
Khadim Ali khan Yousaf zai
@Alikhanyzai • 95,704 subscribers
Central information Secretary PML N Youth wing ,Central President YMT ( Youth Media Team) 🇵🇰
Shorts
Videos

چار دن پہلے دشمن کا میزائل لیفٹننٹ کرنل ظہیر عباس کے گھر گرا، اور اُن کا سات سالہ معصوم بیٹا ارتضاء شہید ہو گیا۔آج اُسی مٹی پر باپ جشنِ فتح میں مسکرا رہا ہے،فوجی جوانوں کے کندھوں پر ارتضاء کے چھوٹے بہن بھائی خوشی سے جھوم رہے ہیں،یہ ہے وہ قوم جو کبھی شکست نہیں کھا سکتی!
Khadim Ali khan Yousaf zai437,309 views • 1 year ago

شہادت سے قبل مشن پر روانگی کی آخری ویڈیو دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر، بہادر کمانڈر ایس پی اسد زبیر تین نسلوں سے یہ خاندان وردی، وفا اور قربانی کا امین رہا دادا شہاب الدین آفریدی، والد اورنگزیب آفریدی شہید ، اور بیٹا اسد زبیر شہید 24 اکتوبر کو ایس پی اسد زبیر نے اپنے خون سے اس روایت کو امر کر دیا۔ اللّٰہ ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین🇵🇰
Khadim Ali khan Yousaf zai174,486 views • 8 months ago

عوامی نیشنل پارٹی کے نام نہاد دانشور ادریس خان کا یہ چیلنج کہ علامہ اقبال کی ساری اردو اور فارسی شاعری نکال لو اور اگر وہ خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کی چوری نہ ہو تو میں مجرم ہوں، علمی اور ادبی تاریخ کا سب سے بڑا مضحکہ خیز دعویٰ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔ موصوف شدید سیاسی و نظریاتی بغض کا شکار ہیں اور انہوں نے زندگی میں کبھی علم و ادب کی ہوا نہیں کھائی۔ رحمان بابا کا کلام خالصتاً صوفیانہ، درویشانہ، زہد و قناعت اور دنیا کی بے ثباتی پر مبنی ہے جبکہ خوشحال بابا کی شاعری قبائلی شجاعت، مغلوں کے خلاف جنگی ترانوں اور پختون قوم کی بیداری کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری طرف علامہ اقبال کا شعری کینوس بالکل الگ، منفرد اور آفاقی ہے جس میں انہوں نے جرمن اور مغربی فلسفے کا رد کیا، کارل مارکس اور لینن کے اشتراکی نظریات پر بحث کی، جدید سائنسی دور میں اسلام کے اجتہادی تصور کو ابھارا اور جاوید نامہ جیسا عظیم افلاکی شاہکار لکھا۔ ادریس خان سے پوچھا جائے کہ کیا یہ مغربی فلسفے کا رد، اشتراکیت کے نظریات اور جدید دور کے سائنسی مسائل رحمان بابا یا خوشحال بابا کے ہاں موجود تھے جہاں سے اقبال نے چوری کیے؟ حقیقت یہ ہے کہ جسے یہ قوم پرست چوری کہہ رہے ہیں، وہ علم و ادب کی دنیا میں مشترکہ مآخذ کا فکری تسلسل کہلاتا ہے۔ پختونوں کے اپنے مایہ ناز محقق اور نقاد استاد جمیل یوسفزئی نے اپنی مستند تحقیق سرقہ جاتِ خوشحال خان خٹک میں یہ واضح کیا ہے کہ خوشحال بابا اور رحمان بابا کے اپنے سینکڑوں اشعار ایران کے اساتذہ جیسے حافظ شیرازی، شیخ سعدی، حکیم سنائی اور مولانا جلال الدین رومی کے افکار کا تسلسل اور ترجمانی ہیں۔ چونکہ علامہ اقبال بھی مولانا رومی کے فکری مرید تھے، اس لیے اگر اقبال اور خوشحال بابا کے چند اشعار میں باز، شاہین، غیرت یا شجاعت کی ہم خیالی پائی جاتی ہے تو وہ چوری نہیں بلکہ ایک ہی سرچشمے یعنی فارسی تصوف اور کلاسیکی ادب سے فیض یاب ہونے کا فطری نتیجہ ہے۔ علامہ اقبال کا کلام تقریباً ایک لاکھ اشعار پر مشتمل ہے جس میں قرآنی تصورات اور امتِ مسلمہ کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے، اس لیے چند اشعار کی ہم خیالی پر پوری شاعری کو چوری قرار دینا علمی بددیانتی ہے۔ ادریس خان جیسے لوگ جہاں مغرب کے نوبل پرائز کا رونا روتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اقبال کا قد کتنا کاٹھ دار ہے۔ ایران میں انہیں اقبالِ لاہور کہا جاتا ہے اور وہاں کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ڈاکٹر علی شریعتی جیسے مفکرین اعتراف کرتے ہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب اقبال کے افکار کا مرہونِ منت ہے۔ ترکی میں مولانا رومی کے مزار کے احاطے میں علامہ اقبال کی علامتی قبر ان کی عظمت کا اعتراف ہے، جبکہ ازبکستان، تاجکستان اور وسطی ایشیا کی جامعات میں اقبال کے فلسفے پر باقاعدہ تحقیق ہوتی ہے۔ جرمنی میں دریائے نیکر کے کنارے ان کے نام پر "اقبال افر سڑک موجود ہے اور کیمبرج و آکسفورڈ میں ان کے نثری خطبات پڑھائے جاتے ہیں۔ ادریس خان جیسے رہنماؤں کو اصل تکلیف خوشحال بابا سے محبت نہیں، بلکہ ان کا اپنا سیاسی حسد ہے کیونکہ اقبال نے پشتونوں کی جس شجاعت کو اپنی شاعری میں ابھارا، اسے انہوں نے لسانی قوم پرستی کی تنگ نظری سے نکال کر پورے عالمِ اسلام کا ہیرو بنا دیا، جس کی وجہ سے ان قوم پرستوں کی محدود سیاسی دکان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ادریس خان صاحب، اقبال کا شاہین آپ جیسے چھوٹے سیاسی بونوں کی تصدیق یا تردید کا محتاج نہیں، وہ ہمیشہ فکری بلندیوں پر پرواز کرتا رہے گا اور آپ کی یہ علمی پستی تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن جائے گی۔
Khadim Ali khan Yousaf zai31,431 views • 1 month ago

