
Arbaz Raza Bhutta
@ArbazReza01 • 26,397 subscribers
Journalist @ExpressNewsPK | Opinion Writer @TFT_
Shorts
Videos

🚨"پاکستان کے اندر لال مرچوں کے حوالے سے ایک تشویش ناک رپورٹ سامنے آئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بعض لال مرچوں میں ایسے زہریلے (Toxic) اور کینسر پیدا کرنے والے (Carcinogenic) عناصر پائے گئے ہیں جن کی وجہ سے یورپی ممالک نے ان کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، جو مرچیں یورپ میں فروخت کی اجازت نہیں رکھتیں، ان میں سے بعض پیکٹس پر "Only to be used in Pakistan" درج ہوتا ہے، اور یہی مرچیں پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں فروخت کی جا رہی ہیں۔" سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین Amir Mateen
Arbaz Raza Bhutta101,424 просмотров • 26 дней назад

🚨"وزیر داخلہ محسن نقوی صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے، شہباز شریف 12 سے 14 گھنٹے محنت کرتے ہیں، چاہے وہ 18 گھنٹے بھی کام کر لیں، اس سے کچھ نہیں ہونے والا۔ جب تک نظام نہیں بدلے گا، خاص طور پر انتظامی نظام میں تبدیلی نہیں آئے گی، اس وقت تک بہتری ممکن نہیں۔ محسن نقوی صاحب نے ایک طرف شہباز شریف صاحب کی تعریف بھی کر دی اور ٹانگ بھی کھینچ دی ہے کہ یہ دکھاوا زیادہ ہے اس سے کچھ بننے والا نہیں ہے" سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین صاحب Amir Mateen
Arbaz Raza Bhutta36,493 просмотров • 9 дней назад

"مجھ سے لکھ لیجیے کہ تحریک انصاف اگر دوبارہ اقتدار میں آئی اور عمران خان صاحب جب بھی اقتدار میں آئے، اگر اللہ نے ان کی قسمت میں لکھا ہے، تو جو کچھ ان کے ساتھ ہوا ہے انہوں نے کم از کم دو سے ضرب دینی ہے۔ وہ کہیں گے میرے ساتھ یہ ہوا تھا، ان کے ساتھ یہ کرو۔ میرے فلانے کے ساتھ یہ ہوا تھا، ان کے ساتھ یہ کرو۔ اس معاملے میں کوئی ابہام نہیں ہے، انہوں نے کسی کو ریلیف دینا ہی نہیں ہے۔ بالکل صاف بات ہے کہ جو کچھ میرے ساتھ کیا ہے وہ آپ کے ساتھ ہوگا۔ یہ بالکل واضح ہے، لہذا اس بات کو سب ذہن میں رکھیں اور مان کے چلیں۔" منیب فاروق Muneeb Farooq
Arbaz Raza Bhutta108,126 просмотров • 1 месяц назад

لوگوں نے نصرت جاوید صاحب کو بہت فون کیے اور ان سے پوچھا کہ "یہ کیا ہے جو سہیل وڑائچ صاحب نے کہا ہے کہ جولائی سے نظام زوال کا شکار ہو جائے گا؟ کیا آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں؟" نصرت جاوید صاحب کہتے ہیں کہ وہ جس دکان پر جاتے ہیں، چاہے کریانے کی ہو یا بیکری کی، ہر دکاندار یہی کہتا ہے کہ کاروبار مسلسل مندی کا شکار ہے۔ ایف-8 جیسے پوش علاقے میں، جہاں پہلے کئی پھولوں کی دکانیں تھیں، اب صرف ایک دکان باقی رہ گئی ہے، اور وہ بھی بند ہونے کا سوچ رہی ہے کیونکہ پھول نہیں بکتے۔ پھر انہوں نے اپنے فارم ہاؤس کے علاقے کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتایا ہیں کہ لوگ عیدالاضحیٰ پر بکرے بیچ کر سال بھر کی کمائی کا ایک اہم حصہ حاصل کرتے تھے، مگر اس بار وہ پریشان تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ تو بکرے مناسب تعداد میں بکے اور نہ ہی ایسی قیمت ملی جس سے منافع ہو، بلکہ کئی لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑا۔ اسد علی طور Nusrat Javeed Asad Ali Toor
Arbaz Raza Bhutta113,033 просмотров • 1 месяц назад

