Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جھوٹا نکلا۔ ایڈووکیٹ امتیاز احمد صدیقی سچا نکلا۔ چیف جسٹس کو اپنے ہتک آمیز رویے اور کذب بیانی پر امتیاز صدیقی سے لائیو سٹریمنگ کے دوران پوری قوم کے سامنے معافی مانگنی چاہیے۔ قاضی کی ڈکٹیشن پر لکھی گئی آرڈر شیٹ بھی حقائق کے...

351,760 Aufrufe • vor 2 Jahren •via X (Twitter)

8 Kommentare

Profilbild von اکرم راعی Akram Raee
اکرم راعی Akram Raeevor 2 Jahren

اعتزار: قابلِ صد احترام وکیل صاحب کا مکمل نام “امتیاز راشد صدیقی” ہے۔

Profilbild von Zia
Ziavor 2 Jahren

لائیو سٹریمنگ کا وہ کلپ کل کی کاروائی میں قاضی کو سُنوادینا چاہئے۔ بہت چھوٹا انسان ہے یہ قاضی۔ وہ عابد زبیری کو PTI کا وکیل سمجھ کر بد تمیزی کر رہا تھا۔

Profilbild von Khayaal Mall
Khayaal Mallvor 2 Jahren

@tariq55gee بڑا شوق تھا اسے بھی لائیو آنے کا۔ گلے پڑ گئی اب

Profilbild von عبدالمقسط
عبدالمقسطvor 2 Jahren

4 سال میڈیا کا ایک مخصوص گروپ جسٹس صاحب کو بہت ہی کوئی علیحدہ چیز ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا جیسے کہ وہ کوئی بہت بڑا انقلابی جج ہے لیکن ساری قوم دیکھ چکی ہے کہ سب جھوٹ پر مبنی تھا

Profilbild von Aquil Malik
Aquil Malikvor 2 Jahren

اسوقت ملک میں ہر جگہ ڈکٹیٹر شپ کا راج ہے عدلیہ اس سے باہر کیسے ہو سکتی ہے سب کو آئین اور قانون کا سبق پڑھانے والا چیف بھی ایک ڈکٹیٹر بن کر سامنے آرہا ہے۔ سب چمک کا کمال ہے لندن کی جائیداد ایویں ہی نہیں بن گئی تھی عزتوں کی نیلامی کرنا پڑتی ہے۔

Profilbild von Abu Rohaan
Abu Rohaanvor 2 Jahren

کافروں کی عدالت کا انصاف دیکھیئے اور ان کمینوں کی حرکات، انہیں ۱۹۶ نمبر پر ہونا چاہیئے دراصل😡

Profilbild von zeenat eva khan
zeenat eva khanvor 2 Jahren

Does the CJ QFE think he is the head master of a boys school the way he dictates and doesn't allow lawyers to argue their cases. Sham courts making fools of themselves publicly

Profilbild von Aurangzeb Butt PTI
Aurangzeb Butt PTIvor 2 Jahren

جب تک ان دلے ججوں کو ان کی اوقات میں نہیں لاؤ گے کچھ ٹھیک نہیں ہونے والا۔ یہ کنجر خود کو خدا بنائے بیٹھے ہیں

Ähnliche Videos

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ڈاکٹر طاہرالقادری بارے اپنے گھٹیا ریمارکس پر شرم آنی چاہیے جو گزشتہ 9سال سے اپنے 14کارکنوں کے قتلِ عام کے انصاف کے لیے عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں مگر لاہور ہائیکورٹ طاقتور قاتلوں کو بچانے کے لیے انصاف کے راستے میں دیوار بن کر کھڑی ہو گئی ہے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو ڈاکٹر طاہر القادری پر طنز کے تیر چلانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے کہ سپریم کورٹ نے 13فروری 2020ء کو ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی پر لاہور ہائیکورٹ کے سٹے آرڈر کے خلاف مقتولہ تنزیلہ شہید کی بیٹی بسما امجد کی اپیل پر حکم دیا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ 90روز میں ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی پر حتمی فیصلہ دے مگر لاہور ہائیکورٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو جوتے کی نوک پر رکھ کر فضا میں اچھال دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو چار سال ہونے والے ہیں مگر لاہور ہائیکورٹ نے ماڈل ٹاؤن جے آئی ٹی پر فیصلہ نہیں دیا۔ کیا قاضی کو اپنے گریبان میں جھانک کر شرم آئی کہ نہیں آئی؟؟؟ اگر قاضی کو ریاستی اداروں سے صرف فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کروانے میں دلچسپی ہے مگر ہائیکورٹس سے سپریم کورٹ کے فیصوں پر عمل درآمد کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں تو وہ سپریم کورٹ کے باقی فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے کا حکم جاری کر دیں مگر ہائیکورٹس کو سپریم کورٹ کی حکم عدولی کی اجازت دے کر سپریم کورٹ کو بےتوقیر نہ کروائیں۔ مجھے ازحد تعجب ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کو فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے میں یہ تحریر کرنا یاد رہا کہ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادی نے دھرنا دیا اور پی ٹی وی کی بلڈنگ میں توڑ پھوڑ ہوئی مگر ن لیگی جتھوں کے سپریم کورٹ کی بلڈنگ پر دھاوا بولنے، سپریم کورٹ میں توڑ پھوڑ کرنے، چیف جسٹس سجاد علی شاہ کتا ~ ہائے ہائے کے غلیظ نعرے لگانے، کورٹ روم نمبر1 پر پر دھاوا بولنے، چیف جسٹس سجاد علی شاہ اور دیگر ججز کو جان بچانے کے لیے عقبی دروازے سے باہر نکالنے اور سانحہ ماڈل ٹاؤن میں پولیس کی سیدھی گولیوں سے دو خواتین سمیت 14پرامن نہتے شہریوں کے پولیس کی سیدھی گولیوں سے قتل عام کرنے کے حوالے تحریر کرنے یاد نہیں رہے۔ کیوں؟ آخر کیوں؟ کیونکہ اوپر بیان کردہ حوالے نواز شریف کے بیانیہ کو کمزور کرتے تھے جبکہ قاضی کے فیصلے میں دیے گئے حوالے نواز شریف کے بیانیہ کو تقویت دیتے تھے۔ اگر انصاف کا معیار آئین و قانون نہیں، اگر انصاف سب کے لیے برابر نہیں، اگر انصاف قاضی فائز عیسیٰ کی ذاتی پسند ناپسند پر منحصر ہے تو تاریخ کا سبق یہ ہے کہ تاریخ ایسے فیصلوں کو کوڑے دان میں پھینک دیتی ہے۔ ✍️ Siddique Jan Sami Abraham Moeed Pirzada SHAHEEN SEHBAI Sabir Shakir Wajahat S. Khan Abdul Qayyum Siddiqui Hasnaat Malik Nasir Saeed Iqbal Adeel Sarfraz Matiullah Jan Saqib Bashir Fayyaz Raja Tariq Mateen Amir Mateen Rauf Klasra Imtiaz Gul Mazhar Abbas Mubashir Zaidi Zarrar Khuhro Irshad Ahmad Arif Kamran Khan Shahzeb Khanzada Kashif Abbasi

