
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan
@juipakofficial • 296,317 subscribers
Official twitter account of #JUI Jamiat Ulam-e-Islam Pakistan. Any feedback email us: [email protected]
Shorts
Videos

مقتدرہ سےکہنا چاہتا ہوں کہ آپ بھی کوئی غیر نہیں ہیں،آپ بھی ہمارے پاکستانی ہیں،آپ بھی ہمارے کلمہ گو بھائی ہیں۔لیکن ملک کے اندر رہنا ہے تو میرے لیے بھی ایک دائرہ ہے، مجھے اپنے دائرے سے باہر نہیں جانا چاہیے۔ پارلیمنٹ کا بھی ایک دائرہ ہے، ہر محکمے کا ایک دائرۂ اختیار ہے، اسی طرح فوج کا بھی ایک دائرۂ اختیار ہے۔ فوج کی بھی ایک ذمہ داری ہے، اپنی ذمہ داری پر نظر رکھو۔ ملک اجڑ رہا ہے۔ خیبر پختونخوا میں آج کوئی حکومت نہیں ہے،مغرب کا سورج غروب ہونے کے بعد، صبح سورج طلوع ہونے تک پولیس اپنے تھانے سے باہر نہیں آتی۔ اور جب پولیس تھانے سے باہر نہیں آئے گی تو پھر سڑکیں مسلح گروہوں کے سپرد ہوں گی، پھر سڑکیں اور راستے ڈاکوؤں کے رحم و کرم پر ہوں گے۔ آپ کی حاکمیت کو میں اپنے صوبے میں جانتا ہوں، تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ تم صرف دارالحکومتوں میں اپنے اپنے بڑے بڑے بنگلوں کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، ٹانگ پر ٹانگ ڈال کر سمجھتے ہو کہ ہم حکمران ہیں۔ کم از کم میرے صوبے میں تمہاری کوئی حکومت نہیں ہے۔ اور یہ بات سن لو، دل کے کان کھول کر سن لو، یہ حقائق ہیں۔ میں کوئی اسٹیج پر خطابت نہیں دکھا رہا ہوں۔ بلوچستان میں بلوچ علاقوں میں بغاوتیں تھیں، پورا بلوچ علاقہ پاکستان کے اختیار سے نکل چکا تھا۔آج بھی وہاں پر پاکستان حکومت کی کوئی رٹ موجود نہیں ہے۔لیکن ہم تو بلوچ علاقے کو رو رہے تھے،اب تو پشتون علاقہ بھی خون میں نہا رہا ہے۔پشتون علاقے میں ہم نے دو تین دن کے اندر پچاس سے زیادہ لاشیں وصول کی ہیں۔ ہم نے بازاروں میں ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے لیے کفن خرید سکیں۔ ہم نے صرف ایک ہی کام کیا کہ اپنے پیاروں کے جنازے پڑھ سکیں۔ یہ کیا پاکستان کے عوام کی قسمت میں ہے کہ ہم نے یہاں پر خون دے کر وقت گزارنا ہے؟ نہ میرا بچہ اسکول پڑھنے کے لیے گھر سے باہر نکل سکتا ہے،نہ میرے صوبے کا غریب انسان روزی مزدوری کے لیے گھر سے باہر جا سکتا ہے، اور اگر گھر سے باہر نکلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا۔ پھر کہتے ہیں، ہمارے جوان جو شہید ہو رہے ہیں۔ او بابا! تیرے جوانوں نے پٹی اسی لیے باندھی ہے، تنخواہ اسی کے لیے لے رہے ہیں کہ اس نے ملک کی سلامتی کے لیے لڑنا ہے۔ تم اپنے خون کا میرے اوپر کیا احسان ڈالتے ہو؟ تم میرے خون پسینے کے ٹیکس سے اسی بات کے لیے تو تنخواہ لے رہے ہو، لیکن ہمیں کہتے ہو کہ تم لشکر نکالو، تم اسلحہ لے کر مسلح گروہوں کے خلاف لڑو۔ میں نے کوئی تنخواہ نہیں لی، میں کوئی لشکر نہیں بناؤں گا۔ تم چلے جاؤ گے، تم میری سرزمین کو آنے والی نسلوں تک ذاتی دشمنیوں کی طرف دھکیل رہے ہو، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قتل و غارت گری کی طرف دھکیل رہے ہو۔ یہ سیاست کسی اور کو سمجھاؤ، یہ ہمیں مت سمجھایا کرو۔ آپ نے اگر سیاست کرنی ہے تو وردی اتار کر آئیے، الیکشن میں حصہ لیجیے، پتہ چل جائے گا کہ وردی والے کو لوگ کیا ووٹ دیتے ہیں۔ یہ آپ کا اختیار ہے کہ آپ جس کو چاہیں حکومت دیں گے، اور جس سے چاہیں گے حکومت چھین لیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا قصور پنجاب میں جلسے سے خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan281,112 次观看 • 2 个月前

پارلیمنٹ اسٹیبلشمنٹ کے گھر کی لونڈی ہے جس کی اہمیت ختم ہوچکی ہے،ایوان نہیں اب اس میدان کی حیثیت ہے، اس لئے ایوان میں ہماری پانچ سیٹیں ہوں یا دس اس کی پرواہ کئے بغیر جعلی پارلیمنٹ کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ ہم جس جمہوریت کے علمبردار ہیں وہ آئین و اسلام کی علمبردار اور عوام کی نمائندہ جمہوریت ہے، ہم قرآن و سنت اور اسلام کی سربلندی کے قائل ہیں،اگر وہاں اعلاء کلمۃ اللہ نہیں ہے تو پھر وہاں غلامی ہے، ٹرمپ اور امریکہ کی غلامی ہے،ایسے نظام پر لعنت بھیجتے ہیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا ڈیرہ اسماعیل خان میں مفتی محمود کانفرنس سے خطاب #معافی_مائی_فٹ #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan248,058 次观看 • 1 个月前

