Khadim Ali khan Yousaf zai's banner
Khadim Ali khan Yousaf zai's profile picture

Khadim Ali khan Yousaf zai

@Alikhanyzai95,704 subscribers

Central information Secretary PML N Youth wing ,Central President YMT ( Youth Media Team) 🇵🇰

Shorts

خوارج نے انبیاء اور صحابہ کو نہیں چھوڑا تو ہمیں کیسے چھوڑ دینگے اسلئے ہم کوئی دفاعی پوزیشن نہیں لینگے اور کھل کر انکی مخالفت کرینگے شہید عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کا شہادت سے کچھ روز پہلے کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل

خوارج نے انبیاء اور صحابہ کو نہیں چھوڑا تو ہمیں کیسے چھوڑ دینگے اسلئے ہم کوئی دفاعی پوزیشن نہیں لینگے اور کھل کر انکی مخالفت کرینگے شہید عالم دین شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کا شہادت سے کچھ روز پہلے کا بیان سوشل میڈیا پر وائرل

39,354 Aufrufe

اسلام آباد کچہری کے مرکزی گیٹ کے باہر دھماکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کا خدشہ

اسلام آباد کچہری کے مرکزی گیٹ کے باہر دھماکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کا خدشہ

52,661 Aufrufe

اللّٰهمَّ انصرهم نصرًا عزيزًاوافْتَحْ لَهُمْ فتحًا مبينًا اے اللہ! انہیں ایک زبردست اور عزت والی نصرت عطا فرما اور ان کے لیے کھلی اور واضح فتح کا دروازہ کھول دے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰

اللّٰهمَّ انصرهم نصرًا عزيزًاوافْتَحْ لَهُمْ فتحًا مبينًا اے اللہ! انہیں ایک زبردست اور عزت والی نصرت عطا فرما اور ان کے لیے کھلی اور واضح فتح کا دروازہ کھول دے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰

55,019 Aufrufe

پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد سعودی عرب میں مقیم اوورسیز پاکستانی اپنی گاڑیوں پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان، ولی عہد و وزیراعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی تصاویر لگا رہے ہیں

پاک سعودی تاریخی دفاعی معاہدے کے بعد سعودی عرب میں مقیم اوورسیز پاکستانی اپنی گاڑیوں پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان، ولی عہد و وزیراعظم سعودی عرب شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی تصاویر لگا رہے ہیں

34,009 Aufrufe

میں لاہور آیا تو پہلا تاثر ہی چونکا دینے والا تھا۔صاف ستھرا شہر، کشادہ اور ہموار سڑکیں، دونوں اطراف سجی ہوئی پھولوں کی کیاریاں، دل موہ لینے والی لائٹنگ اور جگہ جگہ خوبصورت مناظر۔ سڑکوں پر خاموشی سے دوڑتی الیکٹرک بسیں، اور جب ٹھوکر نیاز بیگ سے گزرا تو اوپر سے اورنج ٹرین گزرتی دکھائی دی راستے میں سرخ رنگ کی میٹرو بس نظر ائی ، نہر کے ساتھ ساتھ الیکٹرک بسیں چل رہی تھی،لاہور کا نہر جو اب سگنل فری ہو چکی ہے۔ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے ترتیب سے چل رہے تھے۔ حیران کن طور پر اس بار رکشے کم نظر آئے، چنگ چی تو کہیں ایک آدھ ہی دکھائی دی۔ ہر شخص قوانین کا احترام کرتا محسوس ہوا۔تب معلوم ہوا کہ یہ لڑکی کی حکومت ہے اور وہ ایک سخت ایڈمنسٹریٹر ہے۔لوگوں سے سنا کہ اس نے پورے پنجاب کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک اب کوئی مائی کا لال یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ غنڈہ یا بدمعاش ہے۔دوستوں نے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب انہیں حقیقی تحفظ اور سیکیورٹی کا احساس ہوا ہے۔مائیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ ہیں، کسی میں جرأت نہیں کہ کسی خاتون کو ہاتھ تک لگا سکے۔پورے پنجاب مذہبی رواداری بحال ہو چکی ہے۔ہر مذہب کے لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مکمل امن اور سکون کے ساتھ عبادت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع ہو تو تبلیغی حضرات کے لیے بہترین انتظامات ہوتے ہیں، محرم میں شیعہ بھائیوں کے لیے شاندار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، سکھوں ہندوں کے مذہبی دنوں میں مثالی انتظامات ہوتے ہیں، اور اس بار کرسمس پر تو مریم نواز نے پورے پنجاب کو سجا دیا تھا عیدالاضحیٰ پر ایسے انتظامات تھے کہ سب حیران رہ گئے، اس دفعہ لاہور دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔امن کا یہ عالم ہے کہ اب گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری نہیں ہوتیں، ڈکیتیاں ختم ہو چکی ہیں، چوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کا نظام بہتر ہو چکا ہے، ہسپتال ٹھیک ہو گئے ہیں، اور ہر طرف ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔بچیوں کی شادیاں وزیرِاعلیٰ خود کروا رہی ہیں، ہمت کارڈ، کسان کارڈ اقلیت کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔ 68 سروسز گھر بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہیں ، دیہاتوں میں موبائل ہسپتال اور کلینک آن ویلز نظر آتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں، اور لاہور کی سڑکوں پر سکوٹی چلاتی بچیاں ایک نئی خوداعتمادی کی علامت بن چکی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں:لاہور ہی نہیں بدلا، پورا پنجاب بدل گیا ہے۔دور دراز علاقوں میں جائیںہر جگہ ترقی، ہر جگہ صفائی، اور ہر جگہ تجاوزات کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ واقعی،لاہور کو اس لڑکی نے بدل دیا ہے۔ ویلڈن Maryam Nawaz Sharif

