
Sabookh Syed | Journalist
@SaboohSyed • 44,759 subscribers
Journalist | President DigiMAP | Human Rights Activist | Anchor | Political Commentator | Researcher | Visiting Faculty at SZABIST | Editor https://t.co/8yKTDFQbon
Shorts
Videos

گزشتہ روز مظفرآباد میں پاک فوج کا ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا۔ اس حادثے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور انہی میں ہمارے ایک عزیز رشتے دار میجر سید عثمان شاہ بھی شامل تھے۔ میجر عثمان شاہ کا تعلق مانسہرہ سے تھا۔ آج ان کی نمازِ جنازہ پہلے کشمیر میں، پھر جی ایچ کیو میں، اور بعد ازاں اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ میں ادا کی گئی۔ جنازے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ ہر آنکھ اشک بار تھی اور ہر دل غم سے بوجھل۔ ان کے تین ننھے منے بچے ہیں، جن کی عمریں ابھی تین سال اور ایک سال کے قریب ہیں۔ اتنی کم عمری میں انہوں نے اپنے والد کا سایہ کھو دیا۔ ان کی اہلیہ کی خواہش تھی کہ انہیں اسلام آباد میں ہی سپردِ خاک کیا جائے تاکہ بچے اپنے والد کی قبر کے قریب رہ سکیں۔ عثمان شاہ کی والدہ نے بہو اور بچوں کے درد کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی فیصلہ کیا۔ عثمان شاہ کے والد کا انتقال بھی کچھ عرصہ قبل ہوا تھا۔ ایک ماں، جس نے پہلے اپنے شریکِ حیات کو کھویا اور پھر اپنے جوان بیٹے کو، آج ایک اور امتحان سے گزر رہی تھی۔ وہ تابوت سے لپٹ کر رو رہی تھی، اسے بیٹا کہہ کر پکار رہی تھی۔ ماؤں جوان بیٹے دیتی ہیں لیکن اکثر اوقات یہ تابوت ہی ان کے پاس لوٹتا ہے، جس پر پاکستان کا جھنڈا ہوتا ہے۔ اندر کیا ہے، کس حال میں ہے، اس کا علم کسی کو نہیں ہوتا۔ لیکن ماں کے لیے وہی لکڑی کا تابوت اس کے جگر کا ٹکڑا ہوتا ہے۔ دکھ کی بات صرف یہ نہیں کہ ہمارے جوان وطن پر قربان ہو جاتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر بیٹھے بعض لوگ ان شہادتوں کو بھی بدتہذیبی، گالم گلوچ اور سیاسی یا نظریاتی نفرت کا نشانہ بنا دیتے ہیں۔ اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے، ریاستی پالیسیوں پر تنقید بھی کی جا سکتی ہے، لیکن مرنے والوں کی بے حرمتی، ان کے لواحقین کے زخموں پر نمک چھڑکنا اور ایک ماں، بیوہ اور یتیم بچوں کے دکھ کو نظر انداز کر دینا کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔ ہمیں کم از کم اتنی انسانیت ضرور بچا کر رکھنی چاہیے کہ کسی کے غم کو تماشا نہ بنائیں۔ شہداء کے بارے میں آپ کی رائے جو بھی ہو، ان کے پیچھے رہ جانے والے خاندانوں کا درد حقیقی ہوتا ہے۔ ان کی مائیں واقعی روتی ہیں، ان کی بیویاں واقعی ٹوٹتی ہیں، اور ان کے بچے واقعی عمر بھر ایک خالی جگہ کے ساتھ جیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ میجر سید عثمان شاہ اور تمام شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔ :::
Sabookh Syed | Journalist23,739 görüntüleme • 6 gün önce
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

