
حِجاب رندھاوا H.R
@Hijab29392 • 11,393 subscribers
Journalist
Shorts
Videos

فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی 'میٹا' پر 48 امریکی ریاستوں کے حالیہ مقدمے اور میٹا پر 16.68 ارب ڈالر کے تاریخی جرمانے نے اس صدی کے سب سے ہولناک سکینڈل سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ یہ صرف ایک مالیاتی جرمانہ نہیں ہے، یہ انسانی تاریخ کے سب سے بڑے کارپوریٹ جرم کا اعتراف ہے۔ جس طرح امریکی ریاستوں نے یہ ثابت کیا کہ میٹا نے بچوں کو ذہنی مریض اور عادی بنانے کے لیے اپنے ایلگورتھم کا استعمال کیا، بالکل اسی طرح پاکستان میں فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوجوانوں میں شدید سیاسی پولرائزیشن (سیاسی نظریاتی تقسیم اور نفرت) پیدا کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔تحقیقات اور ماہرین کے مطابق، فیس بک کے ایلگورتھم نے پاکستانی نوجوانوں کی نفسیات کا فائدہ اٹھا کر ملک میں "سیاسی عدم برداشت" کو کیسے فروغ دیا، اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں ڈیوائیڈ اینڈ رول ایلگورتھم (سنسنی خیزی کا کاروبار)فیس بک کے مصنوعی ذہانت (AI) کے ایلگورتھم کا صرف ایک ہی مقصد ہے: صارف کو زیادہ سے زیادہ وقت تک ایپ پر روک کر رکھنا۔ نفسیاتی طور پر انسان پرسکون یا معلوماتی مواد کے مقابلے میں غصہ، نفرت، اور سنسنی خیزی پھیلانے والے مواد پر زیادہ ردعمل (Engagement) دیتا ہے۔ فیس بک کے ایلگورتھم نے ایسی ویڈیوز اور پوسٹس کو لاکھوں نوجوانوں کی فیڈ پر وائرل کیا جو مخالف سیاسی جماعتوں کے خلاف زہر اگلتی تھیں، کیونکہ اس سے لوگ کمنٹس میں لڑتے تھے اور فیس بک کا ٹریفک بڑھتا تھا۔ ۲۔ ایکو چیمبرز (Echo Chambers) اور فلٹر ببلز کا قیام جب ایک پاکستانی نوجوان فیس بک پر کسی خاص سیاسی رہنما یا جماعت کی پوسٹ کو لائک کرتا ہے یا اس پر رک کر ویڈیو دیکھتا ہے، تو فیس بک کا نظام اسے فلٹر ببل میں بند کر دیتا ہے۔اس کے بعد اسے صرف اور صرف اسی جماعت کے حق میں اور مخالفین کے خلاف مواد نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔نوجوان کو یوں لگتا ہے جیسے پوری دنیا ہی اس کے پسندیدہ لیڈر کے ساتھ ہے اور مخالفین سراسر جھوٹے اور غدار ہیں۔ اس عمل سے سماج میں دوسرے کا نقطہ نظر سننے کا مادہ ختم ہو گیا۔ پاکستان میں میٹا نے ڈیجیٹل خواندگی (Digital Literacy) کی کمی کا پورا فائدہ اٹھایا گیا۔ فیس بک پر سیاسی جماعتوں کے باقاعدہ "سوشل میڈیا سیلز" قائم ہوئے جنہوں نے مخالفین کی جعلی ویڈیوز (Deepfakes)، سیاق و سباق سے ہٹائی گئی آڈیوز اور جھوٹی خبریں وائرل کیں فیس بک کے کمنٹ سیکشنز نے پاکستانی معاشرے کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ جیسے مغرب میں میٹا کو معصوم بچوں کی ذہنی صحت برباد کرنے پر کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، پاکستان میں بھی فیس بک نے یہاں کی نوجوان نسل (جو کہ آبادی کا 60 فیصد سے زائد ہے) کو اپنی کاروباری لالچ اور پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیا ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں کی بے لگام آزادی نے پاکستان کے سماجی تانے بانے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اغواء، غیرت کے نام پر قتل و غارت بڑھی امریکی ریاستوں نے تو میٹا پر مقدمہ کرکے اسے ایپس کا نظام بدلنے پر مجبور کیا اگر اپ اپنے بچوں کو اس لت سے بچانا چاہتے ہیں انھیں دماغی طور پر تندرست اور جرائم پیشہ زندگی سے دور رکھنا چاہتے ہیں تو ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نظر رکھیں ان کا موبائل ٹائم محدود کریں
حِجاب رندھاوا H.R28,724 views • 6 days ago