نواز شریف کشمیر میں تقریر کرتے ہوئے بہت کیوٹ لگے، انہوں نے کہا کہ اگر ہم جیت گئے تو شہباز صاحب کو کہوں گا کہ وزیراعظم مجھے بنائیں۔ اورنگزیب نے اپنے والد شاہ جہاں کو قید کر لیا تھا تو شاہ جہاں کہنے لگے کہ میری تنہائی کم کرنے کے لئے کچھ بچے بھیج دو میں انہیں پڑھا دیا کروں گا۔ اسی طرح دشمنانِ نواز شریف اس کیوٹ بات کو اسی طرح پروجیکٹ کر رہے ہیں کہ شاہ جہاں کی طرح موصوف کی بھی خوئے سلطانی نہیں جارہی۔ سینئر صحافی و تجزیہ نصرت جاوید
Arbaz Raza Bhutta38,332 просмотров • 18 дней назад

🚨مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ لاہور کی ایک معروف نجی سوسائٹی میں مالک مکان ملازمہ کو گھر کے اندر بند کر کے چلا گیا۔ رات گئے اس کے جانے کے بعد گھر میں سے آوازیں باہر آئیں کہ مجھ پر ظلم کرتے ہیں، یہاں مجھے کیڑے مکوڑے کاٹتے ہیں۔ اہلِ علاقہ نے چیخوں کو سن کر مشکل سے بچی کو گھر سے نکال لیا۔ اللّٰہ معاف کرے اس معصوم بچی کی چیخیں کس کرب اور اذیت سے ہوں گی جس کو ایسے حالات میں رکھا گیا۔ ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ ہی کہہ لیں کہ ہم سامنے والے غریب کے بچے کو انسان نہیں سمجھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جیسے کیڑے مکوڑے جانتے ہیں کہ یہ غریب ہیں انہیں نہیں کاٹنا یا پھر ان کو اگر کسی نے کاث بھی لیا تو کُچھ نہیں ہو گا۔ یہی نام نہاد چند پیسے والے لوگ اپنے بچوں کا کتنا خیال کرتے ہیں آپ نے اردگرد دیکھا ہی ہو گا۔ یہ ظلم ہے، یہ بچے بھی اسی طرح نازک ہیں جیسے آپ کے بچے ہیں۔ اگر اس دنیا میں یہاں سے بچ بھی نکلے تو اگلے جہان میں اس رابِ ذوالجلال کی عدالت میں پیش ہونا ہو گا جس کے ہاں سب برابر ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر برتری حاصل نہیں ہے۔ وہاں پھر حساب دینا ہی پڑے گا۔
Arbaz Raza Bhutta109,849 просмотров • 2 месяцев назад

"فیصل واڈا صاحب کے بارے میں بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ لانچ کرتی ہے۔ یہ بات درست نہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کے قریب ضرور ہیں، لیکن جو باتیں وہ کرتے ہیں وہ اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر نہیں کرتے۔ فیصل واڈا صاحب ایک آزاد شخصیت ہیں، ان کا اپنا ذہنی رجحان ہے اور اپنی سوچ ہے۔ انہیں یہ حکومت پسند نہیں، وزیراعظم صاحب سے ان کا اختلاف ہے۔ اور میں آپ کو خبر کے طور پر بھی بتا رہا ہوں کہ وزیراعظم صاحب بھی واڈا صاحب کے بارے میں کوئی اچھے جذبات نہیں رکھتے، اور حکومت بھی نہیں رکھتی۔ لیکن کوئی انہیں لانچ نہیں کرتا کہ آئیں اور اس حکومت کی ایسی تیسی کریں۔ جب وہ حکومت کی برائیاں کرتے ہیں تو یہ ان کی اپنی ذاتی رائے ہوتی ہے۔ منیب فاروق Muneeb Farooq
Arbaz Raza Bhutta81,772 просмотров • 1 месяц назад