اسلام آباد کے سیکٹر آئی ایٹ منی ایکسچینج میں فائرنگ کا واقعہ سکیورٹی گارڈ نے اپنے دفتر کے آفس بوائے کو فائرنگ کرکے قتل کر دیاـ ذرائع پولیس کی بروقت کارروائی ملزم سکیورٹی گارڈ محمد عمر کو گرفتار کر لیا گیا ـذرائع مقتول کی شناخت دانش صغیر کے نام سے ہوئی جو اسی دفتر میں افس بوائے کا کام کرتا تھا ،ذرائع پولیس نے ملزم سے آلہ قتل برآمد کر لیا، مزید تفتیش جاری،ذرائع
Sabookh Syed | Journalist134,291 görüntüleme • 2 ay önce

مسجد ہے ، اللہ کا گھر ہے ، معصوم فرشتوں جیسے بچے خوش ہو رہے ہیں۔ مسکرا رہے ہیں۔ اللہ اس مدرسے کے مہتمم اور ناظم کو خوش رکھے جنہوں نے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لانے کے لیے خود کو “تماشا “ بنایا ۔ چھوٹے مدارس کے پاس گراؤنڈز ہیں اور ناہی بچوں کو تفریح مہیا کرنے کے لئے پیسے ہیں۔ ایسے میں اس قسم کی سرگرمیاں کر کے وہ والدین سے دور ، اپنے گھروں سے دور بچوں کو خوش رکھتے ہیں۔ اگر کسی کو معلوم ہو کہ یہ ویڈیو کہاں کی ہے۔ مجھے ضرور بتائیں۔ #sabookhsyed #foryoupage #foryoupage
Sabookh Syed | Journalist238,064 görüntüleme • 6 ay önce

یہ ایک ہفتہ قبل دو فروری کی بات ہے۔میانوالی سے تعلق رکھنے والی ایک نوجوان خاتون، جو ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں، اسلام آباد آنے کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کر رہی تھیں۔ بس کے اندر ایک شخص مسلسل انہیں ہراساں کرتا رہا۔ کبھی اپنا موبائل نمبر زبردستی تھمانے کی کوشش، کبھی موبائل پر نامناسب پیغامات، اور کبھی ویڈیو بنا کر بدتمیزی۔ خاتون نے ہمت دکھائی، اپنے بھائی کو اعتماد میں لیا، اور ان کے مشورے پر اس شخص کی خفیہ ویڈیو بنا لی۔ یہ ویڈیو اس وقت آپ دیکھ سکتے ہیں جس میں بندہ ، اس کی حرکتیں سب کچھ واضح دکھائی دیتا ہے۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں، یہ ہمارے معاشرے کا آئینہ ہے۔بسوں کے اندر خواتین محفوظ نہیں،گلیوں اور بازاروں میں خواتین محفوظ نہیں،حتیٰ کہ ایک لیڈی ڈاکٹر بھی ہراسانی سے محفوظ نہیں۔ بس اڈے پر اترنے کے بعد بھی اس شخص نے پیچھا کرنے کی کوشش کی، مگر خوش قسمتی سے بھائی موقع پر پہنچ گئے، جس کے بعد ملزم فرار ہو گیا۔ یہ شخص شناخت کے قابل ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ اسے ٹریس کریں اور عبرتناک سزا دیں، تاکہ یہ پیغام جائے کہ خواتین کو ہراساں کرنا معمول نہیں، جرم ہے۔خاموشی جرم کو طاقت دیتی ہے۔ یہ اس بندےکا نمبر ہے 03349185512 تصویر بھی آپ دیکھ سکتے ہیں ۔ Maryam Nawaz Sharif Punjab Police Officers پنجاب پولیس Government of Punjab Punjab Police Official
Sabookh Syed | Journalist122,124 görüntüleme • 4 ay önce

اپیسٹین فائلز کی کہانی ، مختصر ترین الفاظ میں
Sabookh Syed | Journalist80,649 görüntüleme • 4 ay önce
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