میں لاہور آیا تو پہلا تاثر ہی چونکا دینے والا تھا۔صاف ستھرا شہر، کشادہ اور ہموار سڑکیں، دونوں اطراف سجی ہوئی پھولوں کی کیاریاں، دل موہ لینے والی لائٹنگ اور جگہ جگہ خوبصورت مناظر۔ سڑکوں پر خاموشی سے دوڑتی الیکٹرک بسیں، اور جب ٹھوکر نیاز بیگ سے گزرا تو اوپر سے اورنج ٹرین گزرتی دکھائی دی راستے میں سرخ رنگ کی میٹرو بس نظر ائی ، نہر کے ساتھ ساتھ الیکٹرک بسیں چل رہی تھی،لاہور کا نہر جو اب سگنل فری ہو چکی ہے۔ موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ پہنے ترتیب سے چل رہے تھے۔ حیران کن طور پر اس بار رکشے کم نظر آئے، چنگ چی تو کہیں ایک آدھ ہی دکھائی دی۔ ہر شخص قوانین کا احترام کرتا محسوس ہوا۔تب معلوم ہوا کہ یہ لڑکی کی حکومت ہے اور وہ ایک سخت ایڈمنسٹریٹر ہے۔لوگوں سے سنا کہ اس نے پورے پنجاب کو امن کا گہوارہ بنا دیا ہے۔ اٹک سے رحیم یار خان تک اب کوئی مائی کا لال یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ غنڈہ یا بدمعاش ہے۔دوستوں نے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے جب انہیں حقیقی تحفظ اور سیکیورٹی کا احساس ہوا ہے۔مائیں، بہنیں اور بیٹیاں محفوظ ہیں، کسی میں جرأت نہیں کہ کسی خاتون کو ہاتھ تک لگا سکے۔پورے پنجاب مذہبی رواداری بحال ہو چکی ہے۔ہر مذہب کے لوگ اپنی عبادت گاہوں میں مکمل امن اور سکون کے ساتھ عبادت کر رہے ہیں۔ تبلیغی اجتماع ہو تو تبلیغی حضرات کے لیے بہترین انتظامات ہوتے ہیں، محرم میں شیعہ بھائیوں کے لیے شاندار سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، سکھوں ہندوں کے مذہبی دنوں میں مثالی انتظامات ہوتے ہیں، اور اس بار کرسمس پر تو مریم نواز نے پورے پنجاب کو سجا دیا تھا عیدالاضحیٰ پر ایسے انتظامات تھے کہ سب حیران رہ گئے، اس دفعہ لاہور دلہن کی طرح سجا ہوا تھا۔امن کا یہ عالم ہے کہ اب گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری نہیں ہوتیں، ڈکیتیاں ختم ہو چکی ہیں، چوری نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کا نظام بہتر ہو چکا ہے، ہسپتال ٹھیک ہو گئے ہیں، اور ہر طرف ترقی کے آثار نظر آتے ہیں۔بچیوں کی شادیاں وزیرِاعلیٰ خود کروا رہی ہیں، ہمت کارڈ، کسان کارڈ اقلیت کارڈ جاری ہو چکے ہیں۔ 68 سروسز گھر بیٹھ کر حاصل ہوجاتی ہیں ، دیہاتوں میں موبائل ہسپتال اور کلینک آن ویلز نظر آتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ ہیں، اور لاہور کی سڑکوں پر سکوٹی چلاتی بچیاں ایک نئی خوداعتمادی کی علامت بن چکی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں:لاہور ہی نہیں بدلا، پورا پنجاب بدل گیا ہے۔دور دراز علاقوں میں جائیںہر جگہ ترقی، ہر جگہ صفائی، اور ہر جگہ تجاوزات کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ واقعی،لاہور کو اس لڑکی نے بدل دیا ہے۔ ویلڈن Maryam Nawaz Sharif