اکرم راعی Akram Raee

429,512 Aufrufe • vor 3 Jahren

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بیوی کی دو شناختوں کے متعلق حقائق ریکارڈ پر لانے کے بعد بیرسٹر شہزاد اکبر نے چیلنج کیا کہ قاضی برطانیہ کی عدالتوں میں ان حقائق کو جھوٹ ثابت کر کے دکھائیں۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے انکشاف کیا کہ سپین کی شہریت رکھنے والی زرینہ مونسٹریاٹ کھوسو کریرا نے جب بھی وزارت داخلہ میں ویزے کے لیے اپلائی کیا تو بیان حلفی میں یہ سچ چھپایا کہ ان کے پاس پاکستان کی شہریت بھی ہے۔ اگر کسی غیر ملکی خاتون نے فیملی کی بنیاد پر ویزہ اپلائی کیا ہو تو بیوی کے بیانِ حلفی کے ساتھ شوہر بھی بیانِ حلفی میں یہ اقرار کرتا ہے کہ اس نے اپنی غیرملکی بیوی کے متعلق ہر بات سچ بیان کی ہے اور کوئی حقیقت نہیں چھپائی ہے۔ بیگم سرینا عیسیٰ نے اپنے بیانِ حلفی میں ہمیشہ یہ بات چھپائی کہ سپین کی شہریت کے ساتھ ان کے پاس پاکستان کی شہریت بھی ہے۔ بیرسٹر شہزاد اکبر کے تہلکہ خیز ویلاگ کا کلائمیکس یہ ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے جب بھی بیوی کے ویزہ کی درخواست کے ساتھ اپنا بیانِ حلفی جمع کروایا تو اس میں پاکستان سٹیزن ایکٹ کے تقاضوں کے برعکس ہمیشہ یہ حقیقت چھپائی کہ ان کی سپینش بیوی زرینہ مونسٹریاٹ کھوسو کریرا کا ایک اور نام سرینا عیسیٰ ہے جو پاکستان کی شہریت بھی رکھتی ہے یعنی اس کے پاس پاکستان کا قومی شناختی کارڈ بھی ہے۔ قاضی فائز عیسیٰ کا یہ بیان حلفی جج کے حلف اور ججز کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے ساتھ ایک فوجداری جرم بھی ہے جس کی بابت ایف آئی اے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان شہید نے دستاویزوں شواہد کے ساتھ وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ بھی جمع کروائی تھی۔ ڈاکٹر رضوان شہید کی یہ رپورٹ بھی قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ریفرنس کا حصہ تھی جو اب بھی سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں موجود ہو گی۔ بیرسٹر شہزاد اکبر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے ڈاکٹر رضوان شہید کی وزارت داخلہ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے پروٹوکول آفیسر سرینا عیسیٰ کی ویزا درخواست کا فالو اپ لینے وزارت داخلہ آتے تھے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ایک غیرقانونی، غیرآئینی اور مجرمانہ کام کے لیے بطور جج سپریم کورٹ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے تھے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور سپین کے درمیان دہری شہریت کا معاہدہ موجود نہیں ہے۔ پاکستان سٹیزن ایکٹ کے تحت سرینا عیسیٰ پر لازم تھا کہ اگر وہ سپین کی شہریت کو پاکستان کی شہریت پر ترجیح دیتی ہیں تو وہ پاکستان کی شہریت سے دستبردار ہو جاتیں اور اپنا قومی شناختی کارڈ نادرا کو واپس جمع کروا دیتیں جو انہوں نے نہیں کیا اور اس طرح وہ فوجداری جرم کی مرتکب ہوئیں۔ اب آپ سوچیں کہ نواز شریف کے ایون فیلڈ فلیٹس کے لیے آف شور کمپنی بنانے کے برعکس قاضی فائز عیسیٰ کو لندن پراپرٹیز خریدنے کے لیے آف شور کمپنی کیوں نہیں بنانی پڑی؟؟؟ Mirza Shahzad Akbar Abdul Qayyum Siddiqui imran waseem Matiullah Jan Hasnaat Malik Adeel Sarfraz Saqib Bashir Asad Ali Toor Mubashir Zaidi Tale of a Chief Justice’s wife with two identities…. via YouTube