دیھ 22 جمڑاؤ تعلقہ سنجھورو میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد نے جماعت احمدیہ کی عبادت گاہ کے محراب کو توڑ دیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں مذہبی جماعتوں کا جشن اس سے پہلے دس اگست کو سانگھڑ میں احمدی عبادت گاہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا تھا ۔
Sabookh Syed | Journalist366,568 görüntüleme • 2 yıl önce

امام مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے والا شخص پولیس نے گرفتار کر لیا مسلمانوں میں امام مہدی کی آمد کا ایک معروف نظریہ پایا جاتا ہے۔ اسی طرح تقریباً ہر مذہب میں کسی نہ کسی نجات دہندہ، مسیح یا اوتار کے ظہور کا تصور موجود ہے۔ میں نے بہت عرصہ پہلے کہیں لکھا تھا کہ دنیا کے تقریباً تمام مذاہب اور مسالک نے اپنے اپنے ویٹنگ روم بنا رکھے ہیں، جہاں وہ کسی عظیم ہستی کی آمد کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ آئے گا، ظالموں کو نیست و نابود کرے گا، مظلوموں کو سربلندی عطا ہوگی، اور انتظار کرنے والے اس کے لشکر کا حصہ بن جائیں گے۔ اس تصور کے تحت سب اس کی آمد کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں۔ سب کسی امام مہدی یا اوتار کے منتظر ہیں۔ یہ ان کا فکری اور اعتقادی زاویہ ہے۔ لیکن دلچسپ اور المیہ پہلو یہ ہے کہ جب کوئی شخص واقعی امام مہدی یا اوتار ہونے کا دعویٰ کر دے تو اسے فوراً رد کر دیا جاتا ہے۔ کبھی اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے، کبھی اسے قتل کر دیا جاتا ہے، اور کبھی اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہر گروہ اسے “جعلی” امام سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود، اس نام نہاد “جعلی” امام کو بھی کچھ لوگ مل ہی جاتے ہیں جو اس پر ایمان لے آتے ہیں اور اس کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔ میٹرک کے زمانے میں میں نے ایک کتاب پڑھی تھی: “انتظارِ مہدی و مسیح”۔ یہ علامہ محمد اقبال اور علامہ تمنا عمادی مجیبی پھلواروی کے درمیان خطوط کا مجموعہ تھا۔ اس کتاب میں علامہ تمنا عمادی کا موقف یہ تھا کہ مہدی اور مسیح کی دنیا میں آمد کے انتظار کا تصور قرآن و سنت کے خلاف ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ کا اس بارے میں کیا موقف ہے؟کمنٹ باکس میں اپنی رائے ضرور لکھیں۔ شکریہ سبوخ سید
Sabookh Syed | Journalist56,906 görüntüleme • 4 ay önce

یہ کراچی نہیں اسلام آباد کے سیکٹر جی ٹین کا بیلا روڈ ہے ۔ بچوں نے ٹی وی اور سوشل میڈیا پر کراچی کے تین سالہ ابراہیم کا حادثہ دیکھا لیکن نہیں دیکھتے تو ہمارے ٹیکسوں پر پلنے والے رٹے مار بیورو کریٹ ، فارقلیط عبدالرحمان سیکنڈ کلاس کا طالب علم ہے اور چیئر مین سی ڈی اے کو کچھ دکھا رہا ہے جو شہر کے خاص لوگ دکھانے سے قاصر ہیں۔ #CDA Capital Development Authority - CDA, Islamabad
Sabookh Syed | Journalist79,380 görüntüleme • 6 ay önce

کیا کوئی رہنمائی کر سکتا ہے کہ یہ تقریب کہاں ہوئی موقع کیا تھا؟ خطاب کرنے والی شخصیت کون ہیں؟ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ اسسٹنٹ کمشنر کلر کہار ہیں تاہم کچھ لوگ اس کی تصدیق نہیں کر تے۔ براہ کرم رہنمائی فرمائیں تاکہ ان کی دست بوسی کرکے اپنے مقام کا ارفع و اعلیٰ بنا سکوں ۔ سبوخ سید
Sabookh Syed | Journalist92,464 görüntüleme • 7 ay önce

