اکرم راعی Akram Raee's banner
اکرم راعی Akram Raee's profile picture

اکرم راعی Akram Raee

@AkramRaee51,054 subscribers

Digital Media Journalist, YouTube 🔗 https://t.co/ncEgpVSmAF / Tweets+Opinions are merely personal. #RTs_Are_Not_Endorsement

Shorts

میں محترمہ حنا پرویز بٹ صاحبہ کو بکری اور چور کے القاب سے پکارنے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور اللہ کا بیحد شکر ادا کرتا ہوں کہ انہیں ہیرا منڈی کی کنجری، مجروں پر ناچنے والی، گشتی، حرامزادی اور اپنی بیٹیوں کو نچانے والی دَلؔی جیسی غلیظ گالیاں نہیں سننی پڑیں۔ Hina Parvez Butt Moeed Pirzada

میں محترمہ حنا پرویز بٹ صاحبہ کو بکری اور چور کے القاب سے پکارنے کی شدید مذمت کرتا ہوں اور اللہ کا بیحد شکر ادا کرتا ہوں کہ انہیں ہیرا منڈی کی کنجری، مجروں پر ناچنے والی، گشتی، حرامزادی اور اپنی بیٹیوں کو نچانے والی دَلؔی جیسی غلیظ گالیاں نہیں سننی پڑیں۔ Hina Parvez Butt Moeed Pirzada

691,636 görüntüleme

گالی گلوچ کا کلچر صرف احسن چٹھہ اور والدہ سلک لودھی تک محدود نہیں ہے۔ ن لیگی قائدین کا بھی یہی وطیرہ ہے۔ نواز شریف الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ عمران خان نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی غلط تربیت کی ہے۔ خواجہ آصف کے بقول نواز شریف نے ہماری تربیت کی، اب اس تربیت کے نمونے ملاحظہ کریں۔ Nawaz Sharif Ishaq Dar Maryam Nawaz Sharif Aseefa B Zardari Bakhtawar B-Zardari SenatorSherryRehman Marriyum Aurangzeb Azma Zahid Bokhari Aleena Farooq Sheikh Ayesha Bakhsh Benazir Shah Reema Omer Mehmal Sarfraz Asma Shirazi Gharidah Farooqi (T.I.) Beenish Saleem Munizae Jahangir Nasim Zehra Alina Shigri Absa Komal Ansar Abbasi Absar Alam Umar Cheema Waseem Abbasi Shanila Ammar Sikandar Ammar Masood Isar Rana Mansoor Ali Khan

گالی گلوچ کا کلچر صرف احسن چٹھہ اور والدہ سلک لودھی تک محدود نہیں ہے۔ ن لیگی قائدین کا بھی یہی وطیرہ ہے۔ نواز شریف الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ عمران خان نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کی غلط تربیت کی ہے۔ خواجہ آصف کے بقول نواز شریف نے ہماری تربیت کی، اب اس تربیت کے نمونے ملاحظہ کریں۔ Nawaz Sharif Ishaq Dar Maryam Nawaz Sharif Aseefa B Zardari Bakhtawar B-Zardari SenatorSherryRehman Marriyum Aurangzeb Azma Zahid Bokhari Aleena Farooq Sheikh Ayesha Bakhsh Benazir Shah Reema Omer Mehmal Sarfraz Asma Shirazi Gharidah Farooqi (T.I.) Beenish Saleem Munizae Jahangir Nasim Zehra Alina Shigri Absa Komal Ansar Abbasi Absar Alam Umar Cheema Waseem Abbasi Shanila Ammar Sikandar Ammar Masood Isar Rana Mansoor Ali Khan

13,973 görüntüleme

ایک پاکستانی شہری نے بیگم شاہزیب خانزادہ صاحبہ سے کہا کہ میں نے آپ کے شوہر سے صرف یہ کہا کہ “تم نے عمران خان کی بیوی کے خلاف جو کیا ہے، اس کو شرم آنی چاہیے”۔ جواب میں بیگم شاہزیب خانزادہ نے اسے ہراسمنٹ قرار دیا۔ کیا آپ کی رائے کے مطابق یہ ہراسمنٹ ہے؟ #Harassment #ShahzebKhanzada

