正在加载视频...

视频加载失败

یہ کلپ دیکھنے کے بعد آپکو اس سوال کا جواب ضرور مل جاے گا کہ پنجاب میں ہی الیکشن چوری کیوں ہوتا ہے ۔۔ جب بھی سیاست دان بکتے ہیں پنجاب کے نمبرز کیوں زیادہ ہوتے ہیں ۔۔ کرپٹ بیوروکریسی ہم پر کیوں مسلط ہے ۔۔ فسطائیت کے خلاف...

15,498 次观看 • 9 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

تو ان مشکلات سے ہم گزر رہے ہیں، بلوچستان کے علاقوں میں خون ریزی ہو رہی ہے، جنگ ہے، پشتون علاقوں میں جنگ ہے، خیبر پختونخوا میں جنگ ہے، کشمیر میں، راولاکوٹ میں تین مہینے ہو گئے ہیں، لوگ بیٹھے ہیں، یہ ان سے بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ کیا مقاصد ہیں؟ رفتہ رفتہ اس میں ان عناصر کو غلبہ مل رہا ہے جو خود مختار کشمیر کی بات کرتے ہیں، جذبات میں تبدیلی آ رہی ہے، کیا مقصد ہے؟ کیا اس ملک کو توڑنا ہے؟ یہ کہنا کہ ہم ملک کے محافظ ہیں، کسی کا باپ بھی اس ملک کو نقصان نہیں پہنچا سکتا، مانتے ہیں، آپ بڑے طاقتور ہیں، لیکن ہم، مجھے یاد ہے اور شاید کوئی بزرگ ایسے ہوں جو ان کو بھی یاد ہو، جب دسمبر 1971ء میں ہتھیار ڈالنے سے ایک دن پہلے جنرل یحییٰ خان نے قوم سے خطاب کیا اور کہا: ہم لڑیں گے، گلی گلی میں لڑیں گے، صحراؤں میں لڑیں گے، کھیتوں میں لڑیں گے، کارخانوں میں لڑیں گے، پہاڑوں میں لڑیں گے اور لڑیں گے، اور ان کے خلاف ہم جنگ لڑیں گے، اگلے دن ہتھیار پھینک دیئے یہ بڑے بڑے بول تو ہم نے اس وقت بھی سنے ہیں۔ ملک کو اور عوام کو کیوں امتحان میں ڈال رہے ہو؟ کیوں مزے لے رہے ہو، جب آپ کی پبلک اس کرب سے گزر رہی ہے۔ اور آج 2026ء ہے۔ 1979ء میں جب افغانستان میں انقلاب آیا اور جنگ شروع ہوئی، اب آپ بتائیں کہ پینتالیس، چھیالیس سال ہو رہے ہیں، ایک ہی خطے کے اوپر اتنے نصف صدی کے قریب خون بہہ رہا ہے۔ اس طرح کا خون جب بہتا ہے تو پھر وہ جغرافیائی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ تو پھر ہمیں اپنے ارادوں سے آگاہ تو کر دیجیے۔ ہم تو سہ رہے ہیں اور سہتے رہیں گے۔ چلتا رہے گا معاملہ، چند روز اور میری جان، فقط چند ہی روز ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں اور کچھ دیر ستم سہ لیں، تڑپ لیں، رو لیں اپنے اجداد کی میراث ہے، معذور ہیں جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں جس پہ قید ہے، جذبات پہ زنجیریں ہیں فکر محبوس ہے، گفتار پہ تعزیریں ہیں اپنی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جیے جاتے ہیں زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں ان حالات سے ہم نے لڑنا ہے، لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں۔ ایک ذرا صبر، فریاد کے دن تھوڑے ہیں۔ عرصۂ دہر کی جھلسی ہوئی ویرانی میں ہم کو رہنا ہے کہ یوں ہی تو نہیں رہنا ہے اجنبی ہاتھوں کا بے نام غبارِ ستم آج سہنا ہے، ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,506 次观看 • 1 个月前

