Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

ہری پور کا مقامی صحافی بتارہا ہے کہ لاپتہ بچی آیت نور کی لاش ایک بچے کی نشاندہی پر برآمد ہوئی ہے ۔ بچی کو کنویں میں پھینک کر اوپر بھاری لکڑیاں بھی پھینکی گئیں تاکہ لاش چھپ جائے ۔ یہ بچی ایک بچے کے پیچھے بھاگتے ہوئے اُس...

98,065 Aufrufe • vor 6 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

یہ انتہائی لرزہ خیز، افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ ہے، جس کے بارے میں سن کر روح کانپ اٹھتی ہے۔ آپ کی بات بالکل درست ہے؛ ہر ایسے سانحے پر پورا ملک کرب اور غصے کی گرفت میں آ جاتا ہے، اور یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ معصوم بچوں کو کب تک اس درندگی کا نشانہ بنایا جاتا رہے گا؟ ​واقعے کی تفصیلات ​لاپتہ ہونا: سرگودھا میں آج صبح 10 بجے ایک معصوم بچی قریبی کریانے کی دکان سے سامان لینے گئی، لیکن واپس گھر نہیں لوٹی۔ ​سی سی ٹی وی (CCTV) کا ثبوت: پریشان گھر والوں نے جب آس پاس کے دکانوں کے کیمرے چیک کیے، تو معلوم ہوا کہ بچی دکان کے اندر داخل تو ہوئی لیکن باہر نہیں نکلی۔ ​پولیس کی کارروائی اور لاش کی برآمدگی: اس ہولناک اطلاع پر پولیس نے دکان پر چھاپہ مارا، جہاں دکان کی اوپر والی منزل سے معصوم بچی کی لاش ملی۔ ​گرفتاریاں اور مبینہ جرم: بچی کو مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس نے موقع واردات سے 3 مشتبہ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔

صحرانورد

101,319 Aufrufe • vor 2 Monaten

آیت نور کی گمشدگی کے پہلے تین چار روز تک پولیس نے کچھ نہیں کیا اگر پولیس ایکشن لیتی تو شاید آیت نور زندہ ہوتی ۔ آیت نور کے والد محمد شفیق بتارہے ہیں کہ جب آیت نور گمشدہ ہوئی تو دو ڈھائی گھنٹے تک ہم خود تلاش کرتے رہے پھر تھانے جاکر رپورٹ درج کرائی ۔ رپورٹ درج کرانے کے دو ڈھائی گھنٹے بعد پولیس آئی ۔ ہمارے گھر کے قریب کیمرہ لگا ہوا تھا ۔ اس میں جو لڑکا آیا ۔ اس کا ہلکا سا چہرہ نظر آیا تھا ۔ پولیس والے اس کے بعد تھوڑا گھوم پھر کر واپس چلے گئے تھے ۔ پھر جب مجھے ویڈیو ملی تو میں نے ان کو بتایا تھا کہ یہ ایک پٹھان لڑکا ہے جو اکثر ہمارے گھر کے پاس کھیلتا رہتا ہے میں نے ان کو اس کا گھر بھی بتایا ۔ لیکن وہاں تالا لگا ہوا تھا ۔ تھوڑی بعد اس لڑکے کا بڑا بھائی اور والدہ بھی آگئی تھیں تو میں نے پولیس کو بتایا کہ سر کیمرے میں جو لڑکا ہے وہ جو اس کا چھوٹا بھائی ہے مجھے وہ لگ رہا ہے ۔ پولیس اس لڑکے کے بڑے بھائی کو اٹھا کر لے گئی ایک یا دو دن رکھا پھر چھوڑ دیا ۔ پھر تین چار روز پولیس محلے میں آگے پیچھے گھومتی رہی ۔ لیکن کچھ بھی نہیں ملا ۔ اس طرح دس بارہ روز گزر گئے ۔ پھر میں نے عمران علی زئی سے بات کی اور وہ آئے تو انہوں نے میرے ساتھ مکمل تعاون کیا اور پولیس بھی پھر ایکٹو ہوگئی۔ جس روز میں نے پولیس کو لڑکے کی نشاندہی کی تھی اگر وہ ایکشن لیتے تو شاید آج میری بچی آیت نور زندہ ہوتی ۔ #JusticeForAyatNoor

Shehr Bano Official

15,190 Aufrufe • vor 2 Tagen

اس 9 سال کے بچے کیساتھ ظلم کی انتہا کی گئی ہے ۔ کمزور دل لوگ یہ ویڈیو نہ ہی دیکھیں ۔ قاری ثناء اللہ اس کو بھکر سے دینی تعلیم کے نام پر کلر سیداں کے مدرسے محی الدین لیکر گیا ۔ وہاں اس بچے کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اب کہا یہ جارہا ہے کہ مبینہ طور پر بچے کیساتھ بدفعلی بھی کی گئی ہے جس سے اس کی جان چلی گئی اور اہلخانہ نے الزام لگایا ہے کہ مدرسے والوں نے بچے کی لاش کو نہلایا بھی ۔ جس سے اس شک کو تقویت مل رہی ہے ۔ گھر والوں کو طبعیت خرابی کا بتایا گیا لیکن ان کو بچہ مردہ حالت میں ملا اور غسل کے دوران تشدد کے نشانات سامنے آئے ۔ وارثان نے نعش واپس کلرسیداں THQ ہسپتال منتقل کرکے پوسٹ مارٹم کرایا۔ مقامی میڈیا نمائندگان بتارہے ہیں کہ مدرسہ حاجی شریف کے زیرِ انتظام چلتا ہے اور ماضی میں بھی ایک طالب علم پر تشدد کا واقعہ پیش آ چکا ہے، جس کی درخواست تھانہ کلرسیداں میں دی گئی تھی مگر حاجی شریف نے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کر کے معاملے کو دبا دیا تھا ۔ حاجی شریف بھی فرار ہے اور قاری ثناء اللہ بھی فرار ہے ۔

Tanveer Awan

50,869 Aufrufe • vor 3 Tagen