اب تو سرکار کے ایوانوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ہاں، ہم اسی سال کی کمزوریوں کا نشانہ ہیں۔ بابا! کس کے ہاتھوں؟ تیرے ہی ہاتھوں! جو لوگ کہتے ہیں کہ نظام فیل ہو چکا ہے، اور کسی ایک خاص زمانی کی بات نہیں کر رہا، میں تو اسی سالہ تاریخ کی بات کر رہا ہوں، تو ہم بھی آپ سے اسی سالہ تاریخ کی بات کر رہے ہیں۔ لیکن یہ اسی سال کی تباہی تمہاری وجہ سے ہے، کسی اور کی وجہ سے نہیں۔ قتل حسین بھی اور ہائے حسین بھی، یہ نہیں چلے گا۔ ملک کو تباہ کرنے کی تم نے ذمہ داری تسلیم کر لی ہے، اب چھپتے کس چیز کے پیچھے ہو؟ نظام تبدیل کرو۔ نظام کون سا؟ جو اسی سال آپ کے قبضے میں رہا، اب مزید کوئی نیا طریقہ اپنے قبضے میں رکھنے کا۔ تو میں نے کہا، ظالموں! انگریز کے زمانے کے پڑے ہوئے سبق اور وہی روّیے، کم از کم وہ تو تبدیل کر لو۔ اپنے مخالفین کے خلاف رویّوں میں کوئی تبدیلیاں تو لاؤ۔ اگر میری حکومت ہے تو میرے مخالف جیل میں ہونا چاہیے، اگر مخالف کی حکومت ہے تو مجھے جیل میں ہونا چاہیے۔ یہ کوئی سیاست ہے؟ کسی دوسری دنیا میں بھی اس طرح ہوتا ہے؟ تو طریقے تو تبدیل کر لو۔ ذرا معلوم تو کر لو کہ ہماری معیشت کہاں کھڑی ہے۔ ہمارا امن و امان کہاں کھڑا ہے؟ ہمارے دو صوبے جل رہے ہیں۔ دیہاتوں میں عام آدمی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، نہ وہ دکان پہ جا سکتا ہے، نہ بچوں کو سکول بھیج سکتا ہے، نہ کھیتوں میں جا سکتا ہے، نہ مزدوری کر سکتا ہے۔ دیہات خالی ہو گئے ہیں۔ کہیں تو زندگی گزارنی ہے۔ اور یہ کہتے ہیں، ہم بیس، پچیس سال سے آپریشن کر رہے ہیں۔ آپریشن پہ آپریشن، تو آپریشن پہ آپریشن! بھئی، کس چیز کا آپریشن؟ جتنا آپریشن کرتے ہو، مرض بڑھتا گیا۔ آپ کی حکمتِ عملی میں ڈیفالٹ کہیں، جھول ہے، کہیں کمزوری ہے۔ میری تنقید کو برا ماننے کی بجائے کہیں اپنی کمزوری بھی تو ٹٹولو۔ ایک دن ۔۔۔اپنے لیے صرف یہ کہ میرے اقتدار پر قبضہ کیسے رہے، بس! چاہے قوم برباد ہوتی رہے۔ ہم بھی مانتے ہیں ریاست اہم ہے، لیکن ریاست عوام سے بنتی ہے۔ عوام کے بغیر ریاست ایک خالی برتن ہے، خالی ڈول ہے۔ کیا حیثیت ہے اس کی؟ حکومت یہ لوگوں کے معاملات کا نظم و تدبیر، انتظام ہے۔ تو ریاست ہو، عوام ہو، حکومت ہو، ان تین چیزوں کے ساتھ ریاست مکمل ہو جاتی ہے۔ جہاں امن و امان نہیں ہے، وہاں معیشت کیا ہوگی؟ آج ہندوستان دنیا کی چوتھی معیشت بن گیا ہے، اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب کے لگ بھگ پہنچ گئے ہیں۔ اور ہمارے ہاں لوگوں سے خیرات مانگ کر کوئی دس گیارہ ارب جمع ہو گئے ہوں گے،۔ کہاں دس گیارہ، کہاں سات سو ارب ڈالر ! امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ضلع ساہیوال میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 05 ستمبر 2026
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan13,888 次观看 • 4 天前

چینیوں کی ایک کہاوت ہے کہ اگر ایک ہزار میل کا سفر کرنا ہو، تب بھی اس کی ابتداء پہلے قدم سے ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب الیکشن کے بعد جناب اسد قیصر صاحب کی قیادت میں پاکستان تحریکِ انصاف کا ایک وفد میرے ہاں تشریف لایا تھا، پہلی ملاقات تھی، جس میں میں نے ان سے یہ عرض کیا تھا کہ آپ نے ایک اچھا آغاز کیا ہے، لیکن جو رکاوٹیں اور مشکلات ہمارے درمیان ہیں، ان کی بنیاد اب رکھ دی گئی ہے کہ اس کو تحلیل کیا جائے، اور تدریجی طور پر تحلیل ہوتی ہیں ساری چیزیں، بیک وقت نہیں ہوتیں۔ جسمانی طور پر بھی زخم یک دم آتا ہے، لیکن زخم وقت کے ساتھ ساتھ مندمل ہوتا ہے، ایک لمحے میں نہیں ہوتا۔ بیماری یک دم آ جاتی ہے، لیکن اس بیماری کا ازالہ وقت کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے، ایک لمحے میں نہیں ہوتا۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا جوائنٹ اپوزیشن اجلاس سے خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan27,331 次观看 • 12 天前

چراغِ حق جلانا اب ہواؤں میں ضروری ہے سلگتے اس چمن کو پھر بچانا اب ضروری ہے اور ہوائیں خوف کتنی ہی چلیں، پیچھے نہیں ہٹنا گھروں سے سوئے لوگوں کو جگانا ضروری ہے۔ اس ملک کو اسی سال میں عروج سے زوال کی طرف کون لے گیا ہے اور کون ذمہ دار ہے؟ پاکستان بنا کن امیدوں کے ساتھ؟ پاکستان میں تین طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں اسلام کے لیے بنا تھا، کچھ لوگ کہتے ہیں معیشت کے لیے بنا تھا، کچھ لوگ کہتے ہیں جمہوریت کے لیے بنا تھا۔ اسی سال میں ان تین میں کوئی چیز نظر آ رہی ہے؟ اسلام کی بات کرنے والے، وہ اسلام کے حوالے سے تشنگی محسوس کر رہے ہیں۔ معیشت کی بات کرنے والے، وہ معاشی طور پر اپنی پسماندگی کا گلہ کر رہے ہیں۔ اور جمہوریت والے بیچارے، وہ تو ایسی گلی کوچوں میں رول رہے ہیں۔ کون ذمہ دار ہے اس کا؟ مقتدرہ ذمہ دار ہے، بیوروکریسی ذمہ دار ہے، جاگیردار ذمہ دار ہے، سرمایہ دار ذمہ دار ہے، سرکار ذمہ دار ہے۔ ان قوتوں نے میل ملاپ کے ساتھ قسم کھا رکھی ہے کہ اقتدار ہمارے قبضے میں ہوگا اور ہم کسی کو حکومت پر نہیں آنے دیں گے۔ مرضی چلے گی تو ہماری چلے گی، ہم کمائیں گے، ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے۔ اور ہم نے بھی طے کیا ہے کہ ہم آپ کو بھی اس طرح حکومت نہیں چلنے دیں گے۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا ضلع ساہیوال میں ورکرز کنونشن سے خطاب، 05 ستمبر 2026
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan10,299 次观看 • 4 天前