خان صاحب صحت مند اور فٹ ہیں ڈاکٹرز کے پینلز نے بھی ان کی تمام رپورٹس میں ان کے ارگنز کو صحت مند قرار دیا ہے لیکن انھیں شفاء ہسپتال میں رکھا جانا چاہیے .... کٹر یوتھیا... کیوں بھئ؟؟ شوکت خانم ہسپتال میں کینسر سے تڑپتے بزرگ کو داخل کرنے کی اجازت نہیں کہ ایک مرتے بوڑھے پر پیسہ وقت اور بیڈ کیوں ضائع کیا جائے، تو شفاء ہسپتال کیا شوکت خانم جہیز میں لائی تھی جو ایک صحت مند ہٹے کٹے شخص کو وہاں رکھا جائے اور سکیورٹی کے نام پر پورا ایک فلور مختص کیا جائے؟؟ جس کا تمام خرچ حکومت برداشت کرے؟؟
حِجاب رندھاوا H.R16,916 views • 11 days ago

عظمی خان کی آج کی پریس کانفرنس پی ٹی آئی کے تمام بیانیوں پر خودکش حملہ تھی پی ٹی آئی کے لونڈے لپاڑوں نے بیانیہ بنایا عمران خان ڈٹ کر کھڑا ہے اس نے ہسپتال جانے سے انکار کر دیا، لونڈے لپاڑے عمران خان کے ہسپتال جانے سے انکار کا بیانیہ اس لیے بنارہے ہیں تاکہ ان کا ڈٹ کر کھڑا کپتان کا جو بیانیہ وڑ چکا ہے کم از کم اس کی تھوڑی سی بحالی کر سکیں مگر کیا کیجیے اس عظمی خان کا جس نے پریس کانفرنس کر کے بتایا کہ عمران خان شفاء ہسپتال جانے پر بہت خوش تھے بار بار مجھ سے پوچھ رہے تھے ہم پمز سے شفاء ہسپتال کب جائیں گے یوتھی ولاگرز اور طفیلیے روز بتاتے تھے عمران خان کا بی پی ہائی، آنکھ ضائع ہو گئ عظمی خان نے پریس کانفرنس کرکے بتایا عمران خان کا بی پی میں نے چیک کیا وہ بےحد نارمل تھا اور وہ مکمل فٹ تھے اب پی ٹی آئی بیانیے کے ٹکڑے سمیٹنے اور عظمی خان کی پریس کانفرنس کے آفٹر شاکس ختم کرنے کے لیے سہیل آفریدی کو آگے کر رہے ہیں جو بتا رہے ہیں عمران خان کی صحت ٹھیک نہیں لیکن عوام بھی فوراً ہی سوال کرتی ہے تمھیں کیسے پتا عمران خان کے ساتھ تو عظمی خان تھی جو کہہ رہی ہے وہ مکمل صحت مند اور فٹ ہے
حِجاب رندھاوا H.R17,778 views • 11 days ago
1:47
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

گینگ ریپ کے بعد قتل ہونے والی ہری پور کی 4 سالہ آئت نور کی لاش 16 دن بعد بالآخر برآمد ہو گئ منہ میں حلق تک شاپر ٹھونسے ہوے ہاتھ پیچھے بندھے ہوے منہ پر ٹیپ لگی اور بوری میں بند.. اتنا ظلم کیا کوئی سوچ سکتا ہے، وہی سوچ سکتا ہے جسے قانون کا ڈر نہ ہو اور قانون کا ڈر کیسے ہو، یہ خیبرپختونخوا ہے جہاں قانون ہے ہی نہیں، کیونکہ جنھوں نے عوام کو تحفظ دینے کے اقدامات کرنے ہیں قانون نافذ کروانا ہے وہ پمز ہسپتال کے سامنے ٹک ٹاک بنا رہے ہیں میڈیا ٹیموں کو مزید ڈیجیٹل بھرتی کے احکامات جاری کر رہے ہیں تاکہ وہ دوسرے صوبوں میں حادثات پر نظر رکھیں اور لاشوں کو نوچ سکیں کیش کرا سکیں پی ٹی آئی کے جو صحافی صبح سے پمز کے باہر ماں باپ کو پکڑ پکڑ کر پوچھ رہے ہیں کہ حکومت نے ان کے لیے کیا کِیا.. کیا انھوں نے ایک بار بھی آئت نور کے والد سے پوچھا 16 دن اس پر کیا گزری اس کی بیٹی کو 16 دن پہلے بازیاب کیوں نہ کروایا گیا حکومت نے اس کے لیے کیا کِیا کیا سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے باقی لیڈران نے ایک بار بھی آئت نور کے گھر جا کر اس کے باپ کو دلاسہ دیا؟ بالکل نہیں یہ حادثات میں جیب کترے ہیں جہاں مفاد ہو انتشار ہو یہ وہاں منڈلاتے ہیں اور گِدھ بھی کیا نوچتا ہو گا جس طرح یہ لاشوں کو نوچ کر کھاتے ہیں
حِجاب رندھاوا H.R10,277 views • 6 days ago

