
Shabbir Dar
@ShabbirDar5 • 9,979 subscribers
Journalist @geonews_urdu @thenews_intl @jangh_akhbar Tweets are personal. https://t.co/t30ug7HGbe https://t.co/bBdZJJMH3M
Shorts
Videos

یہ وہی پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر ہیں جن کے خلاف 2018 میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سو موٹو نوٹس لیکر پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ بند کروا دیا تھا، عدالت نے ہسپتال کو بند کرنے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ہسپتال پر 25 سے 30 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن اسے آپریشنل نہیں کیا گیا اور ڈاکٹروں کو بھاری تنخواہیں دی جارہی ہیں، جو قومی خزانے پر بوجھ ہے، جبکہ بعد میں ہسپتال بند کرنے کی سیاسی وجہ بھی سامنے آئی تھی کیونکہ یہ ہسپتال سابق وزیراعلٰی پنجاب Shehbaz Sharif کی حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ تھا، PMLN نے ثاقب ثاقب نثار پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اس منصوبے کو بدنام کرنے اور ن لیگ کو سیاسی نقصان پہنچانے کے لیے اسے نشانہ بنایا، ثاقب نثار کی جانب سے PKLI کے خلاف سو موٹو نوٹس کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سمیت دیگر میڈیکل ایسوسی ایشنز اور عالمی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر پاکستان کے مایہ ناز یورولوجسٹ (ماہرِ امراضِ گردہ و مثانہ) اور ٹرانسپلانٹ سرجن ہیں، پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (PKLI) کے بانی اور بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہیں، آپ نے امریکہ سے یورالوجی اور پیوند کاری (Transplant) کی اعلیٰ تربیت حاصل کی۔ وہ امریکن بورڈ آف یورالوجی کے ڈپلومیٹ اور ییل یونیورسٹی سے (MPH) کیا ہوا ہے، انہوں نے لاہور کے بعد اب راولپنڈی کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ کو بھی فعال کردیا ہے، اور یہاں سے دو لیور جبکہ ایک کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں، جسے ماہرین صحت بڑا سنگ میل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس علاج کیلئے لوگوں کو چند سال قبل انڈیا یا پھر کسی دوسرے ملک جانا پڑتا تھا، اچھی بات یہ ہے کہ PKLI راولپنڈی سے جو تین ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں وہ بلکل مفت کئے گئے ہیں اور تینوں ٹرانسپلانٹس پر تقریبا ڈیڑھ کروڈ روپیہ اخراجات آئے ہیں، پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر کے مطابق راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی کو PKLI کے سپرد کرنے سے ایک تاثر ابھرا ہے کہ شاید سرکاری ہسپتال کو نجی شعبے کو منتقل کردیا گیا ہے جو درست بات نہیں، یہاں جو ادائیگی کرسکتا ہے اسکا بھی علاج ہوتا ہے جو نہیں کرسکتا اسکا بھی علاج ہوتا ہے، لیکن مریض کی باقاعدہ تشخیص، اسکریننگ اور استطاعت دیکھی جاتی ہے، ادارہ عطیات پر چلتا ہے، وزیراعلٰی پنجاب Maryam Nawaz Sharif ٹرانسپلاٹ فنڈ سے بھی مستحق افراد کا علاج کیا جاتا ہے، پروفیسر سعید اختر کا کہنا تھا راولپنڈی میں PKLI کو فعال کرنے میں کافی وقت لگا لیکن یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اسے شمالی پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخواہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی عوام مستفید ہوگی، علاج میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی.
Shabbir Dar20,768 次观看 • 4 天前

راولپنڈی کے علاقہ ویسٹریج کی رہائشی حنا جاوید نو ماہ قبل راولپنڈی کے ہی علاقہ لال کرتی میں بیاہی گئی، شوہر فیصل اصغر پروفیسر ہے، نامور یونیورسٹیز میں پڑھاتا رہا ہے، سسر ریٹارئرڈ فوجی افسر ہے، پروفیسر صاحب کی دوسری شادی تھی، پہلی بیوی بھی گھریلو تشدد کے باعث طلاق لے چکی ہے، پروفیسر صاحب نے گزشتہ روز گھریلو ملازم اور والد کے ساتھ مل کر حنا کو پہلے زہر دیا پھر سفاکانہ طریقے سے قتل کیا، زہر اس لئے دیا گیا تاکہ قتل کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوشش کی جاسکے، قانون کی مجبوری دیکھیں Rawalpindi Police نے مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو تو گرفتار کرلیا لیکن اسکے سسر کو گرفتار کرنے سے تاحال قاصر ہے۔
Shabbir Dar122,109 次观看 • 1 个月前

