
Arbaz Raza Bhutta
@ArbazReza01 • 26,388 subscribers
Journalist @ExpressNewsPK | Opinion Writer @TFT_
Shorts
Videos

"مجھ سے لکھ لیجیے کہ تحریک انصاف اگر دوبارہ اقتدار میں آئی اور عمران خان صاحب جب بھی اقتدار میں آئے، اگر اللہ نے ان کی قسمت میں لکھا ہے، تو جو کچھ ان کے ساتھ ہوا ہے انہوں نے کم از کم دو سے ضرب دینی ہے۔ وہ کہیں گے میرے ساتھ یہ ہوا تھا، ان کے ساتھ یہ کرو۔ میرے فلانے کے ساتھ یہ ہوا تھا، ان کے ساتھ یہ کرو۔ اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں ہے، انہوں نے کسی کو ریلیف دینا ہی نہیں ہے۔ بالکل صاف بات ہے کہ جو کچھ میرے ساتھ کیا ہے وہ آپ کے ساتھ ہوگا۔ یہ بالکل واضح ہے، لہذا اس بات کو سب ذہن میں رکھیں اور مان کے چلیں۔" منیب فاروق Muneeb Farooq
Arbaz Raza Bhutta108,126 görüntüleme • 3 ay önce

لوگوں نے نصرت جاوید صاحب کو بہت فون کیے اور ان سے پوچھا کہ "یہ کیا ہے جو سہیل وڑائچ صاحب نے کہا ہے کہ جولائی سے نظام زوال کا شکار ہو جائے گا؟ کیا آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں؟" نصرت جاوید صاحب کہتے ہیں کہ وہ جس دکان پر جاتے ہیں، چاہے کریانے کی ہو یا بیکری کی، ہر دکاندار یہی کہتا ہے کہ کاروبار مسلسل مندی کا شکار ہے۔ ایف-8 جیسے پوش علاقے میں، جہاں پہلے کئی پھولوں کی دکانیں تھیں، اب صرف ایک دکان باقی رہ گئی ہے، اور وہ بھی بند ہونے کا سوچ رہی ہے کیونکہ پھول نہیں بکتے۔ پھر انہوں نے اپنے فارم ہاؤس کے علاقے کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتایا ہیں کہ لوگ عیدالاضحیٰ پر بکرے بیچ کر سال بھر کی کمائی کا ایک اہم حصہ حاصل کرتے تھے، مگر اس بار وہ پریشان تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو بکرے مناسب تعداد میں بکے اور نہ ہی ایسی قیمت ملی جس سے منافع ہو، بلکہ کئی لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ اسد علی طور Nusrat Javeed Asad Ali Toor
Arbaz Raza Bhutta113,033 görüntüleme • 3 ay önce

🚨 ایک خفیہ کیمرے سے حاصل ہونے والی ویڈیو، جو ایک مبینہ مخبر جاسوس کے سینے پر نصب تھا، حقیقی وقت میں یہ دکھاتی ہے کہ 14 دسمبر 2025 کو غزہ کے اندر ایک ہدفی کارروائی کس طرح منظم کی گئی۔ الجزیرہ کی تحقیق، جسے تیمر المشعل نے پیش کیا، اس پورے آپریشن کی تفصیل سامنے لاتی ہے: دو افراد کو شوکی ابو نصیرہ ملیشیا (جسے "پیپلز آرمی" بھی کہا جاتا ہے) میں شامل کیا گیا، انہیں کرم شالوم کراسنگ لے جایا گیا، جہاں انہیں ایک اسرائیلی افسر کے حوالے کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں ایک فوجی اڈے پر اسلحہ استعمال کرنے اور الیکٹرک سائیکل چلانے کی تربیت دی گئی، خفیہ کیمرے فراہم کیے گئے، اور پھر خاموش گلاک پستولوں اور ڈرون نگرانی کے ساتھ واپس غزہ بھیج دیا گیا تاکہ وہ گلیوں میں رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ سکیں۔ ان کا ہدف احمد عبدالباری زمزم تھا، جو غزہ کے وسطی علاقے میں داخلی سیکیورٹی کے نائب ڈائریکٹر تھے، اور جنہیں مبینہ طور پر مخبری کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے اور ختم کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ اس ملیشیا کی قیادت سابق فلسطینی اتھارٹی کے ایک سیکیورٹی افسر شوکی ابو نصیرہ کے پاس ہے، جو اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ اپنے تعلق کو "مضبوط اور گہری دوستی" قرار دیتے ہیں۔ اس گروہ کی سرگرمیاں صرف ہدفی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ امدادی ٹرکوں پر چھاپے مارنا، سرنگوں کی نشاندہی کرنا، مطلوب افراد کو پکڑنا اور انہیں حوالے کرنا، اور لاشوں کی بے حرمتی جیسے اقدامات بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد ایک اہلکار اس وقت گرفتار ہو گیا جب اسرائیلی افسر سے اس کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا، جبکہ دوسرا فرار ہو کر اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں واپس چلا گیا۔" Courtesy: Al Jazeera English
Arbaz Raza Bhutta134,387 görüntüleme • 5 ay önce