ڈیمو کریٹس پینل کے ڈاکٹر فرقان راؤ کے جنرل سیکرٹری کا الیکشن جیتنے کے بعد خاص حلقوں کی جانب سے دباؤ کے ذریعے دھاندلی کروانے کی خبریں آرہی ہیں۔ دس سال کے پانچ بچوں کو بھی بٹھایا جاتا تو وہ ایک گھنٹے میں دو ہزار ووٹ گن لیتے تاہم 14 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی ابھی تک نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ یہ نیشنل پریس کلب کے لیے اور پاکستان میں صحافیوں کے لیے ایک انتہائی ذلت بھرے دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا ۔ شرم آرہی ہے کہ ہم ایک ایسی کیمونٹی سے تعلق رکھتے ہیں جو ہمیشہ شفافیت کی بات کرتی ہے لیکن اس کی اپنی حالت یہ ہے۔ دھاندلی کرنے والوں کے خلاف ہم روزانہ سوشل میڈیا پر لعنت بھیجنے کی مہم کا آغاز کریں گے ۔ آپ اپنے لئے نفرت میں اضافہ کریں گے اور کچھ نہیں ۔ شرم کریں ۔
Sabookh Syed | Journalist43,581 görüntüleme • 3 ay önce

ساری زندگی برتن دھوئے، جھاڑو لگایا، کپڑے دھوئے، لوگوں کی باتیں سُنیں، چار بچے مر گئے، خاوند مر گیا ۔ تنکہ تنکہ اکٹھاکیا، روپیہ روپیہ جوڑا کہ آقا کو سلام کرنے جانا ہے ۔ عشق نبی دل میں سما جائے تو چہرہ مطلع انوار بن جاتا ہے ۔ایسے انسان کی باتوں اور کاموں سے ہر طرف خوشبو پھیلتی ہے ۔
Sabookh Syed | Journalist208,089 görüntüleme • 1 yıl önce

رات کو جب لاوارث خواجہ سرا کی وفات کا علم ہوا تو تب ہم گنتی کے چند لوگ تھے ، محمد ناصر ، رجب علی آزاد ، قدوس سید ، نوید سواتی ، ریاض یوسفزئی ، ملک سیف ، بابر خان ، ڈاکٹر عامر اور بوڑھے خواجہ سرا ، عجیب سی بے بسی تھی ، ایک شخص کی لاش رات سے صبح نو بجے تک اسپتال پڑی رہی ، سوشل میڈیا پر دہائیاں دی گئیں کہ ورثا کی تلاش ہے ، مگر کوئی سامنے نہیں آیا ، نو بجے لاش اٹھائی گئی اور ایبٹ آباد نواں شہر پہنچائی گئی ، امید ویلفیئر کے چند لوگ اور حساس روحیں ، پھر کرم ہو گیا لوگ کہتے تھے خواجہ سراؤں کا جنازہ رات کو ہوتا ہے ، کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا ، لیکن اس بار ایسا نہیں ہوا ، جنازہ دن کو ڈھائی بجے رکھا گیا ، حجرے میں جگہ کم پڑ گئی ، عوام ہی عوام تھی ، علماء تھے ، صحافی تھے ، سیاست دان تھے ، تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی کہنے والوں نے کہا یہ نواں شہر کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک جنازہ تھا ، لوگوں نے کہا یہ فرزند نواں شہر ہے ، خواجہ سرا قبر پر کھڑے تھے ، فرق مٹ گیا ، لوگوں نے محبت کی اور کمال کیا ، رات کے اندھیرے میں لاش اٹھانے والا تصور مٹا دیا ، خواجہ سرا الگ جنس ہیں انہیں خود سے دور رکھنے والی بات بھی ہوا ہوئی ، علماء سیاست دان صحافی عوام خواجہ سرا ایک صف میں تھے ، سچ ہے کہ ایبٹ آباد بازی لے گیا ، روح کو قرار آ گیا ، ایک بوڑھے خواجہ سرا نے کہا زندگی عزت کی نہیں ملی لیکن یہ یقین ہو چلا کہ موت عزت والی ہو گی ، لوگ کندھا دینگے اور اعزاز کیساتھ دفنائیں گے - ایک بار ایک دوست نے پوچھا تھا کہ آپ کی خواہش کیا ہے ؟ عرض کیا خواہشیں بہت ہیں لیکن ایک خواہش ہے جس کی پوری ہونے کی تمنا ہے کہ یہ سوسائٹی خواجہ سراؤں کا احترام کرنے والی بن جائے ، خواجہ سراؤں کے احترام کی خواہش ہے آج رب نے خواہش پوری کر دی - عامر ہزاروی
Sabookh Syed | Journalist70,149 görüntüleme • 6 ay önce

