Sabookh Syed | Journalist's banner
Sabookh Syed | Journalist's profile picture

Sabookh Syed | Journalist

@SaboohSyed44,759 subscribers

Journalist | President DigiMAP | Human Rights Activist | Anchor | Political Commentator | Researcher | Visiting Faculty at SZABIST | Editor https://t.co/8yKTDFQbon

Shorts

گذشتہ برس ٹویٹ کی تھی جس پر ڈپٹی کمشنر اسلام آبادنے ایکشن لیکر پانی کے قدرتی رستےپر قبضہ کی گئی دیوار گرائی۔اب دوبارہ نالے کی زمین قبضہ کر کے دیوار بنا دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر صاحب یہ لوگ قانون سے ماورا کیسے ہوگئے؟۔ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی ۔DC Islamabad Capital Development Authority - CDA, Islamabad

گذشتہ برس ٹویٹ کی تھی جس پر ڈپٹی کمشنر اسلام آبادنے ایکشن لیکر پانی کے قدرتی رستےپر قبضہ کی گئی دیوار گرائی۔اب دوبارہ نالے کی زمین قبضہ کر کے دیوار بنا دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر صاحب یہ لوگ قانون سے ماورا کیسے ہوگئے؟۔ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی ۔DC Islamabad Capital Development Authority - CDA, Islamabad

265,196 просмотров

بعض اوقات لوگ قسمیہ اور حلفیہ کہتے ہیں کہ انہیں قبرستان سے رونے اور چلانے کی آوازیں آتی ہیں ۔ در اصل وہ آوازیں اس جانور کی ہیں جو مردہ خور ہے۔اس کی آواز ہو بہو انسانی چیخوں اور چلانے جیسی ہے ۔ آپ اپنی معلومات بھی شیئر کریں ۔

بعض اوقات لوگ قسمیہ اور حلفیہ کہتے ہیں کہ انہیں قبرستان سے رونے اور چلانے کی آوازیں آتی ہیں ۔ در اصل وہ آوازیں اس جانور کی ہیں جو مردہ خور ہے۔اس کی آواز ہو بہو انسانی چیخوں اور چلانے جیسی ہے ۔ آپ اپنی معلومات بھی شیئر کریں ۔

250,988 просмотров

حد ہوتی ہے ، رفتار والوں نے چیٹ بی ٹی سے اسکرپٹ پکڑا، پرنٹ کیا اور مائیک سنبھال لیا ۔ اب یہ کون سے صحافی ہیں سید اعزاز چیمہ 😜😜😜😜 اور ان کی کتاب بادشاہی کا کھیل ، کب لکھی گئی ہے ۔ یہ اعزاز سید کا انٹرویو تھا کیپٹن صفدر سے جس میں انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا تھا۔ آئی بی سی اردو کے اس لنک میں موجود ہے۔ دوسرا حصہ Azaz Syed Umar Cheema Raftar

حد ہوتی ہے ، رفتار والوں نے چیٹ بی ٹی سے اسکرپٹ پکڑا، پرنٹ کیا اور مائیک سنبھال لیا ۔ اب یہ کون سے صحافی ہیں سید اعزاز چیمہ 😜😜😜😜 اور ان کی کتاب بادشاہی کا کھیل ، کب لکھی گئی ہے ۔ یہ اعزاز سید کا انٹرویو تھا کیپٹن صفدر سے جس میں انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا تھا۔ آئی بی سی اردو کے اس لنک میں موجود ہے۔ دوسرا حصہ Azaz Syed Umar Cheema Raftar

40,041 просмотров

جہلم کے ایک جاہل نیم ملاں نے ملک بھر میں مسیحیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ حکومت نے اس کے گلے میں پٹہ نہیں ڈال سکتی ۔ مسیحی علماء اور نوجوان پریشان ہیں کہ پاکستان میں پہلے ہی ان کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے اور اس جاہل کی وجہ سے ان کے لیے مزید مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں۔ ہشام الہی ظہیر صاحب نے اس بارے میں مذہبی نقطہ نظر بہترین انداز میں بیان کیا ہے۔ اکثر احباب سمجھتے ہیں کہ نیم ملاں نے کوئی ایسی بات نہیں کی ، ان کے لیے یہ کلپ شیئر کر رہا ہوں ورنہ میرا قطعا اسے شیئر کرنے کا ارادہ نہ تھا۔ مسیحی علماء کا کہنا ہے کہ ان کا نہ تو کوئی ایسا عقیدہ ہے اور نہ ہی وہ ایسی کسی بات کا سوچ سکتے ہیں۔

