Afaq somroo's banner
Afaq somroo's profile picture

Afaq somroo

@AfaqSomroo49,174 subscribers

کتنی امید ہے نا اس آیت میں ہم دیکھ رہے ہیں تمہارا بار بار آسمان کی طرف منہ کرنا" (سورۃ البقرہ) 💙 https://t.co/RaJee3SL3s

Shorts

بھارتی چینل نے تو اخیر ہی کر دی مریم نواز کی آتما ہی رول دی

بھارتی چینل نے تو اخیر ہی کر دی مریم نواز کی آتما ہی رول دی

14,521 görüntüleme

Videos

آج کل خیبر پختونخوا اور پختون بیلٹ میں رائج ایک گھناؤنی روایت لونڈے بازی یا بچہ بازی کا مسئلہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ مختلف حلقوں میں اس موضوع پر شدید بحث و مباحثہ جاری ہے اور لوگ کھل کر اس پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ الزام بھی بارہا دہرایا جا رہا ہے کہ بچہ بازی بعض پختون علاقوں میں ایک سماجی روایت یا ثقافتی مظہر کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بعض مقامات پر اس مقصد کے لیے باقاعدہ منڈیاں اور بازار بھی سجائے جاتے رہے ہیں جہاں نوخیز لڑکوں کی خرید و فروخت تک کی جاتی تھی۔ فقیر گل ساج جنوبی پنجاب کا باسی ہے ہمارے ہاں بھی لونڈے بازی کی قبیح روایت بدرجہ اتم موجود ہے۔۔ بچہ بازی کو محض کسی ایک خطے یا قوم کے کھاتے میں ڈال دینا تاریخی حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ درحقیقت اس رجحان کی جڑیں کہیں زیادہ گہری اور وسیع ہیں۔ نام نہاد صوفیانہ تعبیرات اور بعض ذہنی طور پر بھٹکے ہوئے شعرا و ادبا نے صدیوں پہلے اسے ایک حد تک فکری اور ادبی جواز فراہم کیا۔ یوں یہ رجحان صرف کسی ایک معاشرے تک محدود نہ رہا بلکہ مختلف تہذیبوں اور ادوار میں کسی نہ کسی صورت موجود رہا ہے۔ ایران کی کلاسیکی تہذیب میں “شاہد بازی” کی اصطلاح معروف رہی اور فارسی شاعری میں “ساقی”، “شاہد” اور “ترک” جیسے استعارے اکثر نوخیز حسن کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ مستشرق ایڈورڈ جی براؤن کے مطابق قرونِ وسطیٰ کی فارسی شاعری میں نوجوان حسن کی تعریف ایک مستقل ادبی روایت کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ مشہور محققہ این میری شمل لکھتی ہیں کہ بعض صوفیانہ حلقوں میں اس حسن کو جمالِ الٰہی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اسی طرح وسطی ایشیا اور افغانستان میں “بچہ بازی” کے نام سے کم عمر لڑکوں کو محفلوں میں رقص و موسیقی کے لیے پیش کرنے کی روایت بھی تاریخ میں ملتی ہے۔ برصغیر میں یہ رجحان فارسی اور وسطی ایشیائی اثرات کے ذریعے پہنچا اور مغلیہ عہد میں درباری اور ادبی ثقافت میں اس کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ مغل دور کے معروف صوفی مادھو لال حسین (1538–1599) کی شخصیت اکثر اس بحث میں مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق وہ ایک ہندو نوجوان مادھو لال سے اس قدر وابستہ ہوئے کہ بعد میں دونوں کے نام ایک ساتھ مشہور ہو گئے اور انہیں “مادھو لال حسین” کہا جانے لگا۔ لاہور میں آج بھی ان کے مزار پر ہونے والا میلہ میلہ چراغاں اسی نسبت سے مشہور ہے۔ بعض مؤرخین اور محققین اس تعلق کو صوفیانہ عقیدت قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اسے عشقِ امرد کی روایت سے جوڑتے ہیں۔ بلھے شاہ اور شاہ عنایت قادری. پنجابی صوفی شاعر بلھے شاہ (1680–1757) اپنے مرشد شاہ عنایت قادری سے شدید عقیدت رکھتے تھے۔ روایت میں آتا ہے کہ جب مرشد ناراض ہوئے تو بلھے شاہ نے زنانہ لباس پہن کر رقاصاؤں کے ساتھ رقص کیا تاکہ مرشد کی توجہ دوبارہ حاصل کر سکیں۔ یہ واقعہ صوفیانہ روایت میں عشقِ مرشد کی شدت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے مگر بعض ناقدین اسے بھی اسی سلسلے کی ایک مثال قرار دیتے ہیں جس میں روحانی عقیدت اور شخصی وابستگی کے درمیان حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ سرمد شہید اور ابھی چند مغل عہد کے معروف صوفی سرمد کشانی (سرمد شہید) کا تعلق آرمینیا سے تھا مگر وہ ہندوستان آ کر بس گئے۔ تاریخی روایت کے مطابق وہ ابھی چند نامی ایک ہندو نوجوان کے عشق میں مبتلا ہو گئے تھے۔ کئی مورخین نے لکھا ہے کہ سرمد کی شاعری میں اسی عشق کا عکس ملتا ہے۔ بعد میں وہ دارا شکوہ کے قریب ہوئے اور بالآخر اورنگزیب عالمگیر کے دور میں قتل کر دیے گئے۔ فارسی شاعری اور امرد پرستی. صوفیانہ شاعری میں نوجوان ساقی یا خوبرو لڑکے کا تصور بار بار آتا ہے۔ فارسی ادب میں یہ روایت خاصی مضبوط رہی ہے۔ مثلاً حافظ شیرازی، سعدی شیرازی اور دیگر شعرا کے ہاں “ساقی”، “ترک شیرازی”، “شاہد” اور “غلام” جیسے استعارے اکثر نوخیز لڑکوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ حافظ کا مشہور شعر ہے.. اگر آں تُرک شیرازی بدست آرد دلِ ما را بخالِ ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را بعض محققین کے مطابق یہاں ترک شیرازی سے مراد ایک خوبرو نوجوان ہے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ نوخیز لڑکوں کے حسن پر فریفتگی کی یہ روایت صرف کسی ایک خطے یا تہذیب تک محدود نہیں رہی۔ یونان کے فلسفیوں سے لے کر فارسی شاعری صوفیانہ حلقوں اور برصغیر کی معاشرت تک اس کے آثار بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔ اسی طرح سرائیکی بیلٹ اور اس خطے کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہاں مردانہ حسن پرستی کبھی کبھی ایسی شدت اختیار کر لیتی ہے کہ وہ روایت اور ثقافت کے بیچ کی لکیر دھندلا دیتی ہے۔👇
1:00