"فیصل واڈا صاحب کے بارے میں بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ لانچ کرتی ہے۔ یہ بات درست نہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب ضرور ہیں، لیکن جو باتیں وہ کرتے ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر نہیں کرتے۔ فیصل واڈا صاحب ایک آزاد شخصیت ہیں، ان کا اپنا ذہنی رجحان ہے اور اپنی سوچ ہے۔ انہیں یہ حکومت پسند نہیں، وزیراعظم صاحب سے ان کا اختلاف ہے۔ اور میں آپ کو خبر کے طور پر بھی بتا رہا ہوں کہ وزیراعظم صاحب بھی واڈا صاحب کے بارے میں کوئی اچھے جذبات نہیں رکھتے، اور حکومت بھی نہیں رکھتی۔ لیکن کوئی انہیں لانچ نہیں کرتا کہ آئیں اور اس حکومت کی ایسی تیسی کریں۔ جب وہ حکومت کی برائیاں کرتے ہیں تو یہ ان کی اپنی ذاتی رائے ہوتی ہے۔ منیب فاروق Muneeb Farooq
Arbaz Raza Bhutta81,772 görüntüleme • 3 ay önce

🚨"شوگر کین بنیادی طور پر ساحلی علاقوں کی فصل ہے۔ اس میں موجود سکروز سے چینی بنتی ہے، اور ساحلی علاقوں میں اگنے والے گنے میں سکروز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ جوں جوں آپ ساحل سے دور اور شمال کی طرف جاتے ہیں، سکروز کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔ میری رائے میں پاکستان میں شوگر کین کی کاشت صرف چند اضلاع، مثلاً ٹھٹھہ، بدین اور سجاول تک محدود ہونی چاہیے۔ اسی طرح شوگر ملیں بھی انہی علاقوں میں ہونی چاہئیں۔ جب شوگر کی پیداوار بڑھتی ہے تو حکومت اسے ترقی کا نام دیتی ہے، حالانکہ یہ حقیقی ترقی نہیں بلکہ معیشت کے لیے نقصان دہ عمل ہے۔ اس میں حکومت کے خزانے سے پیسہ نکلتا ہے، اور دراصل وہ عوام کی جیب سے نکالا گیا پیسہ ہوتا ہے جو شوگر مل مالکان کو منتقل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا صرف اعداد و شمار کو دیکھ کر ترقی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں دوبارہ یہ طے کرنا ہوگا کہ ترقی دراصل ہوتی کیا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی تیس برسوں میں، چاہے حکومت فوجی ہو یا سویلین، ایک واضح قومی وژن موجود تھا کہ ملک کو کس سمت لے جانا ہے اور ترقی کا ماڈل کیا ہوگا۔ انہی برسوں میں نمایاں پیش رفت بھی ہوئی۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ ایسا کوئی واضح وژن نظر نہیں آتا۔ اب زیادہ زور اس بات پر ہے کہ وسائل اور مراعات طاقتور طبقات میں تقسیم کر دی جائیں اور پھر اعداد و شمار کے ذریعے یہ تاثر دیا جائے کہ ملک میں بہت ترقی ہو رہی ہے، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔" ڈاکٹر قیصر بنگالی ماہر معاشیات
Arbaz Raza Bhutta86,434 görüntüleme • 3 ay önce