16,297 Aufrufe

Videos

Alikhanyzai's profile picture

عوامی نیشنل پارٹی کے نام نہاد دانشور ادریس خان کا یہ چیلنج کہ علامہ اقبال کی ساری اردو اور فارسی شاعری نکال لو اور اگر وہ خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کی چوری نہ ہو تو میں مجرم ہوں، علمی اور ادبی تاریخ کا سب سے بڑا مضحکہ خیز دعویٰ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔ موصوف شدید سیاسی و نظریاتی بغض کا شکار ہیں اور انہوں نے زندگی میں کبھی علم و ادب کی ہوا نہیں کھائی۔ رحمان بابا کا کلام خالصتاً صوفیانہ، درویشانہ، زہد و قناعت اور دنیا کی بے ثباتی پر مبنی ہے جبکہ خوشحال بابا کی شاعری قبائلی شجاعت، مغلوں کے خلاف جنگی ترانوں اور پختون قوم کی بیداری کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری طرف علامہ اقبال کا شعری کینوس بالکل الگ، منفرد اور آفاقی ہے جس میں انہوں نے جرمن اور مغربی فلسفے کا رد کیا، کارل مارکس اور لینن کے اشتراکی نظریات پر بحث کی، جدید سائنسی دور میں اسلام کے اجتہادی تصور کو ابھارا اور جاوید نامہ جیسا عظیم افلاکی شاہکار لکھا۔ ادریس خان سے پوچھا جائے کہ کیا یہ مغربی فلسفے کا رد، اشتراکیت کے نظریات اور جدید دور کے سائنسی مسائل رحمان بابا یا خوشحال بابا کے ہاں موجود تھے جہاں سے اقبال نے چوری کیے؟ حقیقت یہ ہے کہ جسے یہ قوم پرست چوری کہہ رہے ہیں، وہ علم و ادب کی دنیا میں مشترکہ مآخذ کا فکری تسلسل کہلاتا ہے۔ پختونوں کے اپنے مایہ ناز محقق اور نقاد استاد جمیل یوسفزئی نے اپنی مستند تحقیق سرقہ جاتِ خوشحال خان خٹک میں یہ واضح کیا ہے کہ خوشحال بابا اور رحمان بابا کے اپنے سینکڑوں اشعار ایران کے اساتذہ جیسے حافظ شیرازی، شیخ سعدی، حکیم سنائی اور مولانا جلال الدین رومی کے افکار کا تسلسل اور ترجمانی ہیں۔ چونکہ علامہ اقبال بھی مولانا رومی کے فکری مرید تھے، اس لیے اگر اقبال اور خوشحال بابا کے چند اشعار میں باز، شاہین، غیرت یا شجاعت کی ہم خیالی پائی جاتی ہے تو وہ چوری نہیں بلکہ ایک ہی سرچشمے یعنی فارسی تصوف اور کلاسیکی ادب سے فیض یاب ہونے کا فطری نتیجہ ہے۔ علامہ اقبال کا کلام تقریباً ایک لاکھ اشعار پر مشتمل ہے جس میں قرآنی تصورات اور امتِ مسلمہ کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے، اس لیے چند اشعار کی ہم خیالی پر پوری شاعری کو چوری قرار دینا علمی بددیانتی ہے۔ ادریس خان جیسے لوگ جہاں مغرب کے نوبل پرائز کا رونا روتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اقبال کا قد کتنا کاٹھ دار ہے۔ ایران میں انہیں اقبالِ لاہور کہا جاتا ہے اور وہاں کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ڈاکٹر علی شریعتی جیسے مفکرین اعتراف کرتے ہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب اقبال کے افکار کا مرہونِ منت ہے۔ ترکی میں مولانا رومی کے مزار کے احاطے میں علامہ اقبال کی علامتی قبر ان کی عظمت کا اعتراف ہے، جبکہ ازبکستان، تاجکستان اور وسطی ایشیا کی جامعات میں اقبال کے فلسفے پر باقاعدہ تحقیق ہوتی ہے۔ جرمنی میں دریائے نیکر کے کنارے ان کے نام پر "اقبال افر سڑک موجود ہے اور کیمبرج و آکسفورڈ میں ان کے نثری خطبات پڑھائے جاتے ہیں۔ ادریس خان جیسے رہنماؤں کو اصل تکلیف خوشحال بابا سے محبت نہیں، بلکہ ان کا اپنا سیاسی حسد ہے کیونکہ اقبال نے پشتونوں کی جس شجاعت کو اپنی شاعری میں ابھارا، اسے انہوں نے لسانی قوم پرستی کی تنگ نظری سے نکال کر پورے عالمِ اسلام کا ہیرو بنا دیا، جس کی وجہ سے ان قوم پرستوں کی محدود سیاسی دکان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ادریس خان صاحب، اقبال کا شاہین آپ جیسے چھوٹے سیاسی بونوں کی تصدیق یا تردید کا محتاج نہیں، وہ ہمیشہ فکری بلندیوں پر پرواز کرتا رہے گا اور آپ کی یہ علمی پستی تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن جائے گی۔