جہلم کے ایک جاہل نیم ملاں نے ملک بھر میں مسیحیوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دی ہیں۔ حکومت نے اس کے گلے میں پٹہ نہیں ڈال سکتی ۔ مسیحی علماء اور نوجوان پریشان ہیں کہ پاکستان میں پہلے ہی ان کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے اور اس جاہل کی وجہ سے ان کے لیے مزید مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں۔ ہشام الہی ظہیر صاحب نے اس بارے میں مذہبی نقطہ نظر بہترین انداز میں بیان کیا ہے۔ اکثر احباب سمجھتے ہیں کہ نیم ملاں نے کوئی ایسی بات نہیں کی ، ان کے لیے یہ کلپ شیئر کر رہا ہوں ورنہ میرا قطعا اسے شیئر کرنے کا ارادہ نہ تھا۔ مسیحی علماء کا کہنا ہے کہ ان کا نہ تو کوئی ایسا عقیدہ ہے اور نہ ہی وہ ایسی کسی بات کا سوچ سکتے ہیں۔

59,311 просмотров

تربیت کے مراکز ملاحظہ فرمائیں ۔

تربیت کے مراکز ملاحظہ فرمائیں ۔

17,768 просмотров

ڈسکہ میں کچھ احمدی چھپ کر ایک عمارت کے اندر جمعے کی نیت سے اکٹھے ہوئے تھے تاہم کچھ لوگوں نے موقع پر پہنچ کر انہیں گرفتار کروا لیا گیا ۔ ایف آئی آر کے مطابق جمعہ پڑھنے کی نیت کرنے سے مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوئی ہے ۔

ڈسکہ میں کچھ احمدی چھپ کر ایک عمارت کے اندر جمعے کی نیت سے اکٹھے ہوئے تھے تاہم کچھ لوگوں نے موقع پر پہنچ کر انہیں گرفتار کروا لیا گیا ۔ ایف آئی آر کے مطابق جمعہ پڑھنے کی نیت کرنے سے مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوئی ہے ۔

19,340 просмотров

Videos

SaboohSyed's profile picture

گزشتہ روز مظفرآباد میں پاک فوج کا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا۔ اس حادثے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور انہی میں ہمارے ایک عزیز رشتے دار میجر سید عثمان شاہ بھی شامل تھے۔ میجر عثمان شاہ کا تعلق مانسہرہ سے تھا۔ آج ان کی نمازِ جنازہ پہلے کشمیر میں، پھر جی ایچ کیو میں، اور بعد ازاں اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں ادا کی گئی۔ جنازے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر دل غم سے بوجھل۔ ان کے تین ننھے منے بچے ہیں، جن کی عمریں ابھی تین سال اور ایک سال کے قریب ہیں۔ اتنی کم عمری میں انہوں نے اپنے والد کا سایہ کھو دیا۔ ان کی اہلیہ کی خواہش تھی کہ انہیں اسلام آباد میں ہی سپردِ خاک کیا جائے تاکہ بچے اپنے والد کی قبر کے قریب رہ سکیں۔ عثمان شاہ کی والدہ نے بہو اور بچوں کے درد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی فیصلہ کیا۔ عثمان شاہ کے والد کا انتقال بھی کچھ عرصہ قبل ہوا تھا۔ ایک ماں، جس نے پہلے اپنے شریکِ حیات کو کھویا اور پھر اپنے جوان بیٹے کو، آج ایک اور امتحان سے گزر رہی تھی۔ وہ تابوت سے لپٹ کر رو رہی تھی، اسے بیٹا کہہ کر پکار رہی تھی۔ ماؤں جوان بیٹے دیتی ہیں لیکن اکثر اوقات یہ تابوت ہی ان کے پاس لوٹتا ہے، جس پر پاکستان کا جھنڈا ہوتا ہے۔ اندر کیا ہے، کس حال میں ہے، اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا۔ لیکن ماں کے لیے وہی لکڑی کا تابوت اس کے جگر کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ دکھ کی بات صرف یہ نہیں کہ ہمارے جوان وطن پر قربان ہو جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بیٹھے بعض لوگ ان شہادتوں کو بھی بدتہذیبی، گالم گلوچ اور سیاسی یا نظریاتی نفرت کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے، ریاستی پالیسیوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن مرنے والوں کی بے حرمتی، ان کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنا اور ایک ماں، بیوہ اور یتیم بچوں کے دکھ کو نظر انداز کر دینا کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔ ہمیں کم از کم اتنی انسانیت ضرور بچا کر رکھنی چاہیے کہ کسی کے غم کو تماشا نہ بنائیں۔ شہداء کے بارے میں آپ کی رائے جو بھی ہو، ان کے پیچھے رہ جانے والے خاندانوں کا درد حقیقی ہوتا ہے۔ ان کی مائیں واقعی روتی ہیں، ان کی بیویاں واقعی ٹوٹتی ہیں، اور ان کے بچے واقعی عمر بھر ایک خالی جگہ کے ساتھ جیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ میجر سید عثمان شاہ اور تمام شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ :::