🚨"یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک ریاض کے ذاتی ڈرائیور ماجد حال ہی میں ان کی والدہ کا انتقال ہوا، جس پر وہ پاکستان آئے تاکہ جنازے میں شرکت کر سکیں۔ اطلاعات کے مطابق والدہ کے جنازے اور دیگر رسومات کے بعد جب ماجد واپس دبئی روانہ ہونے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا ویزا پاکستان آمد کے بعد دبئی حکام کی جانب سے منسوخ کر دیا گیا ہے، لہٰذا وہ سفر نہیں کر سکتے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے بیرونِ ملک، خصوصاً متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں میں تشویش پیدا ہونا فطری ہے۔ اس وقت تقریباً 15 سے 18 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں ملازمت، کاروبار اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں اور اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں۔" اسد طور Asad Ali Toor
Arbaz Raza Bhutta75,940 görüntüleme • 3 ay önce

🚨"میں نے خان صاحب سے پوچھا کہ آپ کی سیاست کا مقصد کیا ہے؟ خان صاحب، آپ تو وزیراعظم بن گئے، اگر یہی آپ کی خواہش تھی تو وہ پوری ہو چکی۔ اب ستمبر 2022 میں آپ سیاست کو کیوں جاری رکھنا چاہتے ہیں؟ اس پر خان صاحب نے بالکل یہی بات کہی۔ انہوں نے کہا، "دیکھو، یہ ملک ایک ایسی نہج پر کھڑا ہے جہاں بے شمار تضادات موجود ہیں۔ غریب اور امیر کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے، مسلکی تقسیم موجود ہے، خیبر پختونخوا میں جو صورتحال ہے، جو بدحالی ہے، جو بدامنی ہے، اور وہاں کے لوگوں کے جو جذبات ہیں، اگر میں نہیں ہوں گا تو یہ لوگ نسلی سیاست کی طرف راغب ہو جائیں گے۔" سلمان اکرم راجہ salman akram raja Mujahid Hussain
Arbaz Raza Bhutta65,334 görüntüleme • 3 ay önce

🚨"وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے، شہباز شریف 12 سے 14 گھنٹے محنت کرتے ہیں، چاہے وہ 18 گھنٹے بھی کام کر لیں، اس سے کچھ نہیں ہونے والا۔ جب تک نظام نہیں بدلے گا، خاص طور پر انتظامی نظام میں تبدیلی نہیں آئے گی، اس وقت تک بہتری ممکن نہیں۔ محسن نقوی صاحب نے ایک طرف شہباز شریف صاحب کی تعریف بھی کر دی اور ٹانگ بھی کھینچ دی ہے کہ یہ دکھاوا زیادہ ہے اس سے کچھ بننے والا نہیں ہے" سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین صاحب Amir Mateen
Arbaz Raza Bhutta36,493 görüntüleme • 1 ay önce

نواز شریف کشمیر میں تقریر کرتے ہوئے بہت کیوٹ لگے، انہوں نے کہا کہ اگر ہم جیت گئے تو شہباز صاحب کو کہوں گا کہ وزیراعظم مجھے بنائیں۔ اورنگزیب نے اپنے والد شاہ جہاں کو قید کر لیا تھا تو شاہ جہاں کہنے لگے کہ میری تنہائی کم کرنے کے لئے کچھ بچے بھیج دو میں انہیں پڑھا دیا کروں گا۔ اسی طرح دشمنانِ نواز شریف اس کیوٹ بات کو اسی طرح پروجیکٹ کر رہے ہیں کہ شاہ جہاں کی طرح موصوف کی بھی خوئے سلطانی نہیں جارہی۔ سینئر صحافی و تجزیہ نصرت جاوید
Arbaz Raza Bhutta38,332 görüntüleme • 2 ay önce