لاہور: امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی میڈیا سے گفتگو لاہور: اس وقت پوری امتِ مسلمہ کو سر جوڑ کر بیٹھ کر اپنے مستقبل کا تعین کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: امریکہ اور مغربی دنیا کی پالیسیوں کے نتائج آج پوری امتِ مسلمہ کے سامنے آ چکے ہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: فلسطین اور بیت المقدس صرف ایران نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا مسئلہ ہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: فلسطین اور القدس کے مسئلے پر امتِ مسلمہ کو متحد اور مضبوط مؤقف اختیار کرنا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: بدقسمتی سے اسلامی دنیا داخلی اختلافات اور لڑائیوں میں الجھ گئی ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان اس وقت پیچیدہ علاقائی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: بھارت کے ساتھ مشرقی سرحد اور افغانستان کی جانب مغربی سرحد کشیدہ صورتحال کا شکار ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: موجودہ حالات میں پاکستان کے علاقائی اور عالمی تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ ضروری ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: الزام تراشی یا ایک دوسرے کو غلط قرار دینا مسائل کا حل نہیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کہاں کھڑا ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان کے اہم سفارتی اور دفاعی معاملات پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اِن کیمرہ اجلاس بلایا جائے، مولانا فضل الرحمان لاہور: قومی سلامتی کے معاملات پر عوامی نمائندوں کو کھل کر اظہارِ رائے کا موقع ملنا چاہیے، مولانا فضل الرحمان لاہور: حکومت اور اسٹیبلشمنٹ قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں، مولانا فضل الرحمان لاہور: حساس قومی معاملات کو جلسوں اور گلی کوچوں کی سیاست کا موضوع نہیں بنانا چاہیے، مولانا فضل الرحمان لاہور: پاکستان کے مستقبل کیلئے سیاسی اور سفارتی راستے اختیار کرنا ہوں گے، مولانا فضل الرحمان لاہور: ہمیں خطے میں پرامن اور اچھے ہمسایہ تعلقات کو فروغ دینا ہوگا، مولانا فضل الرحمان لاہور: جنگ سے امن پیدا نہیں ہوتا، جنگ مزید جنگ کو جنم دیتی ہے، مولانا فضل الرحمان لاہور: خطے میں جنگ کی آگ بھڑکی تو اس کی لپیٹ میں سب آ جائیں گے، مولانا فضل الرحمان لاہور: جمعیت علماء اسلام نے پارلیمنٹ کے فلور پر اِن کیمرہ اجلاس کی تجویز دی ہے، مولانا فضل الرحمان جاری کردہ : میڈیا سیل جے یوآئی پاکستان
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan224,668 次观看 • 6 个月前

ہمارے وزیراعظم صاحب کہہ رہے ہیں کہ آئیں بات کریں! تالی دو ہاتھوں سے بجتی ہے۔ میرے خیال میں یہاں دو ہاتھ نہیں ہیں کہ جو قریب ہو کر تالی بجا سکیں۔ یہاں ایک ہی ہاتھ ہے جو قوم کے چہرے پر تھپڑ مارتا ہے اور تھپڑ کی گونج آ رہی ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ نہ ان کے پاس کچھ ہے کہ وہ کسی کو کچھ دے سکیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی گفتگو
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan29,483 次观看 • 19 天前

اسلام آباد: نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ آمد قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن سے ملاقات ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سنیٹر مولانا عطاء الرحمان، سنیٹر مولانا عطاء الحق درویش موجود تھے۔ #معافی_مائی_فٹ #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #لشکر_نہیں_خود_لڑو #مولانا_کی_للکار #پروپیگنڈہ_چھوڑو_امن_دو
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan70,955 次观看 • 1 个月前