🚨"شوگر کین بنیادی طور پر ساحلی علاقوں کی فصل ہے۔ اس میں موجود سکروز سے چینی بنتی ہے، اور ساحلی علاقوں میں اگنے والے گنے میں سکروز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ جوں جوں آپ ساحل سے دور اور شمال کی طرف جاتے ہیں، سکروز کی مقدار کم ہوتی جاتی ہے۔ میری رائے میں پاکستان میں شوگر کین کی کاشت صرف چند اضلاع، مثلاً ٹھٹھہ، بدین اور سجاول تک محدود ہونی چاہیے۔ اسی طرح شوگر ملیں بھی انہی علاقوں میں ہونی چاہئیں۔ جب شوگر کی پیداوار بڑھتی ہے تو حکومت اسے ترقی کا نام دیتی ہے، حالانکہ یہ حقیقی ترقی نہیں بلکہ معیشت کے لیے نقصان دہ عمل ہے۔ اس میں حکومت کے خزانے سے پیسہ نکلتا ہے، اور دراصل وہ عوام کی جیب سے نکالا گیا پیسہ ہوتا ہے جو شوگر مل مالکان کو منتقل کیا جاتا ہے۔ لہٰذا صرف اعداد و شمار کو دیکھ کر ترقی کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں دوبارہ یہ طے کرنا ہوگا کہ ترقی دراصل ہوتی کیا ہے۔ پاکستان کے ابتدائی تیس برسوں میں، چاہے حکومت فوجی ہو یا سویلین، ایک واضح قومی وژن موجود تھا کہ ملک کو کس سمت لے جانا ہے اور ترقی کا ماڈل کیا ہوگا۔ انہی برسوں میں نمایاں پیش رفت بھی ہوئی۔ آج مسئلہ یہ ہے کہ ایسا کوئی واضح وژن نظر نہیں آتا۔ اب زیادہ زور اس بات پر ہے کہ وسائل اور مراعات طاقتور طبقات میں تقسیم کر دی جائیں اور پھر اعداد و شمار کے ذریعے یہ تاثر دیا جائے کہ ملک میں بہت ترقی ہو رہی ہے، جبکہ حقیقت اس سے مختلف ہے۔" ڈاکٹر قیصر بنگالی ماہر معاشیات
Arbaz Raza Bhutta86,434 просмотров • 2 месяцев назад

🚨"میں نے خان صاحب سے پوچھا کہ آپ کی سیاست کا مقصد کیا ہے؟ خان صاحب، آپ تو وزیراعظم بن گئے، اگر یہی آپ کی خواہش تھی تو وہ پوری ہو چکی۔ اب ستمبر 2022 میں آپ سیاست کو کیوں جاری رکھنا چاہتے ہیں؟ اس پر خان صاحب نے بالکل یہی بات کہی۔ انہوں نے کہا، "دیکھو، یہ ملک ایک ایسی نہج پر کھڑا ہے جہاں بے شمار تضادات موجود ہیں۔ غریب اور امیر کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے، مسلکی تقسیم موجود ہے، خیبر پختونخوا میں جو صورتحال ہے، جو بدحالی ہے، جو بدامنی ہے، اور وہاں کے لوگوں کے جو جذبات ہیں، اگر میں نہیں ہوں گا تو یہ لوگ نسلی سیاست کی طرف راغب ہو جائیں گے۔" سلمان اکرم راجہ salman akram raja Mujahid Hussain
Arbaz Raza Bhutta65,334 просмотров • 1 месяц назад

