Syed Kousar Kazmi's banner
Syed Kousar Kazmi's profile picture

Syed Kousar Kazmi

@SyedKousarKazmi89,226 subscribers

Official Spokesperson to Chief Minister Punjab.

Shorts

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر ارمچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئیں، جہاں چینی حکام نے پنجاب کے وفد کا پرجوش استقبال کیا۔ دورے کے پہلے روز وزیراعلیٰ شِن جِیانگ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں مختلف اعلیٰ سطح کی میٹنگز میں شرکت کریں گی۔ ان ملاقاتوں میں صوبہ شِن جِیانگ کے پارٹی سیکرٹری، اویغور خودمختار علاقائی کمیٹی کے ڈپٹی سیکرٹری اور شِن جِیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کارپ (XPCC) کے وفد شامل ہوں گے۔ دورے کے سلسلے میں چینی حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر ارمچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچ گئیں، جہاں چینی حکام نے پنجاب کے وفد کا پرجوش استقبال کیا۔ دورے کے پہلے روز وزیراعلیٰ شِن جِیانگ اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں مختلف اعلیٰ سطح کی میٹنگز میں شرکت کریں گی۔ ان ملاقاتوں میں صوبہ شِن جِیانگ کے پارٹی سیکرٹری، اویغور خودمختار علاقائی کمیٹی کے ڈپٹی سیکرٹری اور شِن جِیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کارپ (XPCC) کے وفد شامل ہوں گے۔ دورے کے سلسلے میں چینی حکام کی جانب سے وزیراعلیٰ اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا جائے گا۔

45,017 görüntüleme

مظفر آباد جلسہ شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے مسلسل برستی بارش میں سینئر منسٹر پنجاب مریم اورنگزیب صاحبہ جلسہ گاہ میں عوام کیساتھ موجود رہیں اور عوامی اجتماع کا جو ماحول ہونا چائیے وہ بنائے رکھا 👏👏👏

مظفر آباد جلسہ شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے مسلسل برستی بارش میں سینئر منسٹر پنجاب مریم اورنگزیب صاحبہ جلسہ گاہ میں عوام کیساتھ موجود رہیں اور عوامی اجتماع کا جو ماحول ہونا چائیے وہ بنائے رکھا 👏👏👏

74,179 görüntüleme

لندن ۔ صحافی آپس میں اُلجھ پڑے ، نائب وزیر اعظم Ishaq Dar صاحب کا بات کرنے سے انکار اور مفید مشورہ - آپ پاکستان کے سفیر ہیں ایسا رویہ اختیار نہ کریں-

لندن ۔ صحافی آپس میں اُلجھ پڑے ، نائب وزیر اعظم Ishaq Dar صاحب کا بات کرنے سے انکار اور مفید مشورہ - آپ پاکستان کے سفیر ہیں ایسا رویہ اختیار نہ کریں-

64,410 görüntüleme

غور سے نہ بھی سنیں تُو بھی صاف سنائی دیتا ہے - بھائی آپکا کیا نام ہے ؟ جواب ، انتظار حسین - لیکن اندرونی و بیرونی دشمنان پاکستان کو یہ سنائی نہیں دے رہا کیونکہ ان حرام کے تخموں کو ریاست پاکستان کو بدنام کرنے کا بہانہ درکار ہے

غور سے نہ بھی سنیں تُو بھی صاف سنائی دیتا ہے - بھائی آپکا کیا نام ہے ؟ جواب ، انتظار حسین - لیکن اندرونی و بیرونی دشمنان پاکستان کو یہ سنائی نہیں دے رہا کیونکہ ان حرام کے تخموں کو ریاست پاکستان کو بدنام کرنے کا بہانہ درکار ہے