طلال چودھری کو اپنے بھائی بلال چودھری کی شاندار جیت بہت مبارک ہو ❤️
Khadim Ali khan Yousaf zai95,097 views • 7 months ago

میں پختون ہوں، مجھے میری ماں نے پشتون جنا ہے۔ فارسی بولنے والے مجھے افغان کہتے ہیں، اور ہندوستان کے لوگ مجھے پٹھان کہتے ہیں، مگر میری اصل پہچان پختون ہے، میں پختون تھا، پختون ہوں اور پختون ہی رہوں گا۔، میری پہچان پاکستان ہے۔ میری غیرت اور میری سرزمین سے ہے۔افغانستان کے چینل آمو پر بات چیت
Khadim Ali khan Yousaf zai26,929 views • 1 month ago

ریئلٹی آف جنریشن Z وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی، جنریشن زی کہلاتی ہے۔ آج ماشاءاللہ یہ نوجوان 24، 25 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ کمزور، ناتواں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار نسل بنتی جا رہی ہے۔ یہ نسل ذہنی دباؤ، اضطراب اور بے چینی میں گھری ہوئی ہے۔ جسمانی طور پر لاغر، ذہنی طور پر منتشر، اور تربیت گھر کے بزرگوں کے بجائے سوشل میڈیا سے حاصل کی گئی ہے۔ ہر وقت موبائل، اسکرین، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک،جس کا نتیجہ گردن میں خم، آنکھوں کی کمزوری، جسم میں طاقت کی کمی اور رشتوں میں برداشت کی شدید قلت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ نہ دھوپ برداشت ہوتی ہے، نہ آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے کی سکت، نہ پانچ کلومیٹر پیدل چلنے کی ہمت۔ جسم کمزور، ذہن منتشر اور برداشت تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔جنریشن زی کی اصل حقیقت جاننے کے لیے اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں۔
Khadim Ali khan Yousaf zai69,015 views • 5 months ago

مجھے روکو، میں تو مریم نواز کے کام بتا رہی ہوں،
Khadim Ali khan Yousaf zai45,764 views • 4 months ago

اگر راولپنڈی نالہ لئی پر سنجیدہ اور منصوبہ بندی کے ساتھ توجہ دی جائے تو یہ بدصورتی اور خطرے کی علامت نہیں بلکہ خوبصورتی اور ترقی کی مثال بن سکتا ہے۔ درست منصوبہ بندی، صفائی، کشادگی اور اطراف کی خوبصورتی کے بعد یہی نالہ شہری ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔اس منصوبے کے لیے مریم نواز کی خصوصی توجہ ناگزیر ہے، اگر اس تاریخی اور اہم مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں تو یہ ایک بڑا عوامی اور دیرپا کارنامہ ثابت ہو سکتا ہے۔
Khadim Ali khan Yousaf zai44,646 views • 4 months ago