Sabookh Syed | Journalist

23,739 просмотров • 6 дней назад

SaboohSyed's profile picture

یہ ایک ہفتہ قبل دو فروری کی بات ہے۔میانوالی سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون، جو ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں، اسلام آباد آنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہی تھیں۔ بس کے اندر ایک شخص مسلسل انہیں ہراساں کرتا رہا۔ کبھی اپنا موبائل نمبر زبردستی تھمانے کی کوشش، کبھی موبائل پر نامناسب پیغامات، اور کبھی ویڈیو بنا کر بدتمیزی۔ خاتون نے ہمت دکھائی، اپنے بھائی کو اعتماد میں لیا، اور ان کے مشورے پر اس شخص کی خفیہ ویڈیو بنا لی۔ یہ ویڈیو اس وقت آپ دیکھ سکتے ہیں جس میں بندہ ، اس کی حرکتیں سب کچھ واضح دکھائی دیتا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔بسوں کے اندر خواتین محفوظ نہیں،گلیوں اور بازاروں میں خواتین محفوظ نہیں،حتیٰ کہ ایک لیڈی ڈاکٹر بھی ہراسانی سے محفوظ نہیں۔ بس اڈے پر اترنے کے بعد بھی اس شخص نے پیچھا کرنے کی کوشش کی، مگر خوش قسمتی سے بھائی موقع پر پہنچ گئے، جس کے بعد ملزم فرار ہو گیا۔ یہ شخص شناخت کے قابل ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اسے ٹریس کریں اور عبرتناک سزا دیں، تاکہ یہ پیغام جائے کہ خواتین کو ہراساں کرنا معمول نہیں، جرم ہے۔خاموشی جرم کو طاقت دیتی ہے۔ یہ اس بندےکا نمبر ہے 03349185512 تصویر بھی آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ Maryam Nawaz Sharif Punjab Police Officers پنجاب پولیس Government of Punjab Punjab Police Official

