
Tanveer Awan
@hTanveerAwan • 185,111 subscribers
Journalist | Political Reporter | Online News Agency | Blogger | Writer | ex Dunya News | Ummat
Shorts
Videos

ڈیرہ غازی خان میں اس خاتون نے حاضر سروس SHO پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا، کئی ہفتے مقدمہ درج نہ ہونے کی شکایت کی، آر پی او کے سامنے پہنچنے اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دفعہ 376 کی ایف آئی آر درج ہوئی، اور چند ہفتوں بعد یہی خاتون خود سائبر کرائم کیس میں گرفتار ہوکر جیل پہنچ گئی۔ اب یہ نہ صرف اصل ملزم بلکہ پولیس اور NCCIA کے پورے طریقۂ کار پر سوال اٹھا رہی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی فریال تبسم کی ویڈیو وائرل ہے۔ معاملہ صرف ایک وائرل الزام نہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق حاضر سروس پولیس انسپکٹر ابرار برمانی کے خلاف فریال کی مدعیت میں FIR 767/26، دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔ لیکن اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ فریال کا الزام ہے کہ انہوں نے تقریباً 25 دن میں چار درخواستیں دیں مگر FIR درج نہیں ہوئی۔ پھر وہ RPO ڈی جی خان محمد اظہر اکرم کی کھلی کچہری میں پہنچیں، ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور اس کے بعد مقدمہ درج ہوا۔ فریال اب الزام لگا رہی ہیں کہ کچھ پولیس افسران نے ابرار برمانی کو ثبوت ضائع کرنے کا موقع دیا، Safe City/CCTV ریکارڈ چھپایا گیا اور تفتیشی افسر نے بروقت Medical/DNA کے عمل میں رکاوٹ ڈالی۔ یہ سنگین الزامات ہیں، ابھی ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ 22 جون کو NCCIA Multan FIR 102/2026 سامنے آتی ہے اور 24 جون کے قریب فریال خود سائبر کرائم کیس میں گرفتار ہو جاتی ہیں۔ دستیاب سوشل میڈیا ریکارڈ اس مقدمے کو بھی ابرار برمانی کی شکایت سے جوڑتا ہے۔ فریال کا الزام ہے کہ انہیں باقاعدہ طریقۂ کار کے بجائے ابرار کے بھائی نے گاڑی میں بٹھایا، بعد میں NCCIA کے حوالے کیا گیا، دوران حراست تشدد ہوا اور ان کے موبائل میں موجود ڈیجیٹل ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ ان الزامات کی بھی ابھی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ فریال تقریباً 32 دن جیل رہنے کے بعد ضمانت پر باہر آئیں۔ چند ریکارڈ فوراً سامنے آنے چاہئیں Medical/DNA، CCTV، arrest memo، remand orders اور mobile forensic record۔ اصل سوال بہت سادہ ہے اگر فریال کے الزامات غلط ہیں تو سرکاری ریکارڈ انہیں غلط ثابت کردے گا۔ اور اگر ایک rape complainant کی FIR میں واقعی تاخیر ہوئی، ثبوت محفوظ نہیں کیے گئے اور بعد میں اسی خاتون کے خلاف ملزم کی شکایت پر کارروائی ہوئی تو یہ انتہائی سنجیدہ institutional matter ہے۔
Tanveer Awan218,819 görüntüleme • 9 gün önce

اس حیوان نے آیت نور سے کہا کہ تمہیں تمہارے ابو بلارہے ہیں اور دیکھیں کہ وہ معصوم بچی کیسے دوڑتے ہوئے جارہی ہے ۔ یہ حیوان حسن سدوزئی اسی علاقے میں رہتا تھا اور اسی کی نشاندہی پر بچی کی لاش کنویں سے ملی ۔ یہ اس جرم میں پوری طرح شریک ہے ۔ اس کو صرف بچہ ہونے کی وجہ سے رعایت نہیں ملنی چاہیے بلکہ آیت نور جیسے کیسز میں عام رائج قوانین سے ہٹ کر خصوصی فیصلے ہونے چاہئیں #JusticeForAyatNoor
Tanveer Awan193,388 görüntüleme • 14 gün önce
0:42
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

یہ سعودی عرب میں ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے ۔ پاکستانی دیگر مزدور احتجاج کررہے ہیں ۔ یہ لوگ پانچ چھ سالوں سے گھروں کو نہیں جاسکے ۔ بعض کو 15 مہینے اور اکثر کو دو سالوں سے تنخواہ بھی نہیں ملی ۔ اقامہ ایکسپائر ہوچکا ہے اور یہ ان کو خروج بھی نہیں دے رہے ۔ یہ پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں لیکن نہیں آسکتے ۔ کام بھی نہیں ہے ۔ اور حساب بھی نہیں دے رہے ۔ ان مزدوروں میں 600 پاکستانی بھی شامل ہیں ۔ یہ مزدور بہت زیادہ پریشان ہیں کمپنی کا نام ہے ABV Rock Group Ltd. Compqny Riyadh / Jeddah, Saudi Arabia
Tanveer Awan61,278 görüntüleme • 7 gün önce

