
Maulana Fazl-ur-Rehman
@MoulanaOfficial • 682,255 subscribers
President Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan
Videos

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا قادیانیوں کو اپنے مذہب کی تبلیغ کے لئے اجازت دینے کا فیصلہ شریعت ،آئین اور قانون کے خلاف ہے،جس کو ہم علی الاعلان مسترد کرتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ یہ فیصلہ مغرب کی خواہشات پر کیا گیا ہے،فیصلے میں پیش کئے گئے قرآن کریم کے حوالے غلط اور بددیانتی پر مبنی ہیں،جو ان کے شان نزول اور پس منظر سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے،آئمہ اور خطباء اپنے خطبوں میں اس فیصلے کے خلاف آواز بلند کریں۔ جمعیت علماء اسلام نے قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد اس فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے اور اس کے خلاف فریق بننے کا فیصلہ کیا ہے۔
Maulana Fazl-ur-Rehman1,670,780 görüntüleme • 2 yıl önce

اسلام آباد:سپریم کورٹ کے سامنے عدالتی فیصلوں کے خلاف عوام کا بحر بے کنار۔
Maulana Fazl-ur-Rehman1,241,650 görüntüleme • 3 yıl önce

پوری قوم پیر کے روز سپریم کورٹ کے باہر پرامن احتجاج میں شرکت کے لئے پہنچیں، صبح نو بجے تمام قافلے پہنچ جائیں تاکہ قومی یکجہتی قائم کی جائے،تین رکنی بینچ اور ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک مجرم کو تحفظ دیا ہے۔ہم نے اپنے اداروں کا تحفظ کرنا ہے اور ججز کے بگاڑ کو سیدھا کرنا ہے۔ ججز پاکستان کے غریب عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ لیتے ہیں۔ججز آج آئین، قانون اور عدالتی روایات کو پامال کر رہے ہیں۔یکطرفہ طور پر ایک مجرم کو تحفظ دیا جارہا ہے، اور اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا جارہا ہے۔ مجرم کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے تاکہ وہ آئندہ بھی جرائم کرے اور معیشت کو تباہ کرے۔ایک مجرم کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے تاکہ وہ آئندہ بھی ملک کو اتنا کمزور کرے کہ ملک پارہ پارہ ہو جائے۔ ہم پہلے بھی میدان میں رہے ہیں، آج ایک بار میدان میں آنے کی ضرورت پڑی ہے۔ہم عوام اور کارکنوں کو دعوت دے رہے ہیں کہ وہ پیر کی صبح شاہراہ دستور پہنچیں ۔انصار الاسلام کے سالار اور رضاکار نظم کو برقرار رکھنے کے لئے پہنچیں۔ وکلاء برادری سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ قانون کو تحفظ دینے کے لئے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں۔ آئین کی بالادستی کی جنگ لڑنی ہے، وکلاء نے ہمیشہ اس مقصد کے لئے قربانیاں دی ہیں۔آج ایک بار پھر ضرورت پڑی ہے کہ وکلاء بھی میدان میں آئیں۔ ہر سیاسی جماعت کے کارکنوں کو اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس احتجاج کو قومی احتجاج بنائیں۔اداروں کی اس طرح کی بے راہ روی، جانبداری اور اپنے اختیارات سے تجاوز پر قوم احتجاج کرتی ہے۔ شاہراہ دستور پر اکٹھے ہوکر مضبوط پیغام دیں گے کہ عدالت اپنے اس رویے سے باز آجائیں۔
Maulana Fazl-ur-Rehman903,014 görüntüleme • 3 yıl önce

ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور انہیں مسترد کرتے ہیں،کیوں کہ یہ پارلیمنٹ عوام کی نمائندہ کم اور اسٹیبلشمنٹ کی نمائندہ زیادہ ہے،اسی ضمن میں جمعیت علمائے اسلام نے ضمنی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے، جے یو آئی کا کوئی بھی امیدوار کسی سطح پر ضمنی انتخابات میں حصہ نہیں لے گا۔ ہم نے عوام کی طرف جانے کا فیصلہ کیا ہے،عوام کو متحد کر کے اعتماد میں لیں گے، ملک بھر میں بھرپور عوامی اجتماعات کا انعقاد کریں گے اور ان اجتماعات کا عنوان عوام اسمبلی ہوگا، اس تحریک میں اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ ملائیں گے تاکہ عوامی صفوں کو متحد کرسکیں، عوامی تحریک کا مقصد عوام کو ووٹ کے لئے متحد کرکے ان کو ووٹ کے تحفظ کے قابل بنانا ہے۔ 25 اپریل کو پشین بلوچستان، 02 مئی کراچی سندہ، 09 مئی پشاور خیبرپختونخواہ میں عوامی اجتماعات منعقد ہوں گے۔ ملک کو حقیقی اسلامی فلاحی وجمہوری ریاست بنانے کے لئے بھر پور جدوجہد کریں گے۔
Maulana Fazl-ur-Rehman585,593 görüntüleme • 2 yıl önce

امریکی صدر کے امن منصوبہ پر پاکستان کے وزیر اعظم کا موقف نا صرف پاکستان کے اساسی موقف کے خلاف ہے بلکہ ان کے اپنے بیانات سے متضاد ہے،بانی پاکستان نے اسرائیل کو عرب دنیا کی پیٹھ پر خنجر قرار دیا تھا،اسرائیل کو کسی صورت قبول نہیں کیا جاسکتا۔ امریکی صدر کی عالمی مجرم نیتن یاہو کے ساتھ پریس کانفرنس عالمی عدالت کی توہین ہے،نیتن یاہو کو عالمی عدالت نے انسانی جرم قرار دیا ہے،اسرائیل کی ہمیشہ طاقت کے زور پر فیصلہ منوانے کی روش رہی ہے آج امریکہ بھی اس کو فالو کر رہا ہے جو سیاسی اور اخلاقی طور پر درست نہیں ہے۔ جہاں تک دو ریاستی منصوبہ کے بات ہے تو ہم فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں جب تک وہ خود کوئی فیصلہ نہیں کرتے تب تک ان پر جبری فیصلہ مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ حماس فلسطین کے عوام کی منتخب جماعت ہے، امریکی صدر نے اپنے اعلامیہ میں حماس کو لاتعلق کردیا ہے جو کہ اصل فریق ہیں،ان کے بغیر مسئلہ فلسطین حل نہیں ہوسکتا۔
Maulana Fazl-ur-Rehman202,134 görüntüleme • 8 ay önce

کل عمران خان کی قانونی گرفتاری کے بعد سے ملک میں جس طرح کے جلاؤ گھیراؤ کے مناظر عوام نے دیکھے ہیں، جس طرح پی ٹی آئی کے کارکنان نے پورے ملک میں سڑکوں پر گاڑیاں جلائیں، کور کمانڈرز ھاؤسز میں گھسے اور جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا ایسے عناصر کو آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ضروری ہوچکا ہے پی ٹی آئی کے مقابلے میں ہمارے کارکنان بھی جذبات میں آسکتے تھے ، ہم نے بھی آزادی مارچ کیا کسی ایک گملے تک کو بھی نقصان نہیں پہنچایا گیا ؟ کیا یہ لوگ آزادی کا معنی بھی جانتے ہیں؟ قانون سب کے لئے برابر ہے جلاؤ گھیراؤ کرنا قومی اداروں کے دروازے توڑنا بغاوت کے زمرے میں آتا ہے کئی ایسی تنظمیوں کو اس بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا ہے، کیا اداروں پر حملے کے بعد تحریک انصاف کو عزت دی جائے ہم اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں بغاوت کے ان مجرموں کو اب بھی کوئی اقتدار میں لانے کی سازش کرتا ہے تو مجرم ہوگا کل کے تمام اقدامات کی مذمت کرتے ہیں عمران خان پاکستانی سیاست کا غیر ضروری عنصر ہے جن لوگوں نے اداروں پر حملہ کیا ان کے خلاف حکومت بھرپور کاروائی کرے
Maulana Fazl-ur-Rehman712,944 görüntüleme • 3 yıl önce