اکرم راعی Akram Raee

219,276 Aufrufe • vor 2 Jahren

آج کادن پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حیثیت سے یادرکھاجائے گا جب میرٹ کا قتل کرکے جونیئر جج کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقررکردیاگیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ #غیر_آئینی_ترامیم_نامنظور دنیا بھرمیں نظام ِانصاف کو شفاف بنانے کیلئے اصولی طورپرسنیاریٹی، اہلیت ، صلاحیت اور میرٹ کی بنیادپر لوئرکورٹ، سیشن کورٹ ، ہائی کورٹ اورسپریم کورٹ میں ججوں کا تقررکیاجاتاہے۔ اسی طرح پاکستان میں بھی ججوں کی تقرری کی جاتی تھی اور سب سے سینئرجج کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا تقرر کیا جاتارہاہے مگر موجود ہ حکومت نے اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر اس منصفانہ قانون کو تبدیل کردیا،'' جمہوریت'' اور'' ووٹ کو عزت دو'' کے نعرے لگانے والوں نے میرٹ اورانصاف کاقتل کرتے ہوئے26ویں آئینی ترمیم کرکے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کااختیار وزیراعظم کو سونپ دیاہے ۔ پوری دنیا کہہ رہی تھی کہ سینئر ترین جج منصورعلی شاہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے مگر موجودہ حکومت نے بادشاہانہ انداز میں 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سینئر ترین اورحقدارجج کی اہلیت کوڑے دان میں پھینک دی اور سینئر ترین جج کو نظر انداز کرکے ایک جونیئر جج کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقررکردیاہے جو میرٹ کے اصول کے سراسر خلاف ہے۔ آج کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سیاہ دن کی حیثیت سے یادرکھاجائے گا۔ 26، ویں آئینی ترمیم کو کالعدم قراردینے ،سپریم کورٹ کی خودمختاری اور عدلیہ کی آزادی کیلئے عوام اور وکلاء کو میدان عمل میں نکلنا ہوگااورانصاف پر مبنی نظام کے قیام کیلئے جدوجہد کرنی ہوگی ۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جنہیں لوگ ایک اصول پسند جج کے طورپرجانتے تھے لیکن انہوں نے چیف جسٹس کے منصب پر فائزہونے کے بعدجوکرداراداکیاوہ افسوسناک ہے۔انہوں نے آئین کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی مرضی ومنشا کےمطابق فیصلے دیے۔انہوں نے تحریک انصاف سے اس کا انتخابی نشان ''بلا'' چھینا ،جعلی مقابلوں، ماورائےعدالت قتل ، جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور ظلم وناانصافیوں کے واقعات پر اپنی آنکھیں بند رکھیں ، جن وکلاء نے ان ناانصافیوں کے مقدمات کی پیروی کی انہیں اغواء کرکے غائب کردیاگیا لیکن قاضی فائز عیسیٰ نے کبھی حکومت اور ریاست سے نہیں پوچھا کہ ان وکلاء کوکیوں اغواء کیاگیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے چھ ججوں نے سپریم جوڈیشل کونسل اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو خط لکھ کر بتایاکہ فوج ،آئی ایس آئی اور ایم آئی کی جانب سے ان پر من پسند فیصلے کروانے کیلئے دباؤڈالاجارہاہے،ان کے رشتے داروں کواغواء کیاجارہاہے اور ججوں کے بیڈرومزمیں خفیہ کیمرے نصب کیے جارہے ہیں لیکن قاضی فائز عیسیٰ نے ان ججوں کی فریاد تک نہیں سنی۔جب ہائیکورٹ کے ججوں کو انصاف نہیں مل رہا تو عوام کو انصاف کیسے ملے گا؟ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آج سپریم کورٹ کے احاطے میں آزادی اظہار،عدلیہ کی آزادی اور انسانی حقوق کے مونومنٹ کا افتتاح کیا ہے۔ یہ مونومنٹ نہیں بلکہ یادگاریں ہیں اور یادگار مرنے والوں کی بنائی جاتی ہے ، قاضی فائز عیسیٰ نے اظہار رائے کی آزادی اورانسانی حقوق کی قبریں بناکرانہیں دفن کردیا ہے ۔ خداکرے کہ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی جرات اور ہمت کے ساتھ انصاف پر مبنی فیصلے کریں، کسی کے دباؤ یاخوشنودی کے لئے فیصلے ہرگزنہ کریں ورنہ سپریم کورٹ کا وجود بے معنی ہوجائے گا۔ ملک میں آمرانہ ذہنیت رکھنے والی سیاسی جماعتیں اسی لئے باربار حکومتوں میں آتی رہیں کیونکہ عوام نے ان جماعتوں کے آمرانہ اقدامات کو کبھی سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی لیکن اب سوشل میڈیا کے ذریعے عوام میں شعور پیدا ہورہا ہے اور عوام سمجھ رہے ہیں کہ جس ملک میں میرٹ کا قتل کیاجائے گا وہاں انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام عمل میں لانا ناممکن ہوجائے گا۔ پاکستان میں چند خاندان حکومت کررہے ہیں، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) جمہوریت کی علمبردار جماعتیں ہیں لیکن قیادت کے لئے ان جماعتوں کےسینئر ترین ارکان کو یکسر نظرانداز کرکے ان جماعتوں کے سربراہان کی اولادوں کوہی آگے لایاجاتا رہا ہے اور بادشاہت کی طرح یہ سلسلہ نسل درنسل جاری ہے۔ موروثی سیاست کرنےوالےان جعلی جمہوریت پسند سیاستدانوں سے نجات کیلئے نوجوان نسل کو آگے آناچاہیے اور موروثی سیاست کے خلاف عملی جدوجہد کاآغازکرنا چاہیے۔ 1/2

Altaf Hussain

10,463 Aufrufe • vor 1 Jahr

سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کے حوالے سے پراپیگنڈا کیا جاتا ہےکہ وہ شاید ایکسٹینشن لینا چاہتے تھے ۔۔ میں نہیں کہہ رہا آپ حسنات ملک Hasnaat Malik سے پوچھ لیجیئے گا ۔۔ حسنات ملک نے خبر دی تھی کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے کیلنڈر پر فریڈم ڈے کا الارم لگا رکھا ہے ۔۔ جب جوڈیشل کمیشن میں عطاء تارڑ اور اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم آئینی ترامیم لانا چاہتے ہیں ۔۔ پھر ایک اور ملاقات ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ چیف جسٹس کے عہدے کی مدت 3 سال ہو گی تو قاضی فائز عیسی نے ان کے اور منصور علی شاہ کے سامنے کہا تھا کہ مجھے اس کا کوئی شوق نہیں ۔میں اس کا حصہ نہیں بن سکتا لہذا میرے بعد پارلیمنٹ موجود ہے آپ کوئی بھی کام (ترمیم)کر سکتے ہیں ۔۔ اور جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ قاضی صاحب accept کر لیں ۔۔ یہ میں بڑی ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں کہ انھوں ( جسٹس منصور علی شاہ) نے(چیف جسٹس قاضی فائز عیسی سے) کہا کہ آپ accept کر لیں گے نا تو جسٹس منیب، عائشہ ،شاہد وحید سے جان چھوٹ جائے گی جو آؤٹ آف ٹرن آئے ہوئے ہیں ۔۔ عبدالقیوم صدیقی Abdul Qayyum Siddiqui Tayyab Baloch طیب بلوچ