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی میری طرف سے آپ Louis Vuitton کے جوتے پہنیں، اس پر 804 لکھ لیں، Saint Michael کی جیکٹ پہنیں، اس پر بھی 804 لکھ لیں، آپ Bentley کی گاڑی لے کر گھومیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن یہ ضرور بتائیں رمضان میں صوبائی خزانے سے نکالے گئے 1300 کروڑ روپے کہاں ہیں؟ تیرہ آپریشن کے نام پر نکالے گئے 400 کروڑ روپے میں سے 320 کروڑ روپے کا کوئی ریکارڈ نہیں، وہ کہاں ہیں؟ کیا سیاست آپ کے لیے کاروبار بن گئی ہے؟ جیلوں میں منشیات فروشوں سے ملنا اور انہیں تحفظ دینا، کیا یہی آپ کا کام رہ گیا ہے؟ اختیار ولی Ikhtiar Wali
حِجاب رندھاوا H.R134,724 views • 4 months ago

وطن کی خاطر 28 سپوت قربان کرنے والے تلہ گنگ کے نواحی قصبے سگھر میں شہریوں کی ریلی، ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھا کر پاکستان زندہ باد اور پاک فوج زندہ باد کے فلک شگاف نعرے اس قصبے میں 28 شہداء کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوے اہلِ علاقہ نے اپنی مدد آپ کے تحت یادگارِ شہداء بھی تعمیر کی ہے،
حِجاب رندھاوا H.R18,925 views • 18 days ago

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے 13سال.. سال 2013 تک خیبر پختونخوا کا مجموعی تاریخی قرضہ صرف 80 ارب روپے تھا اور اب یہ قرض 809 ارب روپے ہو چکا اور کُل واجبات ملا کر 1.8 ٹریلین (1800 ارب) روپے کے قریب پہنچ چکا ہے پی ٹی آئی کے حکومت میں آنے کے وقت خیبر پختونخوا میں بیروزگاری کی شرح تقریباً 8.4% تھی اور اب 9.6% ہو چکی مہنگائی میں 500% تک کا اضافہ ہوچکا صوبے کی 50% سے زائد پبلک یونیورسٹیاں شدید ترین مالی بحران اور خسارے کا شکار ہیں، حالانکہ دعویٰ گورنر ہاوسز کو یونیورسٹیاں بنانے کے تھا فنڈز کی شدید کمی اور طلبہ کے داخلوں میں کمی کے باعث اکتوبر 2025 میں صوبے کی سب سے بڑی درسگاہ، یونیورسٹی آف پشاور نے اپنے 9 اہم بی ایس (BS) شعبہ جات بند کر دیے (بشمول جیالوجی، جیوگرافی، ہسٹری، اسٹیٹسٹکس اور سوشل اینتھروپولوجی)。 اس کے علاوہ تنخواہیں نہ ملنے کے باعث اساتذہ کی ہڑتالوں کی وجہ سے یونیورسٹیاں ہفتوں مکمل بند رہتی ہیں
حِجاب رندھاوا H.R14,978 views • 21 days ago

انتشاری کمیٹی کے مسلح عناصر سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے بعد جنگلات میں روپوش ہو گئے۔ یہ دہشت گرد اسلحے کے ساتھ سکیورٹی فورسز اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے۔ مقامی شہری نے ان کی موجودگی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جس سے ان کی سرگرمیاں بے نقاب ہو گئیں۔
حِجاب رندھاوا H.R20,733 views • 2 months ago