نئے صوبے بنانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے ضلعے بنانا، نئی تحصیلیں بنانا اور نئے ٹاؤن بنانا، یہ انتظامی معاملات ہیں۔ بھارت میں بھی نئے صوبے بنے ہیں، لیکن ہمیں اپنے ملک کی انتظامی ساخت کو پہلے دیکھنا چاہیے، اس کا پورا مطالعہ کرنا چاہیے۔ نقوی صاحب ہمارے برخوردار ہیں، لیکن کچھ وقت سے پہلے بالغ ہوگئے ہیں۔ اب یہ معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ بات اپنی ذاتی حیثیت میں کی ہے یا نہیں۔ لیکن اپنی ذاتی حیثیت میں بات کرنا کیسے ممکن ہے، جبکہ وہ اس وقت وفاقی کابینہ کے رکن ہیں۔کیا وہ یہ کہہ سکتے ہیں؟ یا وزیراعظم پاکستان یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ میری آشیرباد پر ہوا ہے، یا میری اجازت سے ہوا ہے؟ یا وفاقی کابینہ یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ ہماری اجازت سے ہوا ہے؟ یا اگر کسی اور طرف سے کوئی بات ہوئی ہے تو وہ بھی واضح کر دی جائے۔ کیا ملک اس بات کے لیے تیار ہے کہ نئے صوبے بنائے جائیں؟ صوبے بنانا کوئی بری بات نہیں، میں ایک سال سے زیادہ عرصہ چیختا رہا کہ فاٹا ابھی انضمام کے قابل نہیں بنا۔ مگر ہمارے سر پر یہ تھوپ دیا گیا کہ تم تو انضمام کے مخالف ہو۔ ہم نے کہا، نہیں، ہم انضمام کے خلاف نہیں ہیں۔ یہ فاٹا کے عوام اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ ہے، لہٰذا اس میں کئی آپشنز ہو سکتے ہیں۔ ذرا وہاں کے عوام سے بھی پوچھ لیا جائے کہ وہ صوبے میں انضمام چاہتے ہیں، ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں، یا اپنی سابقہ حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان سے نہیں پوچھا گیا۔ آج وہ خود کہہ رہے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی۔ وہاں کے عوام کی زندگی اب ایسی ہو گئی ہے کہ وہ خود نہیں سمجھ رہے کہ ہم اب فاٹا ہیں یا صوبے کا حصہ ہیں۔ وہاں کوئی نظام موجود نہیں ہے، باقی نظام تو دور کی بات ہے۔ یہ کوئی کیک تو نہیں کہ آپ آرام سے چھری لے کر جس طرح چاہیں اسے کاٹ دیں۔ صوبہ بنانے کی بات کے لیے کیا ملک تیار ہے؟ آپ مجھے بتائیں، اگر چار یا پانچ بھائیوں کا مشترکہ مکان ہو اور اس کے بعض حصوں میں آگ لگ جائے، تو اس وقت وہ آگ بجھائیں گے یا کہیں گے کہ آئیے بھائی، پہلے اس کی تقسیم کر لیتے ہیں؟ ہر چیز کے لیے ایک مناسب ماحول بنانا پڑتا ہے۔ سوائے اس کے کہ عوام کو جو مسائل درپیش ہیں، جو مشکلات ہیں، جو بدامنی ہے، جس نے زندگی اجیرن بنا دی ہے، ان سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے آپ ہم سب کو ایک نئی بحث میں لگا دیتے ہیں۔ روز نئے ایشو اٹھاتے ہیں، پھر اس پر بحث ہوتی ہے۔ یہ صوبوں والی بحث پہلے بھی کئی بار ہو چکی ہے۔ ہم اصولی طور پر صوبوں کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر قومیتوں کی بنیاد پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اور اگر محض انتظامی بنیادوں پر بنیں گے تو پھر ان کی شکل کیا ہوگی؟ اس پر ہر صوبے کے عوام کا ردِعمل آئے گا۔ وہ کہیں گے کہ یہ ہونا چاہیے یا نہیں ہونا چاہیے، مجھے اس صوبے میں شامل کرو یا نہ شامل کرو۔ یہ سارے معاملات ابھی باقی ہیں۔ ایک مشکل مسئلے میں اتنی آسانی کے ساتھ ہاتھ ڈال دیا گیا ہے کہ شاید یہ ان کے بس میں نہ ہو، بلکہ اس سے مشکلات اور پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہو جائے۔ یہی میرے خدشات ہیں۔ ہر چیز مشاورت سے ہونی چاہیے تھی۔ یہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، ملک کے ہر شہری کا مسئلہ ہے۔ یہاں مختلف قومیتیں رہتی ہیں، ان کی اپنی ایک شناخت ہے۔ آپ اس شناخت کو نظرانداز کریں گے یا اسے سامنے رکھ کر فیصلے کریں گے؟ یہ سارے معاملات غور و فکر کی ضرورت ہیں۔ میں ایک عرصے سے کہہ رہا ہوں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے، یہاں پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہو گئی ہے۔ لیکن اب کیا کرنا ہے؟ ہم تو کہتے ہیں کہ اس کا حل آج بھی ہے اور کل بھی تھا، وہ ہے ملک کا آئین۔ آئین کے مطابق ملک کو چلاؤ، جمہوریت بھی ٹھیک ہو جائے گی، اور اللہ کے دین اور اس کے احکامات کے مطابق قانون سازی بھی شروع ہو جائے گی۔اور عوام میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی کہ اصل میں ہماری مرضی کی حکومتیں ہونی چاہئیں، ہم پر جبراً کوئی حکومتی مسلط نہ کی جائے۔ لیکن وہ دھاندلیوں کے ذریعے دھوکہ دیتے ہیں، جیسے واقعی یہ عوام کی حکومتیں ہوں، جبکہ یہ بھی انہی کی حکومتیں ہوتی ہیں اور ان کی لگام بھی انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عوام پریشان ہیں، عوام کی کوئی حکومت نہیں ہے۔ میں یہ سوچتا ہوں کہ پہلے یہ بتایا جائے کہ انہوں نے یہ باتیں کس حیثیت میں کی ہیں؟ وہ کابینہ کے رکن ہیں۔ اگر نظام ناکام ہو چکا ہے تو یا تو اپنی حکومت سے کہیں کہ وہ مستعفی ہو جائے، یا پھر کم از کم خود مستعفی ہو کر میدان میں آ جائیں۔ نہیں، نوکری بھی اسی تنخواہ پہ کرنی ہے اور باتیں بھی بڑی بڑی کرنی ہیں، تو میں اب کیا کہہ سکتا ہوں۔ 'چھوٹے لوگوں کو بڑا کہنا پڑا ہے مجھ کو اکثر، ایسی تکلیف کئی بار اٹھائی میں نے۔' امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کی کوئٹہ میں صحافیوں سے گفتگو
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan43,222 次观看 • 1 个月前

