
Khadim Ali khan Yousaf zai
@Alikhanyzai • 95,972 subscribers
Central information Secretary PML N Youth wing ,Central President YMT ( Youth Media Team) 🇵🇰
Shorts
Videos

اس وقت میں پشاور میں ہوں، ہر طرف جشن کا سماں ہے، اور لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر پاکستان کا جشن منا رہے ہیں، خیبر پختونخوا کے غیرتمند پختونوں نے ان تمام منفی بیانیوں، انتشار پسند سوچ اور تقسیم کی سازشوں کا دندان شکن جواب ہے جو اس دھرتی کی وحدت کو تار تار کرنے کے خواب دیکھتے تھے۔خیبر کی تاریخی گھاٹیوں سے لے کر وزیرستان اور قبائلی اضلاع کے بلند و بالا پہاڑوں تک، پشتون قوم نے اپنے لہو، اپنی غیرت اور اپنے نسل در نسل مستقبل کا رشتہ ہمیشہ اس پاک دھرتی کے ساتھ جوڑا ہے۔ جو مٹھی بھر عناصر عسکریت پسندوں کے دباؤ یا مخصوص سیاسی بیانیوں کی آڑ میں پشتونوں کی ریاست سے وفاداری پر سوال اٹھاتے تھے، آج پشاور کی سڑکوں پر یہ تاریخی عوامی سمندر ان کے تمام نظریات کو یکسر مسترد کر چکا ہے۔ جن قبائلی علاقوں، وزیرستان کے غیور عوام اور سوات کے عوام نے فتنے، بارود اور نقل مکانی کے ہولناک عذاب جھیلے، آج وہی غیور عوام ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم تھامے یہ حتمی فیصلہ سنا رہے ہیں کہ پشتون کا مان، شان، پہچان اور واحد وطن صرف اور صرف پاکستان ہے! یہ ملک ہمارا ہے، اس کی اینٹ سے اینٹ ہماری ہے، اور اس کے آئین و بقا کی خاطر ہمارے آباؤ اجداد، مسلح افواج کے جوانوں، پولیس اہلکاروں اور معصوم شہریوں نے جو بے مثال قربانیاں دی ہیں، وہ اس حقیقت پر مہرِ تصدیق ہیں کہ پاکستان اور پشتون لازم و ملزوم ہیں۔ پاکستان ہے تو ہم ہیں، اور پختون قوم کا مقدر، عزت اور بقا صرف اور صرف پاکستان میں ہے! پاکستان ہمیشہ زندہ باد 🇵🇰
Khadim Ali khan Yousaf zai21,241 views • 4 days ago