Khadim Ali khan Yousaf zai

31,431 Aufrufe • vor 1 Monat

Alikhanyzai's profile picture

انسانی زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک خوبصورت تحفہ ہے اور اس زمین پر موجود رنگ برنگی نعمتیں اس پروردگار کا احسان ہیں۔ اکثر ہم ڈاکٹروں کے مشوروں اور ڈائٹ کے چکر میں آ کر ان حلال لذتوں کو خود پر حرام کر لیتے ہیں، مگر میرا ذاتی تجربہ کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔​میں نے مسلسل پانچ سال تک اپنی زندگی کو سخت پہروں میں گزارا۔ گندم، چاول، چینی اور ہر قسم کے میٹھے سے مکمل کنارہ کشی اختیار کیے رکھی۔ صرف یہی نہیں، بلکہ روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ پیدل چلنا اور پہاڑوں پر ہائیکنگ کرنا میرا معمول تھا۔ میری فیملی ہسٹری میں کبھی کسی کو دل کی تکلیف نہیں ہوئی تھی، اس لیے میں مطمئن تھا کہ میں مکمل محفوظ ہوں۔ لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اتنی سخت احتیاط اور ورزش کے باوجود مجھے 'ہارٹ اٹیک' کا سامنا کرنا پڑا۔​اس واقعے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ زندگی صرف پرہیز کا نام نہیں ہے۔ اگر آپ کو کوئی مشورہ دے کہ یہ مت کھاؤ وہ مت کھاؤ، تو یاد رکھیں کہ یہ مختصر سی زندگی اللہ کی نعمتوں سے منہ موڑنے کے لیے نہیں ملی۔ سموسے ہوں یا چنا چاٹ، نہاری ہو یا پائے، کابلی پلاؤ ہو یا گرما گرم بریانی اور مٹن تکہ—یہ سب اس رب کا رزق ہیں، انہیں خوش دلی اور شکر کے ساتھ کھایا کریں۔ قدرت کے پیدا کردہ پھلوں کا رس چکھیں اور چینی کے بجائے گڑ، شکر اور شہد کی مٹھاس سے لطف اندوز ہوں۔​میرا مقصد یہ نہیں کہ انسان بے احتیاطی کرے، بلکہ میرا پیغام یہ ہے کہ خود کو محرومیوں کی قید میں نہ ڈالیں۔ اللہ کی نعمتوں پر پابندی لگا کر ہم وقت سے پہلے بوڑھے تو ہو سکتے ہیں، مگر تقدیر کو نہیں بدل سکتے۔ ہر چیز کھائیں، مگر اعتدال کے ساتھ اور ہر نوالے پر اس رب کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں ان ذائقوں سے نوازا۔​خوش رہیں، سب کچھ کھائیں اور زندگی کو بھرپور طریقے سے جئیں، کیونکہ زندگی دوبارہ نہیں ملتی

Khadim Ali khan Yousaf zai

24,553 Aufrufe • vor 2 Monaten