اسلام آباد میں سفارتخانۂ افغانستان کے زیر اہتمام یوم فتح کی پانچویں سالگرہ کی تقریب۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی شرکت/ خطاب نہایت قابلِ قدر جناب سردار احمد خان شکیب صاحب، سفیرِ امارتِ اسلامیہ افغانستان! افغانستان کے فتحِ مبین کے پانچ سال مکمل ہونے پر اس تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے۔ تمام شرکائے عظام کو دل کی گہرائیوں سے سلام پیش کرتا ہوں۔ محترم سفیر صاحب نے جس پُرخلوص انداز کے ساتھ افغانستان، اس کے ہمسایہ ممالک اور خطے کے ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، میں اس کی صدبصد تائید کرتا ہوں اور اپنی طرف سے، پاکستان کی طرف سے اور پاکستان کے عوام کی طرف سے اس خیرسگالی کا جواب دوہری خیرسگالی کے ساتھ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ہمارے تاریخی رشتے، مذہبی رشتے، ثقافتی رشتے اس بات کے متقاضی ہیں کہ ہم دو مضبوط اور پُرامن پڑوسیوں کی طرح اپنا مستقبل طے کریں، ایک نیا مستقبل، اور نئے مستقبل کی مستحکم بنیادیں تلاش کریں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان افغانستان کا سہارا ہوگا اور افغانستان پاکستان کا سہارا ہوگا۔ آسیا یک پیکرِ آب و گل است ملتِ افغان در آں پیکر دل است از کشادِ او کشادِ آسیا از فسادِ او فسادِ آسیا علامہ اقبال نے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کا جو نقشہ کھینچا تھا، میں سمجھتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے بعد پاکستان بھی آج جغرافیائی اعتبار سے ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مغرب و مشرق کو قریب کرنا، مشرقِ وسطیٰ ہو، وسطِ ایشیا ہو، مشرقی ایشیا ہو، جنوبِ ایشیا ہو، اس کے لیے آج جغرافیائی طور پر افغانستان اور پاکستان مل کر مشترکہ پل کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ لہٰذا دونوں مملکتوں کو، امارتِ اسلامیہ کو بھی اور اسلامی جمہوریۂ پاکستان کو بھی، اس حوالے سے خطے کی جو جغرافیائی اہمیت ہے، اس کا ادراک کرنا ہوگا اور اس ادراک کی اہمیت کو سمجھ کر ہمیں ایک مشترکہ مستقبل طے کرنا ہوگا، ایک مستقبل، ایک وحدت، اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ پوری اسلامی دنیا کے لیے ایک رہنما قدم ہوگا جو ساری اسلامی دنیا کو ایک وحدت پر مجتمع کر سکے گا۔ ہم تو ہمیشہ سے اس بات کے خواہش مند رہے ہیں اور یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ مسلمان امتِ واحدہ ہے۔ ہم ایک اسلامی بلاک کے قیام کے حامی ہیں اور اس جانب اگر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور ایران پیش رفت کرتے ہیں تو وقت کے ساتھ ساتھ دوسری اسلامی دنیا بھی اس میں شریک ہو سکتی ہے، اس کا ہم سفر بن سکتی ہے، اور وقت اس بات کا تقاضا کر رہا ہے کہ اب ہم عالمی قوتوں پر اپنا انحصار کم کر دیں، بلکہ اپنا انحصار ختم کر دیں اور اپنی قوت کو یکجا کر کے خود اپنے وجود پر انحصار کریں اور اللہ کی ذات کی طرف متوجہ ہو کر ایک امتِ واحدہ بن جائیں۔ آج کے اس اجتماع سے میرے خیال میں ہمارے ملک کے انتہائی اہم لوگ یہاں جمع ہیں اور یہ ہم سب کی آواز ہے، اور میں اپنے وطن کی طرف سے، اپنے ملک کے عوام کی طرف سے، یہاں کے مسلمانوں کی طرف سے افغانستان کے اپنے بھائیوں کو اس اسٹیج سے یہ پیغام دینا چاہتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل درآمد کے لیے صلاحیت عطا فرمائے اور اس کے درمیان جو رکاوٹیں ہیں، ان تمام رکاوٹوں کو، جس طرح کہ جناب سفیر صاحب نے فرمایا، ہم مکالمے، تفاہم، بات چیت اور گفتگو کے ذریعے سے ان مشکلات کو بڑے سلیقے کے ساتھ ختم کر سکتے ہیں۔ اور میرے خیال میں ان مشکلات کو دور کرنے میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔ دونوں طرف سے یہ خواہش ہے کہ یہ مشکلات دور ہوں اور ہم ایک پڑوسی ملک ہی نہیں، بلکہ باقاعدہ پڑوسی اور برادر اسلامی ملک کی طرح ایک جان بن کر دنیا کے سامنے اپنا آپ پیش کر سکیں، تو ہمیں اس کا مصداق بن جانا چاہیے کہ دونوں طرف سے آگ برابر لگی ہوئی ہے۔ اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے۔ میں بہت شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے کچھ گفتگو کرنے کا موقع دیا، جو کہ میں سمجھتا ہوں، مجھے کچھ علم نہیں تھا کہ مجھے کوئی بات بھی کرنی ہے، لیکن اس موقع پر جو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا، گفتگو کی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے کہ ہم افغانستان اور پاکستان کے درمیان یک جان ہونے کی خواہش رکھتے ہیں اور ان شاء اللہ ہم یک جان ہو کر ہی اپنا مستقبل متعین کریں گے۔
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan28,685 次观看 • 23 天前

کوہاٹ: اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دینا چاہتا ہوں۔ہم جمعیت علماء اسلام کے کارکن ہیں، ہم جمعیت علماء اسلام کے ختمِ نبوت کے مجاہد ہیں۔ ہم آپ کی غلط پالیسیوں پر بھی تنقید کریں گے، ہم آپ کو پاکستان کو صحیح راستہ دکھانے کے لیے بھی آپ کی رہنمائی بھی کریں گے۔ ہم پاکستان میں توہینِ رسالت کے قوانین کا تحفظ بھی کریں گے، اور ہم پاکستان میں کسی مائی کے لال کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ میرے آقا ﷺ کی ختمِ نبوت کے قانون میں کوئی ترمیم کرنے کا سوچ بھی سکے۔ اور ان شاء اللہ! یہ مولانا فضل الرحمٰن، یہ جمعیت علماء اسلام کا کارکن اور یہ ختمِ نبوت کا مجاہد کل بھی تمہارے اعصاب پر سوار تھا، آج بھی تمہارے اعصاب پر سوار ہے، اور ان شاء اللہ! آئندہ بھی تمہارے اعصاب پر سوار رہے گا۔ انجینئر ضیاء الرحمٰن کا خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan14,151 次观看 • 11 天前