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

AfaqSomroo's profile picture

آج کل خیبر پختونخوا اور پختون بیلٹ میں رائج ایک گھناؤنی روایت لونڈے بازی یا بچہ بازی کا مسئلہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ مختلف حلقوں میں اس موضوع پر شدید بحث و مباحثہ جاری ہے اور لوگ کھل کر اس پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ الزام بھی بارہا دہرایا جا رہا ہے کہ بچہ بازی بعض پختون علاقوں میں ایک سماجی روایت یا ثقافتی مظہر کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بعض مقامات پر اس مقصد کے لیے باقاعدہ منڈیاں اور بازار بھی سجائے جاتے رہے ہیں جہاں نوخیز لڑکوں کی خرید و فروخت تک کی جاتی تھی۔ فقیر گل ساج جنوبی پنجاب کا باسی ہے ہمارے ہاں بھی لونڈے بازی کی قبیح روایت بدرجہ اتم موجود ہے۔۔ بچہ بازی کو محض کسی ایک خطے یا قوم کے کھاتے میں ڈال دینا تاریخی حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ درحقیقت اس رجحان کی جڑیں کہیں زیادہ گہری اور وسیع ہیں۔ نام نہاد صوفیانہ تعبیرات اور بعض ذہنی طور پر بھٹکے ہوئے شعرا و ادبا نے صدیوں پہلے اسے ایک حد تک فکری اور ادبی جواز فراہم کیا۔ یوں یہ رجحان صرف کسی ایک معاشرے تک محدود نہ رہا بلکہ مختلف تہذیبوں اور ادوار میں کسی نہ کسی صورت موجود رہا ہے۔ ایران کی کلاسیکی تہذیب میں “شاہد بازی” کی اصطلاح معروف رہی اور فارسی شاعری میں “ساقی”، “شاہد” اور “ترک” جیسے استعارے اکثر نوخیز حسن کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ مستشرق ایڈورڈ جی براؤن کے مطابق قرونِ وسطیٰ کی فارسی شاعری میں نوجوان حسن کی تعریف ایک مستقل ادبی روایت کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ مشہور محققہ این میری شمل لکھتی ہیں کہ بعض صوفیانہ حلقوں میں اس حسن کو جمالِ الٰہی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اسی طرح وسطی ایشیا اور افغانستان میں “بچہ بازی” کے نام سے کم عمر لڑکوں کو محفلوں میں رقص و موسیقی کے لیے پیش کرنے کی روایت بھی تاریخ میں ملتی ہے۔ برصغیر میں یہ رجحان فارسی اور وسطی ایشیائی اثرات کے ذریعے پہنچا اور مغلیہ عہد میں درباری اور ادبی ثقافت میں اس کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ مغل دور کے معروف صوفی مادھو لال حسین (1538–1599) کی شخصیت اکثر اس بحث میں مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق وہ ایک ہندو نوجوان مادھو لال سے اس قدر وابستہ ہوئے کہ بعد میں دونوں کے نام ایک ساتھ مشہور ہو گئے اور انہیں “مادھو لال حسین” کہا جانے لگا۔ لاہور میں آج بھی ان کے مزار پر ہونے والا میلہ میلہ چراغاں اسی نسبت سے مشہور ہے۔ بعض مؤرخین اور محققین اس تعلق کو صوفیانہ عقیدت قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اسے عشقِ امرد کی روایت سے جوڑتے ہیں۔ بلھے شاہ اور شاہ عنایت قادری. پنجابی صوفی شاعر بلھے شاہ (1680–1757) اپنے مرشد شاہ عنایت قادری سے شدید عقیدت رکھتے تھے۔ روایت میں آتا ہے کہ جب مرشد ناراض ہوئے تو بلھے شاہ نے زنانہ لباس پہن کر رقاصاؤں کے ساتھ رقص کیا تاکہ مرشد کی توجہ دوبارہ حاصل کر سکیں۔ یہ واقعہ صوفیانہ روایت میں عشقِ مرشد کی شدت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے مگر بعض ناقدین اسے بھی اسی سلسلے کی ایک مثال قرار دیتے ہیں جس میں روحانی عقیدت اور شخصی وابستگی کے درمیان حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ سرمد شہید اور ابھی چند مغل عہد کے معروف صوفی سرمد کشانی (سرمد شہید) کا تعلق آرمینیا سے تھا مگر وہ ہندوستان آ کر بس گئے۔ تاریخی روایت کے مطابق وہ ابھی چند نامی ایک ہندو نوجوان کے عشق میں مبتلا ہو گئے تھے۔ کئی مورخین نے لکھا ہے کہ سرمد کی شاعری میں اسی عشق کا عکس ملتا ہے۔ بعد میں وہ دارا شکوہ کے قریب ہوئے اور بالآخر اورنگزیب عالمگیر کے دور میں قتل کر دیے گئے۔ فارسی شاعری اور امرد پرستی. صوفیانہ شاعری میں نوجوان ساقی یا خوبرو لڑکے کا تصور بار بار آتا ہے۔ فارسی ادب میں یہ روایت خاصی مضبوط رہی ہے۔ مثلاً حافظ شیرازی، سعدی شیرازی اور دیگر شعرا کے ہاں “ساقی”، “ترک شیرازی”، “شاہد” اور “غلام” جیسے استعارے اکثر نوخیز لڑکوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ حافظ کا مشہور شعر ہے.. اگر آں تُرک شیرازی بدست آرد دلِ ما را بخالِ ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را بعض محققین کے مطابق یہاں ترک شیرازی سے مراد ایک خوبرو نوجوان ہے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ نوخیز لڑکوں کے حسن پر فریفتگی کی یہ روایت صرف کسی ایک خطے یا تہذیب تک محدود نہیں رہی۔ یونان کے فلسفیوں سے لے کر فارسی شاعری صوفیانہ حلقوں اور برصغیر کی معاشرت تک اس کے آثار بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔ اسی طرح سرائیکی بیلٹ اور اس خطے کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہاں مردانہ حسن پرستی کبھی کبھی ایسی شدت اختیار کر لیتی ہے کہ وہ روایت اور ثقافت کے بیچ کی لکیر دھندلا دیتی ہے۔👇