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 次观看 • 1 年前

امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی اسلام آباد میں پریس کانفرنس حکومت اور حکومت میں شامل جماعتیں خاموش ہیں، اس کا ایک فرد بول رہا ہے، وہ ہوتا کون ہے؟ ملک کے اندر اس کی حیثیت کیا ہے، اس کی پہچان کیا ہے؟ وہ جس کے گھر کا نوکر ہے، اس کی نوکری کرے، ان کے برتن دھوئے، کپڑے دھوئے، ان کی یہی ڈیوٹی ہے۔ ملک کے مسائل سے اس کا کوئی سروکار نہیں۔ اتنے بے بس ہم بھی نہیں ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ کھیلتے رہیں اور ہم تماشا دیکھتے رہیں۔ اگر حالات نہیں ہیں، نئے مسائل اور ایشوز کا پاکستان متحمل نہیں ہے، تو پھر ہم بھی پاکستانی ہیں۔ ہم آپ کو پاکستان کا مالک تصور نہیں کرتے۔ حد سے آگے بڑھیں گے تو پھر اور لوگ بھی حد سے آگے بڑھیں گے۔ شکر کرو کہ ابھی ملک آپ کے ساتھ ہے، عوام پاکستان کے ساتھ ہیں، مذہبی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں، سیاسی جماعتیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ہم نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا، ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا، لیکن قوم کو نتائج تو بتائے جائیں ناں کہ اس کردار کا کیا نتیجہ نکلا؟ آج سعودی عرب پر گولے برسائے جا رہے ہیں، حرمین شریفین کی طرف راکٹوں کے رخ کر دیئے گئے ہیں، اور کچھ پتہ نہیں کہ یہ جو ثالثی کا کردار تھا، خطے میں قیامِ امن کے لیے ایک کوشش تھی، اصولی طور پر ہم نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔ لیکن قوم کو بتایا تو جائے، اور میں نے کئی بار اس بات کا ذکر کیا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلا کر قوم کے نمائندوں کو بتایا جائے کہ ملک کہاں کھڑا ہے۔ کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔مولانا فضل الرحمن

Fahim Akhtar Malik

11,304 次观看 • 7 天前

کارکنان بالکل راضی ہیں، کارکنان کو پتا ہے کہ یہ ٹیسٹ میچ ہے۔ کارکنان اس بات پر مطمئن رہیں کہ ہمارا لانگ مارچ، یعنی ٹیسٹ میچ، تقریباً شروع ہو گیا ہے۔ ٹاس ہم نے جیتا ہے، اب ہماری مرضی ہے کہ ہم پہلے بیٹنگ کریں یا فیلڈنگ کریں، یہ اختیار ابھی ہمارے پاس ہے۔ ہم لانگ مارچ اپنے مطالبات منوانے کے لیے کر رہے ہیں۔ ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہمارے لیڈر پوری دنیا کو کہتے ہیں کہ تمام مسائل ڈائیلاگ کے ذریعے حل ہونے چاہئیں، تو ہم بھی یہی چاہتے ہیں۔ لانگ مارچ کے بعد بھی ڈائیلاگ ہوں گے۔ لیکن یہ بات ہم بھی جانتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف بھی جانتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ بھی جانتی ہے کہ اس دفعہ جو لوگ نکلنے ہیں، وہ پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی نہیں نکلے۔ اس دفعہ لوگوں کی آنکھوں میں جو غصہ اور نفرت پایا جا رہا ہے، وہ اپنی تقریباً 18، 20 سالہ سیاست میں، میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اس دفعہ بہت زیادہ ہے۔ اس دفعہ 4 اکتوبر کو جو لوگ نکلیں گے، میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں کہ وہ پھر کسی کے کنٹرول میں نہیں ہوں گے۔ وہ پُرامن طریقے سے اپنے مطالبات منوائے بغیر وہاں سے کسی صورت واپس نہیں ہوں گے۔ Sohail Afridi #LongMarchOnOctober4th #مزاحمت_سے_ملے_گی_آزادی

PTI

82,526 次观看 • 4 天前

ان کے کام دیکھو، بچے سے لے کر بوڑھا تک ان کی اس طرح کی حرکات میں ملوث ہیں. صرف عید پر نہیں، پنجاب کے ثقافتی پروگراموں میں بھی افغان پٹھان یہ سب کرتے پھرتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ ہم تو پنجاب میں صرف روزی کمانے آتے ہیں. جب پکڑے جاتے ہیں تو ان سے بڑا شریف شخص دنیا میں کوئی نہیں ہوتا، اجتماعی طور پر بھی ان کی یہی سوچ ہے،ہم ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کو اچھی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن سوشل میڈیا پر جب بھی پنجابی پٹھان کی بات آتی ہے،ان میں سے کئی نمک حرام گواہی دیتے ہیں کہ ہم پنجاب میں جب رہتے ہیں یا پنجاب میں ہمیں جب سکیورٹی گارڈ رکھا جاتا ہے تو ہماری نظریں ان کی عورتوں پر ہوتی ہیں۔ اور ایسے ایسے دعوے کرتے ہیں کہ جو میں ادھر غلطی سے بھی نہی لکھ سکتا۔ کیا سی سی ڈی صرف اور صرف پنجابیوں کو حالف فرائی،فُل فرائی اور گھوڑا فرائی کرنے کیلئے بنائی گئی ہے؟؟؟ ان کو لگام کس نے ڈالنی ہے؟؟؟ CRIME CONTROL DEPARTMENT (CCD) PUNJAB Maryam Nawaz Sharif Government of Punjab

Qamar PindiAana 🌾✨

54,520 次观看 • 6 个月前