
Shabbir Dar
@ShabbirDar5 • 8,801 subscribers
Journalist @geonews_urdu @thenews_intl Tweets are personal. https://t.co/t30ug7HGbe https://t.co/bBdZJJMH3M
Shorts
Videos

میر واعظ عمر فاروق نے گزشتہ روز سرینگر کی جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عوامی تحریک اپنی اخلاقی برتری اسی وقت برقرار رکھ سکتی ہے جب وہ تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ایک طبقے کے حقوق کی بات کرتے ہوئے دوسرے طبقے کے آئینی اور جمہوری حقوق کو نظر انداز یا فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لہٰذا ان کی آئینی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لیے مساوات، انصاف اور باہمی احترام ناگزیر ہیں، اس لیے تمام فریقین کو مل بیٹھ کر ایسا درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ میر واعظ نے کہا کہ آزاد کشمیر ہو یا مقبوضہ کشمیر، ہم ریاست جموں و کشمیر کے ہر متاثرہ فرد کی بات کرتے ہیں۔ ریاست کے ہر علاقے کے باشندوں کے حقوق کی نمائندگی کرنا ضروری ہے، کیونکہ ہماری جدوجہد اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ہم ریاست کے تمام علاقوں کے لوگوں کے حقوق کی بات کریں اور انہیں اپنے دائرۂ جدوجہد میں شامل کریں۔ انہوں نے آر پار امن و امان، اتحاد اور اتفاق کیلئے دعا کی، اور امید ظاہر کی کہ تمام مسائل تشدد اور تصادم کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔ نوٹ: خطاب کشمیری زبان میں ہے۔
Shabbir Dar56,851 просмотров • 8 дней назад

یہ بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی زمینی حقیقت ہے۔ جو سیاست دان بھارتی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کرتے ہیں، وہ بھی کئی مواقع پر سخت پابندیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ آج 5 اگست کے موقع پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) نے ایک احتجاج کا اہتمام کیا تھا، مگر پارٹی رہنما حاجی غلام محی الدین کو ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت سے روکنے کیلئے گھر سے باہر نکلنے ہی نہیں دیا گیا۔ سوچیں وہ جماعتیں جو بھارتی آئین کو ہی تسلیم نہیں کرتے یا اس سے ہٹ کر موقف رکھتے ہیں، وہ کس جبر کا سامنا کرتے ہونگے۔
Shabbir Dar18,980 просмотров • 4 дней назад

جب ہم نے کہا جموں اور لداخ ریجن کے لوگ خود کو کشمیری نہیں سمجھتے، یہ صرف وادی کے لوگوں کو کشمیری سمجھتے ہیں تو کچھ دوستوں کو اعتراض ہوا کیونکہ آزاد کشمیر کے کچھ علاقے جموں ریجن میں شامل ہیں، ڈاکٹر کرن سنگھ مہاراجہ ہری سنگھ کی اکلوتی اولاد ہے، جموں و کشمیر کے شاہی حکمران خاندان کے واحد چشم و چراغ ہیں خود کو اب بھی ریاست کا اعزازی مہاراجہ سمجھتے ہیں، ان کا خاندان ڈوگرہ راجپوت "جموال" قبیلے سے ہے، کہتے ہیں مجھے کشمیری نہ کہیں کیونکہ میں ڈوگرہ ہوں، ریاست کا نام اسی لئے جموں اینڈ کشمیر ہے۔
Shabbir Dar52,381 просмотров • 28 дней назад

آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، بیرونی فنڈنگ وغیرہ کہنے سے بہتر ہے ان سے بات کی جائے، کشمیر ایک نازک مسلہ ہے بھارت چاہتا ہے اس علاقے میں انتشار پھیلے، مہاجرین کی نشستوں کو مخصوص نشستوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کی راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو۔
Shabbir Dar94,722 просмотров • 2 месяцев назад

کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کا ڈیم بھرنے کا ڈیٹا واضح طور پر بتا رہا ہے بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی کی SOP's کی خلاف ورزی کرکے ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی ذخیرہ کرکے پاکستان کی طرف چھوڑا اور ڈیم بھرنے کا ڈیٹا پاکستان سے شیئر نہیں کیا، ماہرین کے مطابق یہ عمل ایکٹ آف وار ہے۔
Shabbir Dar288,521 просмотров • 11 месяцев назад

کالعدم @JAAC__Official کے کور ممبر سردار امان خان نے راولاکوٹ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے، میں عالمی میڈیا کی موجودگی میں دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کشمیریوں کے ہاتھ میں بندوق پاکستانی فوج نے دی تھی۔ اب ان کو لگتا ہے آزاد کشمیر سے ان کی چھٹی کا وقت ہوگیا ہے، اگر عزت اور اصولوں کی بنیاد پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کریں۔
Shabbir Dar37,558 просмотров • 1 месяц назад