یہ ویڈیو 2009 کی ہے جب سوات میں آپریشن شروع ہوا، اور دیر کے علاقے اسبنڑ میں طالبان نے راج قائم کیا تھا۔ پھر ایک دن لوگ ان کی ظالمانہ حرکتوں سے تنگ آ گئے اور فیصلہ کیا کہ ہم ان وحشیوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ پولیس اور فوج موجود نہیں تھیں، تھانے خالی تھے؛ اور پھر جب عوام نے خود جواب دیا، تو علاقہ صاف ہو گیا۔ تب آرمی اور پولیس اس علاقے میں آ گئے۔ آج بھی وہاں امن قائم ہے کیونکہ دیر کے عوام نے پہلے دن سے پختہ یقین رکھا کہ اپنی مٹی پر کسی دہشت گرد یا سہولت کار کو جگہ نہیں دینی۔ یہ کمیونٹی اونیڑشپ کا وہ تاریخی ماڈل ہے جو ثابت کرتا ہے کہ امن کا قیام کسی مادی وسائل کے مرہونِ منت نہیں ہوتا، بلکہ اس کا تعلق انسانوں کے مزاج، سماجی رویے اور قومی مشران کے عزم سے ہوتا ہے۔ ہائبرڈ وارفیئر کے اس دور میں پختون دھرتی کا مستقبل دو متضاد ماڈلز کے سامنے کھڑا ہے: پہلا ماڈل: عوامی عزم اور قومی مشران کی جرات (امن کا راستہ) یہ دیر، سوات مردان چترال صوابی پشاور ، ہزارہ ڈویژن اور باجوڑ کی سلارزئی و اتمان خیل اقوام کا ماڈل ہے۔اپر دیر میں 2006 ہی سے عوام کا عزم تھا کہ کسی دہشت گرد کو نہیں چھوڑنا۔ مقامی مشران جیسے ملک جہانزیب خان، ملک بہرام خان اور ملک زرین نے روایتی لشکر کھڑے کیے، اجنبیوں کا بائیکاٹ کیا اور مٹی پاک کی۔ اسی طرح باجوڑ کی پانچ تحصیلوں (سلارزئی، اتمان خیل، خار وغیرہ) میں نامور قومی مشر شہاب الدین خان سلارزئی، بسم اللہ خان اور دیگر مشران نے ہزاروں کا قومی لشکر بنایا اور سہولت کاروں کے گھر مسمار کیے۔ سوات میں افضل خان لالا نے دھرتی چھوڑنے سے انکار کیا، بونیر میں فتح خان، اور خیبر تیراہ میں ملک خدو خیل نے لشکر سازی سے امن قائم کیا۔ مہمند میں ملک مصطفیٰ اور ملک یونس نے جانیں قربان کیں۔ یہ ماڈل ثابت کرتا ہے کہ جہاں قوم مشران کے پیچھے متحد ہو، وہاں دہشت گردی ناامید ہو جاتی ہے۔ دوسرا ماڈل: مسلط کردہ بدامنی اور فکری انتشار (تباہی کا راستہ) یہ وزیرستان، بنوں ، ٹانک ، لکی مروت ، کرم کے تحصیل صدہ خیبر کے تحصیل تیراہ اور باجوڑ کی تحصیلوں لوئے ماموند و وڑکے ماموند کا ماڈل ہے۔ ان سرحدی علاقوں میں تحریکِ طالبان نے منظم منصوبے کے تحت سب سے پہلے بااثر قبائلی مشران کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا۔ جب روایتی قبائلی ڈھانچہ ٹوٹ گیا، تو سماجی خلا پیدا ہوا اور مقامی سطح پر ملنے والی خاموش یا اعلانیہ سہولت کاری (Facilitation) کی وجہ سے بدامنی کا یہ سلسلہ طول پکڑتا گیا۔ جہاں بھی عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں اور ہمدردی میسر ہو، وہاں بڑے آپریشنز کے باوجود بدامنی کی چنگاریاں سلگتی رہتی ہیں، کیونکہ مستقل امن صرف مقامی برادری کے رویے اور اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ معدنیات کے جھوٹے بیانیے کی حقیقت اسی ہائبرڈ جنگ کے تحت یہ زہریلا پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ ریاست معدنیات پر قبضے کے لیے بدامنی پھیلاتی ہے، جبکہ معاشی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ پاکستان میں زمرد، لعل اور گرینائٹ کے سب سے قیمتی ذخائر سوات، دیر، مانسہرہ اور چترال میں ہیں، جو مکمل پرامن اور سیاحت کے گڑھ ہیں۔ ملک کو سب سے زیادہ گیس اور تیل دینے والے اضلاع کوہاٹ اور کرک پرامن ہیں۔ دوسری طرف باجوڑ کے ماموند یا خیبر کی وادی تیراہ میں معدنیات کے ذخائر موجود ہی نہیں ہیں، لیکن وہاں حالات کا خراب ہونا وسائل کی لوٹ مار نہیں بلکہ بیرونی پراکسیز (جیسے 'را'، صیہونی پشت پناہی اور افغان عبوری حکومت کے مہرے) کو ملنے والی مقامی سہولت کاری ہے۔ یہ دشمن پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، سی پیک اور گوادر پراجیکٹ کو سبوتاژ کرنے کے لیے پختون کا خون بطور ایندھن استعمال کرنا چاہتا ہے، پختونوں کو اب خود فیصلہ کرنا ہے کہ وہ بیرونی پراکسیز کا تزویراتی اثاثہ بن کر تباہی کا وزیرستان ماڈل چاہتے ہیں، یا پھر بیداری، یکجہتی اور ترقی کا وہ دیر اور سلارزئی ماڈل اپنائیں گے جہاں عوام خود اٹھ کھڑے ہو کر بدامنی کے سوداگروں کا سماجی مقاطعہ کرتے ہیں اور اپنے امن کے خود ضامن بنتے ہیں۔ اب پختونوں کا فیصلہ بالکل واضح ہونا چاہیے: دیر و سلارزئی کا غیور پختون ماڈل نہ کہ کسی کی مسلط کردہ پراکسی وار
Khadim Ali khan Yousaf zai39,935 views • 1 month ago

