Afaq somroo's banner
Afaq somroo's profile picture

Afaq somroo

@AfaqSomroo50,290 subscribers

کتنی امید ہے نا اس آیت میں ہم دیکھ رہے ہیں تمہارا بار بار آسمان کی طرف منہ کرنا" (سورۃ البقرہ) 💙 https://t.co/RaJee3SL3s

Shorts

بھارتی چینل نے تو اخیر ہی کر دی مریم نواز کی آتما ہی رول دی

بھارتی چینل نے تو اخیر ہی کر دی مریم نواز کی آتما ہی رول دی

14,530 次观看

Videos

AfaqSomroo's profile picture

دیگر خبروں سے ہٹ کر ایک ایسی خبر بھی ہے جس نے پہلے سے موجود کئی سوالات کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے اور اب یہ معاملہ ایک نئے موڑ پر کھڑا دکھائی دیتا ہے مکمل تصدیق کے بعد سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق عاقب جاوید کی بیٹی عقبہ عاقب کا نکاح 10 اگست کو انگلینڈ میں ہوا اور جس خاندان میں یہ رشتہ ہوا ہے اسے ایک عیسائی اور سفید فام خاندان بتایا جا رہا ہے اس خبر کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک سوال دوبارہ زیرِ بحث آ رہا ہے کہ آخر پاکستان کرکٹ میں محمد رضوان کی دینی و تبلیغی سرگرمیوں اور ان کے مذہبی طرزِ عمل کو ماضی میں بار بار تنقید اور پابندیوں کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ کیا یہ محض اتفاقات تھے یا پاکستان کرکٹ کے بعض فیصلوں کے پیچھے کوئی مخصوص سوچ اور ترجیحات بھی کارفرما رہی ہیں؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان کے پاس سعید انور محمد یوسف یونس خان جاوید میانداد، وسیم اکرم شعیب اختر اور انضمام الحق جیسے عظیم کرکٹرز اور تجربہ کار شخصیات موجود ہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان کرکٹ کے اہم ترین فیصلوں میں ایک ایسے شخص کا کردار مسلسل نمایاں کیوں ہے جس کے اپنے کوچنگ کیریئر پر بھی شدید تنقید ہوتی رہی ہے؟ اصل سوال تو یہ ہے کہ تمام تر ناکامیوں اعتراضات اور تنقید کے باوجود آخر وہ کون سی قوتیں یا عوامل ہیں جو عاقب جاوید کو پی سی بی کے اہم فیصلوں سے الگ نہیں ہونے دیتے؟ کیا واقعی تمام فیصلے صرف میرٹ اور کرکٹ کی بہتری کو سامنے رکھ کر کیے جا رہے ہیں یا پسِ پردہ کوئی اور مصلحتیں بھی موجود ہیں؟ اور اگر فیصلے واقعی کسی مخصوص فکر سوچ یا ترجیحات کے زیرِ اثر ہو رہے ہیں تو پھر سوال صرف عاقب جاوید کا نہیں بلکہ اس پورے نظام کا ہے پاکستان کرکٹ کی زبوں حالی اب محض میدان میں ہونے والی شکستوں کا معاملہ نہیں رہا یہ اس نظام پر بھی سوالیہ نشان ہے #Afaqwrites #

