
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan
@juipakofficial • 294,724 subscribers
Official twitter account of #JUI Jamiat Ulam-e-Islam Pakistan. Any feedback email us: [email protected]
Shorts
Videos

پارلیمنٹ اسٹیبلشمنٹ کے گھر کی لونڈی ہے جس کی اہمیت ختم ہوچکی ہے،ایوان نہیں اب اس میدان کی حیثیت ہے، اس لئے ایوان میں ہماری پانچ سیٹیں ہوں یا دس اس کی پرواہ کئے بغیر جعلی پارلیمنٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ہم جس جمہوریت کے علمبردار ہیں وہ آئین و اسلام کی علمبردار اور عوام کی نمائندہ جمہوریت ہے، ہم قرآن و سنت اور اسلام کی سربلندی کے قائل ہیں،اگر وہاں اعلاء کلمۃ اللہ نہیں ہے تو پھر وہاں غلامی ہے، ٹرمپ اور امریکہ کی غلامی ہے،ایسے نظام پر لعنت بھیجتے ہیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب #معافی_مائی_فٹ #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan237,916 views • 9 days ago

مقتدرہ سےکہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔ ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔ بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔ یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔ آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan279,343 views • 12 days ago

اسلام آباد: نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ آمد قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سنیٹر مولانا عطاء الرحمان، سنیٹر مولانا عطاء الحق درویش موجود تھے۔ #معافی_مائی_فٹ #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan70,495 views • 9 days ago

اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔" لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔ اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟ دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔ تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔ میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے.... کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan34,663 views • 4 days ago

شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ شہداء ہماری آنکھوں کا نور ہیں۔ افواجِ پاکستان کے شہداء ہوں، رینجرز کے شہداء ہوں، پولیس کے شہداء ہوں، وکلاء کے شہداء ہوں، صحافی برادری کے شہداء ہوں، سیاسی جماعتوں کے شہداء ہوں، شہداء کے پیچھے مت چھپو، ملک کی 78 سالہ کارکردگی کا حساب مولانا نے مانگا ہے، جو دینا ہوگا۔ مولانا کا بیانیہ اکیلے کسی ایک فردِ واحد کا نہیں، بلکہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کا بیانیہ ہے۔ آج پوری قوم مولانا کے ساتھ تجدیدِ عہدِ وفا کر رہی ہے۔ علامہ راشد محمود سومرو صاحب کا جمعہ کے اجتماع میں بیان #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #معافی_مائی_فٹ #مولانا_شان_پاکستان
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan42,981 views • 7 days ago

آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ میں تمہیں جانتا ہوں کہ تمہاری نظر میں اپنے شہداء کی کیا قدر و قیمت ہے۔ پاکستان ایک ادارہ جاتی ملک ہے، اور پوری دنیا میں ادارے متعین ہیں، ان کا دائرۂ کار متعین ہے، ان کا دائرۂ اختیار متعین ہے۔ اگر میں نے آپ کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کیا ہے، اگر میں نے آپ کو ان کے اپنے دائرۂ کار اور اس دائرۂ کار کے اندر ان کی صلاحیتوں کی طرف متوجہ کیا ہے، تو میں اب بھی کہتا ہوں: پالیسی ساز لوگو! سپاہی نے تو آپ کا حکم ماننا ہے۔ پالیسی ساز تو آپ بڑے ہیں۔ میں آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہا ہوں، بڑے ادب و احترام کے ساتھ اختلاف کر رہا ہوں، لیکن آپ میرے بیان کی ازخود تشریح کر کے جو میری کردار کشی کرنا چاہتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ فضل الرحمٰن جھک جائے گا، سرنڈر کر جائے گا۔ یاد رکھو! مجھے میرے ماں باپ نے سرنڈر ہونے کے لیے نہیں جنا۔ اور میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں تک محدود رہنے کی بات کی ہے۔ یہ میں نے پہلی مرتبہ نہیں کی۔ یہ تو پارلیمنٹ میں اور عام جلسوں میں بھی میں نے بار بار کہی ہے۔ قصور والی بات قصوروار ٹھہری، اور عجیب بات بتاؤں، وکلاء حضرات! ذرا اس پر بھی غور کریں کہ اڑتالیس گھنٹے بعد ان کو پتا چلا کہ میں نے یہ بات کہی ہے۔ مجھے افسوس یہ ہے کہ میرے خلاف بدنیتی پر مبنی ایک جملے کی غلط تشریح کر کے قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، میڈیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی، اور شہداء کے خاندانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ صرف ہم ہیں، الحمد للہ، صرف ہم ہیں جنہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ جلسوں میں یہ بات کہی ہے: "اگر میری فوج پر خدا سخت وقت نہ لائے، میرے ملک پر خدا برا وقت نہ لائے، ورنہ جب میری فوج اپنے ملک کا دفاع کرے گی تو میرے یہ فقیر ان شاء اللہ اپنے فوجیوں کے شانہ بشانہ مورچوں میں کھڑے ہوں گے۔" آپ نے کبھی ہمارے اس جذبے کو سراہا؟ اور قربانیاں ہیں، اگر پاکستان کا ایک سپاہی ملک کے لیے قربانی دیتا ہے، اور اسی لیے وہ فوج میں بھرتی ہوا ہے، تو جمعیۃ علماء اسلام تو فوج نہیں ہے، پھر میری جمعیۃ علماء اسلام کی صفوں کے اندر سے بڑے اکابر سے لے کر عام علماء اور طلبہ تک دو سو سے زیادہ شہداء ہم نے کیوں دیے؟ کس کے لیے دیے؟ تم نے اس قسم کی حرکت کر کے جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں اور ان کی قربانیوں کا مذاق اڑایا ہے، اور اب اس کا ردِعمل آئے گا۔ آپ سمجھتے ہیں کہ ہم پیچھے ہٹ جائیں گے؟ ہم نے ترتیب بنا لی ہے۔ میں چاروں صوبوں میں جاؤں گا۔ چاروں صوبوں میں وہاں کے عوام اور کارکنوں کے درمیان جاؤں گا، بڑے جلسوں سے بھی اور کنونشنوں سے بھی خطاب کروں گا۔ میں اپنا موقف لے کر آگے جاؤں گا۔ تم نے میرے علماء کو شہید کیا۔ علماء کرام شہید ہوئے۔ میرے استاد اور میرے شیخ مولانا حسن جان شہید ہو گئے۔ میرے والد صاحب کے شاگردِ رشید، وزیرستان کے استاد الاساتذہ مولانا نور محمد شہید ہو گئے۔ مولانا معراج الدین، جو میں سمجھتا ہوں کہ میرا دایاں بازو تھے، تم نے وہ بازو توڑ دیا۔ اور میں نے باجوڑ میں ایک جلسے کے ایک سو جنازے اٹھائے ہیں، میں روزانہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کہیں نہ کہیں دو یا تین جنازے اٹھا رہا ہوں۔ میں تو آپ کے ہر جنازے پر آپ کے ساتھ رویا ہوں۔ کبھی یاد ہے کہ تم میرے جنازے پر میرے ساتھ روئے ہو؟ مجھے کہتے ہو تم نے غلط بات کی ہے؟ میں کہتا ہوں تم نے اپنے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، فوج کے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، ان کے خاندانوں کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے میرے شہداء کی بھی تذلیل کی ہے، تم نے ان کی بھی بے توقیری کی ہے۔ معافی کہتے ہو فضل الرحمٰن مانگے؟ نہیں! آج اگر میری بات غلط ہے تو مجھے ضرور رائے دیں۔ آپ قانون کے ماہر ہیں، میری رہنمائی کریں۔ میرا مطالبہ یہ ہے کہ جس فوج نے، جس جنرل نے، جس دفتر سے میرے خلاف اور میری جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کمانڈ کیا ہے، اس کو معافی مانگنی ہوگی۔ ہم نے ایسی کوئی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہیں۔ بھروسا تم نے توڑا تھا، مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اُس پر قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #مرد_آہن_مولانا #پروپیگنڈہ_برگیڈ #چوکیدار_وڑگیا #BroadcastMaulanaNow #LawyersStandWithMaulana
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan23,732 views • 5 days ago