Exact Press International

36,845 Aufrufe • vor 5 Monaten

جسٹس محمد علی مظہر کو یہ ہی معلوم نہیں تھا کہ ان کے سامنے زیر التوا مقدمہ ہے کیا! سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر کو الیکشن کمیشن حکام کو روسٹرم پر بلانا پڑ گیا! جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہاجو اکثریتی فیصلے میں پی ٹی آئی کو ہدایات کی گئیں وہ پوری ہوئیں؟ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہاتمام ممبران نے اپنے کوائف اور پارٹی وابستگی جمع کرائی تھی،سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کیوں نا کیا؟الیکشن کمیشن یہاں آ کر دھرلے سے کہتا ہے کہ فیصلے پر عملدرآمد بھی نہیں کریں گے اور نظر ثانی بھی کریں! جسٹس محمد علی مظہر نے کہا الیکشن کمیشن نے 39 ممبران کو نوٹیفائی کیا تھا یہ نظر ثانی کیس تو بقیہ 40 نشستوں پر ہے! جسٹس حاجی امین الدین خان نے کہا نظر ثانی تمام 79 نشستوں کے خلاف ہے! جسٹس محمد علی مظہر نے کہا میں نے بار بار پوچھا ہے الیکشن کمیشن سے انہوں نے کہا 40 سیٹ پر نظر ثانی ہے، جس کے بعد جج صاحب نے الیکشن کمیشن حکام کو روسٹرم پر بلا لیا اور پوچھا بتائیں آپ نے پی ٹی آئی کے 39 ممبران کو نوٹیفائی کیا؟ ڈی جی الیکشن کمیشن نے کہا جی ہم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 39 ممبران کو پی ٹی آئی کا نوٹیفائی کر دیا تھا، جسٹس محمد علی مظہر نے پوچھاآپ نے 39 ممبران کے تناسب سے مخصوص نشستیں دی ہیں؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن بولےہم 39 کی حد تک تو مخصوص نشستیں نہیں دے سکتے یہ تو مکمل کے تناسب سے باقاعدہ فارمولا ہوتا ہے۔ اکثریتی فیصلہ دینے والے جج جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا اگر فارمولا ہوتا ہے تو باقی جماعتوں کو مخصوص نشستیں کیوں دیں؟ فیصلہ ہو لینے دیتے اور پھر سب کو ایک ساتھ مخصوص نشستیں دیتے! جسٹس محمد علی مظہر اس سے بھی لاعلم نکلے اور کہا نہیں باقی جماعتوں کو نہیں دی گئیں مخصوص نشستیں۔ جس پر الیکشن کمیشن نے کہا باقی تمام سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں دے دی ہیں! اس کے بعد بنچ کے سربراہ جسٹس حاجی امین الدین خان نے الیکشن کمیشن حکام کو کہا بیٹھ جائیں اب تو کیس چل رہا ہے اور فیصل صدیقی کو کہا دلائل جاری رکھیں،فیصل صدیقی نے کہایہ تو پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہے،سپریم کورٹ کے فیصلوں کا کوئی تو تقدس ہونا چاہئے، جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا آپ مشتعل نا ہوں، فیصل صدیقی نے کہا کیس کیا ہے یہ مسئلہ نہیں ہار جائیں گے، بات سپریم کورٹ کے وقار اور مستقبل کی ہے!

Maryam Nawaz Khan

108,015 Aufrufe • vor 1 Jahr

آج ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب عدالتی رویے کے خلاف احتجاج ہوگا، پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر کے دن اسلام آباد کی طرف روانہ ہوجائے ۔ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں۔ ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ایسا جواب دیں گے کہ چھٹی کا دودھ یاد آ جائے گا ۔ اب ڈبے سے گھی ٹیڑھی انگلی سے نکالا جائے گا ۔ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے سہولیات دینا جرم کو تحفظ فراہم کرنے کے مترادف ہے ۔ جرم کرنے والے کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے انوکھا فیصلہ دیا گیا ہے کہ 9 مئی کے بعد کے کسی مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے اور عدلیہ نے جو مقدمہ اس کے علم میں نہیں ہے اس میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیا ہے ۔ عدلیہ کہاں کھڑی ہے کس طرح وہ آئین اور قانون سے ماوراء فیصلے کر رہی ہے ۔ کیا یہ رعایت تین بار وزیر اعظم رہنے والے نواز شریف کو دی گئی ؟ اور جب نواز شریف کو جیل میں اطلاع دی گئی کہ ان کی اہلیہ آئی سی یو میں ہے انہوں نے منت سماجت کی کہ اہلیہ سے فون پر بات کرنے دیں مگر اجازت نہ ملی ۔ کیا یہ رعایت نواز شریف ،مریم نواز کو دی گئی ؟ کیا یہ رعایت فریال تالپور کو دی گئی ؟ عمران خان کو وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جا رہا ہے ۔ ملک میں غنڈہ گردی دہشت گردی کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے اب سپریم کورٹ کے رویے کے خلاف شدید احتجاج ہو گا ۔ پی ڈی ایم کی جانب سے پوری قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ پیر 15 مئی 2023 ء کو احتجاج کے لیے اسلام آباد پہنچیں ۔ سپریم کورٹ کے سامنے دھرنا دیا جائے گا ۔ موثر طور پر عوام کو بتایا جائے گا کہ سپریم کورٹ مدر ان لاء نہیں ہیں مدر آف لاء ہیں ۔ پارلیمنٹ کو بالا دست سمجھنا ہو گا اس کے نمائندوں کو کیوں نا اہل قرار دیا جاتا ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان سن لو تین دو کا فیصلہ قبول نہیں ہے چار تین کا فیصلہ قانون کے مطابق ہے جس کے تحت چیف جسٹس کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہے ۔ ایک ایک کارکن باہر نکلے ۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