ایک پاکستانی شہری نے بیگم شاہزیب خانزادہ صاحبہ سے کہا کہ میں نے آپ کے شوہر سے صرف یہ کہا کہ “تم نے عمران خان کی بیوی کے خلاف جو کیا ہے، اس کو شرم آنی چاہیے”۔ جواب میں بیگم شاہزیب خانزادہ نے اسے ہراسمنٹ قرار دیا۔ کیا آپ کی رائے کے مطابق یہ ہراسمنٹ ہے؟ #Harassment #ShahzebKhanzada

48,144 görüntüleme

Videos

AkramRaee's profile picture

🚨مجھے قتل کیا گیا تو اسرائیل ذمہ دار ہو گا،امریکی صحافی اینا کیسپرین🚨 میں خودکشی کرنے والی نہیں ہوں، اور اگر مجھے کچھ ہوتا ہے تو یہ کوئی حادثہ نہیں ہو گا۔ میں اسے صرف ریکارڈ پر رکھ رہی ہوں، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ یہ ریکارڈ پر ہو۔ میں ان کے اہداف میں سے ایک ہوں، اور میں ان کی نفرت کا خیرمقدم کرتی ہوں کیونکہ میرے خیال میں وہ جو کچھ کرتے ہیں، وہ نفرت انگیز ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ جس چیز کے لیے کور فراہم کرتے ہیں، وہ تاریخ میں انسانی تاریخ کی بدترین نسل کشی میں سے ایک کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہتی ہوں، میں ایک امریکی ہوں، مجھے امریکی ہونے پر فخر ہے، میں اسرائیلی نہیں ہوں۔ کتابوں میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہو کہ مجھے کسی بھی شکل میں اسرائیل کی حمایت کرنی ہے۔ درحقیقت جب تک اسرائیل فلسطینیوں کے خلاف اپنی نسل کشی جاری رکھے گا، میں بے خوف ہو کر ان کے خلاف سچ بیان کرنا جاری رکھوں گی۔ میں کبھی بھی اسرائیلی سرزمین پر قدم نہیں رکھوں گی کیونکہ میں اس ملک کو صرف ایک خطرہ سمجھتی ہوں۔ میں اسرائیل کی حکومت کو صرف فلسطینی عوام کے لیے خطرہ نہیں سمجھتی ہوں، بلکہ اس پورے خطے کے لیے، مشرق وسطیٰ کا خطے کے لیے خطرہ سمجھتی ہوں۔ اب ان کے پاس صرف ایک ہی چیز رہ گئی ہے کہ وہ مجھے ڈرانے کی کوشش کریں، وہ مجھے کہتے ہیں کہ وہ مجھے قتل کرنے جا رہے ہیں، وہ یقین کر لیں کہ میں ان سے ڈرنے والی نہیں ہوں۔ وہ کچھ غلط یا برا کرتے ہیں تو فوری طور پر اس شخص پر سام دشمن اور یہودی مخالف جذبات رکھنے والے شخص کا الزام لگاتے ہیں جو ان کے برے کاموں پر ان پر تنقید کر رہا ہے لیکن وِکٹم کارڈ (Victim Card) کی میعاد اب ختم ہو چکی ہے۔ اسرائیل اس وقت نسل کشی کر رہا ہے جیسا کہ ہم بول رہے ہیں، وہ فتح میں مصروف ہیں، وہ زمین چوری کر رہے ہیں، نہ صرف غزہ کی پٹی، نہ صرف مغربی کنارے، بلکہ وہ شام کے بشار الاسد کے حصے کے ساتھ الحاق کر رہے ہیں۔ بینجمن نیتن یاہو بلند آواز میں کہہ رہے ہیں کہ یہ اسرائیل کے عظیم منصوبے کا حصہ ہے۔ کیا اب ہمیں آپ کے ذہن کے بارے میں یہ جاننے کے لیے مزید ثبوت چاہیے کہ آپ برے لوگ ہیں؟ Ana Kasparian #Israel #USA #Palesti̇ne #PalestinisGenocide