میری اطلاعات کے مطابق جیل میں آیت نور کے ملزمان خوش اور مطمئن ہیں ۔ ان سے کہا گیا ہے کہ ہفتے ڈیڑھ میں راضی نامہ ہوجائے گا ۔ ملزمان کے والدین آیت نور کے والد کے گھر بھی گئے ہیں ۔ جبکہ ایم این اے بابر نواز کا یہ بیان ہری پور میں زبان زد عام ہوچکا ہے کہ آیت نور کیساتھ زیادتی ہوئی ہی نہیں ۔ بچی چار روز تک کنویں کے اندر زندہ رہی ۔ انہوں نے ڈی این اے رپورٹ کا حوالہ دیا ہے گوکہ بعد میں انہوں نے اپنے بیان کی تردید کردی ۔ وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی Sohail Afridi صاحب KP Police Yar Muhammad Khan Niazi ہم سب کی بچیاں ہیں ۔ اس معاملے کو کرائم برانچ کو دیں ۔ ہری پور کی پولیس نے جو تفتیش کی ہے ۔ اس کی بنیاد پر کبھی انصاف نہیں ہوگا اور یہ کیس خراب ہوچکا ہے یا کردیا گیا ہے ۔ کرائم برانچ اس کیس کی از سرے نو تفتیش کرے ۔
Tanveer Awan52,886 görüntüleme • 6 gün önce

آیت نور 10 اگست کو لاپتہ ہوئی ۔ ایس پی ثمینہ ظفر نے 17 اگست کو سرچ آپریشن کا آغاز کیا بقول ان کے۔ جبکہ آیت نور کی لاش گھر سے ایک فرلانگ تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر کنویں میں موجود تھی ۔ لیکن یہ کہتی ہیں کہ انہوں نے پہاڑ اور غاریں بھی سرچ کیں ۔ حالانکہ پٹھان کالونی میں آیت نور کے گھر کے اریب قریب کئی کلو میٹر تک کوئی غار یا پہاڑ نہیں ہے ۔ جہاں سے لاش ملی وہ کنواں یونیورسٹی روڈ کے لنک روڈ پر، ایک ویئر ہاؤس کے قریب خالی پلاٹ میں تھا۔ جس کا چپہ چپہ پولیس کو پہلے دن ہی سرچ کرنا چاہیے تھا ۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ پولیس نے 400 اہلکاروں کی موجودگی کے دعوے کیساتھ کیسا سرچ آپریشن کیا ہوگا ۔
Tanveer Awan27,848 görüntüleme • 3 gün önce

یہ لاپتہ بچی آیت نور کے والد ہیں جو بتارہے ہیں کہ ان کی بچی ان کھلونوں سے کھیلتی تھی اس چارپائی پر سوتی تھی اس آواز میں کتنا درد ہے کتنا کرب ہے ۔ 5 سال کی معصوم بچی 14 روز سے لاپتہ ہے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ والدین پر کیا گزر رہی ہوگی۔ ملزمان پکڑے گئے لیکن بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا #JusticeForAyatNoor
Tanveer Awan133,191 görüntüleme • 18 gün önce

یہ لوگ مری سے براستہ ایکسپریس وے اسلام اباد کی طرف سفر کر رہے تھے ایک گاڑی نے ان کو ہٹ کرنے کی کوشش کی ۔ ڈرائیور نشے میں دھت تھا ۔ آگے جاکر اس نے گاڑی درمیان سڑک میں روک دی اور پسٹل لیکر نیچے اترا ۔ اس گاڑی والے کو گالیاں دیتا ہوا آگے بڑھنے لگا ۔ ان لوگوں نے گاڑی کو ریورس کرکے اپنی جان بچائی ۔ ان لوگوں نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیو اپلوڈ کردی
Tanveer Awan279,558 görüntüleme • 1 ay önce