289,744 Aufrufe • vor 3 Jahren

تحریک انصاف قومی اسمبلی، سینیٹ، اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں قراردار پیش کرے کہ جسٹس (ر) خلیل الرحمن رمدے پر مشتمل ایک سپیشل نیب کورٹ بنائی جائے جس کا مینڈیٹ 5300 ارب روپے کی ریکوری ہو جس کی نشاندہی آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں کی ہے۔ قرارداد میں نیب قانون میں ترمیم کر کے کرپشن کو فساد فی الارض قرار دینے اور اس کی سزا “سزائے موت” مقرر کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہو۔ 5300 ارب کی ریکوری کے بعد ملزموں کو فساد فی الارض کا مرتکب قرار دے کر پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ کرپشن کے دیگر ملزمان عبرت پکڑیں۔ پیارے عبدالقیوم نے یہ ڈیبیٹ شروع کروا کے ایک عظیم قومی خدمت کی ہے جس پر وہ قوم کے خصوصی شکریہ کے مستحق ہیں۔ جسٹس (ر) خلیل الرحمن اس بحث کو مزید آگے بڑھائیں تاکہ ان کی تجویز عملی روپ اختیار کر سکے۔ Abdul Qayyum Siddiqui Matiullah Jan Hasnaat Malik Saqib Bashir Basharat Raja Sohail Rashid Abid Andleeb Siddique Jan Asad Ullah Khan Nasir Saeed Iqbal Imtiaz Gul Mazhar Abbas Benazir Shah Reema Omer Amir Mateen Tariq Mateen Tahir Naeem Malik M Azhar Siddique

اکرم راعی Akram Raee

23,140 Aufrufe • vor 9 Monaten

ملک کے سب سے بڑے لیڈر کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ ناقابل برداشت ہے۔ پوری قوم میں اس پر شدید تشویش ہے۔ عمران خان کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے ہمیں کوئی درست خبر نہیں دی جا رہی، یہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ہم ملک بھر میں احتجاج کریں گے جو جلد نظر آئے گا۔ ہم اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور نارملائز نہیں ہونے دیں گے۔ چوبیس مارچ 2025 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عمران خان صاحب سے ملاقاتوں کے حوالے سے حکمنامہ جاری کیا تھا، مگر اس پر ایک بار بھی عمل نہیں ہوا۔ اس کے خلاف دائر ہماری توہین عدالت درخواستوں پر سماعت نہیں ہو رہی۔ دسمبر سے خان صاحب کی کسی بہن کی ملاقات نہیں ہونے دی گئی۔ میری ایک بار پھر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے درخواست ہے کہ ہماری اپیل سنی جائے۔ اگر نہیں سن سکتے تو سپریم کورٹ تسلیم کر لے اور عوام کو بتا دے کہ ہم اس جبر کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔ سلمان اکرم راجہ salman akram raja #اڈیالہ_کی_چابی_صرف_مزاحمت

PTI

11,048 Aufrufe • vor 4 Monaten

یہ ٹویٹ اتنا زیادہ Retweet کرو تاکہ جنگل کی آگ کی طرح پھیلے کس طرح جسٹس اطہر من اللہ نے قوم کے اربوں روپے ضائع کیے ہمارے دوست ثاقب بشیر Saqib Bashir اس حوالے سے اصل حقیقت آپ کو نہیں بتائے گا اطہر من اللہ نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر جس کمپنی کے پاس ہائی کورٹ بنانے کا ٹھیکہ تھا اس ٹھیکدار کو Litigation میں اتنا الجھایا اس کو اتنا تنگ کیا کہ اس ٹھیکدار نے ہائی کورٹ کا ٹھیکہ ہی واپس کیا اسلام آباد کے وکلا کے مطابق اطہر من اللہ نے یہ ٹھیکہ اپنے من پسند کمپنی کو دینے کے لیے ایسا کیا تھا اس کے بعد یہ ٹھیکہ اطہر من اللہ کے من پسند ٹھیکداروں کو دیا گیا اربوں روپے قومی خزانے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بلڈنگ کے لیے خرچ کیے گئے ہائی کورٹ بننے کے چند دن بعد ہائی کورٹ کے لفٹ میؑ لطیف کھوسہ سمیت کئی وکلا پھس گئے کل بارش میں ہائی کورٹ کی یہ حالت ہوئی پانی کورٹ روم کے اندر جمع ہوئے گرمیوں میں AC کام کرنا بند کرتا ہے خواجہ آصف صاحب کا وہ مشہور ٹویٹ بھی یاد ہوگا جب وہ پہلی بار اسلام آباد ہائی کورٹ کے نئے بلڈنگ میں آیا تو ہائی کورٹ کی تعمیر کرنے والے ٹھیکدار کے حوالے سے ٹویٹ بھی کیا تھا اس ٹھیکدار کو شرم و حیا بھی یاد دلائی تھی اسلام آباد کے سینئر وکلا یہ کہتے ہیں جس کمپنی کو پہلے ٹھیکہ دیا گیا تھا ریڈ زون کے 90% بڑے بلڈنگ اس کمپنی نے بہت اچھے طریقے سے تعمیر کیے تھے اس میں سپریم کورٹ اور قومی اسمبلی کی بلڈنگ سرفہرست ہے اسلام آباد ہائی کورٹ کا ٹھیکہ بھی پہلے اس کمپنی کے پاس تھا اس ٹھیکدار کو اطہر من اللہ نے عدالتوں میں اتنا الجھا کہ رکھا کہ وہ کمپنی تنگ آکر ٹھیکہ ہی واپس کیا یہ سب باتیں اسلام آباد کے وکلا اطہر من اللہ کے حوالے سے کر رہے ہیں اس کی صاف شفاف تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ اصل حقیقت سامنے آ جائے یا اطہر من اللہ صاحب کو اس حوالے سے وضاحت دینا چاہئے Hasnaat Malik Hassan Ayub Khan Matiullah Jan Abdul Qayyum Siddiqui Maryam Nawaz Khan