چار دن پہلے دشمن کا میزائل لیفٹننٹ کرنل ظہیر عباس کے گھر گرا، اور اُن کا سات سالہ معصوم بیٹا ارتضاء شہید ہو گیا۔آج اُسی مٹی پر باپ جشنِ فتح میں مسکرا رہا ہے،فوجی جوانوں کے کندھوں پر ارتضاء کے چھوٹے بہن بھائی خوشی سے جھوم رہے ہیں،یہ ہے وہ قوم جو کبھی شکست نہیں کھا سکتی!
Khadim Ali khan Yousaf zai437,431 views • 1 year ago

افغانستان وطن تو ہے، لیکن سچ پوچھیں تو ہمارا حال اس وقت یوں ہے جیسے ایک چھوٹی سی بوری میں ایک کتے کو بند کر دیا جائے، پھر اس میں دوسرا، تیسرا اور چوتھا کتا بھی ٹھونس دیا جائے۔ ہمارا دل اب اس بوری سے بھی زیادہ تنگ اور گھٹا ہوا ہے، نہ یہاں کوئی کاروبار ہے، نہ روزگار کا وسیلہ، اور نہ ہی زندگی میں کوئی رمق باقی بچی ہے۔دل ٹوٹ چکا ہے اور سانسیں دم توڑ رہی ہیں۔ نہ کاروبار کا نام و نشان ہے، نہ روزگار کا کوئی ذریعہ، اور نہ ہی زندگی کا کوئی رنگ۔ ہم وطن تو واپس لوٹ آئے ہیں، لیکن زندگی وہیں پاکستان کی سرحد پر ہی کہیں چھوٹ گئی ہے۔ پاکستان سے حال ہی میں افغانستان منتقل ہونے والے ایک مہاجر کی دردناک داستان
Khadim Ali khan Yousaf zai18,536 views • 14 days ago

یہ لائن آف کنٹرول سے چند سو میٹر دور ضلع حویلی حلقہ ایل اے-17 کا منظر ہے، جہاں مسلم لیگ (ن) کے نوجوان امیدوار چوہدری محسن عزیز کے جلسے میں امڈتے ہوئے عوامی سمندر نے دن کے اجالے میں اپنا حتمی فیصلہ سنا دیا ہے کہ ہم پاکستانی ہیں اور پاکستان ہمارا ہے۔ حویلی کے غیور عوام نے اس عظیم الشان اجتماع سے واضح کر دیا ہے کہ پونچھ ڈویژن کی عوام کا فیصلہ انتشار، بدامنی نہیں بلکہ صرف اور صرف بیلٹ پیپر، امن اور ترقی ہے۔ سرحدی لکیر کے بالکل پاس ہزاروں کشمیریوں کا یہ جوش و جذبہ ثابت کرتا ہے کہ کشمیر کا رشتہ پاکستان کے ساتھ دل اور ایمان کا رشتہ ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔ پاکستان زندہ باد 🇵🇰 کشمیر پائندہ باد ❤️
Khadim Ali khan Yousaf zai10,871 views • 10 days ago

شہادت سے قبل مشن پر روانگی کی آخری ویڈیو دہشت گردوں کے خلاف سینہ سپر، بہادر کمانڈر ایس پی اسد زبیر تین نسلوں سے یہ خاندان وردی، وفا اور قربانی کا امین رہا دادا شہاب الدین آفریدی، والد اورنگزیب آفریدی شہید ، اور بیٹا اسد زبیر شہید 24 اکتوبر کو ایس پی اسد زبیر نے اپنے خون سے اس روایت کو امر کر دیا۔ اللّٰہ ان کی روح کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین🇵🇰
Khadim Ali khan Yousaf zai174,525 views • 9 months ago

طلال چودھری کو اپنے بھائی بلال چودھری کی شاندار جیت بہت مبارک ہو ❤️
Khadim Ali khan Yousaf zai95,097 views • 8 months ago