گذشتہ برس ٹویٹ کی تھی جس پر ڈپٹی کمشنر اسلام آبادنے ایکشن لیکر پانی کے قدرتی رستےپر قبضہ کی گئی دیوار گرائی۔اب دوبارہ نالے کی زمین قبضہ کر کے دیوار بنا دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر صاحب یہ لوگ قانون سے ماورا کیسے ہوگئے؟۔ ان کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی ۔DC Islamabad Capital Development Authority - CDA, Islamabad
Sabookh Syed | Journalist265,196 görüntüleme • 3 yıl önce

زندگی کی آخری پرواز اُڑانے سے پہلے چونسٹھ سالہ امریکی پائلٹ کی نصیحت
Sabookh Syed | Journalist41,289 görüntüleme • 4 ay önce

آپریشن شروع ہونے سے پہلے حافظ سعد حسین رضوی قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب وہ ان کے بھائی حافظ انس رضوی ذکر کر رہے ہیں۔ تحریک لبیک کے مرکزی رکن شوری مفتی وزیر احمد رضوی کے مطابق حافظ سعد حسین رضوی کو کندھے میں تین عدد گولیاں لگی ہیں تاہم اس کی آزادنہ ذرائع یا کسی ویڈیو سے تحقیق نہیں ہو سکی ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے کنٹینر سے چھلانگ لگائی جس کی وجہ سے کندھا زخمی ہوگیا۔ مبینہ طور پر سیکورٹی ادارے انہیں اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔
Sabookh Syed | Journalist69,655 görüntüleme • 8 ay önce

وفاقی وزراء جناب اسحاق ڈار صاحب، رانا ثناء اللہ صاحب ، احسن اقبال صاحب اور خواجہ سعد رفیق صاحب کی موجودگی میں معروف شاعر سید سلمان گیلانی صاحب کا پاکستان میں انتخابی عمل سے متعلق کلام، یہ نشست مولانافضل الرحمان صاحب کے گھر منعقد ہوئی ، جمیعت علما ئے اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری سینیٹر مولانا عبدا لغفور حیدری صاحب بھی مجلس میں بیٹھے ہیں۔
Sabookh Syed | Journalist67,142 görüntüleme • 7 ay önce

منڈی بہاؤالدین میں دو احمدیوں 62 سالہ غلام سرور اور 30 سالہ راحت باجوہ کو دن دیہاڑے عقیدے کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا ۔ قاتل قتل کرنے کے بعد نعرے لگاتے رہے ۔ ایک قاتل مدرسے کا طالب علم ہے جس کا نام سید علی رضا اور عمر 17 برس ہے۔ TLPرہنما احمدیوں کو سرعام قتل کرنے کی بات کرتے ہیں۔
Sabookh Syed | Journalist148,081 görüntüleme • 2 yıl önce