
Tanveer Awan
@hTanveerAwan • 185,020 subscribers
Journalist | Political Reporter | Online News Agency | Blogger | Writer | ex Dunya News | Ummat
Shorts
Videos
0:45
Sensitive content
This media may contain sensitive content.
1:17
Sensitive content
This media may contain sensitive content.
0:42
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

ہری پور : ایس پی ثمینہ ظفر نے کہا تمہارے امی ابو کو لاکر بے لباس کریں گے اور تمہارے سامنے ان کیساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کریں گے ۔ ڈی پی او نے خود چھری دی ۔ جو میرے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پر رکھی گئی ۔ ایس پی ثمینہ ظفر نے کہا تمہارا ------- کاٹ کر تمہاری مما میں------ گی ۔ ڈی پی او مبینہ طور پر ساتھ والے کمرے میں موجود تھے ۔ جس دن ضمانت ہوئی ہم گھر نہیں گئے ۔ ڈی پی او آفس گئے اور درخواست دی ۔ یوسف لڑکے کے کہنے پر ہمیں اٹھایا گیا ۔ اس کو کچھ نہیں کہا گیا ۔ آیت نور کیس میں ضمانت پر رہا پر عثمان کے پولیس پر سنگین الزامات
Tanveer Awan46,213 просмотров • 10 дней назад

ڈیرہ غازی خان میں اس خاتون نے حاضر سروس SHO پر جنسی زیادتی کا الزام لگایا، کئی ہفتے مقدمہ درج نہ ہونے کی شکایت کی، آر پی او کے سامنے پہنچنے اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دفعہ 376 کی ایف آئی آر درج ہوئی، اور چند ہفتوں بعد یہی خاتون خود سائبر کرائم کیس میں گرفتار ہوکر جیل پہنچ گئی۔ اب یہ نہ صرف اصل ملزم بلکہ پولیس اور NCCIA کے پورے طریقۂ کار پر سوال اٹھا رہی ہے۔ ڈیرہ غازی خان کی فریال تبسم کی ویڈیو وائرل ہے۔ معاملہ صرف ایک وائرل الزام نہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق حاضر سروس پولیس انسپکٹر ابرار برمانی کے خلاف فریال کی مدعیت میں FIR 767/26، دفعہ 376 کے تحت مقدمہ درج ہوا تھا۔ لیکن اصل کہانی اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔ فریال کا الزام ہے کہ انہوں نے تقریباً 25 دن میں چار درخواستیں دیں مگر FIR درج نہیں ہوئی۔ پھر وہ RPO ڈی جی خان محمد اظہر اکرم کی کھلی کچہری میں پہنچیں، ان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی اور اس کے بعد مقدمہ درج ہوا۔ فریال اب الزام لگا رہی ہیں کہ کچھ پولیس افسران نے ابرار برمانی کو ثبوت ضائع کرنے کا موقع دیا، Safe City/CCTV ریکارڈ چھپایا گیا اور تفتیشی افسر نے بروقت Medical/DNA کے عمل میں رکاوٹ ڈالی۔ یہ سنگین الزامات ہیں، ابھی ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ 22 جون کو NCCIA Multan FIR 102/2026 سامنے آتی ہے اور 24 جون کے قریب فریال خود سائبر کرائم کیس میں گرفتار ہو جاتی ہیں۔ دستیاب سوشل میڈیا ریکارڈ اس مقدمے کو بھی ابرار برمانی کی شکایت سے جوڑتا ہے۔ فریال کا الزام ہے کہ انہیں باقاعدہ طریقۂ کار کے بجائے ابرار کے بھائی نے گاڑی میں بٹھایا، بعد میں NCCIA کے حوالے کیا گیا، دوران حراست تشدد ہوا اور ان کے موبائل میں موجود ڈیجیٹل ریکارڈ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ ان الزامات کی بھی ابھی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ فریال تقریباً 32 دن جیل رہنے کے بعد ضمانت پر باہر آئیں۔ چند ریکارڈ فوراً سامنے آنے چاہئیں Medical/DNA، CCTV، arrest memo، remand orders اور mobile forensic record۔ اصل سوال بہت سادہ ہے اگر فریال کے الزامات غلط ہیں تو سرکاری ریکارڈ انہیں غلط ثابت کردے گا۔ اور اگر ایک rape complainant کی FIR میں واقعی تاخیر ہوئی، ثبوت محفوظ نہیں کیے گئے اور بعد میں اسی خاتون کے خلاف ملزم کی شکایت پر کارروائی ہوئی تو یہ انتہائی سنجیدہ institutional matter ہے۔
Tanveer Awan220,657 просмотров • 1 месяц назад