بائیس دسمبر کو کراچی میں ھونےوالی مجلس اتحاد امت پاکستان کانفرنس میں پاکستان بھر کے علماء اور تمام مذہبی حلقے نے اتفاق رائے سے جو اعلامیہ جاری کیا تھا اسکے جواب میں افغانستان کے وزیر خارجہ ملا امیر خان متقی اور وزیرداخلہ مولانا سراج الدین حقانی نے جس انداز میں اس کو مستحسن عمل سمجھتے ھوئے اس پر مثبت ردعمل دیا ھے وہ پاکستان کے لئے خوش آئند ھے، ھمیں پاکستان کی ریاست و حکومت سے بھی یہی توقع ھے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے بہتر تعلقات اور پاکستان میں قیام امن کی علماء اور مذہبی طبقے کی ان کوششوں پر مثبت ردعمل دیتے ھوئے اس عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی تاکہ ھمارا یہ ملک پاکستان اور یہ خطہ امن کا گہوارہ بن سکے
Maulana Fazl-ur-Rehman94,891 görüntüleme • 5 ay önce

ہم نے چالیس سال میں کونسی جنگ لڑی ہے؟ہم نے اپنی فوج اور ریاست کو جنگوں میں دھکیلا ہے، دنیا کے ہر جنگجو کےپاؤں کے نشان پاکستان کی سرزمین سے ہوکر گذرتے تھے اور دنیا کہتی تھی کہ پاکستان دہشت گردی کا مرکز ہے ، کیا ہم اس محاذ سے نکل چکے ہیں ؟ لڑائی میں کوئی افغانی مر جاتا ہے تو ہم افغانستان پر سارا غصہ نکال دیتے ہیں،تاکہ قوم ہماری غلطیوں پر بات نہ کرسکے اور پڑوسی ملک کو مجرم سمجھتی رہے۔ ہمیں اپنا احتساب بھی کرنا چاہئے، جنرل مشرف کے دور میں امریکی صدر کلنٹن انڈیا آرہا تھاتوپاکستان کی سر زمین پر پاؤں رکھنے کے لئے تیار نہیں تھا اور کہا تھا کہ پاکستان میں ڈکٹیٹر کی حکومت ہے، اسے تملے کئے گئے اور دو گھنٹے کے لئے اس شرط پر آئے کہ ڈکٹیٹر کے ساتھ کوئی تصویر نہیں بنوائیں گے، پھر جب نائن الیون ہوا تو امریکہ کے لئے پاکستان کی سرزمین بچھا دی گئی، فوجی اڈے امریکہ کے حوالے کئے گئے اور نام نہاد اتحاد کے حامی بن گئے، کیا کبھی طالبان نے ہمیں کہا کہ آپ کے اڈوں سے امریکی جہازہماری فضاؤں میں کیوں اڑ رہے ہیں؟ آج ہم نے اپنے تجربہ اور ذمہ دار ریاست کے طورپر ان کو چلانا ہے، الیکشن سے پہلے میں ریاست کو اعتماد میں لے کر مشاورت کا ساتھ ایک ایجنڈا لے کر طالبان کی دعوت پر افغانستان گیا اور ایجنڈے کے ہر نقطے پر ان کو قائل کیا، پھر کس نے اس سب پر پانی پھیرا ؟ میں ذاتی حیثیت میں وہاں گیا تھا اس کے بعد اسٹیٹ ٹو اسٹیٹ بات چیت ہونی تھی، لیکن یہ سب کیوں نہیں ہوا ؟ ہم نے ستر سالسے کشمیر کی سرحد پر انڈیا کے ساتھ نبرد آزما ہیں، اب ایک اور سرحد ہم کھو رہے ہیں، ہم نے ریاست کی مٹی کے ساتھ وفاداری کرتے ہوئے اسکے تحفظ کے لئے اپنا کردار ادا کیا لیکن ہماری ریاست کے کرتا دہرتا اتنے نا اہل ثابت ہوئے کہ کئے کرائے کو بھی نہیں سنبھال سکے۔
Maulana Fazl-ur-Rehman171,297 görüntüleme • 1 yıl önce