اکرم راعی Akram Raee

144,182 görüntüleme • 2 ay önce

AkramRaee's profile picture

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

134,546 görüntüleme • 2 ay önce

AkramRaee's profile picture

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ڈاکٹر طاہرالقادری بارے اپنے گھٹیا ریمارکس پر شرم آنی چاہیے جو گزشتہ 9سال سے اپنے 14کارکنوں کے قتلِ عام کے انصاف کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں مگر لاہور ہائیکورٹ طاقتور قاتلوں کو بچانے کے لیے انصاف کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ڈاکٹر طاہر القادری پر طنز کے تیر چلانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ سپریم کورٹ نے 13فروری 2020ء کو ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی پر لاہور ہائیکورٹ کے سٹے آرڈر کے خلاف مقتولہ تنزیلہ شہید کی بیٹی بسما امجد کی اپیل پر حکم دیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ 90روز میں ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی پر حتمی فیصلہ دے مگر لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھ کر فضا میں اچھال دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو چار سال ہونے والے ہیں مگر لاہور ہائیکورٹ نے ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی پر فیصلہ نہیں دیا۔ کیا قاضی کو اپنے گریبان میں جھانک کر شرم آئی کہ نہیں آئی؟؟؟ اگر قاضی کو ریاستی اداروں سے صرف فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کروانے میں دلچسپی ہے مگر ہائیکورٹس سے سپریم کورٹ کے فیصوں پر عمل درآمد کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں تو وہ سپریم کورٹ کے باقی فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کا حکم جاری کر دیں مگر ہائیکورٹس کو سپریم کورٹ کی حکم عدولی کی اجازت دے کر سپریم کورٹ کو بےتوقیر نہ کروائیں۔ مجھے ازحد تعجب ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کو فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں یہ تحریر کرنا یاد رہا کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادی نے دھرنا دیا اور پی ٹی وی کی بلڈنگ میں توڑ پھوڑ ہوئی مگر ن لیگی جتھوں کے سپریم کورٹ کی بلڈنگ پر دھاوا بولنے، سپریم کورٹ میں توڑ پھوڑ کرنے، چیف جسٹس سجاد علی شاہ کتا ~ ہائے ہائے کے غلیظ نعرے لگانے، کورٹ روم نمبر1 پر پر دھاوا بولنے، چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور دیگر ججز کو جان بچانے کے لیے عقبی دروازے سے باہر نکالنے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی سیدھی گولیوں سے دو خواتین سمیت 14پرامن نہتے شہریوں کے پولیس کی سیدھی گولیوں سے قتل عام کرنے کے حوالے تحریر کرنے یاد نہیں رہے۔ کیوں؟ آخر کیوں؟ کیونکہ اوپر بیان کردہ حوالے نواز شریف کے بیانیہ کو کمزور کرتے تھے جبکہ قاضی کے فیصلے میں دیے گئے حوالے نواز شریف کے بیانیہ کو تقویت دیتے تھے۔ اگر انصاف کا معیار آئین و قانون نہیں، اگر انصاف سب کے لیے برابر نہیں، اگر انصاف قاضی فائز عیسیٰ کی ذاتی پسند ناپسند پر منحصر ہے تو تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ ایسے فیصلوں کو کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے۔ ✍️ Siddique Jan Sami Abraham Moeed Pirzada SHAHEEN SEHBAI Sabir Shakir Wajahat S. Khan Abdul Qayyum Siddiqui Hasnaat Malik Nasir Saeed Iqbal Adeel Sarfraz Matiullah Jan Saqib Bashir Fayyaz Raja Tariq Mateen Amir Mateen Rauf Klasra Imtiaz Gul Mazhar Abbas Mubashir Zaidi Zarrar Khuhro Irshad Ahmad Arif Kamran Khan Shahzeb Khanzada Kashif Abbasi

اکرم راعی Akram Raee

429,510 görüntüleme • 2 yıl önce

AkramRaee's profile picture

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے شرکاء سے کہا کہ آپ دو لوگوں (نواز شریف اور آصف زرداری) کے غلام ہیں، ابصار عالم ملٹری سائیڈ کو اعتراض ہے کہ کابینہ اور بہت اہم عہدوں پر کرپٹ افراد کو لگایا جا رہا ہے، ابصار عالم سویلین کہتے ہیں: آپ (ملٹری سائیڈ کے لوگ) کون سے دودھ کے دھلے ہوئے ہیں، آپ کا بھی فلاں فلاں بندہ اتنا مال بنا رہا ہے،ابصار عالم سویلین کہتے ہیں؛ ملٹری سائیڈ سے فرمائشیں بہت آتی ہیں، فرمائشیں پوری کرتے کرتے ہماری کمر ٹوٹ گئی ہے، ابصار عالم سیاستدان فوج پر اور فوج سیاستدانوں پر انگلیاں اٹھاتی ہے، دونوں کا قصور ہے، ابصار عالم ریاست کے چار ستون ہیں۔ سیاستدان، جج، جرنیل اور جرنلسٹ، ابصار عالم سیاستدان (عمران خان) جیل میں ہے، اُن کے لانے والوں کے ساتھ کچھ نہیں ہوا، ابصار عالم جب تک چاروں کا محاسبہ نہیں ہو گا، یہ انگلیاں ایک دوسرے پر اٹھتی رہیں گی، ابصار عالم میں نے دیانتداری سے رائے دی، لفافہ لے کر نہیں دی،ابصار عالم نواز شریف کے معتمدِ خاص سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم کے 30منٹ کے طویل دورانیہ پر محیط تہلکہ خیز ویلاگ کا لب لباب صرف 3منٹ 6سیکنڈ میں اُن کی اپنی زبانی ملاحظہ کریں۔۔ Absar Alam DG ISPR