لاہور فیروزپور روڈ گجومتہ میٹروبس اسٹیشن پر کچھ لوگ عوام کو بیوقوف بنا کر پیسہ کما رہے ہیں۔ جس شخص نے ویڈیو بنائی ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کو ایسے بلاتے ہیں جیسے یہ لوگ اللہ کی راہ میں سبیل بانٹ رہے ہوں، گرمی کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سبیل لگی ہوئی ہے ۔ جب لوگ شربت پی لیتے ہیں تو ان سے پیسے مانگتے ہیں ۔ ایک بندے کی جیب میں پیسے نہیں تھے تو اس سے آن لائن ٹرانسفر کروائے ۔
Tanveer Awan241,387 görüntüleme • 1 ay önce

مجھے یہ ویڈیوز سعودی عرب سے پاکستانی مزدوروں نے بھیجی ہیں ۔ ان مزدوروں کے مطابق یہ لوگ سعودی عرب کی معروف کمپنی "شرکہ بیتور" (Baytur Company) میں گزشتہ 11 سالوں سے ا کام کررہے تھے ۔ گزشتہ 15 مہینوں سے ان کو تنخواہ نہیں ملی ۔ ایک ماہ سے کمپنی نے کھانا پینا بند کردیا اور اب پنچواں روز ہے جب کمپنی نے ان کو رہائشی کیمپوں سے باہر نکال دیا ہے ۔ پاکستانی مزدوروں کا بتانا ہے کہ اس وقت وہ مکہ مکرمہ کے علاقے "نوزہ کیمپ" میں ہیں ، جہاں کمپنی کے مینیجرز اور اعلیٰ حکام رہائش پذیر ہیں، لیکن وہ لوگ بھی ان کی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ اس وقت یہ محنت کش شدید گرمی کے موسم میں، بغیر کسی اے سی کے، کھلے آسمان تلے فرش پر بھوکے پیاسے سونے پر مجبور ہیں، اور ان کا کوئی پُرساںِ حال نہیں ہے۔ حکومتِ پاکستان، خاص طور پر وزارتِ خارجہ، سعودی عرب میں قائم پاکستانی سفارت خانے اور سعودی حکومت سے اپیل ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر معاملے کا نوٹس لیا جائے اور ان کو بقایا جات بھی دلوائے جائیں اور باعزت طریقے سے پاکستان لایا جائے ۔
Tanveer Awan78,423 görüntüleme • 12 gün önce

ہری پور کا مقامی صحافی بتارہا ہے کہ لاپتہ بچی آیت نور کی لاش ایک بچے کی نشاندہی پر برآمد ہوئی ہے ۔ بچی کو کنویں میں پھینک کر اوپر بھاری لکڑیاں بھی پھینکی گئیں تاکہ لاش چھپ جائے ۔ یہ بچی ایک بچے کے پیچھے بھاگتے ہوئے اُس طرف گئی تھی اور یہ منظر سی سی ٹی وی میں ریکارڈ ہوگیا ۔ پھر پولیس نے اس بچے کو پکڑا تو اس نے پھر بتایا کہ لاش کنویں میں ہے ۔ #JusticeForAyatNoor
Tanveer Awan98,065 görüntüleme • 16 gün önce

ڈی پی او نے کہا کہ ہمارے پاس ایک فوٹیج ہے جس میں ملزم طلحہ موٹرسائیکل چلا رہا ہے بیچ میں کوئی چیز پڑی ہے پیچھے عثمان بیٹھا ہے جس پر صحافی نے ان کو بتایا کہ عثمان اور طلحہ کی فوٹیج 6 بج کر 6 منٹ کی ہے جبکہ 6 بج کر 24 منٹ پر آیت نور یونیورسٹی چوک سے گزر رہی ہے ۔ یعنی پولس کا یہ حال ہے ۔
Tanveer Awan45,155 görüntüleme • 8 gün önce

میری گاڑی گرے کلر کی ٹویوٹا کرولا، AWL 036 , آج جمعہ کی نماز کے دوران ، جامع مسجد فاروق اعظم ، نارتھ ناظم آباد سے " چوری " ہوگئی ہے ، پولیس کو شارع نور جہاں تھانے میں بتا دیا گیا ہے ویڈیو کلپ مسجد کے کیمرے سے حاصل ہوئی ہے ، آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ میرے لئے دعا کریں ڈاکٹر اظہر چغتائی کی پوسٹ
Tanveer Awan30,537 görüntüleme • 5 gün önce

تین بار ہم تھانے میں آچکے ہیں۔ صبح 11 بجے کا واقعہ ہے ۔ میری بہنوں کی یہ حالت ہے ان کیساتھ زیادتی کی گئی ہے ان کو مارا بھی ہے ان کو گھسیٹا گیا ہے کپڑے پھاڑے گئے ہیں ۔ یہ میری والدہ کی حالت دیکھیں ۔ میرے بھائی کو اغواہ کیا گیا ہے اور جب ہم یہاں راولپنڈی تھانے میں آئے ہیں تو انہوں نے کہا ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے سی سی ڈی کے پاس جائیں ۔ کیا اس ملک میں کوئی قانون نہیں ہے کیا ان پولیس والوں کی فیملی کو کوئی اٹھاکر لے جائے تو یہ ایسا کہیں گے ۔ ان کا نیٹورک نہیں چل رہا درخواست تک نہیں لے رہے خاتون کا الزام
Tanveer Awan167,932 görüntüleme • 1 ay önce