ریئلٹی آف جنریشن Z وہ نسل جو سن 2000 کے بعد پیدا ہوئی، جنریشن زی کہلاتی ہے۔ آج ماشاءاللہ یہ نوجوان 24، 25 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہیں، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ یہ انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ کمزور، ناتواں اور نفسیاتی دباؤ کا شکار نسل بنتی جا رہی ہے۔ یہ نسل ذہنی دباؤ، اضطراب اور بے چینی میں گھری ہوئی ہے۔ جسمانی طور پر لاغر، ذہنی طور پر منتشر، اور تربیت گھر کے بزرگوں کے بجائے سوشل میڈیا سے حاصل کی گئی ہے۔ ہر وقت موبائل، اسکرین، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور فیس بک،جس کا نتیجہ گردن میں خم، آنکھوں کی کمزوری، جسم میں طاقت کی کمی اور رشتوں میں برداشت کی شدید قلت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ نہ دھوپ برداشت ہوتی ہے، نہ آدھا گھنٹہ کھڑے ہونے کی سکت، نہ پانچ کلومیٹر پیدل چلنے کی ہمت۔ جسم کمزور، ذہن منتشر اور برداشت تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔جنریشن زی کی اصل حقیقت جاننے کے لیے اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں۔
Khadim Ali khan Yousaf zai69,367 views • 7 months ago

عوامی نیشنل پارٹی کے نام نہاد دانشور ادریس خان کا یہ چیلنج کہ علامہ اقبال کی ساری اردو اور فارسی شاعری نکال لو اور اگر وہ خوشحال خان خٹک اور رحمان بابا کی چوری نہ ہو تو میں مجرم ہوں، علمی اور ادبی تاریخ کا سب سے بڑا مضحکہ خیز دعویٰ اور پرلے درجے کی جہالت ہے۔ موصوف شدید سیاسی و نظریاتی بغض کا شکار ہیں اور انہوں نے زندگی میں کبھی علم و ادب کی ہوا نہیں کھائی۔ رحمان بابا کا کلام خالصتاً صوفیانہ، درویشانہ، زہد و قناعت اور دنیا کی بے ثباتی پر مبنی ہے جبکہ خوشحال بابا کی شاعری قبائلی شجاعت، مغلوں کے خلاف جنگی ترانوں اور پختون قوم کی بیداری کے گرد گھومتی ہے۔ دوسری طرف علامہ اقبال کا شعری کینوس بالکل الگ، منفرد اور آفاقی ہے جس میں انہوں نے جرمن اور مغربی فلسفے کا رد کیا، کارل مارکس اور لینن کے اشتراکی نظریات پر بحث کی، جدید سائنسی دور میں اسلام کے اجتہادی تصور کو ابھارا اور جاوید نامہ جیسا عظیم افلاکی شاہکار لکھا۔ ادریس خان سے پوچھا جائے کہ کیا یہ مغربی فلسفے کا رد، اشتراکیت کے نظریات اور جدید دور کے سائنسی مسائل رحمان بابا یا خوشحال بابا کے ہاں موجود تھے جہاں سے اقبال نے چوری کیے؟ حقیقت یہ ہے کہ جسے یہ قوم پرست چوری کہہ رہے ہیں، وہ علم و ادب کی دنیا میں مشترکہ مآخذ کا فکری تسلسل کہلاتا ہے۔ پختونوں کے اپنے مایہ ناز محقق اور نقاد استاد جمیل یوسفزئی نے اپنی مستند تحقیق سرقہ جاتِ خوشحال خان خٹک میں یہ واضح کیا ہے کہ خوشحال بابا اور رحمان بابا کے اپنے سینکڑوں اشعار ایران کے اساتذہ جیسے حافظ شیرازی، شیخ سعدی، حکیم سنائی اور مولانا جلال الدین رومی کے افکار کا تسلسل اور ترجمانی ہیں۔ چونکہ علامہ اقبال بھی مولانا رومی کے فکری مرید تھے، اس لیے اگر اقبال اور خوشحال بابا کے چند اشعار میں باز، شاہین، غیرت یا شجاعت کی ہم خیالی پائی جاتی ہے تو وہ چوری نہیں بلکہ ایک ہی سرچشمے یعنی فارسی تصوف اور کلاسیکی ادب سے فیض یاب ہونے کا فطری نتیجہ ہے۔ علامہ اقبال کا کلام تقریباً ایک لاکھ اشعار پر مشتمل ہے جس میں قرآنی تصورات اور امتِ مسلمہ کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے، اس لیے چند اشعار کی ہم خیالی پر پوری شاعری کو چوری قرار دینا علمی بددیانتی ہے۔ ادریس خان جیسے لوگ جہاں مغرب کے نوبل پرائز کا رونا روتے ہیں، وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اقبال کا قد کتنا کاٹھ دار ہے۔ ایران میں انہیں اقبالِ لاہور کہا جاتا ہے اور وہاں کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ڈاکٹر علی شریعتی جیسے مفکرین اعتراف کرتے ہیں کہ ایران کا اسلامی انقلاب اقبال کے افکار کا مرہونِ منت ہے۔ ترکی میں مولانا رومی کے مزار کے احاطے میں علامہ اقبال کی علامتی قبر ان کی عظمت کا اعتراف ہے، جبکہ ازبکستان، تاجکستان اور وسطی ایشیا کی جامعات میں اقبال کے فلسفے پر باقاعدہ تحقیق ہوتی ہے۔ جرمنی میں دریائے نیکر کے کنارے ان کے نام پر "اقبال افر سڑک موجود ہے اور کیمبرج و آکسفورڈ میں ان کے نثری خطبات پڑھائے جاتے ہیں۔ ادریس خان جیسے رہنماؤں کو اصل تکلیف خوشحال بابا سے محبت نہیں، بلکہ ان کا اپنا سیاسی حسد ہے کیونکہ اقبال نے پشتونوں کی جس شجاعت کو اپنی شاعری میں ابھارا، اسے انہوں نے لسانی قوم پرستی کی تنگ نظری سے نکال کر پورے عالمِ اسلام کا ہیرو بنا دیا، جس کی وجہ سے ان قوم پرستوں کی محدود سیاسی دکان خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ ادریس خان صاحب، اقبال کا شاہین آپ جیسے چھوٹے سیاسی بونوں کی تصدیق یا تردید کا محتاج نہیں، وہ ہمیشہ فکری بلندیوں پر پرواز کرتا رہے گا اور آپ کی یہ علمی پستی تاریخ کے کوڑے دان کا حصہ بن جائے گی۔
Khadim Ali khan Yousaf zai31,704 views • 3 months ago