پاکستان کا سب سے بڑا "سفید ہاتھی" پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام ہے جس میں وفاق اور چاروں صوبے مل کر تقریباً 4 کھرب روپے خرچ کرتے ہیں۔ سڑکیں، اسپتال، اسکول یہ سب اسی مد میں آتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیسہ اصل کام پر نہیں لگتا۔ پہلے ٹھیکیدار 20 فیصد لے جاتا ہے، پھر ایم این اے اور ایم پی اے کا حصہ، پھر بیوروکریسی کا حصہ، جب یہ سب کٹ جاتا ہے تو اصل کام کے لیے کچھ بچتا ہی نہیں۔ یہ محض بدعنوانی نہیں، یہ ایک مکمل نظام بن چکا ہے جس میں ایم این ایز، وزراء، ٹھیکیدار اور بیوروکریسی سب شامل ہیں اور سب اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ سینئر صحافی و تجزیہ نگار نجم سیٹھی Najam Sethi Syeda Ayesha Naz
Arbaz Raza Bhutta40,681 görüntüleme • 3 ay önce

🚨"میں ایک دفعہ انگلینڈ گیا تو وہاں معلوم ہوا کہ نئے موبائل ٹاورز کی تنصیب پر عدالت نے پابندی لگا دی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ایک بزرگ خاتون نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ یہ خوفناک شکل کے بڑے بڑے ٹاورز ان پر ذہنی دباؤ ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد وہاں ٹاورز کے ڈیزائن ہی تبدیل کر دیے گئے۔ اب وہ درختوں کی شکل میں یا ماحول سے ہم آہنگ دوسرے انداز میں بنائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کو ناگوار محسوس نہ ہوں۔ اور ایک ہم ہیں کہ ان ٹاورز کے لیے عوام کے گھر گرانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ گھر گرانا تو ایک طرف، بعض جگہوں پر لوگوں کی املاک پر قبضے تک کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جس قیادت، جس لیڈرشپ یا جس سیاسی جماعت کی سوچ اس نہج پر پہنچ جائے، اسے آپ عوامی خدمت یا قومی مفاد کا نام نہیں دے سکتے۔ ایسے رویے کو تو صرف جبر اور طاقت کے استعمال کی سیاست ہی کہا جا سکتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا پاکستان کے عوام اور ان کے حقوق سے کوئی حقیقی تعلق ہی نہیں ہے۔" محمد علی درانی Muhammad Ali Durrani Official Amir Mateen Muhammad Ali Durrani
Arbaz Raza Bhutta33,569 görüntüleme • 3 ay önce

🚨"امریکی میزائل حملے میں والی بال کھیلتی ہوئی 21 بچیاں شہید ہو گئیں۔ جن کی عمریں 10 اور 11 سال تھیں۔ اسی دن مزید 165 اسکول کی طالبات بھی شہید ہوئیں تھی۔ امریکہ کے اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں کہ ہم شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے۔ یہ لوگ جان بوجھ کر بچوں کو نشانہ بناتے ہیں۔"
Arbaz Raza Bhutta47,941 görüntüleme • 5 ay önce

مجھے یاد ہےایک دفعہ الیکشن کمپین میں نواز شریف صاحب نے کہا تھا: "ترقی دیکھنی ہے تو لاہور جا کے دیکھیں، شہباز شریف نے کتنی ترقی کرا دی ہے۔" یہ بات وہ راجن پور میں کھڑے ہو کر راجن پور کے لوگوں کو کہہ رہے تھے۔ راجن پور کے لوگوں کو داد دینی چاہیے کہ انہوں نے نعرے مار مار کے گلے بٹھا لیے، واہ واہ کی، خوب داد دی، لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ راجن پور کی ترقی کی بھی کوئی بات کر لیں۔ ڈیرہ غازی خان، لیہ، مظفر گڑھ، خانیوال، لودھراں، رحیم یار خان، بہاول نگر اور باقی جتنے اضلاع ہیں، ان کی بات نہیں کرنی۔ سینٹرل پنجاب اور نارتھ پنجاب کے بہت سے علاقوں کی بھی بات نہیں کرنی۔ انہوں نے کہا، "جناب، اگر ترقی دیکھنی ہے تو لاہور دیکھیں۔" اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ سارا پیسہ آپ نے وہاں لگا دیا۔ پورے پنجاب سے لوگ، کھوتے ریڑھی پر بیٹھ کر یا میری طرح کسی نہ کسی ذریعے سے، لاہور پہنچ گئے۔ اب آبادی کا بم وہاں پھٹ چکا ہے اور اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔ روؤف کلاسرا Rauf Klasra
Arbaz Raza Bhutta30,105 görüntüleme • 3 ay önce