یہ کراچی کی ویڈیو ہے ۔ یہ شخص فوڈ ڈلیوری کیلئے کھڑا تھا ۔ دو موٹرسائیکل سوار لڑکے آتے ہیں ۔ اس سے موبائیل پیسے اور پیزا تک لے لیتے ہیں ۔ پھر وہ اس کی بائیک بھی ساتھ لیکر جانے لگتے ہیں ۔ یہ ان کی منتیں کرتا ہے ۔ تو وہ رحم کھا کر بائیک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں ۔ فریال تالپور صاحبہ بتائیں کیا قیامت کے روز بی بی کو اس کا جواب بھی دینا ہوگا یا نہیں ۔
Tanveer Awan101,561 просмотров • 25 дней назад

یہ کراچی بحریہ ٹاؤن کی ویڈیو ہے۔ ویڈیو بنانے والے شخص کا کہنا ہے کہ اس کو بحریہ ٹاؤن کی انٹرنس پر روکا گیا۔ اور اندر نہیں جانے دیا گیا جبکہ یہ الزام لگارہے ہیں کہ ان کو دھکے بھی دئے گئے اور جب انہوں نے موبائیل نکالا تو گارڈ نے اس کو ہاتھ مارا اور موبائیل دور جا گرا ۔ جس سے اس کا ڈسپلے ڈیمج ہوچکا ہے ۔
Tanveer Awan67,139 просмотров • 17 дней назад

یہ لوگ مری سے براستہ ایکسپریس وے اسلام اباد کی طرف سفر کر رہے تھے ایک گاڑی نے ان کو ہٹ کرنے کی کوشش کی ۔ ڈرائیور نشے میں دھت تھا ۔ آگے جاکر اس نے گاڑی درمیان سڑک میں روک دی اور پسٹل لیکر نیچے اترا ۔ اس گاڑی والے کو گالیاں دیتا ہوا آگے بڑھنے لگا ۔ ان لوگوں نے گاڑی کو ریورس کرکے اپنی جان بچائی ۔ ان لوگوں نے ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر واقعے کی ویڈیو اپلوڈ کردی
Tanveer Awan279,682 просмотров • 2 месяцев назад

اس حیوان نے آیت نور سے کہا کہ تمہیں تمہارے ابو بلارہے ہیں اور دیکھیں کہ وہ معصوم بچی کیسے دوڑتے ہوئے جارہی ہے ۔ یہ حیوان حسن سدوزئی اسی علاقے میں رہتا تھا اور اسی کی نشاندہی پر بچی کی لاش کنویں سے ملی ۔ یہ اس جرم میں پوری طرح شریک ہے ۔ اس کو صرف بچہ ہونے کی وجہ سے رعایت نہیں ملنی چاہیے بلکہ آیت نور جیسے کیسز میں عام رائج قوانین سے ہٹ کر خصوصی فیصلے ہونے چاہئیں #JusticeForAyatNoor
Tanveer Awan193,388 просмотров • 1 месяц назад

لاہور فیروزپور روڈ گجومتہ میٹروبس اسٹیشن پر کچھ لوگ عوام کو بیوقوف بنا کر پیسہ کما رہے ہیں۔ جس شخص نے ویڈیو بنائی ہے اس کا کہنا ہے کہ یہ لوگوں کو ایسے بلاتے ہیں جیسے یہ لوگ اللہ کی راہ میں سبیل بانٹ رہے ہوں، گرمی کی وجہ سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سبیل لگی ہوئی ہے ۔ جب لوگ شربت پی لیتے ہیں تو ان سے پیسے مانگتے ہیں ۔ ایک بندے کی جیب میں پیسے نہیں تھے تو اس سے آن لائن ٹرانسفر کروائے ۔
Tanveer Awan241,562 просмотров • 2 месяцев назад

یہ لاپتہ بچی آیت نور کے والد ہیں جو بتارہے ہیں کہ ان کی بچی ان کھلونوں سے کھیلتی تھی اس چارپائی پر سوتی تھی اس آواز میں کتنا درد ہے کتنا کرب ہے ۔ 5 سال کی معصوم بچی 14 روز سے لاپتہ ہے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ والدین پر کیا گزر رہی ہوگی۔ ملزمان پکڑے گئے لیکن بچی کا کوئی سراغ نہیں مل سکا #JusticeForAyatNoor
Tanveer Awan133,349 просмотров • 1 месяц назад

تین بار ہم تھانے میں آچکے ہیں۔ صبح 11 بجے کا واقعہ ہے ۔ میری بہنوں کی یہ حالت ہے ان کیساتھ زیادتی کی گئی ہے ان کو مارا بھی ہے ان کو گھسیٹا گیا ہے کپڑے پھاڑے گئے ہیں ۔ یہ میری والدہ کی حالت دیکھیں ۔ میرے بھائی کو اغواہ کیا گیا ہے اور جب ہم یہاں راولپنڈی تھانے میں آئے ہیں تو انہوں نے کہا ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے سی سی ڈی کے پاس جائیں ۔ کیا اس ملک میں کوئی قانون نہیں ہے کیا ان پولیس والوں کی فیملی کو کوئی اٹھاکر لے جائے تو یہ ایسا کہیں گے ۔ ان کا نیٹورک نہیں چل رہا درخواست تک نہیں لے رہے خاتون کا الزام
Tanveer Awan168,082 просмотров • 2 месяцев назад