Khalid Hussain Taj

62,175 Aufrufe • vor 1 Jahr

ہائی کورٹ بار کے جوائنٹ سیکرٹری ندیم اختر جویہ کی صحافی کے خلاف 7ATA کے تحت درج ایف آئی آر پر اسلام آباد پولیس پر تنقید اسلام آباد – 2 اکتوبر 2024 – سینئر صحافی جاوید اقبال اور ان کے تین کمسن بچوں پر اسلام آباد پولیس کی جانب سے وحشیانہ تشدد اور غیر قانونی گرفتاری پر ملک بھر کی صحافتی اور قانونی تنظیموں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکریٹری ندیم اختر جویہ نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ "اسلام آباد پولیس صحافیوں اور وکلاء کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس ظلم کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور ہم صحافی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔" یہ افسوسناک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب جاوید اقبال ڈی آئی جی اسلام آباد سید علی رضا کے دفتر میں ملاقات کے لیے پہنچے۔ اس دوران ایس آئی عدیل شوکت، ایس ایچ او آبپارہ اور ایس آئی عظیم، ایس ایچ او شہزاد ٹاؤن نے انہیں جھوٹا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ویڈیو بنائی ہے۔ ان کا موبائل فون چھین لیا اور ان پر بچوں کے سامنے تشدد کیا گیا۔ جب فون کی تلاشی لی گئی تو اس میں کوئی ویڈیو یا تصویر نہیں ملی۔ اس کے باوجود جاوید اقبال اور ان کے تینوں بچوں، جن میں سب سے بڑا بچہ پانچ سال کا تھا، کو گرفتار کر کے تھانہ رمنا منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے اپنی غیر قانونی کارروائی کو چھپانے کے لیے جاوید اقبال کے خلاف ایک جھوٹا ایف آئی آر (نمبر 857/24) درج کرایا، جس میں انسداد دہشت گردی ایکٹ (7ATA)، دفعہ 353، 506-II، 355 اور 186 شامل کی گئیں۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) ورکرز اور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اس ظلم اور زیادتی کی بھرپور مذمت کی ہے۔ جنرل سیکریٹری آر آئی یو جے ورکرز سید بلال عزت نقوی نے اسلام آباد پولیس پر تنقید کرتے ہوئے کہا، "پولیس اپنی اصل ذمہ داریوں سے ہٹ کر ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف ہے۔ اسلام آباد میں جرائم کی شرح بڑھ رہی ہے اور آئی جی اسلام آباد سید علی ناصر رضوی ، جو کہ ایک تجربہ کار افسر ہیں، کو پولیس افسران کے رویے کے حوالے سے تربیتی سیشنز کا اہتمام کرنا چاہیے۔ صرف ٹک ٹاک ویڈیوز جرائم کو روکنے میں مددگار نہیں ہو سکتیں۔" جاوید اقبال اور ان کے کمسن بچوں کے ساتھ ہونے والی یہ ظالمانہ اور غیر قانونی کارروائی نے صحافتی اور قانونی حلقوں میں شدید غصے کی لہر دوڑا دی ہے، جو اس واقعے کو پاکستان میں صحافیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جبر کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ندیم اختر جویہ نے مزید کہا کہ پولیس کی یہ کارروائیاں صحافیوں اور وکلاء کو ڈرانے اور دبانے کے لیے کی جا رہی ہیں، لیکن قانونی برادری ان مشکل حالات میں اپنے صحافی ساتھیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) ورکرز، ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور دیگر شہری تنظیمیں اس واقعے کی فوری اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ جاوید اقبال کے خلاف جھوٹے مقدمات ختم کیے جائیں اور اس واقعے میں ملوث پولیس افسران کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ Islamabad Police Shehbaz Sharif Saleh Mughal Farhan Hussain Matiullah Jan Siddique Jan Sabir Shakir #freejavaidiqbal #islamabadpolice #CHANELSpringSummer Hamid Mir حامد میر

Syed Bilal Izzat Naqvi

42,663 Aufrufe • vor 1 Jahr

آزاد امیدواروں کی گرفتاریاں، پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کی فتح کی نویدہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 9، جنوری 2024ء تین آزاد امیدواران نثاراحمد پنہور،ان کے صاحبزادے محسن احمد پنہوراورسینئر ایڈوکیٹ جوہر عابد کے گھروں پر گزشتہ رات چھاپےمارکر انہیں گرفتارکرلیاگیا ۔ان کی گرفتاریاں جہاں ایک طرف آئین اورقانون کے سراسر خلاف ہیں تو دوسری طرف ان کی گرفتاریوں کاعمل MQM جس کابانی وقائد میں یعنی الطاف حسین ہے،کی فقیدالمثال فتح کی نویدبھی ہے کیونکہ ریاستی ادارے سول اورملٹری اسٹیبلشمنٹ انتہائی خوف زدہ ہے کہ اگر گرفتاریاں کرکےخوف نہ پھیلایاگیا تو جنہیں الطاف حسین کی حمایت حاصل ہوگی وہ آزاد امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوجائےگا۔ اسی طرح پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ، تحریک انصاف PTI کے آزاد امیدواروں کی بھی گرفتاریاں کررہی ہے، پی ٹی آئی کے آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا یہ غیرآئینی وغیرقانونی عمل بھی اس بات کی کھلی نشاندہی کررہا ہے کہ تحریک انصاف، ملک کی سب سے مقبول ترین جماعت ہے۔لہٰذا میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کراچی سمیت ملک بھرمیں گرفتارہونے والے آزاد امیدواروں کو فی الفور رہا کیاجائے ۔ میں،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ ریاستی غنڈہ گردی کے ہتھکنڈوں کو روکنے کے فوری احکامات صادر فرمائیں اور آزاد امیدواروں کی گرفتاریوں کا غیرقانونی وغیرآئینی عمل بند کرائیں۔ میں ، چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کے علم میں یہ بات بھی لاناچاہتا ہوں کہ میری قیادت میں ایم کیوایم اب صرف مہاجروں کی ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تمام جمہوریت پسند اورفرسودہ جاگیردارانہ ،وڈیرانہ نظام کے خلاف مظلوم پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں ،سندھیوں ، سرائیکیوں ،کشمیریوں ، گلگتیوں ،بلتستانیوں اورہزارے وال کے دِلوں کی بھی دھڑکن بن چکی ہے۔ میں،تحریک انصاف اورایم کیوایم کےتمام چاہنے والوں سے پُرزوراپیل کرتا ہوں کہ وہ حالات کےجبرسےہرگز نہ گھبرائیں ،اپنی ہمت اورحوصلوں کوجواں رکھیں اور 8، فروری 2024ء کوہونےوالےعام انتخابات میں اپنے قیمتی ووٹ کا صحیح استعمال کرکےپاکستان کی ریاستی غنڈہ گردی کاہمیشہ ہمیشہ کیلئےخاتمہ کردیں۔