بحریہ ٹاون فیز 7 میں واقع #WestMinisterSchool میں کل دو سے تین گھنٹے گزار کے آیا، اسکول میں 5 سالہ بچی سے مبینہ ہراسانی کے واقعہ پر اسکول انتظامیہ نے تمام والدین کو میٹنگ کیلئے بلایا تھا، اسکول انتظامیہ نے مخصوص بلاک کی CCTV فوٹیج دکھانے کا انتظام کیا تھا لیکن متاثرہ بچی کے والدین نے اعتراض کیا اور ساری فوٹیج کو Publicly دکھانے سے منع کیا، والدین کا موقف تھا یہ فوٹیج وہ انفرادی طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، اسکول انتظامیہ اور موقع پر موجود والدین نے متاثرہ بچی کے والدین سے اتفاق کیا، جبکہ اسکول انتظامیہ کو موقف تھا فوٹیج میں کوئی قابل اعتراض مواد نہیں، خیر متاثرہ بچی کے والدین کو فوٹیج دکھانے کیلئے الگ انتظام کیا گیا، میٹنگ کے دوران اسکول انتظامیہ نے والدین کو بریفنگ دی اور اب تک کی انکوائری سے متعلق آگاہ کیا، والدین اسکول انتظامیہ کی بریفنگ سے مطمئن نہیں ہوئے، بلکہ متاثرہ بچی کی والدہ نے اسٹیج پر جاکر اسکول انتظامیہ کے رویہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکول انتظامیہ والدین کو آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بتارہے ہیں، میٹنگ کے بعد والدین اور کچھ بچوں سے بات ہوئی سب کا اتفاق تھا کہ اسکول انتظامیہ ضرور کچھ چھپا رہی ہے، اسکول انتظامیہ کے ایک افسر سے بھی بات ہوئی انکے مطابق اسکول میں ایسا کوئی وقوعہ پیش ہی نہیں آیا ہے یہ سب اسکول کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، تقریبا تمام والدین پریشان تھے اور اس واقعہ کی شفاف انکوائری تک بچوں کو اسکول بھیجنے کیلئے راضی نہیں تھے، کچھ والدین کا کہنا تھا یہ صورتحال انکے لئے مسلسل پریشانی کا باعث بن رہی ہے، اسکول انتظامیہ کی بریفنگ سے غیر مطمئن ہوکر اب والدین نے 20 رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں اسکول انتظامیہ کا کوئی بندہ شامل نہیں ہوگا، یہ کمیٹی اپنے طور اس معاملے کی تحقیقات کرائے گا، اسکول انتظامیہ کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرنا پڑا تو وہ بھی کیا جائے گا، متاثرہ بچی کے والدین فی الحال میڈیا سے دور رہنا چاہتے ہیں اور قانونی کاروائی کیلئے بھی سوچ بچار کررہے ہیں، کچھ دوستوں کے بچے یہاں پڑھتے ہیں انہوں نے بتایا معاملہ serious ہے، والدین بچوں کو اب اس اسکول میں نہیں بھیجنا چاہتے۔
Shabbir Dar44,569 次观看 • 13 天前

بحریہ فیز 7 میں واقع #WestMinisterSchool میں مبینہ ہراسانی کا شکار ہونے والی 5 سالہ بچی کی والدہ کو سنیں، کل اسکول انتظامیہ نے والدین کو میٹنگ کیلئے بلایا تھا، متاثرہ بچی کی والدہ کے مطابق اسکول انتظامیہ جھوٹ بول رہی ہے، کوئی ٹھوس کاروائی کے بجائے الٹا ہم پر ہی الزام لگا رہے ہیں۔
Shabbir Dar32,117 次观看 • 13 天前

میر واعظ عمر فاروق نے گزشتہ روز سرینگر کی جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عوامی تحریک اپنی اخلاقی برتری اسی وقت برقرار رکھ سکتی ہے جب وہ تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ایک طبقے کے حقوق کی بات کرتے ہوئے دوسرے طبقے کے آئینی اور جمہوری حقوق کو نظر انداز یا فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لہٰذا ان کی آئینی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لیے مساوات، انصاف اور باہمی احترام ناگزیر ہیں، اس لیے تمام فریقین کو مل بیٹھ کر ایسا درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ میر واعظ نے کہا کہ آزاد کشمیر ہو یا مقبوضہ کشمیر، ہم ریاست جموں و کشمیر کے ہر متاثرہ فرد کی بات کرتے ہیں۔ ریاست کے ہر علاقے کے باشندوں کے حقوق کی نمائندگی کرنا ضروری ہے، کیونکہ ہماری جدوجہد اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ہم ریاست کے تمام علاقوں کے لوگوں کے حقوق کی بات کریں اور انہیں اپنے دائرۂ جدوجہد میں شامل کریں۔ انہوں نے آر پار امن و امان، اتحاد اور اتفاق کیلئے دعا کی، اور امید ظاہر کی کہ تمام مسائل تشدد اور تصادم کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔ نوٹ: خطاب کشمیری زبان میں ہے۔
Shabbir Dar57,104 次观看 • 1 个月前