Sabookh Syed | Journalist

122,124 просмотров • 4 месяцев назад

SaboohSyed's profile picture

بچوں کو کھانا ایسے دیں

Sabookh Syed | Journalist

360,485 просмотров • 2 лет назад

SaboohSyed's profile picture

امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے والا شخص پولیس نے گرفتار کر لیا مسلمانوں میں امام مہدی کی آمد کا ایک معروف نظریہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح تقریباً ہر مذہب میں کسی نہ کسی نجات دہندہ، مسیح یا اوتار کے ظہور کا تصور موجود ہے۔ میں نے بہت عرصہ پہلے کہیں لکھا تھا کہ دنیا کے تقریباً تمام مذاہب اور مسالک نے اپنے اپنے ویٹنگ روم بنا رکھے ہیں، جہاں وہ کسی عظیم ہستی کی آمد کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ آئے گا، ظالموں کو نیست و نابود کرے گا، مظلوموں کو سربلندی عطا ہوگی، اور انتظار کرنے والے اس کے لشکر کا حصہ بن جائیں گے۔ اس تصور کے تحت سب اس کی آمد کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ سب کسی امام مہدی یا اوتار کے منتظر ہیں۔ یہ ان کا فکری اور اعتقادی زاویہ ہے۔ لیکن دلچسپ اور المیہ پہلو یہ ہے کہ جب کوئی شخص واقعی امام مہدی یا اوتار ہونے کا دعویٰ کر دے تو اسے فوراً رد کر دیا جاتا ہے۔ کبھی اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے، کبھی اسے قتل کر دیا جاتا ہے، اور کبھی اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر گروہ اسے “جعلی” امام سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود، اس نام نہاد “جعلی” امام کو بھی کچھ لوگ مل ہی جاتے ہیں جو اس پر ایمان لے آتے ہیں اور اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میٹرک کے زمانے میں میں نے ایک کتاب پڑھی تھی: “انتظارِ مہدی و مسیح”۔ یہ علامہ محمد اقبال اور علامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی کے درمیان خطوط کا مجموعہ تھا۔ اس کتاب میں علامہ تمنا عمادی کا موقف یہ تھا کہ مہدی اور مسیح کی دنیا میں آمد کے انتظار کا تصور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ کا اس بارے میں کیا موقف ہے؟کمنٹ باکس میں اپنی رائے ضرور لکھیں۔ شکریہ سبوخ سید

Sabookh Syed | Journalist

56,906 просмотров • 4 месяцев назад

SaboohSyed's profile picture

رات کو جب لاوارث خواجہ سرا کی وفات کا علم ہوا تو تب ہم گنتی کے چند لوگ تھے ، محمد ناصر ، رجب علی آزاد ، قدوس سید ، نوید سواتی ، ریاض یوسفزئی ، ملک سیف ، بابر خان ، ڈاکٹر عامر اور بوڑھے خواجہ سرا ، عجیب سی بے بسی تھی ، ایک شخص کی لاش رات سے صبح نو بجے تک اسپتال پڑی رہی ، سوشل میڈیا پر دہائیاں دی گئیں کہ ورثا کی تلاش ہے ، مگر کوئی سامنے نہیں آیا ، نو بجے لاش اٹھائی گئی اور ایبٹ آباد نواں شہر پہنچائی گئی ، امید ویلفیئر کے چند لوگ اور حساس روحیں ، پھر کرم ہو گیا لوگ کہتے تھے خواجہ سراؤں کا جنازہ رات کو ہوتا ہے ، کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا ، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا ، جنازہ دن کو ڈھائی بجے رکھا گیا ، حجرے میں جگہ کم پڑ گئی ، عوام ہی عوام تھی ، علماء تھے ، صحافی تھے ، سیاست دان تھے ، تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی کہنے والوں نے کہا یہ نواں شہر کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک جنازہ تھا ، لوگوں نے کہا یہ فرزند نواں شہر ہے ، خواجہ سرا قبر پر کھڑے تھے ، فرق مٹ گیا ، لوگوں نے محبت کی اور کمال کیا ، رات کے اندھیرے میں لاش اٹھانے والا تصور مٹا دیا ، خواجہ سرا الگ جنس ہیں انہیں خود سے دور رکھنے والی بات بھی ہوا ہوئی ، علماء سیاست دان صحافی عوام خواجہ سرا ایک صف میں تھے ، سچ ہے کہ ایبٹ آباد بازی لے گیا ، روح کو قرار آ گیا ، ایک بوڑھے خواجہ سرا نے کہا زندگی عزت کی نہیں ملی لیکن یہ یقین ہو چلا کہ موت عزت والی ہو گی ، لوگ کندھا دینگے اور اعزاز کیساتھ دفنائیں گے - ایک بار ایک دوست نے پوچھا تھا کہ آپ کی خواہش کیا ہے ؟ عرض کیا خواہشیں بہت ہیں لیکن ایک خواہش ہے جس کی پوری ہونے کی تمنا ہے کہ یہ سوسائٹی خواجہ سراؤں کا احترام کرنے والی بن جائے ، خواجہ سراؤں کے احترام کی خواہش ہے آج رب نے خواہش پوری کر دی - عامر ہزاروی

Sabookh Syed | Journalist

70,149 просмотров • 6 месяцев назад