آپ کے پاس افغانستان کا جھنڈا ہے ؟ یہ یہاں سے ہٹا دو ، تم جرات کرسکتے ہو افغانستان میں پاکستان کا جھنڈا لگا سکتے ہو ،گیلامن کی میت کے استقبال کے لئے آئے ہوئے لوگوں کیساتھ پولیس آفیسر کا مکالمہ اس فرض شناس اور جراتمند پولیس آفیسرکو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ، تیری جرات کو سلام
Khadim Ali khan Yousaf zai154,490 views • 2 years ago

مجھے روکو، میں تو مریم نواز کے کام بتا رہی ہوں،
Khadim Ali khan Yousaf zai45,764 views • 5 months ago

میں نے فیصل آباد سے پی ٹی آئی کے ایم این اے نثار جٹ سے پوچھا کہ آپ بتائیں، آپ کی پارٹی کے 13 سال سے خیبر پختونخوا میں حکومت ہے، اس عرصے میں صحت، تعلیم، امن، روزگار اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے کیا کام ہوا؟ نثار جٹ صاحب نے کہا، میں پشاور کا نہیں ہوں۔ میں نے کہا، چلو پھر عثمان بزدار کے دور کا بتائیں، تو انہوں نے کہا، وہ غیر سنجیدہ آدمی تھا۔ پھر میں نے کہا، چلو عمران خان کا بتائیں، 25 ہزار ارب کا قرضہ لیا، ان کا کوئی قابل ذکر کام بتائیں، پرویز خٹک اور محمود خان کا بتائیں، تو جواب میں خود وہ کہنے لگے: کام تو نہیں ہوا۔
Khadim Ali khan Yousaf zai48,447 views • 6 months ago

اگر راولپنڈی نالہ لئی پر سنجیدہ اور منصوبہ بندی کے ساتھ توجہ دی جائے تو یہ بدصورتی اور خطرے کی علامت نہیں بلکہ خوبصورتی اور ترقی کی مثال بن سکتا ہے۔ درست منصوبہ بندی، صفائی، کشادگی اور اطراف کی خوبصورتی کے بعد یہی نالہ شہری ماحول کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔اس منصوبے کے لیے مریم نواز کی خصوصی توجہ ناگزیر ہے، اگر اس تاریخی اور اہم مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں تو یہ ایک بڑا عوامی اور دیرپا کارنامہ ثابت ہو سکتا ہے۔
Khadim Ali khan Yousaf zai44,648 views • 5 months ago