Altaf Hussain

28,338 Aufrufe • vor 2 Jahren

آپ نے خود تسلیم کر لیا کہ پاکستان کے تمام صحافی کسی نہ کسی پارٹی کے ماؤتھ پیس ہیں۔ آپ نے یہ بھی اقرار کر لیا کہ یہ صحافی مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف تینوں سے وابستہ ہیں مگر آپ نے اس سوال کا ابھی تک جواب نہیں دیا کہ وہ پارٹی سے فی سبیل اللہ وابستہ ہیں یا معاوضہ لیتے ہیں؟؟؟ اب آپ کی اگلی بات کی طرف آتے ہیں، فیلڈ مارشل تو درکنار، یہاں نواز شریف، شہباز شریف، آصف زرداری، شاہد خاقان عباسی، عمران خان، جسٹس مولوی مشتاق اور سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بھی ذہنی مریض کہا گیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سول ملٹری قیادت، ججز، بیوروکریٹس کو متحمل مزاج اور غیرمنتقم مزاج ہونا چاہیے۔ یہ ان کے بلند منصب کا پہلا تقاضا ہے۔ یہ بات ان کے حلف کا بھی تقاضا ہے اور قیادت کے بنیادی اوصاف میں شامل ہے۔ جب بھی کوئی برسراقتدار شخصیت یا ہمارے اردگرد موجود کوئی بندہ غصے، طیش اور انتقام سے مغلوب ہو کر غیرمتوازن ذہنی رویے کا مظاہرہ کرتا ہے تو یہ ایک عام پریکٹس ہے کہ لوگ اسے پاگل اور ذہنی مریض کہہ دیتے ہیں۔ مجھے بھی کئی بار اس ٹائٹل سے نوازا گیا، شاید آپ کو بھی کبھی نوازا گیا ہو۔ کہانی گھر گھر کی، یہ ایک مقبول بھارتی ڈرامے کا نام ہے۔ جو بات میں کرنے لگا ہوں، وہ بھی گھر گھر کی کہانی ہے۔ اگر کسی کی بیوی بدتہذیبی بدتمیزی بدکلامی پر اتر آئے تو شوہر اسے ذہنی مریض کا ٹائٹل دے دیتے ہیں اور اگر کوئی شوہر بدتہذیبی بدتمیزی بدکلامی پر اتر آئے تو بیوی اسے ذہنی مریض کا ٹائٹل دے دیتی ہے۔ ایک بار میں نے اپنے گنہگار کانوں سے سنا کہ ایک جج صاحب قاضی فائز عیسی کو پاگل کہہ رہے تھے جبکہ وہ ابھی ریٹائر بھی نہیں ہوئے تھے۔ کیوں؟ کیونکہ قاضی کو اپنے غصے پر کنٹرول نہیں تھا یہاں تک وہ کورٹ روم نمبر1 کی عدالتی کاروائی کی لائیو سٹریمنگ کے دوران برادر سسٹر ججز اور سینیئر وکلاء سے بھی بدتمیزی پر اتر آتے تھے۔ شارٹ ٹیمپر آدمی کو کبھی بھی بڑا منصب نہیں دینا چاہیے۔ پیریڈ۔ کئی بڑے افسروں کو ان کی بدمزاجی کی وجہ سے ان کے ماتحت پاگل کہہ کر پکارتے ہیں۔ اگر میں ان سب بڑے افسروں کے نام لکھ دوں تو میرے خلاف ہتک عزت کے سینکڑوں مقدمات دائر کر دیے جائیں گے۔ صدر ٹرمپ کو ایک صحافی نے ان کے منہ پر ذہنی مریض کہہ دیا، مگر امریکہ میں کوئی قیامت بپا نہیں ہوئی مگر پاکستان میں فیلڈ مارشل والی بات پر انتقام کی آگ کا ایک الاؤ دھکا دیا گیا جو بجھ نہیں رہا کیونکہ مسلم لگ ن، ان کے حامی صحافی اور ن لیگی سوشل میڈیا کے لوگ اس الاؤ پر پٹرول چھڑکتے رہتے ہیں تاکہ انتقام کی آگ کا یہ الاؤ بھڑکتا رہے، اسٹبلشمنٹ کو مسلسل طیش، غصے اور انتقام کی کیفیت سے مغلوب رکھا جائے تاکہ وہ عمران خان اور پی ٹی آئی پر سختیوں کو جاری رکھیں۔ 💢 میں دوٹوک الفاظ میں کہتا ہوں کہ فیلڈ مارشل والی بات کو حُبِؔ علیؓ میں نہیں، بغضِ معاویہ میں اچھالا جاتا ہے تاکہ اسٹیبلشمنٹ عمران خان اور پی ٹی آئی پر مظالم میں مزید اضافہ کر دے۔ آپ بھی اس سوال کو اسی مقصد کی خاطر بار بار اٹھا رہے ہیں۔ 💢 فیلڈ مارشل تو ایک ادنیٰ سے اُمتی ہیں، قرآن گواہ ہے کہ نبئ کریم ﷺ کو بھی معاذاللہ ثم معاذاللہ ایسے ہی لقب سے پکارا گیا مگر اللہ اور اس کے رسولﷺ نے اس کی پاداش میں اس لقب سے پکارنے والوں پر کوئی مظالم نہیں ڈھائے، ان کو واجب القتل قرار نہیں دیا، ان کو قید نہیں کیا، ان کو کوڑے نہیں لگائے، ان پر اور ان کے خاندانوں پر زندگی تنگ نہیں کی۔ 💢 کیا ہم امتی فیلڈ مارشل معاذاللہ ثم معاذاللہ نبی کریمﷺ سے بھی بلند رتبہ رکھتے ہیں؟ ہر گز نہیں، ہم گنہگار امتی تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں گھومنے والے کتوں کے پاؤں کی خاک کے برابر بھی نہیں ہیں۔ 💢اللہ کریم نے فیلڈ مارشل کو بلند رتبہ سے نوازا ہے مگر مسلم لیگ ن اور ان کے حامی اپنے پست سیاسی مفادات کی خاطر فیلڈ مارشل کو خدائی اور نبوت سے بھی بڑے رتبہ پر فائز کر رہے ہیں۔ ایسا کر کے وہ فیلڈ مارشل کا بھلا نہیں کر رہے، ان کو تباہی گڑھے میں گرانے کی سازش کر رہے ہیں، یہ دوستی کے روپ میں بدترین دشمنی کا مظاہرہ ہے۔ پس چہ باید کرد، انصار عباسی کی برداری کے محسن عباسی صاحب اب آپ محترم رؤف کلاسرا، محترم عامر متین اور ثروت ولیم کی گفتگو سنیے، سننے کے بعد سوچ سمجھ کر فیصلہ کیجیے کہ اس گفتگو پر آپ نے سر دُھننا ہے یا بھنگڑہ ڈالنا ہے۔ DG ISPR DGPR (AIR FORCE) DGPR (Navy) Shehbaz Sharif Nawaz Sharif Maryam Nawaz Sharif Mohsin Naqvi Attaullah Tarar Khawaja Saad Rafique Ministry of Interior GoP Ministry of Information & Broadcasting Prime Minister's Office The President of Pakistan Ch Fawad Hussain Government of Pakistan Raja Kabeer ™ Ahsan Chatha Ansar Abbasi Syed Talat Hussain Syed Imran Shafqat Amir Mateen Rauf Klasra Sarwat valim Fakhar Durrani Waseem Abbasi Abdul Qayyum Siddiqui Waqar Satti 🎖️🇵🇰 Raja Kabeer ™ Ahsan Chatha