🚨لاہور میں افسوسناک واقعہ University of Management and Technology کے قریب ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں مبینہ طور پر کرایہ نہ دینے پر ایک طالبہ کو ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ طالبہ کو بار بار ہاسٹل سے نکالنے کی دھمکیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ اسے سامان سمیت باہر پھینک دیا جائے گا۔ طالبہ نے صرف دو دن کی مہلت مانگی، مگر الزام ہے کہ ہاسٹل انتظامیہ نے اس کے گھر والوں کو بلا کر صورتحال مزید کشیدہ کر دی۔ بعد ازاں والد کی جانب سے بھی مبینہ تشدد اور گالم گلوچ کی گئی، جبکہ طالبہ کے کپڑے تک پھاڑ دیے گئے۔ شدید ذہنی دباؤ اور تذلیل سے دلبرداشتہ ہو کر طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کی کوشش کی۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں اس نوعیت کا افسوسناک واقعہ کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ کیا طالبات کے لیے نجی ہاسٹلز محفوظ ہیں؟ اور کیا انتظامیہ کو انسانی وقار کا خیال نہیں رکھنا چاہیے Maryam Nawaz Sharif Azma Zahid Bokhari Hina Parvez Butt #Lahore
Arbaz Raza Bhutta96,972 просмотров • 2 месяцев назад

🚨"یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملک ریاض کے ذاتی ڈرائیور ماجد حال ہی میں ان کی والدہ کا انتقال ہوا، جس پر وہ پاکستان آئے تاکہ جنازے میں شرکت کر سکیں۔ اطلاعات کے مطابق والدہ کے جنازے اور دیگر رسومات کے بعد جب ماجد واپس دبئی روانہ ہونے کے لیے ایئرپورٹ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا ویزا پاکستان آمد کے بعد دبئی حکام کی جانب سے منسوخ کر دیا گیا ہے، لہٰذا وہ سفر نہیں کر سکتے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اس سے بیرونِ ملک، خصوصاً متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں میں تشویش پیدا ہونا فطری ہے۔ اس وقت تقریباً 15 سے 18 لاکھ پاکستانی یو اے ای میں ملازمت، کاروبار اور دیگر شعبوں سے وابستہ ہیں اور اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں۔" اسد طور Asad Ali Toor
Arbaz Raza Bhutta75,940 просмотров • 2 месяцев назад

🚨 ایک خفیہ کیمرے سے حاصل ہونے والی ویڈیو، جو ایک مبینہ مخبر جاسوس کے سینے پر نصب تھا، حقیقی وقت میں یہ دکھاتی ہے کہ 14 دسمبر 2025 کو غزہ کے اندر ایک ہدفی کارروائی کس طرح منظم کی گئی۔ الجزیرہ کی تحقیق، جسے تیمر المشعل نے پیش کیا، اس پورے آپریشن کی تفصیل سامنے لاتی ہے: دو افراد کو شوکی ابو نصیرہ ملیشیا (جسے "پیپلز آرمی" بھی کہا جاتا ہے) میں شامل کیا گیا، انہیں کرم شالوم کراسنگ لے جایا گیا، جہاں انہیں ایک اسرائیلی افسر کے حوالے کیا گیا۔ بعد ازاں انہیں ایک فوجی اڈے پر اسلحہ استعمال کرنے اور الیکٹرک سائیکل چلانے کی تربیت دی گئی، خفیہ کیمرے فراہم کیے گئے، اور پھر خاموش گلاک پستولوں اور ڈرون نگرانی کے ساتھ واپس غزہ بھیج دیا گیا تاکہ وہ گلیوں میں رہنمائی حاصل کرتے ہوئے اپنے ہدف تک پہنچ سکیں۔ ان کا ہدف احمد عبدالباری زمزم تھا، جو غزہ کے وسطی علاقے میں داخلی سیکیورٹی کے نائب ڈائریکٹر تھے، اور جنہیں مبینہ طور پر مخبری کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کرنے اور ختم کرنے کا ذمہ دار سمجھا جاتا تھا۔ اس ملیشیا کی قیادت سابق فلسطینی اتھارٹی کے ایک سیکیورٹی افسر شوکی ابو نصیرہ کے پاس ہے، جو اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ اپنے تعلق کو "مضبوط اور گہری دوستی" قرار دیتے ہیں۔ اس گروہ کی سرگرمیاں صرف ہدفی کارروائیوں تک محدود نہیں بلکہ امدادی ٹرکوں پر چھاپے مارنا، سرنگوں کی نشاندہی کرنا، مطلوب افراد کو پکڑنا اور انہیں حوالے کرنا، اور لاشوں کی بے حرمتی جیسے اقدامات بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔ اس کارروائی کے بعد ایک اہلکار اس وقت گرفتار ہو گیا جب اسرائیلی افسر سے اس کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا، جبکہ دوسرا فرار ہو کر اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں واپس چلا گیا۔" Courtesy: Al Jazeera English
Arbaz Raza Bhutta134,387 просмотров • 4 месяцев назад