اکرم راعی Akram Raee

102,646 görüntüleme • 6 ay önce

AkramRaee's profile picture

سینئر صحافی فخر الرحمان کے ناقابلِ معافی جرائم میں سے ایک جرم یہ بھی ہے کہ انہوں نے چیف جسٹس سجاد علی شاہ کی عدالت میں جا کر بتا دیا تھا کہ ن لیگی کارکنوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کر دیا ہے، جس پر چیف جسٹس اور دیگر ججز عقبی دروازے سے نکل گئے۔ پھر فخر الرحمان پر غصہ نکالا گیا تھا۔ 28 نومبر 1997ء پاکستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن تھا جب وزیراعظم نواز شریف کے خلاف توہین عدالت کے مقدمہ کے متوقع فیصلے کو رکوانے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان پر ن لیگی کارکنوں کے جتھوں نے حملہ کیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان خاموشی سے تماشا دیکھتے رہے اور کارکنان نے سہریم کورٹ کی سفید سنِگ مرمر کی عمارت پر مکمل قبضہ کر لیا تھا۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹیگیٹو ایجنسی کے ہاتھوں آج گرفتار ہونے والے سنیئر صحافی فخر الرحمان بھاگتے ہوئے عدالت میں پہنچے اور چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو بتایا کہ کارکنوں کے جتھوں نے سپریم کورٹ پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ ان کی عدالت کی طرف آ رہے ہیں جس پر چیف جسٹس اور بینچ کے دیگر ارکان کو متشدد ن لیگی جتھوں کے حملے سے بچانے کے لیے عقبی دروازے سے باہر نکالا گیا۔ پاکستان کی تاریخ کے سیاہ ترین دن کی یہ ان کہی کہانی سینیئر کورٹ رپورٹر ناصر اقبال اور سینئر جرنلسٹ فخرالرحمان کی زبانی سنیے اور سر دھنیے۔ سب مل کر نعرے لگائیں؀ میاں دے نعرے ~ وجن گے نواز شریف ~ زندہ باد چیف جسٹس سجاد علی شاہ کتا ~ ہائے ہائے Fakhar Ur Rehman The Associated Press Courtesy Nasir Saeed Iqbal Courtesy YouTube Courtesy

اکرم راعی Akram Raee

28,568 görüntüleme • 1 ay önce

AkramRaee's profile picture

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جھوٹا نکلا۔ ایڈووکیٹ امتیاز احمد صدیقی سچا نکلا۔ چیف جسٹس کو اپنے ہتک آمیز رویے اور کذب بیانی پر امتیاز صدیقی سے لائیو سٹریمنگ کے دوران پوری قوم کے سامنے معافی مانگنی چاہیے۔ قاضی کی ڈکٹیشن پر لکھی گئی آرڈر شیٹ بھی حقائق کے منافی نکلی۔ قاضی نے صرف امتیاز صدیقی سے نہیں، سپریم کورٹ بار کے صدر عابد ایس زبیری سے بھی توہین آمیز لہجے میں بات کی۔ لائیو سٹریمنگ کی ویڈیو ریکارڈنگ نے ساری دنیا کے سامنے قاضی فائز عیسیٰ کے جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ سپریم کورٹ بار، پاکستان بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل سمیت تمام صوبائی بار کونسلز، تمام ہائیکورٹ بارز اور ڈسٹرکٹ بارز کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکلاء کے ساتھ ہتک آمیز رویے کے خلاف احتجاج کی کال دینی چاہیے۔ ✍️ Abid S. Zuberi Aitzaz Ahsan Babar Awan Abdul Qayyum Siddiqui Matiullah Jan Adeel Sarfraz Hasnaat Malik Basharat Raja Nasir Saeed Iqbal Mian Aqeel Afzal Siddique Jan Saqib Bashir Saeed Baloch imran waseem Hassan Ayub Khan Asad Ali Toor Sohail Rashid