ہم کشمیری خودمختار کشمیر نہیں چاہتے، ہم پاکستان بننا چاہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کسی کشمیری نے خود مختار کشمیر کے نام پر ایک بلی کا بچہ قربان نہیں کیا لیکن کشمیر بنے گا پاکستان کے نام پر 6 لاکھ سے زائد کشمیریوں نے قربانی دی، شہید ہوئے، سردار عتیق احمد خان سردار عتیق احمد خان
حِجاب رندھاوا H.R12,281 views • 2 months ago

پاکستان میں 80 فیصد صحافیوں نے جرنلزم نہیں پڑھی بلکہ مجاہد شیخ، وسیم صابر، حماد اسلم جیسے 70 فیصد محض ایف اے پاس ہیں اور شیراز نثار، رمضان بیگ یاسر شمعون جیسے تھڑا کلچر سے صحافت میں وارد ہوے ہیں ایک نیوز چینل میں جاب کی پریس کارڈ بنا اور لو جی بن گئے صحافی.. اب بلیک میل کرو اور کماؤ پالیسی شروع.. اب چونکہ صحافت پڑھی نہیں صحافت کی اخلاقیات سیکھی نہیں پریس کانفرنس کا مطلب وہ جانتے ہی نہیں کہ صحافی کیس میں فریق نہیں وقوعہ نگار ہے جہاں تک کہ اس سے بھی واقف نہیں کہ مجسٹریٹ کی ڈیوٹی کیا ہے اور پولیس ہنگامی صورتحال میں مجسٹریٹ کے دروازے پر کیوں پہنچی؟ قانون کے تحت کسی بھی خاتون کا ریپ چارجز یا ہنگامی میڈیکل کروانے کے لیے عدالت یا متعلقہ علاقے کے مجسٹریٹ کی اجازت یا تحریری حکم نامہ درکار ہوتا ہے عدلیہ کی طرف سے روزانہ ایک مجسٹریٹ کو "ڈیوٹی مجسٹریٹ" مقرر کیا جاتا ہے، جس کی ذمہ داری چوبیس گھنٹے (بشمول رات کے وقت) ہنگامی عدالتی امور کو نمٹانا ہوتی ہے۔ بازیاب کی گئ دو غیر ملکی خواتین کی جانب سے ڈپٹی پرائم منسٹر کے رشتے دار پر ریپ چارجز لگائے گئے تھے یہ ہائی پروفائل کیس تھا اگر پولیس رات کے وقت ہی ان کا طبی معائنہ (Medical Examination) اور ضابطہ فوجداری (CrPC) کی دفعہ 164 کے تحت بیان قلمبند نہ کرواتی، تو خواتین کے بیرون ملک روانہ ہونے کے بعد ملزمان کو سزا دلوانا اور کیس کا قانونی وجود برقرار رکھنا ناممکن ہو جاتا پولیس کی جانب سے بار بار کال کے باوجود ڈیوٹی مجسٹریٹ نے کال پک نہ کی، اس لیے خواتین کا میڈیکل مٹیریل ضائع ہونے سے بچانے اور فوری آرڈر لینے کے لیے مجسٹریٹ کے گھر جانے کے علاوہ پولیس کے پاس کوئی قانونی راستہ نہیں بچا تھا۔ جب ایک سینئر پولیس افسر، باقاعدہ سرکاری وردی میں، سرکاری گاڑی پر، اور آفیشل کیس کے سلسلے میں جج کے پاس جا رہا ہے، تو اس میں کسی کی عزتِ نفس کیسے مجروح ہو سکتی ہے؟ اگر مسئلہ رات کو گھر جانے کا ہے تو جج صاحب اسی مخصوص وقت کے لیے ڈیوٹی مجسٹریٹ تھے ڈیوٹی مجسٹریٹ سے سوال ہونا چاہیے تھا کہ وہ ڈیوٹی پر ہونے کے باوجود دستیاب کیوں نہ تھا لیکن چونکہ عدلیہ مقدس گائے ہے اس لیے جج سے سوال نہیں ہوا بلکہ جج کے دروازے پر جائے کو جواز بنا کر تھانہ ڈیفنس سی کے ایس ایچ او (SHO) کو سسپنڈ کر دیا گیا باقی پاکستان کی صحافت اور صحافیوں پر فاتحہ پڑھ لیجیے
حِجاب رندھاوا H.R11,317 views • 1 month ago