🚨"میں نے چند دن پہلے ایک ٹویٹ کی تھی کہ عام آدمی سولر پر بجلی خود بنا رہا ہے اور آہستہ آہستہ آف گرڈ ہوتا جا رہا ہے۔ پانی وہ موٹر لگا کر خود نکالتا ہے۔ ہیلتھ اور ایجوکیشن بھی زیادہ تر پرائیویٹ سیکٹر میں چلی گئی ہے۔ چوکیدار بھی اپنا ہے۔ کوئی بھی بنیادی سروسز نہیں ہیں۔ سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، اور جو موٹرویز ہیں وہاں اشرافیہ کے لیے ٹول بہت زیادہ ہے۔ تو یہ جو ہم 100 ٹریلین کے ٹیکسز اور قرضوں کی بات کرتے ہیں، وہ تو اس سے بھی آگے جا رہا ہے۔ تو عام آدمی کا یہ جائز سوال نہیں ہے کہ یہ سب ہم کس لیے دے رہے ہیں، کیوں دے رہے ہیں، اور کس کو دے رہے ہیں؟" سینئر صحافی و تجزیہ نگار عامر متین صاحب Amir Mateen Haroon Sharif
Arbaz Raza Bhutta64,980 просмотров • 1 месяц назад

🚨" کراچی سے تعلق رکھنے والے ایک بااثر میمن خاندان کے دو امیدوار CSS کے تحریری امتحان میں غیر معمولی طور پر ٹاپر بن کر سامنے آئے۔ تاہم جب وہ فائنل انٹرویو میں پیش ہوئے تو ان کی کارکردگی اور تحریری امتحان کے نتائج میں واضح تضاد نظر آیا، جس پر انٹرویو پینل کو شدید شک ہوا۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے تحقیقات کا حکم دیا۔ انکوائری میں یہ الزام سامنے آیا کہ کمیشن کے بعض ملازمین اور سندھ بیوروکریسی کے چند افسران کی مبینہ ملی بھگت سے امتحانی ریکارڈ میں ردوبدل کیا گیا، متعدد جوابی شیٹس تبدیل کی گئیں اور امیدواروں کو غیر قانونی فائدہ پہنچایا گیا۔ بعد ازاں کیس ایف آئی اے کو بھیجا گیا، مقدمات درج ہوئے، گرفتاریاں ہوئیں اور بعض ملازمین کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی گئی۔ تاہم کئی سال تک کیس چلنے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ ایف پی ایس سی اور ایف آئی اے کی تحقیقات میں سنگین خامیاں موجود تھیں۔ انہی نقائص کی بنیاد پر متعلقہ ملازمین اور دونوں امیدواروں کو ریلیف مل گیا اور انہیں ایک طرح سے کلین چٹ حاصل ہو گئی، حالانکہ یہی امیدوار ماضی میں مبینہ طور پر سی ایس ایس امتحان میں بڑے فراڈ کے مرکزی کردار سمجھے جاتے تھے۔" سینئر صحافی زاہد گشکوری Zahid Gishkori
Arbaz Raza Bhutta57,708 просмотров • 1 месяц назад

🚨"معروف صحافی انا کسپاریان نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کے نوجوان، چاہے وہ کسی بھی سیاسی نظریے سے تعلق رکھتے ہوں، اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے وہاں ہونے والے مظالم دیکھے ہیں۔ اخلاقی ضمیر غالب آ رہا ہے۔"
Arbaz Raza Bhutta99,689 просмотров • 3 месяцев назад