اکرم راعی Akram Raee

10,501 Aufrufe • vor 3 Monaten

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی مداخلت پر القادر ٹرسٹ کیس میں ہوئی۔ مجھے ہدایت دی گئی کہ میں عمران خان سے ملاقات کروں ،میں القادر ٹرسٹ کیس میں میاں بیوی دونوں کی نمائندگی کر رہا ہوں۔ میں آپ کو بتا دوں کہ اس فیصلے میں سزائے موت یا عمر قید شامل نہیں ہے۔ یہ 14 سال کی سزا ہے ایسے کیس میں جہاں ایک روپے کی بھی مالی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی۔۔ سوال یہ ہے کہ جرم کیا ہے؟سابق وزیراعظم ہیں، اور ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔میں نے فیصلہ پڑھا ہے۔ ہم قانون سے بخوبی واقف ہیں۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 73 تنہائی قید کی اجازت دیتی ہے لیکن آپ حیران ہوں گے۔میرا 25 سال کا تجربہ ہے، میں نے ہزاروں قتل کے کیسز دیکھے ہیں، لیکن میں نے کبھی اس طرح کی تنہائی قید نہیں دیکھی، حتیٰ کہ دہشت گردی کے کیسز میں بھی نہیں۔جیلوں میں ایک نظام ہوتا ہے۔ کچھ قیدیوں کو وقتی طور پر الگ رکھا جاتا ہے، چند گھنٹوں یا دنوں کے لیے، لیکن ایسا سلوک 74 سالہ خاتون کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔اس ملاقات میں عمران خان بار بار ایک ہی بات کرتے رہے کہ یہ تنہائی قید ان کے لیے اور ان کی اہلیہ کے لیے اذیت ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وکلاء تک رسائی نہیں، خاندان سے ملاقات نہیں، ایک دوسرے سے بات کرنے کی اجازت نہیں، ٹی وی نہیں، کتابیں نہیں، پڑھنے کی اجازت نہیں، حتیٰ کہ دیواریں دیکھنے تک کی آزادی نہیں۔وہ بار بار یہی بات دہراتے رہے کہ یہ قید کتنی تکلیف دہ ہے اور کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے۔جب میں نے القادر ٹرسٹ کا فیصلہ پڑھا تو جیل سپرنٹنڈنٹ جو سزا دے رہا ہے وہ فیصلے میں درج ہی نہیں۔ کیا یہ حیران کن اور تشویشناک نہیں؟یہ انتہائی سخت سزا ہے، جو نہ صرف غیر ضروری بلکہ غیر منصفانہ اور قابل مذمت ہے۔مزید یہ کہ ان کی ضمانت بھی نہیں سنی جا رہی۔ ہم بار بار اسلام آباد ہائی کورٹ جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال انتہائی سنگین اور پریشان کن ہے۔عمران خان اور ان کی اہلیہ کی تنہائی قید کو فوری طور پر ختم کیا جائے، یہی ہماری اولین ترجیح ہے۔ عمران خان اپنے کیسز لڑ رہے ہیں اور قانونی طریقہ کار کے مطابق انصاف چاہتے ہیں۔ہم آئین کے آرٹیکل 10A اور منصفانہ ٹرائل کی بات کرتے ہیں۔ اڈیالہ جیل کے حالات میں آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔میں 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتا ہوں، لیکن یہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب عمران خان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے بایومیٹرک روم سے گرفتار کیا گیا۔ اور اب انہیں مسلسل مختلف کیسز میں قید رکھا جا رہا ہے، نہ اپیل سنی جا رہی ہے نہ ضمانت، اور انہیں تنہائی قید میں رکھا گیا ہے۔عمران خان نے واضح طور پر کہا کہ یہ قید اذیت ناک ہے اور بار بار اس پر زور دیا۔سلمان صفدر

𝐼𝓂𝓇𝒶𝓃 𝐿𝒶𝓁𝒾𝓀𝒶

48,323 Aufrufe • vor 5 Monaten