86,324 görüntüleme

Videos

SyedKousarKazmi's profile picture

موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج اور پنجاب کی منصوبہ بندی: شہری سیلاب کے مستقل خاتمے کی طرف تاریخی پیش رفت مون سون کے دوسرے اسپیل نے پنجاب کے متعدد اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں گوجرانوالہ میں صوبے کی سب سے زیادہ 250 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، سیالکوٹ میں 94، جہلم میں 81، لاہور اور گجرات میں 48، 48، منڈی بہاؤالدین اور اٹک میں 37، 37، نارووال میں 34 اور چکوال میں 26 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ملتان اور فیصل آباد کو شہری سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ رکھا ہوا ہے۔ یہ محض موسمی تغیر نہیں۔ یہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کا وہ عملی مظہر ہے جس کا سامنا آج پوری دنیا کو ہے۔ کلاؤڈ برسٹ اور مختصر وقت میں غیر معمولی شدت کی بارش اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ پرانے شہری نکاسی آب کے نظام ایسی شدت کے لیے کبھی ڈیزائن ہی نہیں کیے گئے تھے۔ فوری ردعمل: ہفتوں کا کام گھنٹوں میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر پورے صوبے میں نکاسی آب کا آپریشن بارش تھمتے ہی شروع کر دیا گیا۔ اکتالیس اضلاع میں واسا کے قیام اور ایک ہزار سے زائد مشینری کی موجودگی نے شدید بارشوں کے باوجود بارشی پانی کی تیز رفتار نکاسی کو ممکن بنایا۔ لاہور کے لکشمی چوک، جہاں پانی کئی روز کھڑا رہتا تھا، صرف نوے منٹ میں صاف کر دیا گیا، جبکہ گجرات شہر سے بارشی پانی تین گھنٹوں میں نکال دیا گیا۔ گوجرانوالہ میں ریکارڈ 250 ملی میٹر بارش کے پانی کی نکاسی مکمل کی گئی۔ بہتر مشینری اور منظم منصوبہ بندی کے باعث بارشی پانی کی نکاسی کا دورانیہ ماضی کے اڑتالیس گھنٹوں سے کم ہو کر دو سے ڈھائی گھنٹے رہ گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے: "زخم لگنے کے بعد مرہم رکھنا کوئی کارنامہ نہیں، اصل حکمرانی زخم کو لگنے سے پہلے روکنے کا نام ہے۔" بنیادی حل: تاریخ کا سب سے بڑا شہری نکاسی آب پروگرام فوری ریلیف اپنی جگہ، مگر مستقل حل انفراسٹرکچر میں ہے۔ یہ وہ خلا تھا جسے ماضی میں مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پہلی بار ایک لاکھ سے زائد آبادی والے 189 شہروں کے لیے جامع سیوریج، ڈرینج اور اسٹارم واٹر مینجمنٹ منصوبہ منظور کیا گیا۔ اس پر تین سو ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ منصوبے پر کام گزشتہ مالی سال میں شروع ہو چکا ہے اور آئندہ دو برسوں میں مزید دو سو ارب روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے، جس کے بعد اسٹارم واٹر ڈرینز اور نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا۔ منصوبے کے نمایاں اجزاء درج ذیل ہیں: چھ ہزار کلومیٹر سے زائد سیوریج لائنیں اور 189 کلومیٹر اسٹارم واٹر ڈرینز کی تعمیر تراسی ڈسپوزل اسٹیشنز کی تعمیر، اکسٹھ موجودہ ڈسپوزل اسٹیشنز کی بحالی اور چھپن نئے ڈسپوزل اسٹیشنز کا قیام پانی اور سیوریج کی فوری نکاسی کے لیے 358 زیرزمین اسٹوریج ٹینکس کا نیٹ ورک، جن میں شہروں کے لیے 34 بڑے زیرزمین اسٹوریج ٹینکس شامل ہیں ایچ ڈی پی پائپ لائنوں کی تنصیب، جن کی متوقع عمر ایک سو سال ہے صوبے بھر میں 328 ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا قیام صاف پانی اور سیوریج کی لائنیں مناسب فاصلے پر الگ الگ بچھانا تاکہ آلودگی کا امکان ختم ہو 517 ارب روپے کے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام نے صوبے میں متوازن ترقی کا نیا باب کھولا ہے۔ بارشوں میں ڈوبنے والے شہر جلد ماضی کا قصہ بن جائیں گے۔ موسمیاتی موافقت اور زیرزمین پانی کی بحالی یہ منصوبہ صرف پانی نکالنے کا نہیں، پانی بچانے کا بھی ہے۔ یہی موسمیاتی موافقت اور تخفیف کی حکمت عملی کا اصل جوہر ہے۔ زیرزمین اسٹوریج ٹینکس کے ساتھ ری چارج ویلز تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ بارش کا پانی ضائع ہونے کے بجائے زیرزمین آبی ذخائر میں واپس جائے۔ صوبے بھر میں ایک ہزار ری چارج ویلز کی تعمیر کا منصوبہ ہے، جو شہروں کے ساتھ ساتھ زرعی رقبوں اور منتخب علاقوں میں بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ذخیرہ شدہ بارشی پانی آبپاشی اور دیگر مقاصد کے لیے دوبارہ استعمال میں لایا جائے گا۔ اس اقدام کی ضرورت اعداد و شمار سے واضح ہے۔ لاہور کا واٹر ٹیبل سالانہ چار فٹ تک نیچے جا رہا ہے، گلبرگ میں پانی کی گہرائی 125 فٹ سے بڑھ کر 300 فٹ سے زائد ہو چکی ہے، اور بعض علاقوں میں پینے کا پانی 800 فٹ کی گہرائی پر ملتا ہے۔ بارش کا پانی نالوں میں بہا دینا اب عیاشی نہیں، نقصان ہے۔ ادارہ جاتی تیاری پنجاب کلائمیٹ اینڈ ڈیزاسٹر ریزیلینس پلان 2026 کے تحت وفاق اور پنجاب کے درمیان شدید موسمی واقعات کی پیشگی وارننگ اور کم از کم چھ گھنٹے قبل باہمی رابطے پر اتفاق ہوا ہے۔ مون سون سے قبل صوبے بھر میں نالوں اور آبی گزرگاہوں کی بڑے پیمانے پر صفائی مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نکاسی آب کی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری

Syed Kousar Kazmi

48,632 görüntüleme • 1 ay önce