Afaq somroo

40,305 görüntüleme • 3 ay önce

مماثلت اتفاقاً ہو گی
1:24

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

AfaqSomroo's profile picture

مماثلت اتفاقاً ہو گی

Afaq somroo

87,578 görüntüleme • 1 yıl önce

AfaqSomroo's profile picture

احادیث میں آتا ہے دجال مرے ہوئے والدین کو زندہ کرکے دکھادے گا جو اپنی اولاد سے بات کریں گے کہ بیٹا یہ (دجال) ہی تمہارا اصل خدا ہے تم اسے خدا تسلیم کرلو۔ اب نظر آرہا ہے کہ یہ سب Meta ٹیکنالوجی کے زریعے ہی ممکن ہوگا۔ شاید Meta کا کوئی ایڈوانسڈ ورزن ہوگا جس میں ChatGPT کی طرح کا خودکار روبوٹ آپکو آپ کے ہر سوال کا جواب دے گا۔ یعنی مرے ہوئے لوگ اب آپکے سامنے آکر آپ سے باتیں کرسکیں گے اور وہ بھی بلکل ایسے جیسے زندہ دوست ایک ساتھ بیٹھ کر گپ شپ لگاتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے زریعے انسان ایسی تخلیقی دنیا میں داخل ہوجائیں گے جیسے کارٹون کی دنیا ہوتی ہے جس میں تمام زندہ و مردہ لواحقین مل جل کر اپنی پسند کی جگہ پر گپ شپ لگاسکیں گے۔ سارا سیٹ اپ تو کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی سرانجام دے گی لیکن انسانوں کو ایسا محسوس ہوگا جیسے سب کچھ حقیقت میں ہی آنکھوں کے سامنے موجود ہے۔ اب واپس حدیث کی طرف آتے ہیں ۔۔۔ غور سے سمجھیں مفھوم حدیث : " دجال ایک قصبے سے گزرے گا، وہاں موجود لوگوں کو کہے گا میں تمہارا خدا ہوں مجھے خدا تسلیم کرو، وہ کانے دجال کو ماننے سے انکار کریں گے اور اس سے خدائی کی دلیل مانگیں گے۔ دجال (جس کو پہلے سے علم ہوگا کہ دلیل مانگنے والے شخص کے والدین مرچکے ہیں) کو کہے گا اگر میں تمہارے والدین کو زندہ کردوں تو کیا تم مجھے خدا تسلیم کرلوگے؟ وہ کہے گا ہاں کیوں نہیں۔ دجال اسکے والدین کو جادوئی طریقے سے (یا یوں کہیں کہ Meta ٹیکنالوجی کے زریعے) زندہ کرکے اسکے سامنے پیش کرے گا اور وہ والدین اپنے بیٹے کو کہیں گے کہ بیٹا یہ دجال ہی تمہارا اصل خدا ہے لہذہ تم اسکی بات مانو اور اسے خدا تسلیم کرلو۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ ۔ ذرا سنجیدگی کے ساتھ تصور کریں کہ اگر ایسا ہمارے ساتھ ہو تو ہمارے پاس کیا دلیل رہ جائے گی سوائے اسلے کہ فورا دجال کو خدا تسلیم کرلیں کیونکہ ہمارے مرے ہوئے والدین یا دوست کسی روبوٹ یا کارٹون کی شکل میں نہیں بلکہ سو فیصد انسانی شکل میں آئیں گے اور اسکے خدا ہونے کا اقرار بھی کریں گے ! اس وقت انسان کے پاس تمام دلائل ختم ہوجائیں گے، انسان لاجواب ہوجائے گا کیونکہ دجال کے پاس اسکے علاوہ ہارپ (HAARP) ٹیکنالوجی بھی ہوگی، وہ لعین جہاں چاہے گا بارش برسا سکے گا اور جس شہر والوں پر چاہے گا زلزلے بھیجے گا۔ انسان اسکے سامنے مکمل لاجواب ہوجائے گا اس سے بحث و تکرار میں کبھی جیت نہیں سکے گا کیونکہ وہ سوائے چند ایک کے تمام خدائی کام اپنے شعبدے بازی سے کرکے دکھائے گا بشمول مردوں کو زندہ کرنے کے۔۔۔۔۔ بیشک وہ شعبدہ بازی سے ہی ہو، جادو ہو یا پھر جدید ٹیکنالوجی کا دھوکہ ہو لیکن ایک بات تو طع ہے کہ عام انسان اسکی شعبدہ بازی نہیں سمجھ سکیں گے، اکثریت دھوکہ کھا جائے گی، اپنا ایمان گنوا دے گی۔۔۔ اپنے سامنے جیتے جاگتے مرحومین کو زندہ دیکھ کر کون حیران نہیں ہوجائے گا ۔۔۔۔!! لوگ تو یہی سمجھیں گے کہ مردوں کو زندہ تو صرف اللہ ہی کرسکتا ہے یوں دجال انکا ایمان چھین لے گا، اکثریت اسے خدا مان کر ک- اف- ر ہوجائے گی۔ حدیث میں آتا ہے اس وقت صبح کا مومن شام کو ک- اف- ر ہوجائے گا اور شام کو مومن صبح کو ک- اف- ر ہوجائے گا۔ اللہ اکبر آج کی Hologram اور Fb کی Meta ٹیکنالوجی ہمیں اسی طرف لیکر جارہی ہے۔ علماء کو اس بارے آگاہ دینی چاہیے۔ اس ٹیکنالوجی کے زریعے صرف دجال نہیں بلکہ آپ خود بھی بہت جلد آپ اپنے مرے ہوئے والدین اور عزیز و اقارب کو سامنے بٹھاکر ان سے گفتگو کرسکیں گے۔ اب یہ باتیں محض خیالی نہیں رہیں حقیقت بن چکی ہیں۔ بیشک فتنہ دجال روئے زمین کا سب سے بڑا فتنہ ہوگا۔ تحریر : یاسررسول

Afaq somroo

17,909 görüntüleme • 7 ay önce