
Syed M Mehdi
@SyedMMehdi • 7,834 subscribers
لبیک یا حسین علیہ السلام Farmer l Cricket l Capricorn l
Shorts
Videos

کیا آپ جانتے ہیں جنگ سے متاثر ایرانی شہری اس وقت کہاں ہیں؟ جنگ کے 50 دن گزرنے کے باوجود آپ نے ایران میں کسی عالمی ادارے کے خیمے یا پناہ گزین کیمپ کیوں نہیں دیکھے؟ حقیقت یہ ہے کہ صہیونی اور امریکی جارحیت کے باعث کئی گھر تباہ ہوئے، مگر متاثرہ خاندانوں کو فوری طور پر حکومت نے شہروں کے معیاری ہوٹلوں اور سرکاری رہائش گاہوں میں منتقل کر دیا۔ ایرانی حکومت نے متاثرین کی عزتِ نفس کا خیال رکھتے ہوئے انہیں خیموں میں نہیں بلکہ مکمل سہولیات کے ساتھ باوقار رہائش فراہم کی ہے، جہاں وہ محفوظ اور پرسکون ماحول میں قیام پذیر ہیں۔
Syed M Mehdi88,711 次观看 • 2 个月前
0:41
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

علمائے اہل سنت سے ملاقات کے دوران ایک عرب کا خامنہ ائ علیہ رحمۃ سے اظہارِ محبت؛ مجھے کہا گیا کہ کیا تم ایرانی ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں، میں ایرانی ہوں، اور ہمیشہ جو کچھ میرے دل میں ہوتا ہے وہی میری زبان پر بھی آتا ہے۔ میں ایران کی شان و شوکت اور فخر کا باشندہ ہوں، اور ہمیشہ میدانِ جنگ کا مرد رہا ہوں۔ تم انہی میں سے ہو جو یہودیوں کے ہاتھ کاٹتے ہیں، اور یہودی تم ہی سے خوف کھاتے اور مر جاتے ہیں۔
Syed M Mehdi73,733 次观看 • 3 个月前
1:27
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

یہی وہ لوگ ہے جو محرم میں ماتمی جلوسوں عزاداری امام حسین علیہ السلام و سبیل امام حسین علیہ السلام پر اعتراض کرتے پھیرتے ہیں اور ماتمی جلوسوں کیلئے رکاوٹیں پیدا کرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ان کے کام انسان جب دیکھ لیں تو انسانیت ہی شرمسار ہو جاتی ہے معصوم کلیوں کیساتھ اس قدر نازیبا گھٹیا حرکتیں کرنے والا یہ بدبخت بد النسل انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ *بصیرپور/ کم عمر طالبات کے ساتھ نازیبا حرکات ۔۔۔۔ .یہ ہے قاری اسد جو دوران تدریس کم عمر بچیوں کے ساتھ نازیبا حرکات کر رہا ۔۔ اس کو عبر۔ت کا نشان بنایا جائے ۔ پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا ہے
Syed M Mehdi141,399 次观看 • 11 个月前

یہ ایک عراقی ہے، جب چہلم امام حسینؑ پہ آئے زائرین کو ٹھنڈی لسی پیش کی تو گاڑی میں بیٹھے شخص نے اسے کہا کہ گاڑی میں ایک اہل سنت بیٹھا ہے تو عراقی نے کہا میرے سر آنکھوں پہ، پھر کہا ہمارا نفس ہیں، سنی ہماری روح ہیں، پھر اس شخص نے بتایا یہ اہل سنت غزہ (فلسطین) سے ہے تو عراقی نے بھرپور استقبال کیا اور آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پہ بوسہ دیا۔ فلسطین میں ایک بھی شیعہ نہیں ہے مگر فلسطینیوں کی امداد سب سے زیادہ شیعوں نے کی اس بات کا ثبوت اہل غزہ کے انسٹا گرام پہ وجود ویڈیوز ہیں۔ اہل غزہ سے سب سے زیادہ محبت بھی شیعوں نے کی ہے۔ اگر یہی محبت دونوں طرف سے ہوجائے تو شائد ہمارا مشترکہ دشمن ایک دن بھی اس روئے زمین پہ باقی نہ رہ سکے۔ اسی لئے روح اللہ خمینی صاحب نے فرمایا تھا سنی شیعہ اسلام کے دو بازو ہیں، اور اسی وجہ سے سید علی سیستانی و سید علی خامنہ ای صاحب فرماتے ہیں کہ سنی ہمارے بھائی ہی نہیں ہماری جان ہیں
Syed M Mehdi94,554 次观看 • 9 个月前

