے کوتا ہے

50,805 görüntüleme • 7 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

بانی پی ٹی آئی کی شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقلی ایک شدید سیکیورٹی رسک ہے، جس پر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود محض سیاست کی جارہی ہے۔ گزشتہ روز پی ٹی آئی سے وابستہ ورکرز کی جانب سے شفاء انٹرنیشنل اسپتال کی مختلف زاویوں سے ویڈیوز بنائی گئیں اور یہ تک تشہیر کی گئی کہ اسپتال کے کتنے دروازے ہیں اور بانی کو کس راستے سے لایا جائے گا۔ موجودہ حالات میں جب پاکستان کو دہشت گردی کے شدید خطرات کا سامنا ہے،یہ غیر ذمہ دارانہ عمل سیکیورٹی پلان کو سرِعام لیک کرنے کے مترادف ہے۔ کالعدم ٹی ٹی پی کے خارجی اور دیگر بھارتی حمایت یافتہ دشمن عناصر اس حساس صورتحال کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ علاج معالجہ بانی پی ٹی آئی کا بنیادی حق ہے، لیکن ان کی زندگی کی سیکیورٹی ریاست کی اولین ذمہ داری ہے جس پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ ہم اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کا تہہ دل سے احترام کرتے ہیں، لیکن عدالتوں کو بھی چاہیے کہ وہ ایسے احکامات دیتے وقت زمینی اور سیکیورٹی حقائق کو لازماً مدنظر رکھیں۔ شفاء اسپتال ایک مصروف عوامی مقام ہے جہاں روزانہ ہزاروں عام مریض آتے ہیں، وہاں ہجوم جمع ہونے سے بانی پی ٹی آئی کی سیکیورٹی شدید خطرے میں پڑ جائے گی اور عام عوام کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔ لہٰذا، عقل اور سیکیورٹی کا تقاضا یہی ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے یا تو ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل بورڈ کو جیل کے اندر ہی تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جائیں، یا پھر انہیں کسی ایسے محفوظ سرکاری اسپتال منتقل کیا جائے جہاں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ممکن ہوں۔ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لیے بانی پی ٹی آئی کی زندگی کو داؤ پر لگانا کسی طور مناسب نہیں۔

Markhor 🇵🇰

266,633 görüntüleme • 1 ay önce

فوج نے اسٹنٹ مین Mian Abbad Farooq کو کسی وجہ سے رہا کیا ہے۔ لوگوں نے جب جیل وین میں بلند کیے گئے مکے والی اس کی منظم تصویر دیکھی، تو یہ سمجھا کہ وہ باہر آکر اڈیالہ جیل پر چھاپہ مارے گا اور عمران خان کو آزاد کروائے گا۔ لیکن رہا ہونے کے بعد سے اب تک اس اسٹنٹ مین نے صرف تماشے ہی کیے ہیں، چاہے وہ سیاسی قیدیوں کے لیے چندہ جمع کرنے کی خاطر ذاتی ویب سائٹس بنانا ہو (جبکہ پی ٹی آئی کے پہلے سے کئی ایسے پلیٹ فارمز موجود ہیں)، یا یہ دعویٰ کہ پنجاب میں عوام کو متحرک کرنا مشکل ہے کیونکہ وہاں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں ہے، جو دراصل کچھ نہ کرنے کا بہانہ ہے۔ اگر یہ سب باتیں بے معنی لگیں، تو اس کا کے پی کا بجٹ سپورٹ کرنا، غدار علی امین گنڈاپور کے ساتھ کھڑا ہونا، عمران خان کی ہدایات کی کھلی خلاف ورزی کرنا، اور فوج کے مائنس عمران خان فارمولے کا حصہ بننا یقیناً سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔ اگر عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ بجٹ اُن کی منظوری کے بغیر منظور نہیں ہو سکتا، تو آپ کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ اگر بجٹ پاس نہ ہوا تو حکومت گر جائے گی؟ ایسی حکومت رکھنے کا کیا فائدہ جو فوج کی کٹھ پتلی ہو؟ جیل میں گزارا ہوا وقت نہ تو وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی اہلیت کی۔ اس کا مختلف صلاحیتوں کا حامل بیٹا اس کی حراست کے دوران انتقال کر گیا، جو ایک گہری ذاتی قربانی ہے، لیکن یہ بھی نہ وفاداری کی ضمانت ہے اور نہ ہی قابلیت کی۔ مبارک زیب کا بھائی ریحان زیب کو دہشت گردوں نے قتل کر دیا، اور آج مبارک زیب کس شکل میں سامنے آیا ہے، سب کے سامنے ہے۔ پی ٹی آئی کے حمایتیوں کو صرف دکھاوے اور ڈرامے کی بنیاد پر ایسے اسٹنٹ مین کو ہیرو بنانا بند کرنا ہوگا۔

Pakistan Walli

75,986 görüntüleme • 1 yıl önce