🚨"جب میں وزیرِ خزانہ تھا تو بلاول بھٹو نے جتنی حمایت دی اتنی شاید کسی اور نے نہیں دی۔ وہ اکثر بتاتے تھے کہ فلاں جگہ یہ بات ہوئی، اس مسئلے کو اس طرح درست کر لیں۔ سیاسی سطح پر بلاول واقعی بہت فعال تھے۔ ایک موقع پر کئی ممالک کے صدور جمع تھے۔ اکثر صدور شہباز شریف سے ملتے تو نواز شریف کا ذکر چھیڑ دیتے "آپ کے بھائی کیسے ہیں؟" لیکن جب بلاول سے ملتے تو انداز بالکل مختلف ہوتا۔ گلے لگاتے اور کہتے "میں آپ کی والدہ کو جانتا تھا" اور پھر کئی منٹ بے نظیر بھٹو کا ذکر کرتے رہتے۔ بھٹو خاندان کا ایک عالمی وزن ہے۔ خاص طور پر وہ رہنما جو دو دہائیوں سے سیاست میں ہیں، وہ بے نظیر کو ذاتی طور پر جانتے تھے۔ سرتاج عزیز صاحب نہایت باصلاحیت تھے، لیکن ان کے پاس وہ خاندانی وراثت نہیں تھی کہ دنیا کے رہنما ملتے ہی گلے لگاتے۔ یہی فرق بھٹو خاندان کی سیاسی وراثت بلاول کو فراہم کرتی ہے۔" مفتاح اسماعیل Miftah Ismail Bilawal Bhutto Zardari
Arbaz Raza Bhutta40,341 просмотров • 1 месяц назад

🚨"میں ایک دفعہ انگلینڈ گیا تو وہاں معلوم ہوا کہ نئے موبائل ٹاورز کی تنصیب پر عدالت نے پابندی لگا دی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ ایک بزرگ خاتون نے عدالت میں درخواست دائر کی کہ یہ خوفناک شکل کے بڑے بڑے ٹاورز ان پر ذہنی دباؤ ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد وہاں ٹاورز کے ڈیزائن ہی تبدیل کر دیے گئے۔ اب وہ درختوں کی شکل میں یا ماحول سے ہم آہنگ دوسرے انداز میں بنائے جاتے ہیں تاکہ شہریوں کو ناگوار محسوس نہ ہوں۔ اور ایک ہم ہیں کہ ان ٹاورز کے لیے عوام کے گھر گرانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ گھر گرانا تو ایک طرف، بعض جگہوں پر لوگوں کی املاک پر قبضے تک کی باتیں ہو رہی ہیں۔ جس قیادت، جس لیڈرشپ یا جس سیاسی جماعت کی سوچ اس نہج پر پہنچ جائے، اسے آپ عوامی خدمت یا قومی مفاد کا نام نہیں دے سکتے۔ ایسے رویے کو تو صرف جبر اور طاقت کے استعمال کی سیاست ہی کہا جا سکتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کا پاکستان کے عوام اور ان کے حقوق سے کوئی حقیقی تعلق ہی نہیں ہے۔" محمد علی درانی Muhammad Ali Durrani Official Amir Mateen Muhammad Ali Durrani
Arbaz Raza Bhutta33,569 просмотров • 1 месяц назад

پاکستان کا سب سے بڑا "سفید ہاتھی" پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام ہے جس میں وفاق اور چاروں صوبے مل کر تقریباً 4 کھرب روپے خرچ کرتے ہیں۔ سڑکیں، اسپتال، اسکول یہ سب اسی مد میں آتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ پیسہ اصل کام پر نہیں لگتا۔ پہلے ٹھیکیدار 20 فیصد لے جاتا ہے، پھر ایم این اے اور ایم پی اے کا حصہ، پھر بیوروکریسی کا حصہ، جب یہ سب کٹ جاتا ہے تو اصل کام کے لیے کچھ بچتا ہی نہیں۔ یہ محض بدعنوانی نہیں، یہ ایک مکمل نظام بن چکا ہے جس میں ایم این ایز، وزراء، ٹھیکیدار اور بیوروکریسی سب شامل ہیں اور سب اپنا اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ سینئر صحافی و تجزیہ نگار نجم سیٹھی Najam Sethi Syeda Ayesha Naz
Arbaz Raza Bhutta40,681 просмотров • 1 месяц назад