علامہ طالب جوہری اعلی اللہ مقامہ کی سنہ 2005 میں پی ٹی وی پر پڑھی مجلس شام غریباں کا یہ مختصر حصہ سوشل میڈیا پر لاتعداد بار شئیر ہوتا رہا اور دیکھا گیا۔ اس مختصر ویڈیو کی خاصیت یہ ہے کہ آپ اسے بار بار بھی دیکھیں تو آپ کا دل نہیں بھرے گا۔ علامہ صاحب نے جس قدر خوبصورت اور مدلل انداز میں قرآن کے الفاظ کن فیکون کو اعلان غدیر کے الفاظ فھذا علی ع مولا سے مربوط کرکے استدلال قائم کیا ہے، اسے سن کر ہر بار بے اختیار داد دینے کا دل چاہتا ہے۔ البتہ اس مختصر ویڈیو میں موجود علمی استدلال کے علاوہ جس پہلو نے مجھے ہر بار متاثر کیا وہ علامہ صاحب انداز کلام، چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کی حرکت، سامعین کے ساتھ ان کی کیمسٹری اور باڈی لینگویج یعنی بدن بولی ہے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے ان کا پورا وجود اس "غدیری" نکتے کو بیان کرنے کیلئے ان کی زبان کے ساتھ مکمل synchronized ہے۔ علامہ صاحب جب درجہ بدرجہ آگے بڑھتے ہوئے، سامعین کے دماغوں کو منصف بنا کر سوال پوچھتے ہوئے اور "ف" کے حرف میں چھپا راز بیان کرتے ہوئے جب پنچ لائین تک پہنچتے ہیں تو سننے اور دیکھنے والا خود کو چشم تصور میں کسی ایسے عظیم ترین منظر کا منتظر پاتا یے جسے چودہ صدیاں قبل لاکھوں کے مجمعے نے دیکھا تھا۔ اگلے ہی لمحے علامہ صاحب کی آواز سنائی دیتی ہے کہ "بھئی یہی تو میرے نبی ص نے کہا تھا کہ من کنت مولا" اور پھر بغیر کسی وقفے اور فاصلے کے اگلا جملہ سنائی دیتا ہے "فھذا علی ع مولا"۔ سننے والے کے کانوں سے فھذا علی ع مولا کے الفاظ ٹکراتے ہیں اور آنکھیں علامہ صاحب کے ہاتھوں کا اشارہ دیکھتی ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے انسان کا وجود صدیوں کا فاصلہ ہونے کے باجود میدان غدیر سے متصل ہوگیا ہے۔ ۔ علامہ صاحب نے جو استدلال قائم کیا وہ ان کے علم کی دلیل تھا لیکن انہوں نے مجھ جیسوں کو چشم تصور میں میدان غدیر کا جو نظارہ دکھلایا، وہ ان کی بے مثل خطابت کا اور قادر الکلام ہونے کا اعلی ترین ثبوت تھا۔ عید غدیر کی ان با برکت ساعتوں میں علامہ طالب جوہری اعلی اللہ مقامہ کی یہ مختصر ویڈیو ان کے درجات میں مزید بلندی کی دعاوں کی درخواست کے ساتھ شئیر کر رہا ہوں۔ آپ اسے علامہ صاحب کی جانب سے مولائے کائنات علیہ السلام کے چاہنے والوں کیلئے عیدی بھی سمجھ سکتے ہیں۔ ۔ ۔#نوردرویش
Syed M Mehdi108,601 次观看 • 1 年前

جب ہم کہتے ہیں کہ international level پر شیعت کی نمائندگی .... تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے انٹرنیشنل میڈیا چینلز پر 'تشیّع کی نماز' دکھائی جا رہی ہے۔ اختلافات جس کو جتنے بھی ہیں وہ سب اپنی جگہ لیکن عالمی سطح پر شیعت کا چہرہ یہی ہے۔ اور بحیثیت ایک قوم کے ہمیں اس کو own اور appreciate کرنا ہوگا۔
Syed M Mehdi143,206 次观看 • 1 年前
1:00
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

ہمارے کیمیاء کے استاد ایک کہاوت اکثر استعمال کیا کرتے تھے جب کوئی بچّہ ایک ہی حرکت منع کرنے کے باوجود دوبارہ دہراتا تھا اور وہ کہاوت تھی ، "کتّے کی دُم ٹیڑھی کی ٹیڑھی پائپ میں ڈال کر بھی نکالو تو ٹیڑھی ہی رہتی ہے" ان مفتیوں کی بھی یہی حالت ہے۔ غالباً اسی مفتی کو یا یہ ساتھ بیٹھا تھا جب علامہ ضمیر اختر نقوی مرحوم نے اسی "رسولؐ پر جادو" والی بات پر ٹوک دیا تھا اور ان کی اصلاح فرمائی تھی۔ لیکن آج پھر وہی حرکت۔ کبھی رسولؐ پر جادو کا اثر لا رہے ہیں تو کبھی ہذیان، آج ساتھ ہی نماز بھی قضا کروا دی اِن صاحب نے۔ بہرحال قبلہ تقی مہدوی صاحب کی توفیقاتِ خیر میں اضافہ ہو جو اپنی طرف سے پوری کوشش کر ریے ہیں کہ برادران کو ان "توہین آمیز" عقائد سے بچا لیا جائے۔
Syed M Mehdi20,277 次观看 • 3 个月前

