
Afaq somroo
@AfaqSomroo • 49,321 subscribers
کتنی امید ہے نا اس آیت میں ہم دیکھ رہے ہیں تمہارا بار بار آسمان کی طرف منہ کرنا" (سورۃ البقرہ) 💙 https://t.co/RaJee3SL3s
Shorts
Videos

#قومی_زبان جانے یہ کون سی زبان ہے… مگر درد کو سمجھنے کے لیے زبان کی ضرورت نہیں ہوتی۔ درد تو آواز سے بھی دل تک اتر جاتا ہے۔ اس بچی کی سسکیوں میں ایسا کرب ہے کہ سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور دل بے اختیار دعا کرتا ہے۔ یا اللہ! ہر بیٹی کے نصیب اچھے فرما، اسے محبت، عزت اور تحفظ عطا فرما، اور کسی بھی بیٹی کو ایسے والدین نہ دے جو عقل، لالچ یا اپنی خواہشات کے اندھے ہو کر اس کی زندگی برباد کر دیں۔ آمین یا رب العالمین
Afaq somroo20,211 views • 22 days ago

بل گیٹس پاکستان میں آئی ٹی پارک بنانا چاہتا تھا مگر پاکستان میں آئی ٹی پارک نہ بن سکا کیونکہ پاکستان کی اس بربادی میں احسن اقبال کے پانچ منٹ تھے جی ہاں اس احسن اقبال کے پانچ منٹ جو اپنی حب الوطنی کا لیکچر دیتے نہیں تھکتا اور جس کو اپنے فلاسفر ہونے پر بڑا ناز ہے جانئے اس کلپ میں 👇
Afaq somroo351,245 views • 2 years ago
0:53
Sensitive content
This media may contain sensitive content.
1:00
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