پولیس اہلکار اور وکیل کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی ۔ وکیل نے ویڈیو بنانا شروع کردی۔ پولیس اہلکار بس میں جب مسافروں کی چیکنگ کیلئے آیا تو وکیل موبائیل پر مصروف تھا اہلکار نے کہاکہ موبائیل چلانا بند کرو اور اپنا چہرہ اوپر کرو تصویر بنانی ہے یہ بات وکیل کو بری لگ گئی اس نے کیمرہ آن کیا اور کہا کہ میں وکیل ہوں تم ہوتے کون ہو مجھے موبائیل بند کرنے کا کہنے والے ۔
Tanveer Awan161,293 просмотров • 2 месяцев назад

ہری پور کا مقامی صحافی بتارہا ہے کہ لاپتہ بچی آیت نور کی لاش ایک بچے کی نشاندہی پر برآمد ہوئی ہے ۔ بچی کو کنویں میں پھینک کر اوپر بھاری لکڑیاں بھی پھینکی گئیں تاکہ لاش چھپ جائے ۔ یہ بچی ایک بچے کے پیچھے بھاگتے ہوئے اُس طرف گئی تھی اور یہ منظر سی سی ٹی وی میں ریکارڈ ہوگیا ۔ پھر پولیس نے اس بچے کو پکڑا تو اس نے پھر بتایا کہ لاش کنویں میں ہے ۔ #JusticeForAyatNoor
Tanveer Awan98,521 просмотров • 1 месяц назад

جب آپ رات کو 2 بجے اٹھ کر وضو کررہے ہوتے ہیں تو آپ کے ایم این اے اور ایم پی اے بوتل بند کررہے ہوتے ہیں کہ چلو اب سوتے ہیں ۔ ان کی روزی روٹی لگی ہوئی ہے 3 لاکھ روپے مہینہ ۔ نئے کپڑے اور واسکٹیں مل گئیں ۔ داڑھی پر رنگ لگ گیا ۔ اور کیا چاہتے ہو ۔ کیپٹن ر صفدر اعوان
Tanveer Awan155,514 просмотров • 3 месяцев назад

مجھے یہ ویڈیوز سعودی عرب سے پاکستانی مزدوروں نے بھیجی ہیں ۔ ان مزدوروں کے مطابق یہ لوگ سعودی عرب کی معروف کمپنی "شرکہ بیتور" (Baytur Company) میں گزشتہ 11 سالوں سے ا کام کررہے تھے ۔ گزشتہ 15 مہینوں سے ان کو تنخواہ نہیں ملی ۔ ایک ماہ سے کمپنی نے کھانا پینا بند کردیا اور اب پنچواں روز ہے جب کمپنی نے ان کو رہائشی کیمپوں سے باہر نکال دیا ہے ۔ پاکستانی مزدوروں کا بتانا ہے کہ اس وقت وہ مکہ مکرمہ کے علاقے "نوزہ کیمپ" میں ہیں ، جہاں کمپنی کے مینیجرز اور اعلیٰ حکام رہائش پذیر ہیں، لیکن وہ لوگ بھی ان کی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ اس وقت یہ محنت کش شدید گرمی کے موسم میں، بغیر کسی اے سی کے، کھلے آسمان تلے فرش پر بھوکے پیاسے سونے پر مجبور ہیں، اور ان کا کوئی پُرساںِ حال نہیں ہے۔ حکومتِ پاکستان، خاص طور پر وزارتِ خارجہ، سعودی عرب میں قائم پاکستانی سفارت خانے اور سعودی حکومت سے اپیل ہے کہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر معاملے کا نوٹس لیا جائے اور ان کو بقایا جات بھی دلوائے جائیں اور باعزت طریقے سے پاکستان لایا جائے ۔
Tanveer Awan78,755 просмотров • 1 месяц назад

وزیرصحت مصطفیٰ کمال نے وقت ساڑھے دس بجے کا دیا ۔ خود 11 بجے آئے ۔ خاتون صحافی نے احتجاج کیا کہ گرمی ہے ہم ساڑھے دس بجے سے بیٹھے ہوئے ہیں تو برہم ہوگئے کہ جانا ہے تو آپ چلی جائیں ۔ ساڑھے دس بجے کا مطلب 11 بجے ہوتا ہے ۔ وفاقی وزراء کا آن کیمرہ میڈیا کیساتھ یہ رویہ ہے تو پھر نیچے سرکاری بابو صاحبان عوام کیساتھ کیا کچھ کرتے ہوں گے پھر کہتے ہیں سسٹم فیل ہوگیا جس ملک میں وفاقی وزیر وقت کی پابندی نہ کرے وہاں سسٹم فیل ہی ہونا ہے
Tanveer Awan113,475 просмотров • 2 месяцев назад