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ کمانڈر اریانہ کمانڈر نور دین اور اس کے دوستوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہم نے ملکر بینک کی گاڑی کو لوٹا، اس میں 14 کروڑ روپے تھے یہ بے غیرت کے بچے سارے پیسے ساتھ لے گئے، اگر ہمیں اپنا حصہ نا ملا، تو پورے رومیل میں خون بہے گا، یہ اپ کو آخری پیغام ہے، جتنا جلدی ہو سکے ہمارا حصہ پہنچا دو نہیں تو اپنے زمےدار خود ہو گے بنوں میں گزشتہ روز بینک کی کیش گاڑی لوٹنے کے بعد پیسوں میں اپنا حصہ نہ ملنے پر ایک گروپ کی دوسرے دوسرے گروپ کو دھمکی اب پی ٹی آئی کہے گی کس قدر نیک لوگ ہیں کلمہ پڑھ کر وین لوٹی بسم اللہ پڑھ کر دھمکی دے رہے ہیں، اور ایسے جنتی لوگوں کے خلاف سکیورٹی فورسز آپریشن کرتی ہے اسی لیے تو ہم آپریشن کے خلاف احتجاج کرتے ہیں
حِجاب رندھاوا H.R17,552 views • 3 months ago

افغانستان میں ایک پٹاخہ چل جائے تو افغانی سر پر بسترا رکھ کر پاکستان کی طرف بھاگ نکلتے ہیں اور پھر چار دہائیاں جانے کا نام نہیں لیتے جہاں تک کہ پاکستان ٹھڈے مار کے سرحد پار نا پھینک دے وہ افغانی کہہ رہے ہیں ان کے ان دھریندروں نے پاکستان پر ڈرون حملے کئیے؟؟ ابھی چند ہفتے قبل طالبان کی قیادت نے قطر اور ترکی کے حکمرانوں کے پاؤں پڑ کر درخواست کی کہ پاکستان کی فوج سے ہماری جان بخشی کروائی جائے ان کے جہاز آتے ہیں اور زیرِ زمین بنکر میں چھپے ہمارے ان TTP کے خود ساختہ مجاہدین کو اڑا کر چلے جاتے ہیں جنھوں نے ہم سے پناہ لے رکھی ہے یہ ہماری قیادت کی خفیہ رہائش گاہوں کے قریب بمباری کرکے ہمیں ڈراتے دیتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں تم کہاں چھپے ہو ہمارے اہم کمانڈر ازبکستان کی طرف پناہ کے لیے ہجرت کر رہے ہیں ہمیں پاکستان سے معافی دلائی جائے پاکستان نے اپنے برادر ملکوں کی درخواست پر اس شرط پر آپریشن غضب للحق میں وقفہ کیا کہ اگر افغانستان کی زمین سے ایک فائر چلا تو پاکستان فائر چلنے والی جگہ کا ایک کلومیٹر کا علاقہ بھسم کر دے گا اور افغانی پاکستان پر ڈرون حملے کی بات کرتے ہیں خوچہ کھوتی پر بیٹھ کر چاند پکڑنے کی بات کرتے ہو؟ پہلے اپنے باپ بھارت سے تو پوچھ لو جو رافیل پر بیٹھ کر بھی تباہ ہو گیا جس کے کانوں سے آج بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے نام سے دھواں نکلتا ہے حجاب رندھاوا
حِجاب رندھاوا H.R12,418 views • 2 months ago

عوامی ایکشن کمیٹی نے مئی 2023 میں پہلا احتجاج کیا اور مطالبہ بجلی کے بل سستا آٹا، سمیت 14 مطالبات تھے مان لیے گئے دوسرا احتجاج اور ہڑتال مئی 2024 میں کیا مطالبہ ٹیکسوں کا خاتمہ، ملازمتوں کا کوٹہ سمیت 38 مطالبات تھے مان لیے گئے 11 مئی 2026 کو تیسرا منظم ترین احتجاج شروع ہوا اور اس میں بھارتی مطالبہ مہاجرین کشمیر کی 12 نشستوں کا خاتمہ سمیت 44 مطالبات ہیں یعنی مرض بڑھتا ہی گیا یوں یوں دوا کی ہر احتجاج کے بعد ریاست نے اربوں روپے کا فنڈ دیا سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی لاشیں اٹھائیں اور چپ چاپ چاپ چل دی اس میں زیادہ ہاتھ ان کا ہے جو کہتے ہیں مزاکرات کرو اور مزاکرات کرتے کرتے ہی مرو
حِجاب رندھاوا H.R10,290 views • 2 months ago
No more content to load