کتنی بڑی ذلیل حرکت ہے۔۔۔6th روڈ کے علاقے میں جسمانی طور پر معذور علی بھائی موبائل کی دکان کرکے اپنی فیملی کیلئے رزق کماتا ہے،ایک شخص خود کو فوجی افسر ظاہر کرکے معذور شخص سے قیمتی موبائل لے اڑا،ویسے راولپنڈی میں جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہRawalpindi Police کی کارکردگی پر سوال ہے۔
Shabbir Dar248,210 просмотров • 1 год назад

میرے بیٹے نے بھی بسنت منائی اور میں نے خود بھی پتنگ اڑائی، علیمہ خان کی تصدیق
Shabbir Dar88,261 просмотров • 6 месяцев назад

سابق امریکی صدر President Obama کہتے ہیں، میں Narendra Modi کو اچھی طرح جانتا ہوں، اگر بھارت میں نسلی اور مذہبی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا جاتا، تو اس بات کا شدید امکان ہے کہ کسی مرحلے پر بھارت اندرونی طور پر تقسیم اور انتشار کا شکار ہو جائے، جب کسی ملک میں اس نوعیت کے بڑے اندرونی تنازعات جنم لیتے ہیں تو ان کے نتائج انتہائی سنگین ہوتے ہیں، اسلئے یہ صرف بھارتی مسلمانوں کے ہی نہیں بلکہ بھارتی ہندوؤں کے مفاد میں بھی ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے، ان معاملات پر دیانت داری اور کھلے دل سے بات کرنا بہت ضروری ہے۔
Shabbir Dar17,604 просмотров • 28 дней назад

دلچسپ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی کے حلقہ PP-19 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی تنویر اسلم راجہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ مہاجرِ کشمیری نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کے پاس آزاد کشمیر اور پاکستان، دونوں کی شہریت موجود ہے، پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خود بتایا کہ ان کا ووٹ پنجاب میں بھی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی، وہ پنجاب سے الیکشن لڑ کر رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اگر آزاد کشمیر کا ایک رہائشی پاکستان میں ووٹ ڈال سکتا ہے، الیکشن لڑ سکتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے، جس پر پنجاب کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ نوٹ: تنویر اسلم راجہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا مسلہ ووٹ کا نہیں بلکہ ووٹوں کے کم تناسب پر پاکستان سے منتخب ہوکر آزاد کشمیر اسمبلی کا ممبر منتخب ہونا ہے، پنجاب کی کوئی نشست آزاد کشمیر میں نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی کسی نشست پر پاکستان میں کیسے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔
Shabbir Dar21,505 просмотров • 1 месяц назад

چلیں انگریزی چھوڑ دیتے ہیں شاید Awami Action Committe کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل حلف برداری سے متعلق مطالبہ ہم نہیں سمجھے ہونگے، یہ سنیں اور ہمیں بھی سمجھائیں موصوف کیا کہنا چاہ رہے ہیں جبکہ ان سے بار بار پوچھا جارہا ہے ایک چیز جو پہلے سے موجود ہے اسکو تبدیل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ موصوف آخر میں کہتے ہیں ہم اسے renew کرنا چاہتے ہیں، بھائی ریاست سے حلف کی بات ہورہی ہے کوئی ڈرائیونگ لائسنس یا پاسپورٹ تھوڑی ہے جسے renew کیا جائے۔ جن لوگوں نے اس حلف نامے کو تحریر کرکے آزاد کشمیر کے آئین اور الیکشن ایکٹ میں شامل کیا ٹھا کیا وہ اندھے یا آپ سے کم عقل تھے، دوسری بات مذاکرات میں شامل لوگوں کا کہنا ہے یہ مطالبہ حلف نامے میں اضافے کیلئے نہیں تھا بلکہ پہلے سے موجود حلف نامے میں ترمیم کی ڈیمانڈ تھی۔
Shabbir Dar28,016 просмотров • 1 месяц назад