ایسا نہیں ہے کہ آپ جو کہیں اور جس طرح کی ترجیحات طے کریں اور ہم «آمناوسلمنا» نہیں، ایسا نہیں ہے۔ خطے میں ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ افغانستان کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ چین کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ بنگلہ دیش کے ساتھ ہمارے تعلقات کیسے ہونے چاہئیں؟ ان سارے معاملات پر یہ ایک جماعت ہے جو اپنی رائے رکھتی ہے، لیکن اگر وہ آپ کی رائے کے خلاف ہے تو پھر غدار ہی ٹھہرے؟ ذرا شرم کرو، اس طرح نہیں ہوتا۔ اور میں ان کو بھی دیکھ رہا ہوں جو تمہارے گھر کی کواڑ سے اپنا منہ باہر کر کے ہماری طرف بولتے ہیں، نہ کرو ایسا، میں نصیحت کرتا ہوں آپ کو، اس طرح نہ کیا کرو، سنجیدہ لو ہر معاملے کو۔ امن و امان ملک کا تباہ ہے، اس پر ہمیں بات نہیں کرنی؟ اور جو کچھ آپ کر رہے ہیں بیس پچیس سالوں سے اور روز روز ان پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان مشکل میں پڑ رہا ہے، زخم گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کا، اس پر بھی ہم بات نہ کریں؟ آپ حضرات کی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ ملک جس معاشی بحران کا شکار ہو گیا ہے، پورے خطے میں آپ کہاں کھڑے ہیں؟ یہی تو ہم رو رہے ہیں کہ بھئی، اگر آپ پبلک میں نہیں بتا سکتے، کوئی ایسی ریاست کی مجبوری ہے کہ آپ پبلک میں نہیں کہہ سکتے، تو ہم کب کہتے ہیں۔ہم نے تو آپ کو دو تین دفعہ کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا اِن کیمرہ اجلاس بلاؤ، اتنا تو بتا دو کہ ہو کیا رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے۔ آپ نے ہندوستان کا مقابلہ کیا، اگر انڈیا سے لڑائی ہوئی، جمعیت علماء نے سب سے پہلے پاکستان کا ساتھ دیا، فوج کا ساتھ دیا، اور جب آپ کو اللہ نے کامیابی دی، ہم اس پر خوش بھی ہیں اور ہمیں فخر بھی ہے، پاکستان کی فتح ہے۔ لیکن جنگ تو چار گھنٹے کی ہے، یا ادھر یا اُدھر، یا آر یا پار، لیکن قوموں کی مستقل زندگی میں، جہاں ارتقاء کا سفر آگے بڑھتا ہے، اس وقت ہندوستان پوری دنیا کی چوتھی معیشت بن چکا ہے، آپ بتائیں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟ ہر بات میں ہندوستان اور پاکستان، اور ہندوستان سے مقابلہ، لیکن وہ دنیا کی چوتھی معیشت بن گیا ہے اور اس کے زرمبادلہ کے ذخائر سات سو ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارے پاس تو زرمبادلہ کے ذخائر آٹھ سے دس ارب ڈالر ہوں گے، وہ بھی کسی کے ادھار دیے ہوئے پیسے بینک میں رکھے ہوئے ہیں، استعمال نہیں کر سکتے۔ یہاں بھی دیکھو نا، امن و امان کے حوالے سے بھی دیکھو نا، بلوچستان کی کیا صورتِ حال ہے؟ خیبر پختونخوا کی کیا صورتِ حال ہے؟ آپ کے سندھ کی کیا صورتِ حال ہے؟ نہیں؛ امن بھی نہیں دینا، معاش بھی نہیں دینا، اور حکومت کا حق بھی ہمارا ہی ہوگا! آپ کو حکومت کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے، آپ دھاندلی سے آئے ہیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا سکھر میں خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan10,294 次观看 • 9 天前

شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ شہداء ہماری آنکھوں کا نور ہیں۔ افواجِ پاکستان کے شہداء ہوں، رینجرز کے شہداء ہوں، پولیس کے شہداء ہوں، وکلاء کے شہداء ہوں، صحافی برادری کے شہداء ہوں، سیاسی جماعتوں کے شہداء ہوں، شہداء کے پیچھے مت چھپو، ملک کی 78 سالہ کارکردگی کا حساب مولانا نے مانگا ہے، جو دینا ہوگا۔ مولانا کا بیانیہ اکیلے کسی ایک فردِ واحد کا نہیں، بلکہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کا بیانیہ ہے۔ آج پوری قوم مولانا کے ساتھ تجدیدِ عہدِ وفا کر رہی ہے۔ علامہ راشد محمود سومرو صاحب کا جمعہ کے اجتماع میں بیان #سلیکشن_مافیا_نامنظور #آئین_شکن_مقدس_گائے #شہداء_کو_ڈھال_نہ_بناؤ #معافی_مائی_فٹ #مولانا_شان_پاکستان
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan43,318 次观看 • 1 个月前

کوہاٹ: ایسے لوگ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی پاکستان سے وفاداری پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ ارے! میں کوہاٹ کے اس جلسۂ عام سے آپ کو پیغام دے رہا ہوں کہ آپ تو ان کے لے پالک ہو، آپ تو ان کے کرایہ دار ہو۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے تو آپ کے آقا، اسٹیبلشمنٹ کو کہا تھا کہ میں اتنا پاکستانی ہوں، اتنا پاکستانی ہوں، اتنا پاکستانی ہوں کہ مجھے تمہاری پاکستانیت پر شک ہوتا ہے۔ تمہیں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی وفاداری اس وقت یاد آتی ہے جب وہ اسٹیبلشمنٹ کو آئینہ دکھاتے ہیں۔ تمہیں مولانا فضل الرحمٰن صاحب کے انڈیا کے ساتھ تعلقات اس وقت نظر آتے ہیں جب وہ تمہاری پالیسیوں پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ اس سے پہلے تم گونگے، بہرے ہوتے ہو۔ "چلا تھا ذکر میری خامیوں کا محفل میں، جو لوگ بہرے تھے، ان کو سنائی دینے لگا۔" انجینئر ضیاء الرحمٰن کا خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan11,517 次观看 • 11 天前

ہم سے کہا جاتا ہے کہ تم نے سائنس دان کیوں پیدا نہیں کیے؟ ایٹم بم بنانے والے کیوں پیدا نہیں کیے؟ ارے بھائی! جن کاموں کے لیے وزارتیں، سائنس کالج اور یونیورسٹیاں قائم کی گئی ہیں، ان سے جا کر پوچھو کہ انہوں نے کیا کارنامے انجام دیے؟ ہر ادارے کا ایک دائرۂ کار ہوتا ہے۔ مدارسِ دینیہ کا دائرۂ کار یہ ہے کہ وہ قرآن، سنت، فقہ اور شریعت کے ماہرین پیدا کریں، اور الحمدللہ یہ کام اللہ کے فضل سے جاری ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب کا ملتان میں خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan157,140 次观看 • 8 个月前