میں قوم کے سامنے اپنی بات دلائل سے پیش کرتا ہوں، تو میری بات آخر آپ قوم تک کیوں نہیں پہنچانے دیتے؟ اسمبلی بلڈنگ کے اندر چیمبرز میں ٹی وی لگے ہوتے ہیں، اور ان چیمبرز میں جو لوگ بیٹھے ہوتے ہیں، وہ جب میری تقریر سنتے تھے تو اس کو بھی بند کر دیا گیا۔ اب صرف ایوان کے اندر کے لوگ سن رہے ہیں۔ تو میں نے کہا کہ یہ تو میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ آپ ایک اِن کیمرا اجلاس تو بلائیں تاکہ ہم دیکھیں کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ہندوستان کی سرحد بند ہے، افغانستان کی سرحد بند ہے، چین آپ کے ساتھ کاروبار کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اور جب آپ نے درخواست دی، پرسوں یا ترسوں، کہ پاکستان میں آپ کی جو ایک سو ستر ارب ڈالر کی سرمایہ کاری تھی، اور جسے ہم پورا نہیں کر سکے، اس لیے آپ مہربانی کریں اور وہ ایک سو ستر ارب ڈالر ہمیں معاف کر دیں، تو چین نے آپ کی اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ تفتان کے علاقے، سندک میں ابتدا ہی سے چین کام کر رہا ہے۔ آج اس نے وہاں سے بستر اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تو یہ آپ کے چین کے ساتھ تعلقات ہیں۔ ایران آپ پر کتنا اعتماد کرتا ہے، لیکن خود برے حالات میں ہے،پاکستان کو محصور کردیا اپ نے یہ تمہاری پالیسیاں ہیں۔ آپ انڈیا سے لڑے، ہم نے سب سے پہلے آپ کو سپورٹ کیا۔ آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی بات کی، ہم نے اس کی بھی سپورٹ کی کہ ہم خطے میں امن کو ترجیح دیں۔ لیکن ہماری رضامندی کے باوجود آپ آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں، آ رہے ہیں، جا رہے ہیں۔ وہ گلہری کی طرح: "میری آنیاں جانیاں وے۔" اور آج بھی امریکہ ایران پر حملے کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جب امریکہ نے میرے سپہ سالار کو تھپکی دی کہ: "آپ ایک بہت اچھے آدمی ہیں، بہت اچھے آدمی ہیں۔" اس وقت تک اچھے آدمی تھے، جب ہمارے جھنڈوں کے نیچے ان کے جہازوں نے ہرمز کو عبور کیا۔ اور یہ فائدہ اٹھانے کے بعد، جب ہم گھر واپس آئے، تو ایران پر پھر دوبارہ حملے ہو رہے ہیں۔ اب آپ کچھ کارکردگی تو دکھائیے نا۔ چین ناراض، افغانستان کے ساتھ آپ کی سرحد بند، ملک محصور، اشیائے ضروریہ کی قلت ہو رہی ہے۔ اور اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے کہہ رہے ہیں، جگہ جگہ، کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan14,218 views • 4 days ago