میں نے فیصل آباد سے پی ٹی آئی کے ایم این اے نثار جٹ سے پوچھا کہ آپ بتائیں، آپ کی پارٹی کے 13 سال سے خیبر پختونخوا میں حکومت ہے، اس عرصے میں صحت، تعلیم، امن، روزگار اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے کیا کام ہوا؟ نثار جٹ صاحب نے کہا، میں پشاور کا نہیں ہوں۔ میں نے کہا، چلو پھر عثمان بزدار کے دور کا بتائیں، تو انہوں نے کہا، وہ غیر سنجیدہ آدمی تھا۔ پھر میں نے کہا، چلو عمران خان کا بتائیں، 25 ہزار ارب کا قرضہ لیا، ان کا کوئی قابل ذکر کام بتائیں، پرویز خٹک اور محمود خان کا بتائیں، تو جواب میں خود وہ کہنے لگے: کام تو نہیں ہوا۔
Khadim Ali khan Yousaf zai48,447 views • 4 months ago

انسانی زندگی اللہ تعالیٰ کا ایک خوبصورت تحفہ ہے اور اس زمین پر موجود رنگ برنگی نعمتیں اس پروردگار کا احسان ہیں۔ اکثر ہم ڈاکٹروں کے مشوروں اور ڈائٹ کے چکر میں آ کر ان حلال لذتوں کو خود پر حرام کر لیتے ہیں، مگر میرا ذاتی تجربہ کچھ اور ہی کہانی سناتا ہے۔میں نے مسلسل پانچ سال تک اپنی زندگی کو سخت پہروں میں گزارا۔ گندم، چاول، چینی اور ہر قسم کے میٹھے سے مکمل کنارہ کشی اختیار کیے رکھی۔ صرف یہی نہیں، بلکہ روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ پیدل چلنا اور پہاڑوں پر ہائیکنگ کرنا میرا معمول تھا۔ میری فیملی ہسٹری میں کبھی کسی کو دل کی تکلیف نہیں ہوئی تھی، اس لیے میں مطمئن تھا کہ میں مکمل محفوظ ہوں۔ لیکن قدرت کا کرنا ایسا ہوا کہ اتنی سخت احتیاط اور ورزش کے باوجود مجھے 'ہارٹ اٹیک' کا سامنا کرنا پڑا۔اس واقعے نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ زندگی صرف پرہیز کا نام نہیں ہے۔ اگر آپ کو کوئی مشورہ دے کہ یہ مت کھاؤ وہ مت کھاؤ، تو یاد رکھیں کہ یہ مختصر سی زندگی اللہ کی نعمتوں سے منہ موڑنے کے لیے نہیں ملی۔ سموسے ہوں یا چنا چاٹ، نہاری ہو یا پائے، کابلی پلاؤ ہو یا گرما گرم بریانی اور مٹن تکہ—یہ سب اس رب کا رزق ہیں، انہیں خوش دلی اور شکر کے ساتھ کھایا کریں۔ قدرت کے پیدا کردہ پھلوں کا رس چکھیں اور چینی کے بجائے گڑ، شکر اور شہد کی مٹھاس سے لطف اندوز ہوں۔میرا مقصد یہ نہیں کہ انسان بے احتیاطی کرے، بلکہ میرا پیغام یہ ہے کہ خود کو محرومیوں کی قید میں نہ ڈالیں۔ اللہ کی نعمتوں پر پابندی لگا کر ہم وقت سے پہلے بوڑھے تو ہو سکتے ہیں، مگر تقدیر کو نہیں بدل سکتے۔ ہر چیز کھائیں، مگر اعتدال کے ساتھ اور ہر نوالے پر اس رب کا شکر ادا کریں جس نے ہمیں ان ذائقوں سے نوازا۔خوش رہیں، سب کچھ کھائیں اور زندگی کو بھرپور طریقے سے جئیں، کیونکہ زندگی دوبارہ نہیں ملتی
Khadim Ali khan Yousaf zai24,553 views • 2 months ago

آپ کے پاس افغانستان کا جھنڈا ہے ؟ یہ یہاں سے ہٹا دو ، تم جرات کرسکتے ہو افغانستان میں پاکستان کا جھنڈا لگا سکتے ہو ،گیلامن کی میت کے استقبال کے لئے آئے ہوئے لوگوں کیساتھ پولیس آفیسر کا مکالمہ اس فرض شناس اور جراتمند پولیس آفیسرکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، تیری جرات کو سلام
Khadim Ali khan Yousaf zai154,490 views • 1 year ago