ہم مانتے ہیں کہ انیس سو سینتالیس میں ہم آزاد ہوئے، اناسی سال گزر گئے، انگریز چلا گیا، لیکن ذرا تاریخ کو تو پڑھو۔ اٹھارہ سو تین سے لے کر انیس سو سینتالیس تک اس آزادی کے لیے قربانیاں دینا، کہیں بالاکوٹ میں شہداء کا خون بہہ رہا ہے، کہیں شاملی کے میدان میں علماء کا خون بہہ رہا ہے، دہلی اور گردونواح میں ہزاروں مسلمان شہید ہو رہے ہیں۔ اس آزادی کی خاطر یہ میرے اکابر کی تاریخ ہے، تمہاری تاریخ نہیں ہے۔ پھانسیوں کا اگر چُوما ہے اس آزادی کے لیے، میرے اکابر، اور میرے بزرگوں نے چُوما ہے۔ اور ایک انگریز خود کہتا ہے کہ جب ہم نے ان مجاہدین کو توپوں کے سامنے کھڑا کرکے اڑانے کا فیصلہ کیا تو ہزاروں لوگوں میں ایک ایک سے ہم نے پوچھا، تنہائی میں،، اتنا کہہ دو کہ میرا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں، آپ کی جان بچ جائے گی۔ ہزاروں کے لوگ اڑ گئے، لیکن کوئی بندہ ہمیں نہیں ملا جس نے کہا ہو کہ میرا اس تحریک سے تعلق نہیں۔ کس بات پر تم میرے ساتھ مقابلہ کر رہے ہو؟ پاکستان اگر بنا ہے تو میرے اکابر کی قربانیوں کے نتیجے میں بنا ہے۔ آپ اس کو نظرانداز نہیں کر سکتے، آپ اس کی بے توقیری نہیں کر سکتے، اور اپنا منہ کلی کرکے میرے اکابر کا نام لینا۔ شراب سے بدبودار تمہارا منہ میرے اکابر کے خلاف زبان کھولتا ہے۔ شرم نہیں آتی تم لوگوں کو؟ مذاق سمجھ رکھا ہے۔ یاد رکھو، یہ جو ہم بیٹھے ہیں، یہ ان اکابر و اسلاف کے وارث ہیں۔ یہ ان مشن کے وارث ہیں جنہوں نے اگر انگریز کے سامنے سر نہیں جھکایا تو انگریز کے پالشیوں کے سامنے بھی ہم سب جھکنے کے لیے تیار ہیں۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan22,332 次观看 • 27 天前

تم اپنی حکمتِ عملی میں بدنیت بھی ہو، تم چاہتے بھی نہیں ہو کہ ملک میں کوئی آرام آئے اور اطمینان آئے۔ اور کہتے ہو ریاست ماں ہے، ریاست ماں ہے۔ ماں وہ تو اولاد کو اکٹھا کرتی ہے۔ اگر اس کی اولاد میں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور وہ تقسیم ہوتے ہیں، ماں پر کیا گزرتی ہے؟ ماں اپنے اولاد کو جوڑتی ہے۔ ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے۔ لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو۔ قوم کو تقسیم کرنا، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا، لڑانا، ہر جگہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ، اور تم اس کو مارو اور اس کے ذریعے نیچے کرو۔ یہ حکمتِ عملی بنانا۔ اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پہ لعنت، ماں اس طرح ہوتی ہے؟ ماں کی ممتا تڑپتی ہے، اپنے اولاد کی، اس کی خیرخواہی کے لیے، ان کی وحدت کے لیے۔ وہ اپنے اولاد کو ایک صف میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے دل میں جو اپنے اولاد کے لیے رأفت اور رحمت ہوتی ہے، کیا ہم وہ دیکھ رہے ہیں؟ اس ملک پہ ماں اس طرح ہوتی ہے؟ یہ ماں تو نہیں ہوتی، یہ کوئی ڈائن ہوگی۔ ماں بناؤ ریاست کو، ماں بناؤ، قوم کو ایک قوم بناؤ۔ اور اس حالت پہ کہتے ہیں کہ جو صوبے پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ان کو بھی توڑو۔ اب باقی کام رہ گیا ہے، صوبوں کو توڑنا۔ کس لیے؟ خوبصورت نعروں کو قوم کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر برے کام میں آپ اس کی ایک خوبصورت تصویر بنا دیتے ہیں، قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔ اب بہت سی باتیں اس کو اصول کے حوالے سے زیرِ بحث نہیں لے جاتی، عملی حوالے سے، ماحول کے حوالے سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ اور ہمیں تو حکمرانوں کی نیت پر بھی شک ہے کہ اٹھارویں ترمیم اور اس پہ صوبوں کے اختیارات ان کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، اندر نہیں جا رہا ہے۔ اب آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں، NFC ایوارڈ، اس پہ اضافہ ہوگا، کم ہی نہیں ہو سکے گا۔ اب کہتے ہیں یہ تو سارے محصولات صوبے رکھ جاتے ہیں، تو جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو پھر نیا معاہدہ کرنا پڑے گا، نیا NFC ایوارڈ آئے گا۔ تو ہمارے ملک کی قوموں، مختلف صوبوں، اس کے اندر رہنے والے لوگوں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے۔ تو میں نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ کوئی بندہ لحاف میں لیٹا ہوا تھا، تو اس کے اندر ایک جوں اس کو لگ گیا ہے، تو جوں کو تلاش کرنے کی بجائے اور جوں کو مارنے کی بجائے، اس نے رضائی کو آگ لگا دی ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں ورکز کنونشن سے خطاب 25 اگست 2026
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan13,335 次观看 • 15 天前