🚨"یہ بات سیاسی دانائی کی تھی جو نوید قمر نے پکڑ لی۔ حکومت نے ایف بی آر کے ذریعے قانون میں یہ تجویز دی تھی کہ اگر تیس ستمبر کی قانونی ڈیڈ لائن یا اس کے بعد ایف بی آر کی دی گئی توسیع کے بعد گوشوارہ جمع کرایا جائے تو پچیس ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ یہ بیوروکریٹک سوچ تھی۔ سیاسی سوچ یہ کہتی ہے کہ ہمارے ملک میں تو پہلے ہی لوگ گوشوارہ جمع نہیں کرواتے، اگر کوئی دسمبر یا مارچ میں بھی آ کر جمع کروا رہا ہے تو پچیس ہزار جرمانہ کیوں؟ جواب آیا کہ وہ صرف اس لیے آتے ہیں کہ گاڑی یا گھر خریدنا ہے اور فائلر کی شرح سے بچنا چاہتے ہیں۔ سوال اٹھا کہ یہ کیسے پتہ چلے گا کہ مقصد یہی ہے، کوئی حقیقی ضرورت بھی ہو سکتی ہے۔ جواب تھا بس ہمیں پتہ ہے ایسے ہی ہوتا ہے۔" شہباز رانا Shahbaz Rana Kamran Yousaf
Arbaz Raza Bhutta24,648 görüntüleme • 3 ay önce

🚨"ایران امریکہ جنگ اس نوعیت کی نہیں رہی کہ اسے ایک بڑی جنگ کہا جائے، لیکن یہ ایک محدود جنگ سے آہستہ آہستہ وسیع ہوتی جا رہی ہے۔ آج اس کشیدگی کا چوتھا یا پانچواں دن ہے، اور دونوں جانب سے گولہ باری بھی جاری ہے جبکہ بیانات بھی مسلسل بدل رہے ہیں۔ کل صدر ٹرمپ نے ایک ایسا بیان دیا جسے میں مضحکہ خیز سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام آئل ٹینکرز سے 20 فیصد چارج لیا جائے گا، کیونکہ امریکہ اس اہم بحری راستے کی سکیورٹی فراہم کر رہا ہے۔ یہ بیان اس لیے حیران کن تھا کہ امریکہ کا سرکاری مؤقف، جسے مارکو روبیو اور دیگر امریکی حکام بارہا دہراتے رہے ہیں، یہ رہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، اس لیے وہاں کسی قسم کا ٹول یا چارج عائد نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کے بیشتر ممالک بھی اسی مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ چنانچہ جب خود صدر ٹرمپ نے 20 فیصد چارج کی بات کی تو گویا انہوں نے اپنی ہی سابقہ پوزیشن کی نفی کر دی۔ اس پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی طنزیہ ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ٹول لینے کا حق رکھتا ہے تو پھر وہی لے گا۔" سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین
Arbaz Raza Bhutta17,631 görüntüleme • 2 ay önce

کیا تنخوا دار طبقہ کو ریلیف دیا گیا ہے؟ "تنخوا دار طبقے نے اس سال 600 ارب روپے ٹیکس دیا ہے تو اگلے سال وہ 550 ارب دے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگلے سال وہ تقریباً 700 ارب روپے ٹیکس ادا کرے گا۔ حکومت صرف یہ کہہ رہی ہے کہ اگر یہ ریلیف نہ دی جاتی تو یہ رقم 750 ارب روپے تک پہنچ جاتی، اس لیے ہم آپ سے 750 کے بجائے 700 ارب لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر کسی شخص کی ماہانہ تنخواہ ڈھائی لاکھ روپے ہے۔ اس آمدنی پر اس وقت تقریباً 23 فیصد تک ٹیکس لگ رہا تھا۔ حکومت نے اسے کم کرکے 20 فیصد کر دیا، جو بظاہر ایک اچھی بات ہے۔ لیکن اگر مہنگائی کی وجہ سے اس شخص کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ ہو جائے تو اس کی آمدنی ڈھائی لاکھ سے بڑھ کر 2 لاکھ 75 ہزار روپے ہو جائے گی۔ نتیجتاً وہ اگلے ٹیکس سلیب میں چلا جائے گا، جہاں اس پر 25 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس لیے عملی طور پر حکومت تنخواہ دار طبقے سے کم نہیں بلکہ زیادہ ٹیکس وصول کرے گی۔ یعنی اگر اس سال اس طبقے سے 600 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں تو اگلے مالی سال میں یہی رقم بڑھ کر تقریباً 700 ارب روپے تک پہنچ سکتی ہے۔" مفتاح اسماعیل Miftah Ismail Absar Alam
Arbaz Raza Bhutta22,754 görüntüleme • 3 ay önce

پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کی اجازت مل بھی جاتی ہے اور اگر وہ کوئی ایسے اقدامات کریں جن سے اسٹیبلشمنٹ خوش نہ ہو تو پھر ان کو ووٹ آف نو کانفیڈنس کے ذریعے ہٹایا جا سکتا ہے۔ اور وہی آزاد جو ادھر اّدھر ہو رہے ہیں وہ نون لیگ کے ساتھ چلے جاتے ہیں، کیونکہ فرق صرف چار پانچ سیٹوں کا ہوتا ہے۔ تو اب ہو سکتا ہے ان پانچ میں سے دو تین پیپلز پارٹی کو مل جائیں، دو تین نون لیگ کو مل جائیں، اور پھر کسی بھی مرحلے پر انڈیپینڈنٹس مل کر ہی حکومت بناتے ہیں۔ کیونکہ انڈیپینڈنٹس تو آپ کو پتہ ہے کہ وہ واقعی انڈیپینڈنٹ نہیں ہوتے، ان کو کہیں نہ کہیں سے کنٹرول کیا جاتا ہے، ہماری تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے۔ سینئر صحافی و تجزیہ نگار نجم سیٹھی Najam Sethi
Arbaz Raza Bhutta20,727 görüntüleme • 3 ay önce

"وزیر اعظم نے بجٹ کو چار بھائیوں میں روٹی کی تقسیم کہا، لیکن اصل میں یہ بجٹ اشرافیہ کا بجٹ ہے۔ سرمایہ داروں پر سپر ٹیکس 10 سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا سیمنٹ، اسٹیل، آٹو موبائل اور فارما انڈسٹری کو کروڑوں کا فائدہ۔ کنسٹرکشن اور آئی ٹی کو بھی ٹیکس ریلیف ملا۔ زمینداروں کے لیے ڈیمڈ انکم کا سیکشن ہی ختم کر دیا گیا اور غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس بھی ختم۔ تنخواہ دار طبقے کے سلیبس تھوڑے بہتر کیے گئے اور بیوروکریسی کی پینشن میں 17 فیصد اضافہ ہوا یعنی جن کے پاس پہلے سے ہے، انہیں مزید دیا گیا۔" سینئر صحافی و تجزیہ نگار نجم سیٹھی Najam Sethi Syeda Ayesha Naz
Arbaz Raza Bhutta19,661 görüntüleme • 3 ay önce

یہ بات طے ہے کہ قب کمزور وفاق یا کنگال وفاق نہیں چلے گا۔ ہر سال جو سات آٹھ ہزار ارب روپے مائنس میں جب جا رہا ہے تو وہ مضبوط نہیں ہو سکتا۔ لہذا یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ اب اس کو تو تبدیل ہونا ہی ہے۔ اس معاملے میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک ہی پیج پر ہیں کہ ایسا ہو کر رہے گا۔ دوسرا یہ بھی امید کی جا رہی ہے کہ جس طرح چھبیسویں ترمیم میں مار دھاڑ ہوئی، ستائیسویں میں اس سے کم ہوئی اب اس میں یہ امید ہے کہ سارا عمل خوش اسلوبی سے طے ہو جائے گا۔ بہت سے چیزوں پر کام ہو چکا ہے کچھ رہتی ہیں۔ منیب فاروق Rauf Klasra Mad e Muqabil Rabeea
Arbaz Raza Bhutta21,350 görüntüleme • 4 ay önce