مطیع اللہ جان پاکستان کے نامور اور منجھے ہوئے صحافی ہیں جبکہ پروفیسر Tahir Naeem Malik ہم سب کے قابل احترام استاد ہیں۔ دونوں معزز دوستوں نے میری ایک تحریر کو زیرِ بحث لایا ہے، جس پر چند وضاحتیں ضروری ہیں۔ چند روز قبل میں نے "باریک واردات" کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جس میں آزاد کشمیر کے ممبران اسمبلی کے حلف سے متعلق بعض نکات اٹھائے گئے تھے، اس تحریر کا پس منظر یہ تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ ممبران اسمبلی کے حلف میں ترمیم کی جائے اور ریاست جموں و کشمیر کی جغرافیائی وحدت سے وفاداری کی شق بھی اس میں شامل کی جائے۔ مطیع اللہ جان صاحب نے یا تو میری تحریر کو پوری توجہ سے نہیں پڑھا، یا پھر اس کی ایسی تشریح کی ہے جو میرے موقف کی درست عکاسی نہیں کرتی، سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ میں نے اپنی تحریر میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی ممبران اسمبلی کا حلف تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے بلکہ میں نے ہر جگہ لفظ "ترمیم" استعمال کیا ہے، ترمیم کا مطلب کسی موجودہ دستاویز میں اضافہ یا کمی کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اسے مکمل طور پر ختم کر دینا۔ لہٰذا میں نے ہرگز یہ الزام عائد نہیں کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی پاکستان سے وفاداری کی شق کو ختم کروانا چاہتی ہے، میری تحریر میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ کمیٹی موجودہ حلف میں اپنی سوچ اور منشا کے مطابق ایک نئی شق کا اضافہ چاہتی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنما مختلف انٹرویوز میں اس مطالبے کا برملا اعتراف بھی کر چکے ہیں لیکن اس شق کو مطالبے میں شامل کرنے کا کوئی واضع جواب نہیں دے پائے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر اس مطالبے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ممبران اسمبلی کے حلف میں ترمیم اور مہاجرین کی بارہ نشستوں سے متعلق مطالبات کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ یہ بیانیہ کس نے تشکیل دیا اور اسے مسلسل آگے بڑھانے والے عناصر کون تھے؟ فیس بک پر میری آج کی پوسٹ انہی سوالات پر مشتمل ہے، اور میرا خیال ہے ان سوالات کے واضح اور دوٹوک جوابات سامنے آنا ضروری ہیں تاکہ حقائق اور قیاس آرائیوں میں فرق کیا جا سکے، میں نے باریک واردات کے عنوان سے تحریر میں بھی آخر پر یہ سوال چھوڑا تھا کہ قیادت کی طرف سے اس مطالبے کی وضاحت ضروری آنی چاہیئے۔
Shabbir Dar24,394 просмотров • 1 месяц назад

یہ دو سال پرانی پریس کانفرنس ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سابق سی پی او Rawalpindi Police شہزاد ندیم بخاری نے واشگاف الفاظ میں بتایا غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹی بلیو ورلڈ سٹی نے کرائے کے militant گروپس کو پناہ دے رکھی ہے اور PMLN نے گزشتہ سال اسی سوسائٹی کے مالک کو ٹکٹ دیکر پنجاب اسمبلی پہنچایا۔
Shabbir Dar98,675 просмотров • 9 месяцев назад

طاہرہ توقیر گیلانی، توقیر گیلانی کی اہلیہ ہیں، توقیر گیلانی آزاد کشمیر میں خودمختار کشمیر کے بیانیے کے سب سے بڑے علمبرداروں میں شمار ہوتے ہیں، پاکستان اور اسکے اداروں کے خلاف ان کے سخت گیر موقف کے باعث انہیں 2020 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) سے نکال دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے اپنا الگ دھڑا قائم کر لیا، اسی گروپ میں بعد ازاں سردار امان خان بھی شامل ہوئے، جو آج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی قیادت کر رہے ہیں، طاہرہ توقیر گیلانی بھی اسی گروپ کی سرگرم رکن ہیں۔ توقیر گیلانی خود تو امریکہ کا ویزا حاصل کرکے وہاں مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں، لیکن ان کے قائم کردہ گروپ کا ایک سرکردہ رہنما سردار امان خان آج JAAC کی قیادت کر رہا ہے، جبکہ اسی گروپ کی سرگرم رکن اور توقیر گیلانی کی اہلیہ طاہرہ توقیر گیلانی، JAAC کے حوالے سے بالکل مختلف اور متضاد مؤقف رکھتی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گروپ ایک ہے، مقصد ایک ہے اور قیادت بھی ایک ہی سوچ سے نکلی ہے، تو پھر JAAC کے بارے میں دو متضاد بیانیے کیوں؟ اصل موقف کون سا ہے؟ سردار امان خان والا یا طاہرہ توقیر گیلانی والا؟ اس معمے کی وضاحت تو توقیر گیلانی صاحب ہی کر سکتے ہیں جو آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ہماری ہر رائے اور تبصرے کو سہولت کاری سے تعبیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ اس متضاد موقف کے حوالے سے ہمارے پاس جو معلومات ہیں شاید ہم چاہ کر بھی بیان نہیں کرسکتے، کیونکہ آزاد کشمیر کے بعض خودساختہ دانشور فوری تعصب اور سہولت کاری کی اسناد بانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔
Shabbir Dar13,527 просмотров • 1 месяц назад

وزیراعلٰی سہیل آفریدی نے جب کہا کہ خیبرپختونخواہ کابینہ نے بجٹ پیپر پاس کیا ہے تو علیمہ خان نے سہیل آفریدی کو ٹوکتے ہوئے کہا آپ بجٹ کیوں پاس کررہے ہیں، عمران خان نے گزشتہ سال بھی کہا تھا مجھ سے بجٹ ڈسکس کرو، ان سے کہیں میری ملاقات کرائیں پھر بجٹ پاس کریں۔
Shabbir Dar23,975 просмотров • 2 месяцев назад