Afaq somroo

51,127 次观看 • 1 个月前

آج کل خیبر پختونخوا اور پختون بیلٹ میں رائج ایک گھناؤنی روایت لونڈے بازی یا بچہ بازی کا مسئلہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ مختلف حلقوں میں اس موضوع پر شدید بحث و مباحثہ جاری ہے اور لوگ کھل کر اس پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ الزام بھی بارہا دہرایا جا رہا ہے کہ بچہ بازی بعض پختون علاقوں میں ایک سماجی روایت یا ثقافتی مظہر کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بعض مقامات پر اس مقصد کے لیے باقاعدہ منڈیاں اور بازار بھی سجائے جاتے رہے ہیں جہاں نوخیز لڑکوں کی خرید و فروخت تک کی جاتی تھی۔ فقیر گل ساج جنوبی پنجاب کا باسی ہے ہمارے ہاں بھی لونڈے بازی کی قبیح روایت بدرجہ اتم موجود ہے۔۔ بچہ بازی کو محض کسی ایک خطے یا قوم کے کھاتے میں ڈال دینا تاریخی حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ درحقیقت اس رجحان کی جڑیں کہیں زیادہ گہری اور وسیع ہیں۔ نام نہاد صوفیانہ تعبیرات اور بعض ذہنی طور پر بھٹکے ہوئے شعرا و ادبا نے صدیوں پہلے اسے ایک حد تک فکری اور ادبی جواز فراہم کیا۔ یوں یہ رجحان صرف کسی ایک معاشرے تک محدود نہ رہا بلکہ مختلف تہذیبوں اور ادوار میں کسی نہ کسی صورت موجود رہا ہے۔ ایران کی کلاسیکی تہذیب میں “شاہد بازی” کی اصطلاح معروف رہی اور فارسی شاعری میں “ساقی”، “شاہد” اور “ترک” جیسے استعارے اکثر نوخیز حسن کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ مستشرق ایڈورڈ جی براؤن کے مطابق قرونِ وسطیٰ کی فارسی شاعری میں نوجوان حسن کی تعریف ایک مستقل ادبی روایت کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ مشہور محققہ این میری شمل لکھتی ہیں کہ بعض صوفیانہ حلقوں میں اس حسن کو جمالِ الٰہی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اسی طرح وسطی ایشیا اور افغانستان میں “بچہ بازی” کے نام سے کم عمر لڑکوں کو محفلوں میں رقص و موسیقی کے لیے پیش کرنے کی روایت بھی تاریخ میں ملتی ہے۔ برصغیر میں یہ رجحان فارسی اور وسطی ایشیائی اثرات کے ذریعے پہنچا اور مغلیہ عہد میں درباری اور ادبی ثقافت میں اس کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ مغل دور کے معروف صوفی مادھو لال حسین (1538–1599) کی شخصیت اکثر اس بحث میں مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق وہ ایک ہندو نوجوان مادھو لال سے اس قدر وابستہ ہوئے کہ بعد میں دونوں کے نام ایک ساتھ مشہور ہو گئے اور انہیں “مادھو لال حسین” کہا جانے لگا۔ لاہور میں آج بھی ان کے مزار پر ہونے والا میلہ میلہ چراغاں اسی نسبت سے مشہور ہے۔ بعض مؤرخین اور محققین اس تعلق کو صوفیانہ عقیدت قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اسے عشقِ امرد کی روایت سے جوڑتے ہیں۔ بلھے شاہ اور شاہ عنایت قادری. پنجابی صوفی شاعر بلھے شاہ (1680–1757) اپنے مرشد شاہ عنایت قادری سے شدید عقیدت رکھتے تھے۔ روایت میں آتا ہے کہ جب مرشد ناراض ہوئے تو بلھے شاہ نے زنانہ لباس پہن کر رقاصاؤں کے ساتھ رقص کیا تاکہ مرشد کی توجہ دوبارہ حاصل کر سکیں۔ یہ واقعہ صوفیانہ روایت میں عشقِ مرشد کی شدت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے مگر بعض ناقدین اسے بھی اسی سلسلے کی ایک مثال قرار دیتے ہیں جس میں روحانی عقیدت اور شخصی وابستگی کے درمیان حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ سرمد شہید اور ابھی چند مغل عہد کے معروف صوفی سرمد کشانی (سرمد شہید) کا تعلق آرمینیا سے تھا مگر وہ ہندوستان آ کر بس گئے۔ تاریخی روایت کے مطابق وہ ابھی چند نامی ایک ہندو نوجوان کے عشق میں مبتلا ہو گئے تھے۔ کئی مورخین نے لکھا ہے کہ سرمد کی شاعری میں اسی عشق کا عکس ملتا ہے۔ بعد میں وہ دارا شکوہ کے قریب ہوئے اور بالآخر اورنگزیب عالمگیر کے دور میں قتل کر دیے گئے۔ فارسی شاعری اور امرد پرستی. صوفیانہ شاعری میں نوجوان ساقی یا خوبرو لڑکے کا تصور بار بار آتا ہے۔ فارسی ادب میں یہ روایت خاصی مضبوط رہی ہے۔ مثلاً حافظ شیرازی، سعدی شیرازی اور دیگر شعرا کے ہاں “ساقی”، “ترک شیرازی”، “شاہد” اور “غلام” جیسے استعارے اکثر نوخیز لڑکوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ حافظ کا مشہور شعر ہے.. اگر آں تُرک شیرازی بدست آرد دلِ ما را بخالِ ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را بعض محققین کے مطابق یہاں ترک شیرازی سے مراد ایک خوبرو نوجوان ہے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ نوخیز لڑکوں کے حسن پر فریفتگی کی یہ روایت صرف کسی ایک خطے یا تہذیب تک محدود نہیں رہی۔ یونان کے فلسفیوں سے لے کر فارسی شاعری صوفیانہ حلقوں اور برصغیر کی معاشرت تک اس کے آثار بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔ اسی طرح سرائیکی بیلٹ اور اس خطے کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہاں مردانہ حسن پرستی کبھی کبھی ایسی شدت اختیار کر لیتی ہے کہ وہ روایت اور ثقافت کے بیچ کی لکیر دھندلا دیتی ہے۔👇
1:00