آج کل خیبر پختونخوا اور پختون بیلٹ میں رائج ایک گھناؤنی روایت لونڈے بازی یا بچہ بازی کا مسئلہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ مختلف حلقوں میں اس موضوع پر شدید بحث و مباحثہ جاری ہے اور لوگ کھل کر اس پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ الزام بھی بارہا دہرایا جا رہا ہے کہ بچہ بازی بعض پختون علاقوں میں ایک سماجی روایت یا ثقافتی مظہر کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بعض مقامات پر اس مقصد کے لیے باقاعدہ منڈیاں اور بازار بھی سجائے جاتے رہے ہیں جہاں نوخیز لڑکوں کی خرید و فروخت تک کی جاتی تھی۔ فقیر گل ساج جنوبی پنجاب کا باسی ہے ہمارے ہاں بھی لونڈے بازی کی قبیح روایت بدرجہ اتم موجود ہے۔۔ بچہ بازی کو محض کسی ایک خطے یا قوم کے کھاتے میں ڈال دینا تاریخی حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ درحقیقت اس رجحان کی جڑیں کہیں زیادہ گہری اور وسیع ہیں۔ نام نہاد صوفیانہ تعبیرات اور بعض ذہنی طور پر بھٹکے ہوئے شعرا و ادبا نے صدیوں پہلے اسے ایک حد تک فکری اور ادبی جواز فراہم کیا۔ یوں یہ رجحان صرف کسی ایک معاشرے تک محدود نہ رہا بلکہ مختلف تہذیبوں اور ادوار میں کسی نہ کسی صورت موجود رہا ہے۔ ایران کی کلاسیکی تہذیب میں “شاہد بازی” کی اصطلاح معروف رہی اور فارسی شاعری میں “ساقی”، “شاہد” اور “ترک” جیسے استعارے اکثر نوخیز حسن کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ مستشرق ایڈورڈ جی براؤن کے مطابق قرونِ وسطیٰ کی فارسی شاعری میں نوجوان حسن کی تعریف ایک مستقل ادبی روایت کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ مشہور محققہ این میری شمل لکھتی ہیں کہ بعض صوفیانہ حلقوں میں اس حسن کو جمالِ الٰہی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اسی طرح وسطی ایشیا اور افغانستان میں “بچہ بازی” کے نام سے کم عمر لڑکوں کو محفلوں میں رقص و موسیقی کے لیے پیش کرنے کی روایت بھی تاریخ میں ملتی ہے۔ برصغیر میں یہ رجحان فارسی اور وسطی ایشیائی اثرات کے ذریعے پہنچا اور مغلیہ عہد میں درباری اور ادبی ثقافت میں اس کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ مغل دور کے معروف صوفی مادھو لال حسین (1538–1599) کی شخصیت اکثر اس بحث میں مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق وہ ایک ہندو نوجوان مادھو لال سے اس قدر وابستہ ہوئے کہ بعد میں دونوں کے نام ایک ساتھ مشہور ہو گئے اور انہیں “مادھو لال حسین” کہا جانے لگا۔ لاہور میں آج بھی ان کے مزار پر ہونے والا میلہ میلہ چراغاں اسی نسبت سے مشہور ہے۔ بعض مؤرخین اور محققین اس تعلق کو صوفیانہ عقیدت قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اسے عشقِ امرد کی روایت سے جوڑتے ہیں۔ بلھے شاہ اور شاہ عنایت قادری. پنجابی صوفی شاعر بلھے شاہ (1680–1757) اپنے مرشد شاہ عنایت قادری سے شدید عقیدت رکھتے تھے۔ روایت میں آتا ہے کہ جب مرشد ناراض ہوئے تو بلھے شاہ نے زنانہ لباس پہن کر رقاصاؤں کے ساتھ رقص کیا تاکہ مرشد کی توجہ دوبارہ حاصل کر سکیں۔ یہ واقعہ صوفیانہ روایت میں عشقِ مرشد کی شدت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے مگر بعض ناقدین اسے بھی اسی سلسلے کی ایک مثال قرار دیتے ہیں جس میں روحانی عقیدت اور شخصی وابستگی کے درمیان حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ سرمد شہید اور ابھی چند مغل عہد کے معروف صوفی سرمد کشانی (سرمد شہید) کا تعلق آرمینیا سے تھا مگر وہ ہندوستان آ کر بس گئے۔ تاریخی روایت کے مطابق وہ ابھی چند نامی ایک ہندو نوجوان کے عشق میں مبتلا ہو گئے تھے۔ کئی مورخین نے لکھا ہے کہ سرمد کی شاعری میں اسی عشق کا عکس ملتا ہے۔ بعد میں وہ دارا شکوہ کے قریب ہوئے اور بالآخر اورنگزیب عالمگیر کے دور میں قتل کر دیے گئے۔ فارسی شاعری اور امرد پرستی. صوفیانہ شاعری میں نوجوان ساقی یا خوبرو لڑکے کا تصور بار بار آتا ہے۔ فارسی ادب میں یہ روایت خاصی مضبوط رہی ہے۔ مثلاً حافظ شیرازی، سعدی شیرازی اور دیگر شعرا کے ہاں “ساقی”، “ترک شیرازی”، “شاہد” اور “غلام” جیسے استعارے اکثر نوخیز لڑکوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ حافظ کا مشہور شعر ہے.. اگر آں تُرک شیرازی بدست آرد دلِ ما را بخالِ ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را بعض محققین کے مطابق یہاں ترک شیرازی سے مراد ایک خوبرو نوجوان ہے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ نوخیز لڑکوں کے حسن پر فریفتگی کی یہ روایت صرف کسی ایک خطے یا تہذیب تک محدود نہیں رہی۔ یونان کے فلسفیوں سے لے کر فارسی شاعری صوفیانہ حلقوں اور برصغیر کی معاشرت تک اس کے آثار بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔ اسی طرح سرائیکی بیلٹ اور اس خطے کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہاں مردانہ حسن پرستی کبھی کبھی ایسی شدت اختیار کر لیتی ہے کہ وہ روایت اور ثقافت کے بیچ کی لکیر دھندلا دیتی ہے۔👇
Afaq somroo40,454 views • 4 months ago

محترمہ مریم صاحبہ کے سو دن کی کہانی ایک قابل عزت ،پڑھی لکھی خاتون کی زبانی
Afaq somroo103,834 views • 2 years ago

کفن پہنانے کا طریقہ سب مسلمانوں کو آنا چاہیے ۔۔۔نہیں آتا تو سیکھ لیں 👇
Afaq somroo114,396 views • 2 years ago
1:24
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

#قومی_زبان تجارتی بنیادوں پر بنائی جانے والی مستقبل کی چکن بریانی۔
Afaq somroo29,744 views • 7 months ago