پولیس اہلکار اور وکیل کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی ۔ وکیل نے ویڈیو بنانا شروع کردی۔ پولیس اہلکار بس میں جب مسافروں کی چیکنگ کیلئے آیا تو وکیل موبائیل پر مصروف تھا اہلکار نے کہاکہ موبائیل چلانا بند کرو اور اپنا چہرہ اوپر کرو تصویر بنانی ہے یہ بات وکیل کو بری لگ گئی اس نے کیمرہ آن کیا اور کہا کہ میں وکیل ہوں تم ہوتے کون ہو مجھے موبائیل بند کرنے کا کہنے والے ۔
Tanveer Awan161,239 görüntüleme • 1 ay önce

اس 9 سال کے بچے کیساتھ ظلم کی انتہا کی گئی ہے ۔ کمزور دل لوگ یہ ویڈیو نہ ہی دیکھیں ۔ قاری ثناء اللہ اس کو بھکر سے دینی تعلیم کے نام پر کلر سیداں کے مدرسے محی الدین لیکر گیا ۔ وہاں اس بچے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اب کہا یہ جارہا ہے کہ مبینہ طور پر بچے کیساتھ بدفعلی بھی کی گئی ہے جس سے اس کی جان چلی گئی اور اہلخانہ نے الزام لگایا ہے کہ مدرسے والوں نے بچے کی لاش کو نہلایا بھی ۔ جس سے اس شک کو تقویت مل رہی ہے ۔ گھر والوں کو طبعیت خرابی کا بتایا گیا لیکن ان کو بچہ مردہ حالت میں ملا اور غسل کے دوران تشدد کے نشانات سامنے آئے ۔ وارثان نے نعش واپس کلرسیداں THQ ہسپتال منتقل کرکے پوسٹ مارٹم کرایا۔ مقامی میڈیا نمائندگان بتارہے ہیں کہ مدرسہ حاجی شریف کے زیرِ انتظام چلتا ہے اور ماضی میں بھی ایک طالب علم پر تشدد کا واقعہ پیش آ چکا ہے، جس کی درخواست تھانہ کلرسیداں میں دی گئی تھی مگر حاجی شریف نے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کر کے معاملے کو دبا دیا تھا ۔ حاجی شریف بھی فرار ہے اور قاری ثناء اللہ بھی فرار ہے ۔
Tanveer Awan53,948 görüntüleme • 13 gün önce

پولیس والوں سے ہمارا طے تھا کہ ان کو چائے مفت میں دیں گے لیکن صبح صبح کا ٹائم تھا پولیس موبائیل آئی کہ ناشتہ لے آؤ ۔ چائے پراٹھہ ۔ ہم نے ان کو کہا کہ چائے فری ہے لیکن ناشتے کے پیسے دینے پڑیں گے جس پر پولیس والوں نے وہ چائے بھی نہیں پی اور کہا کہ یہ جو باہر کرسیاں لگائی ہوئی ہیں ہٹا دو پھر جب ہمارے دو ویٹر چھٹی کے وقت جارہے تھے تو ان کو ناکے پر روک لیا ۔ اور 3 چار گھنٹے روکے رکھا کہ تم لوگوں نے مفت ناشتہ نہیں دیا ۔
Tanveer Awan110,765 görüntüleme • 1 ay önce

وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے وقت ساڑھے دس بجے کا دیا ۔ خود 11 بجے آئے ۔ خاتون صحافی نے احتجاج کیا کہ گرمی ہے ہم ساڑھے دس بجے سے بیٹھے ہوئے ہیں تو برہم ہوگئے کہ جانا ہے تو آپ چلی جائیں ۔ ساڑھے دس بجے کا مطلب 11 بجے ہوتا ہے ۔ وفاقی وزراء کا آن کیمرہ میڈیا کیساتھ یہ رویہ ہے تو پھر نیچے سرکاری بابو صاحبان عوام کیساتھ کیا کچھ کرتے ہوں گے پھر کہتے ہیں سسٹم فیل ہوگیا جس ملک میں وفاقی وزیر وقت کی پابندی نہ کرے وہاں سسٹم فیل ہی ہونا ہے
Tanveer Awan113,364 görüntüleme • 1 ay önce