سپریم کورٹ کے سامنے عدالتی فیصلوں کے خلاف عوام کا بحر بے کنار۔
Maulana Fazl-ur-Rehman320,856 görüntüleme • 3 yıl önce

ایک نا اہل شخص کو تحفظ دینے کے لئے پوری قوم کو تاریکی میں دھکیلا جا رہا ہے، وزارت دفاع کی درخواست کو مسترد کردیا گیا، ہم عدالت کے انصاف کو مانتے ہیں لیکن عدالتی ہتھوڑے کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر ہتھوڑے کے زور پر فیصلے کئے گئے تو ہم آپ کی عدالت کے بجائے عوام کی عدالت میں جائیں گے
Maulana Fazl-ur-Rehman321,698 görüntüleme • 3 yıl önce

60 امریکی اراکین پارلیمنٹ نے امریکا کے وزیرخارجہ کو خط لکھا ہے کہ پاکستان میں عمران خان کے خلاف ہونے والے اقدامات پر عمران خان کو تحفظ فراہم کیا جائے۔کل تک جو خط لہرا رہا تھا کہ مجھے امریکا نے اقتدار سے اتارا ہے آج اس کے لابسٹ کام کر رہے ہیں اور جو وہاں کے اراکین پارلیمنٹ کی اتنی بڑی تعداد اس کے حق میں خط لکھ رہی ہے، وہ پاکستان کے معاملات میں براہ راست مداخلت کر رہی ہے، اس سے وضاحت ہو رہی ہے کہ یہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ایک خاص منصوبے کے تحت ریاست کو تباہ کرنے کا ایک بین الاقوامی ایجنڈا ہے اور اس کے مظاہر گزشتہ 9 اور 10 مئی کو ملک کے طول و عرض میں دیکھے گئے۔ اداروں پر حملے کیے گئے اور بلوائیوں نے جی ایچ کیو لاہور کور کمانڈر کا گھر ہو، قلعہ بالا حصار ہو، چکدرہ کا فوجی قلعہ ہو ہر جگہ حملے کیئے یہ کس سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ جس عمران خان کو امریکی لابی تحفظ دینے کے لیے پگھل رہی ہے، اسی مجرم کو ہماری عدالتیں کیوں تحفظ فراہم کر رہی ہیں، ان کے دہشت گردوں کو ہماری عدالتوں سے کیوں سہولت کاری مہیا کی جا رہی ہے۔ بیک وقت تمام مقدمات میں ضمانت، فلاں تاریخ تک اگر کوئی مقدمہ درج ہوا تب بھی گرفتاری نہیں ہوسکے گی یعنی ہماری عدالت سے ان کو سرٹیفیکیٹ مل گیا کہ اگر اس دوران وہ کسی کو قتل کرے گا اور اس کے خلاف 302 کا مقدمہ ہوگا تب بھی اس کو گرفتار نہیں کیا جاسکے گا۔ یہ باتیں سامنے آئیں گی کہ کون سا جج کس لابی سے براہ راست وابستہ ہے، کون سا جج مجرم کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے، آج ابھی ہم ان کے نام نہیں لے رہے ہیں لیکن تنگ آمد بجنگ آمد، پھر ہمیں ساری چیزیں عوام کے سامنے لانا پڑیں گی۔ اگر خواجہ طارق رحیم کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان کو ضمانت دینے والا جج معلوم تھا تو کیا دوسرے لوگوں کو معلوم نہیں ہوگا، آنے والے فیصلے کے بارے میں جج کا نام بھی لیا جاتا ہے اور اس کا فیصلہ بھی بتایا جاتا ہے تو دنیا اتنی غافل نہیں ہے۔جو بلوے اور نقصانات ہوئے ہیں اس کے بارے میں کہتے ہیں وہ ہمارے لوگ نہیں ہیں، اگر یہ آپ کے لوگ نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے لیے لوگ نکلے نہیں ہیں۔ ہمارے اور عوام کے صبر و تحمل کا امتحان نہ لیا جائے، یہ صورت حال عوامی غیض و غضب کی طرف لے جا رہے ہیں، ہماری عدالتیں عمران خان کی محبت میں پگھل رہی ہیں، اپنے ملک کے مستقبل کی فکر بھی کرنی چاہیے، عوام کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے، ہم اس کو نظر انداز نہیں کرسکتے ہیں، ہم صورت حال کا مقابلہ کریں گے۔
Maulana Fazl-ur-Rehman303,303 görüntüleme • 3 yıl önce