اب آپ ناراض کس بات پر ہوئے ہیں؟ کہ میں نے کہا: "ہم لشکر نہیں بنائیں گے۔" آپ قبائل سے جگہ جگہ کہہ رہے ہیں کہ تم لشکر بناؤ اور لڑو۔ ہم نے کہا: "نہیں، یہ عوام کی ذمہ داری نہیں ہے۔" اس کے لیے آپ ہیں۔ آپ ہی بھرتی ہوتے ہیں، آپ ہی پیٹیاں باندھتے ہیں۔ لیکن پھر بھی پاکستان کے عوام نے آپ کو اخلاقی طور پر سپورٹ کیا ہے۔ آپ عوام کو جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ تو پھر میں بتانا چاہتا ہوں کہ مشرقی پاکستان میں تم نے عوام سے کہا تھا کہ تم لشکر بناؤ۔ تو البدر بنا، الشمس بنا۔ اس نے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑائی لڑی۔ آج بھی وہ دشمنی برقرار ہے یا نہیں؟ عوامی لیگ اور جماعتِ اسلامی کی آج بھی برقرار ہے۔ آج بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں دی گئیں؟ تو تم ہماری قوم اور عام آدمی کو اس طرح کی دشمنیوں میں الجھانا چاہتے ہو؟ اور میں کیوں لشکر بناؤں؟ میری صوبائی حکومت، خواہ میرے اختلاف ہی کیوں نہ ہوں، وہ آپ سے کہتی ہے کہ ہم خود پولیس کو استعمال کر کے جنگ لڑ سکتے ہیں، فوج سائیڈ پر ہو جائے۔ تو آپ صوبائی حکومت کی طاقت کو استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، اور آپ عام آدمی کو کہہ رہے ہیں کہ لشکر بناؤ۔ پہلے صوبائی حکومت کی پیشکش کو تو قبول کرو۔ اور نتیجہ یہ نکلا ہے، کہ بنوں میں چند مہینوں کے اندر اندر کتنی دفعہ چھاؤنی پر حملے ہوئے۔ وہ اندر داخل ہو گئے۔ ابھی حال ہی میں کتنے تھانوں پر انہوں نے قبضے کیے۔ کئی کئی دن تک قابض رہے۔ اور بالآخر پولیس نے اعلان کر دیا کہ: "اب ہم آپریشن میں فوج کے ساتھ نہیں لڑیں گے، ہم خود لڑیں گے، اپنے افسروں کا حکم نہیں مانیں گے۔" لہٰذا چین آف کمانڈ ٹوٹ چکا ہے۔ اور میرے بنوں کا سپاہی اپنے ڈی پی او کا حکم نہیں مانتا، اپنے ڈی آئی جی کا حکم نہیں مانتا، اپنے آئی جی پی کا حکم نہیں مانتا۔ اس کے بعد لکی مروت میں وہاں کی پولیس نے باقاعدہ اعلان کر دیا کہ: "ہم اپنی کمیٹی بنائیں گے، ہم اپنے طور پر لڑیں گے، ہم فوج کا سہارا لینے کے لیے تیار نہیں، نہ ان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار ہیں۔" وہ نہ ڈی پی او کو مانتے ہیں، نہ ڈی آئی جی کو، نہ آئی جی کو، اور ابھی چار دن ہوئے ہیں، چار دن، ٹانک میں پولیس ایک مسجد میں جمع ہوئی، ڈی پی او کو بھی ساتھ لائے۔ سب نے قرآنِ کریم پر ہاتھ رکھا کہ: "ہم فوج کے شانہ بشانہ نہیں لڑیں گے، اور اگر ہمارا سپاہی شہید ہوا تو کسی فوجی کو اپنے جنازے میں شریک ہونے کی اجازت بھی نہیں دیں گے۔ یہاں تک حالات پہنچ گئے ہیں۔ اب کیا رہ گیا؟ ڈیرہ اسماعیل خان رہ گیا، کرک رہ گیا، کوہاٹ رہ گیا۔ اب اس حالت تک ملک کو کس نے پہنچایا ہے؟ کیا یہ فضل الرحمٰن نے پہنچایا ہے؟ تمہاری اپنی فورسز تم پر اعتماد نہیں کر رہیں۔ تمہاری پالیسیوں سے مایوس ہو چکی ہیں۔ تو کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانکو۔ اب تم فرشتے تو نہیں ہو کہ معصوم ہو، تم غلطی نہیں کرتے؟ دیکھیں! میرے مضمون کو سمجھو، میرے مضمون کو پڑھو، میرے لفافے کو نہ دیکھو،میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟ اول سے لے کر آخر تک قوم کو میری تقریر سناؤ۔ اس میں توہین کی کون سی بات ہے؟ بے توقیری کی کون سی بات ہے؟ ہاں، میں نے آپ کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ کار کا احساس دلایا ہے، آپ کو اپنے دائرۂ اختیار کا احساس دلایا ہے کہ اپنے حدود میں رہو۔ تمہاری ساری توانائیاں پاکستان کے اوپر اپنی سیاسی گرفت مضبوط کرنے میں صرف ہو رہی ہیں۔ اور آج بھی جو تم نے شہداء کا مسئلہ اٹھایا ہے، تم اپنے ملک میں سیاسی تسلط اور سیاسی گرفت کو مضبوط بنانے کے لیے شہداء کے خون کو بطور ایندھن استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہو۔ اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے شہداء کے پیچھے چھپتے ہو۔ ہم آپ سے کوئی جنگ نہیں لڑ رہے۔ ہم آپ کی پالیسیوں سے اختلاف کر رہے ہیں۔ میرے دلائل کا جواب دلائل سے دیجیے۔ کہتے ہیں: "معافی مانگنی ہے۔" میں نے مانگنی ہے یا تم نے مانگنی ہے؟ غلطی تم نے کی ہے۔ ہم تو رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد پر عمل کرتے ہیں: سَلُوا اللهَ الْعَافِيَةَ، وَلَا تَتَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ اللہ سے عافیت مانگا کرو، دشمن کا سامنا کرنے کی تمنا نہ کیا کرو۔ لیکن اگر مقدر میں ہے اور مقابلہ ہو گیا، پھر ڈٹ جاؤ۔ یہ اصول ہے۔ میں اپنی فوج کو دشمن نہیں کہہ رہا۔ میں اپنی فوج کو پاکستان کی فوج کہتا ہوں۔ اور جب میں پاکستانی ہوں تو فوج بھی پاکستانی فوج میری ہوئی۔ میں اپنی فوج کو اپنی فوج سمجھتا ہوں۔ لیکن جب آپ اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کریں گے.... کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے سوال سارے غلط تھے، جواب کیا دیتے قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan36,421 次观看 • 1 个月前

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب
Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan14,483 次观看 • 17 天前