اکرم راعی Akram Raee

351,750 görüntüleme • 2 yıl önce

AkramRaee's profile picture

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی کی دو شناختوں کے متعلق حقائق ریکارڈ پر لانے کے بعد بیرسٹر شہزاد اکبر نے چیلنج کیا کہ قاضی برطانیہ کی عدالتوں میں ان حقائق کو جھوٹ ثابت کر کے دکھائیں۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے انکشاف کیا کہ سپین کی شہریت رکھنے والی زرینہ مونسٹریاٹ کھوسو کریرا نے جب بھی وزارت داخلہ میں ویزے کے لیے اپلائی کیا تو بیان حلفی میں یہ سچ چھپایا کہ ان کے پاس پاکستان کی شہریت بھی ہے۔ اگر کسی غیر ملکی خاتون نے فیملی کی بنیاد پر ویزہ اپلائی کیا ہو تو بیوی کے بیانِ حلفی کے ساتھ شوہر بھی بیانِ حلفی میں یہ اقرار کرتا ہے کہ اس نے اپنی غیرملکی بیوی کے متعلق ہر بات سچ بیان کی ہے اور کوئی حقیقت نہیں چھپائی ہے۔ بیگم سرینا عیسیٰ نے اپنے بیانِ حلفی میں ہمیشہ یہ بات چھپائی کہ سپین کی شہریت کے ساتھ ان کے پاس پاکستان کی شہریت بھی ہے۔ بیرسٹر شہزاد اکبر کے تہلکہ خیز ویلاگ کا کلائمیکس یہ ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جب بھی بیوی کے ویزہ کی درخواست کے ساتھ اپنا بیانِ حلفی جمع کروایا تو اس میں پاکستان سٹیزن ایکٹ کے تقاضوں کے برعکس ہمیشہ یہ حقیقت چھپائی کہ ان کی سپینش بیوی زرینہ مونسٹریاٹ کھوسو کریرا کا ایک اور نام سرینا عیسیٰ ہے جو پاکستان کی شہریت بھی رکھتی ہے یعنی اس کے پاس پاکستان کا قومی شناختی کارڈ بھی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کا یہ بیان حلفی جج کے حلف اور ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے ساتھ ایک فوجداری جرم بھی ہے جس کی بابت ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان شہید نے دستاویزوں شواہد کے ساتھ وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ بھی جمع کروائی تھی۔ ڈاکٹر رضوان شہید کی یہ رپورٹ بھی قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس کا حصہ تھی جو اب بھی سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں موجود ہو گی۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر رضوان شہید کی وزارت داخلہ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے پروٹوکول آفیسر سرینا عیسیٰ کی ویزا درخواست کا فالو اپ لینے وزارت داخلہ آتے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک غیرقانونی، غیرآئینی اور مجرمانہ کام کے لیے بطور جج سپریم کورٹ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے تھے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور سپین کے درمیان دہری شہریت کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ پاکستان سٹیزن ایکٹ کے تحت سرینا عیسیٰ پر لازم تھا کہ اگر وہ سپین کی شہریت کو پاکستان کی شہریت پر ترجیح دیتی ہیں تو وہ پاکستان کی شہریت سے دستبردار ہو جاتیں اور اپنا قومی شناختی کارڈ نادرا کو واپس جمع کروا دیتیں جو انہوں نے نہیں کیا اور اس طرح وہ فوجداری جرم کی مرتکب ہوئیں۔ اب آپ سوچیں کہ نواز شریف کے ایون فیلڈ فلیٹس کے لیے آف شور کمپنی بنانے کے برعکس قاضی فائز عیسیٰ کو لندن پراپرٹیز خریدنے کے لیے آف شور کمپنی کیوں نہیں بنانی پڑی؟؟؟ Mirza Shahzad Akbar Abdul Qayyum Siddiqui imran waseem Matiullah Jan Hasnaat Malik Adeel Sarfraz Saqib Bashir Asad Ali Toor Mubashir Zaidi Tale of a Chief Justice’s wife with two identities…. via YouTube

اکرم راعی Akram Raee

219,271 görüntüleme • 1 yıl önce