پاکستان کے طول و عرض میں سفر کے دوران ہمارا ذاتی مشاہدہ ہے کہ جب بھی ہم موٹر وے پر موجود مساجد ، ہائی وے پر موجود بڑے ہوٹلوں اور پٹرول پمپس کی مساجد اور دیگر عوامی مراکز میں ہاتھ کھول کر اور سجدہ گاہ رکھ کر نماز کی ادائیگی کر رہے ہوتے ہیں تو دائیں بائیں موجود دیگر مسالک کے نمازی ہمیں تعجب انگیز اور حیرت آمیز نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں۔ جب کبھی ہم بین المذاہب اور بین المسالک سرگرمیوں کے دوران کسی مدرسے کی مسجد یا کسی جامع مسجد (اہل سنت) میں نماز کی ادائیگی کرتے پائے جائیں تو مسجد و مدرسے کے طلباء و نمازی ہم پر نظریں جما کے بلکہ نظریں گاڑ کے رکھتے ہیں یہاں تک کہ ہم نماز تمام کر کے اٹھ نہ جائیں۔ اس سے زیادہ المیہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا سارے مقامات بالخصوص ناشناختہ مساجد میں شیعہ حضرات نماز کی ادائیگی سے اس لئے گریز کرتے ہیں کہ کہیں کوئی انتہاپسند ، تعصب زدہ ، فرقہ پرست ، تکفیری ذہنیت کا حامل یا منفی پروپیگنڈے کا شکار سادہ لوح جذباتی انسان یا گروہ شیعہ نمازی پر پل نہ پڑے اور مولوی کے بتائے ہوئے جہاد پر عمل پیرا نہ ہو جائے۔ اس صورتحال سے تقریباََ ہم سب آگاہ ہیں۔ لیکن دوسری طرف دیکھئیے ۔ یہ اسلام آباد میں موجود پاکستان کے سب سے بڑے شیعہ مرکز جامعتہ الکوثر کی جامع مسجد کا منظر ہے۔ تین محرم الحرام کی شام ہے۔ مجلس عزا کا آغاز ہو چکا ہے۔ شیعہ عزاداروں کے درمیان ایک اہل سنت بھائی سر پر خاص انداز سے رومال باندھ کر ، ٹخنوں سے شلوار بلند کر کے ، اپنے دونوں ہاتھ پیٹ پر باندھ کے ، بغیر سجدہ گاہ رکھے یعنی اپنے پورے انتظام کے ساتھ اور ارد گرد کے ماحول سے بے نیاز پورے انہماک سے نماز کی ادائیگی میں مصروف ہے۔ دائیں بائیں بیٹھے شیعہ عزادار حتی کہ شیعہ بچے بھی اس اہل سنت نمازی کی طرف نفرت انگیز نگاہوں سے تو درکنار محض تعجب انگیز نگاہوں سے بھی نہیں دیکھ رہے۔ اس ماحول کی تربیت آئمہ طاہرین اور شیعہ علماء و مرجعین نے دی ہے۔ یہ مناظر کربلا و نجف و مشہد و کاظمین سمیت آئے روز شیعہ مراکز میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ ویڈیو میں موجود اہل سنت بھائی نے نوافل سمیت نماز کی ادائیگی کے بعد نہ صرف علامہ شیخ انور علی نجفی کی ”مناجات“ کے موضوع پر مجلس سماعت کی بلکہ مصائب کے دوران گریہ بھی کیا۔ کاش ہمارے اہل سنت برادران کے زیرانتظام مساجد و مدارس اور دینی مراکز میں بھی اس طرح کا دوستانہ ، غیر متعصبانہ ، غیر جانبدارانہ اور غیر اجنبیانہ ماحول پیدا ہوجائے اور اپنے زیر اثر لوگوں کی اسی نہج پر تربیت ہو جائے جہاں کوئی بھی شیعہ مسلمان بلا خوف و جھجک اپنے طریقے سے اپنی عبادت انجام دے سکے تو پاکستان کے مذہبی ماحول کا منظر ہی کچھ اور ہو۔
Syed M Mehdi63,829 次观看 • 1 年前