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan14,248 views • 4 days ago

بھروسا تم نے توڑا تھا مگر خود کو سزا یوں دی کہ پھر جو مل گیا مجھ کو، بھروسا کر لیا اس پہ۔ عدم اعتماد کی فضا تم نے پیدا کی۔ میرے مخالفین ساری زندگی کبھی ملا ملٹری الائنس کہتے تھے، کبھی کہتے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہے۔ کیوں؟ میری سیاست اعتدال کی ہے۔ میں مذہبی طبقے سے تعلق رکھتا ہوں، اور اس کو اشتعال دلانے کے لیے پوری دنیا وسائل استعمال کر رہی ہے۔ اس ماحول میں رہ کر جب میں اپنے ماحول کو اعتدال کی راہ دکھاؤں گا تو یقیناً کچھ نرمیاں اس کے اندر آئیں گی۔ کوئی اس کو کہتا ہے: تم مفاد پرست ہو، موقع پرست ہو، تم نے فلاں جگہ یہ کیا، وہ کیا۔ نہیں! ہم نے حالات کے مطابق پالیسی اختیار کی، اور ہم کبھی حکومتوں کی خواہش پر نہیں چلے۔ میں اگر 1988ء میں اسمبلی میں آیا، تب بھی اپوزیشن میں تھا۔ مجھے 1990ء میں ہرایا گیا۔ 1993ء میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ 1997ء میں اسمبلی میں آیا، میں پھر اپوزیشن میں تھا۔ تم نے میرے خلاف اس وقت بھی گندا پروپیگنڈا کیا، غلیظ ترین پروپیگنڈا کیا۔ کبھی کہا: ڈیزل پرمٹ خریدا ہے۔ پھر ڈیزل پرمٹ اگر میں نے لیا ہے تو دستاویز ہوگی نا؟ پرمٹ کے معنی ہی دستاویز ہیں۔ 2003ء، 2004ء میں آپ نے میرے خلاف یہ پروپیگنڈا کیا۔ آج 2026ء ہے۔ کہیں کوئی اس کا ریکارڈ، کوئی دستاویز، کوئی ثبوت تمہیں آج تک ملا؟ کہتے تھے: پلازے لے لیے ہیں، فیکٹریاں بنا لی ہیں، دبئی میں ہوٹل بنا لیے ہیں۔ اسی ہزار کی لسی پی لی ہے، دو دن ہوٹل میں ٹھہرا ہوں تو کہتے ہیں: اسی ہزار کی لسی پی لی ہے۔ شرم بھی نہیں آتی اس قسم کی گفتگو کرتے ہوئے۔ اور پھر ایک وقت آیا جب اسٹیبلشمنٹ کی ایک اہم شخصیت نے مجھے پیغام بھیجا کہ وہ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ میں نے انکار کر دیا۔ پھر نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم درمیان میں آئے اور مجھے کہا: "آپ کو بات کر لینی چاہیے۔" میں نے اپنی جماعت سے مشورہ کیا۔ انہوں نے بھی مجھے کہا: "ہاں، ہمیں مل لینا چاہیے تاکہ پتا تو چلے کہ ہم کس غار سے ڈسے جا رہے ہیں۔" ان ملاقاتوں میں جب میں نے اپنی شکایات ان کے سامنے رکھیں، اور میں نے ان کو چیلنج کیا کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے، اللہ تمہیں سن رہا ہے، میں بھی بیٹھا ہوں، تم بھی بیٹھے ہو۔ اگر میرے ہاتھ سے یا میرے ماحول کے اندر کوئی ایسے غلط کام ہوئے ہوں، کوئی ایسے غلط مفادات میں نے حاصل کیے ہوں، تو اللہ کے لیے کم از کم مجھے واضح طور پر بتا دو کہ فضل الرحمٰن، آپ کے اندر یہ نقص ہے۔ اس اعلیٰ ترین افسر نے سر جھکایا، پھر سر اٹھایا، پھر کہا: "مولانا! کوئی ایسی بات نہیں ہے، قطعاً کوئی ایسی بات نہیں ہے۔" تو میں نے کہا: "پھر میری کردار کشی کیوں کی؟ کیوں میرے بارے میں یہ غلط باتیں کیں؟" انہوں نے کہا: "میں متعلقہ حلقوں (Concerned Quarters) کو ہدایت دے دوں گا، ان شاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ تو میں نے کہا: آپ نے تو کہہ دیا کہ ہم نے جو بولا، جھوٹ بولا، غلط بولا، اور آئندہ ہدایت دے دوں گا کہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن میرا دعویٰ تو اپنی جگہ برقرار ہے کہ تم نے الیکشن میں دھاندلی کرائی ہے، اور حکمران جو بھی بنے گا، دھاندلی سے بنے گا۔سو آج میرا سوال یہ ہے کہ دھاندلی سے بنی ہوئی حکومت ہمیں قبول نہیں قائدِ جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan14,095 views • 4 days ago

لاہور: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی میڈیا سے گفتگو لاہور: اس وقت پوری امتِ مسلمہ کو سر جوڑ کر بیٹھ کر اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: امریکہ اور مغربی دنیا کی پالیسیوں کے نتائج آج پوری امتِ مسلمہ کے سامنے آ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: فلسطین اور بیت المقدس صرف ایران نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: فلسطین اور القدس کے مسئلے پر امتِ مسلمہ کو متحد اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: بدقسمتی سے اسلامی دنیا داخلی اختلافات اور لڑائیوں میں الجھ گئی ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان اس وقت پیچیدہ علاقائی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد اور افغانستان کی جانب مغربی سرحد کشیدہ صورتحال کا شکار ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: موجودہ حالات میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ ضروری ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: الزام تراشی یا ایک دوسرے کو غلط قرار دینا مسائل کا حل نہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان کے اہم سفارتی اور دفاعی معاملات پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان لاہور: قومی سلامتی کے معاملات پر عوامی نمائندوں کو کھل کر اظہارِ رائے کا موقع ملنا چاہیے، مولانا فضل الرحمان لاہور: حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: حساس قومی معاملات کو جلسوں اور گلی کوچوں کی سیاست کا موضوع نہیں بنانا چاہیے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان کے مستقبل کیلئے سیاسی اور سفارتی راستے اختیار کرنا ہوں گے، مولانا فضل الرحمان لاہور: ہمیں خطے میں پرامن اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: جنگ سے امن پیدا نہیں ہوتا، جنگ مزید جنگ کو جنم دیتی ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: خطے میں جنگ کی آگ بھڑکی تو اس کی لپیٹ میں سب آ جائیں گے، مولانا فضل الرحمان لاہور: جمعیت علماء اسلام نے پارلیمنٹ کے فلور پر اِن کیمرہ اجلاس کی تجویز دی ہے، مولانا فضل الرحمان جاری کردہ : میڈیا سیل جے یوآئی پاکستان
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan224,432 views • 4 months ago