Sensitive content

This media may contain sensitive content.

AfaqSomroo's profile picture

آج کل خیبر پختونخوا اور پختون بیلٹ میں رائج ایک گھناؤنی روایت لونڈے بازی یا بچہ بازی کا مسئلہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ مختلف حلقوں میں اس موضوع پر شدید بحث و مباحثہ جاری ہے اور لوگ کھل کر اس پر گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ الزام بھی بارہا دہرایا جا رہا ہے کہ بچہ بازی بعض پختون علاقوں میں ایک سماجی روایت یا ثقافتی مظہر کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ بعض مقامات پر اس مقصد کے لیے باقاعدہ منڈیاں اور بازار بھی سجائے جاتے رہے ہیں جہاں نوخیز لڑکوں کی خرید و فروخت تک کی جاتی تھی۔ فقیر گل ساج جنوبی پنجاب کا باسی ہے ہمارے ہاں بھی لونڈے بازی کی قبیح روایت بدرجہ اتم موجود ہے۔۔ بچہ بازی کو محض کسی ایک خطے یا قوم کے کھاتے میں ڈال دینا تاریخی حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔ درحقیقت اس رجحان کی جڑیں کہیں زیادہ گہری اور وسیع ہیں۔ نام نہاد صوفیانہ تعبیرات اور بعض ذہنی طور پر بھٹکے ہوئے شعرا و ادبا نے صدیوں پہلے اسے ایک حد تک فکری اور ادبی جواز فراہم کیا۔ یوں یہ رجحان صرف کسی ایک معاشرے تک محدود نہ رہا بلکہ مختلف تہذیبوں اور ادوار میں کسی نہ کسی صورت موجود رہا ہے۔ ایران کی کلاسیکی تہذیب میں “شاہد بازی” کی اصطلاح معروف رہی اور فارسی شاعری میں “ساقی”، “شاہد” اور “ترک” جیسے استعارے اکثر نوخیز حسن کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ مستشرق ایڈورڈ جی براؤن کے مطابق قرونِ وسطیٰ کی فارسی شاعری میں نوجوان حسن کی تعریف ایک مستقل ادبی روایت کی حیثیت اختیار کر گئی تھی۔ مشہور محققہ این میری شمل لکھتی ہیں کہ بعض صوفیانہ حلقوں میں اس حسن کو جمالِ الٰہی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔ اسی طرح وسطی ایشیا اور افغانستان میں “بچہ بازی” کے نام سے کم عمر لڑکوں کو محفلوں میں رقص و موسیقی کے لیے پیش کرنے کی روایت بھی تاریخ میں ملتی ہے۔ برصغیر میں یہ رجحان فارسی اور وسطی ایشیائی اثرات کے ذریعے پہنچا اور مغلیہ عہد میں درباری اور ادبی ثقافت میں اس کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ مغل دور کے معروف صوفی مادھو لال حسین (1538–1599) کی شخصیت اکثر اس بحث میں مثال کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ روایت کے مطابق وہ ایک ہندو نوجوان مادھو لال سے اس قدر وابستہ ہوئے کہ بعد میں دونوں کے نام ایک ساتھ مشہور ہو گئے اور انہیں “مادھو لال حسین” کہا جانے لگا۔ لاہور میں آج بھی ان کے مزار پر ہونے والا میلہ میلہ چراغاں اسی نسبت سے مشہور ہے۔ بعض مؤرخین اور محققین اس تعلق کو صوفیانہ عقیدت قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اسے عشقِ امرد کی روایت سے جوڑتے ہیں۔ بلھے شاہ اور شاہ عنایت قادری. پنجابی صوفی شاعر بلھے شاہ (1680–1757) اپنے مرشد شاہ عنایت قادری سے شدید عقیدت رکھتے تھے۔ روایت میں آتا ہے کہ جب مرشد ناراض ہوئے تو بلھے شاہ نے زنانہ لباس پہن کر رقاصاؤں کے ساتھ رقص کیا تاکہ مرشد کی توجہ دوبارہ حاصل کر سکیں۔ یہ واقعہ صوفیانہ روایت میں عشقِ مرشد کی شدت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے مگر بعض ناقدین اسے بھی اسی سلسلے کی ایک مثال قرار دیتے ہیں جس میں روحانی عقیدت اور شخصی وابستگی کے درمیان حدیں دھندلا جاتی ہیں۔ سرمد شہید اور ابھی چند مغل عہد کے معروف صوفی سرمد کشانی (سرمد شہید) کا تعلق آرمینیا سے تھا مگر وہ ہندوستان آ کر بس گئے۔ تاریخی روایت کے مطابق وہ ابھی چند نامی ایک ہندو نوجوان کے عشق میں مبتلا ہو گئے تھے۔ کئی مورخین نے لکھا ہے کہ سرمد کی شاعری میں اسی عشق کا عکس ملتا ہے۔ بعد میں وہ دارا شکوہ کے قریب ہوئے اور بالآخر اورنگزیب عالمگیر کے دور میں قتل کر دیے گئے۔ فارسی شاعری اور امرد پرستی. صوفیانہ شاعری میں نوجوان ساقی یا خوبرو لڑکے کا تصور بار بار آتا ہے۔ فارسی ادب میں یہ روایت خاصی مضبوط رہی ہے۔ مثلاً حافظ شیرازی، سعدی شیرازی اور دیگر شعرا کے ہاں “ساقی”، “ترک شیرازی”، “شاہد” اور “غلام” جیسے استعارے اکثر نوخیز لڑکوں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ حافظ کا مشہور شعر ہے.. اگر آں تُرک شیرازی بدست آرد دلِ ما را بخالِ ہندوش بخشم سمرقند و بخارا را بعض محققین کے مطابق یہاں ترک شیرازی سے مراد ایک خوبرو نوجوان ہے۔ کہنے کا مطلب ہے کہ نوخیز لڑکوں کے حسن پر فریفتگی کی یہ روایت صرف کسی ایک خطے یا تہذیب تک محدود نہیں رہی۔ یونان کے فلسفیوں سے لے کر فارسی شاعری صوفیانہ حلقوں اور برصغیر کی معاشرت تک اس کے آثار بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔ اسی طرح سرائیکی بیلٹ اور اس خطے کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ یہاں مردانہ حسن پرستی کبھی کبھی ایسی شدت اختیار کر لیتی ہے کہ وہ روایت اور ثقافت کے بیچ کی لکیر دھندلا دیتی ہے۔👇

Afaq somroo

40,597 次观看 • 6 个月前