آج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب عدالتی رویے کے خلاف احتجاج ہوگا، پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر کے دن اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجائے ۔ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں۔ ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ایسا جواب دیں گے کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا ۔ اب ڈبے سے گھی ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا ۔ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سہولیات دینا جرم کو تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔ جرم کرنے والے کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے انوکھا فیصلہ دیا گیا ہے کہ 9 مئی کے بعد کے کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے اور عدلیہ نے جو مقدمہ اس کے علم میں نہیں ہے اس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدلیہ کہاں کھڑی ہے کس طرح وہ آئین اور قانون سے ماوراء فیصلے کر رہی ہے ۔ کیا یہ رعایت تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو دی گئی ؟ اور جب نواز شریف کو جیل میں اطلاع دی گئی کہ ان کی اہلیہ آئی سی یو میں ہے انہوں نے منت سماجت کی کہ اہلیہ سے فون پر بات کرنے دیں مگر اجازت نہ ملی ۔ کیا یہ رعایت نواز شریف ،مریم نواز کو دی گئی ؟ کیا یہ رعایت فریال تالپور کو دی گئی ؟ عمران خان کو وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے ۔ ملک میں غنڈہ گردی دہشت گردی کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے اب سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف شدید احتجاج ہو گا ۔ پی ڈی ایم کی جانب سے پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر 15 مئی 2023 ء کو احتجاج کے لیے اسلام آباد پہنچیں ۔ سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا ۔ موثر طور پر عوام کو بتایا جائے گا کہ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں ۔ پارلیمنٹ کو بالا دست سمجھنا ہو گا اس کے نمائندوں کو کیوں نا اہل قرار دیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سن لو تین دو کا فیصلہ قبول نہیں ہے چار تین کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے جس کے تحت چیف جسٹس کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے ۔ ایک ایک کارکن باہر نکلے ۔
Maulana Fazl-ur-Rehman289,633 görüntüleme • 3 yıl önce

جمعیت علماء اسلام تسلسل کے ساتھ فلسطینیوں کے موقف کو درست سمجھتی ہے،آج بھی اپنے اس موقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہیں،فلسطینی مجاہدین کا اسرائیل پر حملہ تاریخی کامیابی اور تاریخی معرکہ ہے کہ اپنے علاقوں کو اسرائیل کے غاصبانہ قبضے سے چھڑایا ہے، دنیا سمجھ رہی تھی کہ مسئلہ فلسطین مردہ بن چکا ہے، اس حملے نے اسرائیل کے دفاعی نظام اور ان کے گھمنڈ کو زمین بوس کردیا ہے،یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ اسرائیل کوئی بڑی قوت نہیں بلکہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا، فلسطینی بھائیوں سے اپیل ہے کہ انسانی حقوق کا احترام کریں،بچوں، عورتوں اور عام شہریوں کو تکلیف نہ پہنچائیں اور ثابت کریں کہ اسلام اور مسلمان کیسے انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، اقوام متحدہ اپنا فرض پورا کرے اور 1967 کی قراردادوں پر عملد رآمد کرواتے ہوئے بیت المقدس کو مسلمانوں کے حوالے کرے، اسکے علاؤہ او آئی سی کا فوری اور بھرپور اجلاس طلب کیا جائے،جہاں مشرق وسطی میں امن کے قیام کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کی جائے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطین کوتسلیم کئے بغیر اور انکا ملک ان کے حوالے کئے بغیر مشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔۔ اس کشیدہ صورتحال کے پیش نظر جے یو آئی اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے آئندہ جمعے کو ملک بھر میں ضلعی ہیڈ کوارٹرز میں مظاہروں کا اعلان کرتی ہے،پوری قوم مظاہروں میں شریک ہوکر امت کے جسد واحد ہونے کا ثبوت پیش کریں۔
Maulana Fazl-ur-Rehman248,491 görüntüleme • 2 yıl önce