یہاں اسٹیج پر باتیں ہوئیں، پنجاب کے زمیندار کی، پنجاب کے کسان کی، پنجاب کے مزدور کی۔ میں پاکستان کے پنجاب کے کسان کو پیغام دینا چاہتا ہوں، میں پنجاب کے مزدور کو پیغام دینا چاہتا ہوں، آپ بے فکر ہو جائیے، وڈیروں کا، چودھریوں کا، سرداروں کا بھوت اپنے سروں سے اتار لیجیے۔ یہ جنگ جمعیۃ علماء اسلام لڑے گی۔ اگر تیرے گریبان میں کسی طاقتور کا ہاتھ پڑا، جمعیۃ علماء اسلام اس ہاتھ کو توڑ کر رکھ دے گی۔ اگر کسی جابر نے آپ کے گلے میں ہاتھ ڈالا، اس جابر کا ہاتھ توڑ دیا جائے گا۔ اور ہم نے پاکستان میں، ہم نے خیبر پختونخوا میں، ہم نے بلوچستان میں بڑے بڑے خوانین، بڑے بڑے نواب، جو اپنے آپ کو خدا کہا کرتے تھے، ان کی خدائی کو اگر زمین بوس کیا ہے تو پنجاب کے چودھری اور نواب کی خدائی کو بھی ہم ہی زمین بوس کر سکتے ہیں۔ آپ ذرا ارادہ تو بدلیں، پاکستان کا اور پنجاب کا کسان ذرا اپنی رائے تو بدلے، اپنے اندر خودداری تو پیدا کرے۔ یہ لوگ تھانے کی سیاست کرتے ہیں، یہ لوگ پولیس سے مل کر تمہیں گرفتار کراتے ہیں، تھانوں میں پولیس کے ہاتھوں تمہاری تذلیل کراتے ہیں، اور پھر تذلیل کرانے کے بعد تھانے آ جاتے ہیں اور کہتے ہیں: "سائیں، یہ تو ہمارا بندہ ہے، اس کو رہا کرو۔" بظاہر وہ آپ کا خیر خواہ بنتا ہے، لیکن آپ کی تذلیل کے پیچھے بھی اسی کی سازش اور اسی کی خواہش کارفرما ہوتی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا قصور میں خطاب #مولانا_کی_للکار
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan22,383 views • 11 days ago

ہمارے ملک میں ایک آئین ہے، اور اس آئین کی روح سے ایک پارلیمنٹ ہے۔ یہ عوام کی نمائندہ ہے، اور اس پارلیمنٹ کا فرضِ منصبی ہے کہ وہ عوام کی قوت کو مضبوط کرے، عوام کے حقوق کی جنگ لڑے، عوام کو طاقتور بنائے۔ لیکن آج ہماری پارلیمنٹیں مقتدرہ کی قوت میں اضافہ کر رہی ہیں اور عوام کو کمزور بنا رہی ہیں۔ پاکستان کے عوام آج کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ پاکستان کے عوام ووٹ ڈالتے ہیں، لیکن عوام کا ووٹ منظرِ عام پر نہیں آتا، پتہ نہیں کہاں غائب ہو جاتا ہے۔ گلگت میں الیکشن ہوا، اور ایک پولنگ اسٹیشن پر، جہاں جمعیۃ علماء کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ جیت رہی تھی، اس کے بکسے دریا میں ڈال دیے گئے۔ اب بتاؤ، دریا میں بکسے کہاں ڈھونڈو گے؟ ووٹ کہاں سے گنو گے؟ اب اس قسم کے عوام کے حقِ رائے دہی پر ڈاکا ڈالا جائے گا، اس کے حقِ بیعت پر ڈاکا ڈالا جائے گا، اور پارلیمنٹ عوام کے حق کی جنگ نہیں لڑے گی، بلکہ مقتدرہ کو طاقتور بنانے کی جنگ لڑے گی، جو دھاندلی کراتی ہے، جو نتائج تبدیل کراتی ہے، جو عوام کے ووٹ کو اپنے قبضے میں لے کر اپنی مرضی کے نتائج سامنے لاتی ہے، ان کو طاقتور بنائے گی، تو پھر یہی انداز ہوگا کہ نہ آپ کو گندم ملے گی اور نہ آپ کو چاول ملے گا۔ پھر بھوک اور افلاس کے علاوہ آپ کے پاس کچھ نہیں ہوگا، پھر فساد کے علاوہ آپ کے حصے میں کچھ نہیں ہوگا۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا قصور میں خطاب #مولانا_کی_للکار
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan20,725 views • 11 days ago