آزاد کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق پالیسی کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے، بیرونی فنڈنگ وغیرہ کہنے سے بہتر ہے ان سے بات کی جائے، کشمیر ایک نازک مسلہ ہے بھارت چاہتا ہے اس علاقے میں انتشار پھیلے، مہاجرین کی نشستوں کو مخصوص نشستوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے، گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان کی راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو۔
Shabbir Dar94,722 次观看 • 3 个月前

کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کا ڈیم بھرنے کا ڈیٹا واضح طور پر بتا رہا ہے بھارت نے انڈس واٹر ٹریٹی کی SOP's کی خلاف ورزی کرکے ڈیموں میں گنجائش سے زائد پانی ذخیرہ کرکے پاکستان کی طرف چھوڑا اور ڈیم بھرنے کا ڈیٹا پاکستان سے شیئر نہیں کیا، ماہرین کے مطابق یہ عمل ایکٹ آف وار ہے۔
Shabbir Dar288,521 次观看 • 1 年前

جب ہم نے کہا جموں اور لداخ ریجن کے لوگ خود کو کشمیری نہیں سمجھتے، یہ صرف وادی کے لوگوں کو کشمیری سمجھتے ہیں تو کچھ دوستوں کو اعتراض ہوا کیونکہ آزاد کشمیر کے کچھ علاقے جموں ریجن میں شامل ہیں، ڈاکٹر کرن سنگھ مہاراجہ ہری سنگھ کی اکلوتی اولاد ہے، جموں و کشمیر کے شاہی حکمران خاندان کے واحد چشم و چراغ ہیں خود کو اب بھی ریاست کا اعزازی مہاراجہ سمجھتے ہیں، ان کا خاندان ڈوگرہ راجپوت "جموال" قبیلے سے ہے، کہتے ہیں مجھے کشمیری نہ کہیں کیونکہ میں ڈوگرہ ہوں، ریاست کا نام اسی لئے جموں اینڈ کشمیر ہے۔
Shabbir Dar52,451 次观看 • 2 个月前

کتنی بڑی ذلیل حرکت ہے۔۔۔6th روڈ کے علاقے میں جسمانی طور پر معذور علی بھائی موبائل کی دکان کرکے اپنی فیملی کیلئے رزق کماتا ہے،ایک شخص خود کو فوجی افسر ظاہر کرکے معذور شخص سے قیمتی موبائل لے اڑا،ویسے راولپنڈی میں جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہRawalpindi Police کی کارکردگی پر سوال ہے۔
Shabbir Dar248,210 次观看 • 1 年前

کالعدم Awami Action Committee کے کور ممبر سردار امان خان نے راولاکوٹ دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے، میں عالمی میڈیا کی موجودگی میں دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ کشمیریوں کے ہاتھ میں بندوق پاکستانی فوج نے دی تھی۔ اب ان کو لگتا ہے آزاد کشمیر سے ان کی چھٹی کا وقت ہوگیا ہے، اگر عزت اور اصولوں کی بنیاد پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کریں۔
Shabbir Dar37,606 次观看 • 2 个月前

یہ بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کی زمینی حقیقت ہے۔ جو سیاست دان بھارتی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے مطالبات پیش کرتے ہیں، وہ بھی کئی مواقع پر سخت پابندیوں کا سامنا کرتے ہیں۔ آج 5 اگست کے موقع پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP) نے ایک احتجاج کا اہتمام کیا تھا، مگر پارٹی رہنما حاجی غلام محی الدین کو ریاستی حیثیت کی بحالی کے حق میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت سے روکنے کیلئے گھر سے باہر نکلنے ہی نہیں دیا گیا۔ سوچیں وہ جماعتیں جو بھارتی آئین کو ہی تسلیم نہیں کرتے یا اس سے ہٹ کر موقف رکھتے ہیں، وہ کس جبر کا سامنا کرتے ہونگے۔
Shabbir Dar19,159 次观看 • 1 个月前