افغانستان اورپاکستان یک جان دوقالب ہیں کوئی انہیں جدا نہیں کرسکتا ، افغانستان اور پاکستان کے مابین تاریخی،ثقافتی، اسلامی اور خونی رشتےہیں، ہمیں افغانستان اوراس کی تاریخی شخصیات سے اتناپیارہے کہ ہم اپنے میزائلوں کے نام بھی غوری،غزنوی اورابدالی کے نام پہ رکھتےہیں ہم افغان قوم کے جذبہ ایمانی، جرات اوران کے جہادکوسلام پیش کرتےہیں افغان قوم نے عزیمت کاراستہ اختیارکرکے عزت حاصل کی ہے، افغان قوم کا یہ اعزازہے کہ دوعشروں میں انہوں نے دوسپر طاقتوں کوشکست دی ہے یہ تاریخ کاانوکھا کردارہے ہم امارت اسلامیہ افغانستان کے اسلامی تشخص ،اس کے استحکام کے لیئے اپنی جان ومال اورخون تک بہادیں گے اللہ نے پاکستان اورافغانستان کوجوجغرافیہ دیاہے اس کی قدرکرنی چاہیئے ، افغانستان کاامن پورے خطے کے امن کاضامن ہے۔
Maulana Fazl-ur-Rehman269,458 görüntüleme • 3 yıl önce
12:50
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

فلسطین جل رہا ہے، بچے تڑپ رہے ہیں اور حکمران خاموش ہیں۔ امت مسلمہ کا ہر فرد بیدار ہو، آواز بلند کرے،حکمرانوں کو جھنجھوڑے،یہ وقت اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ 10 اپریل کو مسئلہ فلسطین پر کنونشن منعقد ہوگا جس میں تمام مکاتب فکر کے ساتھ بیٹھ کر حکمت عملی بنائیں گے اور 13 اپریل کو کراچی میں اسرائیل مردہ باد کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ ان شاءاللہ
Maulana Fazl-ur-Rehman117,772 görüntüleme • 1 yıl önce

ایران اسلامی برادری کا حصہ ہے،ایران پر اسرائیل کے جارحانہ حملے کی ہم صرف مذمت نہیں کرتے بلکہ ہم ایران کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ نیتن یاہو کو عالمی عدالت نے جنگی مجرم قرار دیا ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہورہا ہے اور وہ مسلمانوں کے خلاف دندناتا پھر رہا ہے،اس ماحول میں جمعیۃ علماء اسلام سب کو جنجھوڑ رہی ہے کہ فلسطین کے بعد ایران پر حملہ ہوا ہے اس کے بعد اگلی باری کس اسلامی ملک کی ہوگی ؟ اگر حرمین شریف کی طرف پیشرفت کی گئی تو ہم جس طرح آج فلسطین کے ساتھ کھڑے اسی طرح دنیا کا ہر ایک مسلمان حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے اپنا خون بہا لے گا لیکن حرمین شریفین پر آنچ نہیں آنے دے گا۔!
Maulana Fazl-ur-Rehman97,502 görüntüleme • 1 yıl önce

نبی مہربان صلی اللہ علیہ وسلم کے متوالوں کو یہ عظیم حاضری مبارک ہو
Maulana Fazl-ur-Rehman153,709 görüntüleme • 1 yıl önce

ہم نے آئین اور قانون کا ساتھ دیا آج ہماری لاشیں گر رہی ہیں ، کہاں ہے وہ امن و امان جس کیلئے قبائل نے قربانی دی ، آج ہم خود کو غیر محفوظ سمجھ رہے ہیں ، کل باجوڑ اور آج مستونگ میں حافظ حمداللہ پر حملہ آخر کس جرم کی پاداش میں ہمارا خون بہایا جا رہا ہے !!! Hafiz Hamdullah #HafizHamdullah #Mastong
Maulana Fazl-ur-Rehman218,417 görüntüleme • 2 yıl önce
