
Kashif Aslam
@Kaashif999 • 30,817 subscribers
Blogger, satirist and content creator. Love reading & traveling | Fortis Fortuna Adiuvat | ❤️
Shorts
Videos
0:48
Sensitive content
This media may contain sensitive content.
2:33
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

محترمہ مریم نواز صاحبہ ناڑے کی اتنی کچی ہوں گی، کبھی سوچا نہ تھا۔ لیکن یہ جان کر حیرت ہوئی کہ محترمہ شائد "نسوانی نوابی شوق" بھی رکھتی ہیں !! جنرل فیض حمید پر غصے کی وجہ بھی سمجھ آ جاتی ہے کہ ایبٹ اباد والے ڈاکٹر کو انہوں نے لانچ کر کے محترمہ کی ویڈیوز بنوائیں۔ اپنے وی لاگ کے ابتدائیے میں، عادل راجہ نے مریم صاحبہ کا چلتر کھول کر رکھ دیا تو بعد ازاں سبین کیانی نے اخلاقی اعتبار سے اس موضوع کا پوسٹ مارٹم کیا۔ عادل راجہ تو شاید چار باتیں اور بھی کہہ جاتے، لیکن سبین کیانی بار بار روک رہی تھیں ! اور تو اور، یہ بھی پتہ چلا کہ لوگ شرطیں لگا کر مریم صاحبہ کے ساتھ دوستیاں کرتے تھے۔ کبھی مریم صاحبہ بتایا کرتی تھیں کہ ان کے پاس ویڈیوز ہیں۔ ان کو مبارک ہو، اب ان کی ویڈیوز بھی لوگوں کے پاس موجود ہیں۔ وی لاگ اس لنک پر دیکھ سکتے ہیں۔ ویسے مجھے ایبٹ اباد والے ڈاکٹر پر بڑا ترس آتا ہے۔ بار بار ان کا ذکر چھڑتا ہے۔ خود ہی سوچیے ان کے دل پر کیا نہ گزرتی ہوگی 🤔
Kashif Aslam152,877 Aufrufe • vor 6 Monaten
1:03
Sensitive content
This media may contain sensitive content.

کیا عمران ریاض کی روپوشی کا موازنہ مراد سعید کی روپوشی سے کیا جا سکتا ہے؟ عمران ریاض پریگیڈیئر کے خلاف گواہی دینے سے بھاگ چکے، یہ والا باب بند ہوا، چنانچہ میں اس حوالے سے لکھنا نہیں چاہتا تھا، لیکن ان کے پرستار ہیں کہ بار بار مراد سعید کی رو پوشی سے ان کا موازنہ کرتے ہیں، چنانچہ سوچا کہ اس حوالے سے بھی کچھ لکھ ہی دوں۔ کیا اج کی تاریخ میں روپوش ہوا جا سکتا ہے؟ جواب ہے ہاں۔ اگر اپ Jack Reacher Mode پر چلے جائیں۔ اپ اے ٹی ایم کارڈ استعمال کریں نہ ٹیلی فون۔ آپ اکیلے ہوں، اپ کے پاس کیش ہو، اپ کسی جگہ پر چھپ کر بیٹھ جائیں جہاں اپ کی ضروریات زندگی پوری ہوتی رہیں، تو اپ روپوش رہ سکتے ہیں۔ ملا عمر کافی عرصہ اسی طرح روپوش رہے۔ لیکن عمران ریاض کا کیس بہت مختلف ہے۔ بہت ہی زیادہ۔ اس حوالے سے ان کا ثمینہ پاشا کو دیا ہوا انٹرویو، بہت ساری چیزیں واضح کر دیتا ہے۔ اس کے کچھ حصے نیچے والی ویڈیو میں موجود ہیں۔ آئیے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ عمران ریاض کہتے ہیں کہ جب وہ خیبر پختون خواہ میں تھے تو ان کے ساتھ 10 لوگ ہوا کرتے تھے۔ اتنے زیادہ لوگ بڑی آسانی سے ٹریس کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کی گاڑی کے ساتھ ٹریکر لگا ہوا ملا۔ دوسرے الفاظ میں، عمران ریاض خود مانتے ہیں کہ وہ مسلسل نگاہوں میں تھے۔ پھر عمران ریاض کہتے ہیں کہ بعد میں ان کے ساتھ صرف ایک ہی بندہ رہا۔ مان لیا۔ پھر اگے وہ یہ کہتے ہیں کہ ایجنسیاں اتنی نکمی ہیں کہ وہ پورا پاکستان گھومتے رہے، خیبر پختون خواہ سے بلوچستان گئے تو سندھ بھی۔ اور تو اور، شاید کسی شادی پر بھی گئے۔ ہسپتال میں بھی گئے جہاں میلہ لگ گیا۔ سوال پھر یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ائی بی، ائی ایس ائی، ایم ائی، اور سپیشل برانچ اتنی نکمی ہیں کہ ان کو ان حرکات کی خبر تک نہ ہو سکی؟ کوٹلیہ چانکیہ کے دور میں جاسوسی کا فن اس کمال پر تھا کہ کہا جاتا ہے کہ سکندر اعظم بھی اس سے خائف رہا۔ اکاؤنٹنگ کی طرح، اس شعبے میں بھی کم ازکم ڈبل چیک تو ضرور ہوتا ہے، مخبر کے پیچھے بھی کوئی مخبر ہوتا ہے، تہہ در تہہ ایک پیچیدہ نظام، جو خاموشی سے بہت کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن، ٹارزن بھیا ہیں کہ اس سارے نظام کو واڑتے ہوئے پورے پاکستان میں پھر رہے ہیں۔ چلیے ان کی یہ بات مان لیتے ہیں۔ یہ ایجنسیاں واقعی اتنی ہی نکمی ہیں۔ مگر جب یہ عمان پہنچتے ہیں، تو دوسرے تیسرے دن، بقول عمران ریاض کے، ایجنسیوں کو خبر ہو جاتی ہے اور یہ عمان سے بھی بھاگ نکلتے ہیں۔ خود کہتے ہیں کہ تین ملکوں کا ویزہ تھا میرے پاس، لیکن بھاگتے بھاگتے یہ سات ملکوں کی سیر کر جاتے ہیں۔ یہ پاکستان میں تو ہر جگہ گھومے، کسی کو خبر تک نہ ہوئی، لیکن جونہی عمان پہنچے، ایجنسیوں کے کن ٹٹے طمنچہ لیے ان کے پیچھے پیچھے تھے۔ یہ جس جگہ بھی جاتے، انہیں دو تین دن میں وہ جگہ چھوڑنی پڑتی۔ بقول انہی کے، ان کی فیملی سال بھر پہلے، اس ملک میں منتقل ہوئی۔ انہوں نے ویزہ لیا، ایئرپورٹ سے سفر کیا ہو گا، ایجنسیاں اتنی نکمی تھیں کہ انہیں پھر بھی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کس ملک میں گئے ہیں ! لیکن جب عادل راجہ نے پوسٹ کر کے بتایا کہ اپ کے ویزے کا انتظام ہو گیا ہے، تو انہوں نے دہائی ڈال دی کہ میری فیملی کی لوکیشن یعنی موجودہ ملک بتا کر ان کی جان خطرہ میں ڈالی۔ اس کے بعد یہ لٹھ لے کر چڑھ دوڑے، نتھنے پھول گئے اور سانسیں چڑھ گئیں۔ اگر ایجنسیوں کو پہلے ہی پتہ چل چکا تھا کہ عمران ریاض کہاں پہنچ چکے ہیں، ان کی فیملی کہاں ہے، تو پھر عادل راجہ پر غصہ کس لیے؟ سلمان احمد سے شکایتیں کیوں؟ انہوں نے تو بہت بعد میں یہ پوسٹ کی ! اگر صرف عمان کا نام لینے سے ہی آپ کی فیملی کی جان خطرہ میں پڑتی ہے، تو اپنی فیملی کی جان تو آپ نے خود خطرہ میں ڈالی۔ آپ عمان پہنچے، دوسرے تیسرے دن نکمی ایجنسی کو پتہ چل گیا کہ آپ کہاں ہیں۔ اور جب آپ کی فیملی کی جان خطرہ میں آئی تو آپ نے کیا کیا؟؟ بہت ہی بہادری کا کام۔ آپ نے دم دبائی اور اپنی فیملی کو اللہ کے حوالے کر کے بھاگ نکلے ! آپ نے ایک لمحہ کے لیے نہیں سوچا کہ ایجنسی کے کن ٹٹے آپ کی فیملی کے ساتھ کیا کیا کر سکتے ہیں۔ آپ کو صرف اپنی جان کی پڑی تھی، آپ نے اپنے بچوں کو چھوڑا، بیوی کی پروا نہیں کی، والدین کا نہیں سوچا، بس بھاگ نکلے۔ سوری، یہ میں الزام نہیں لگا رہا، آپ بلواسطہ کہہ رہے ہیں، جب آپ کہتے ہیں کہ جب مجھے کچھ اشارے ملے تو میں بھاگ گیا۔ آپ نے کبھی کہیں نہیں کہا کہ آپ اپنی فیملی کی حفاظت کے لیے کچھ کر کے گئے !! سوال پھر وہی کہ فیملی کو ایکسپوز آپ نے خود کیا، ان کی جان آپ نے خود خطرہ میں ڈالی، اور پھر بھاگے بھی خود، تو عادل راجہ اور سلمان احمد پر غصہ کیوں؟ ان کے خلاف مہم کیوں چلائی؟ عمران ریاض کہتے ہیں کہ افغانستان پہنچے تو ان کے پاسپورٹ پر اینٹری کی مہر نہ تھی۔ مان لیا۔ پھر کہتے ہیں کہ میرے زخموں میں انفیکشن ہو گیا تھا ان سے خون بہتا تھا۔ یہ بھی مان لیا۔ پھر کہتے ہیں کہ میں انٹری کی مہر لگوانے کے لیے کسی کو پاسپورٹ نہیں دیتا تھا، یہ بھی مان لیا۔ اب یہ بات سمجھ نہیں اتی کہ کیا ایجنسی کو پتہ نہیں چلا کہ عمران ریاض کہاں ہیں؟ عمان پہنچے تو دوسرے تیسرے دن پتہ چل گیا، پڑوس میں افغانستان ہے، آپ اس کے کسی سرحدی مقام پر ہی ہوں گے، سرحدی علاقوں میں عام طور پر ایجنسیوں اور مخبروں کا بہت مضبوط نیٹ ورک ہوتا ہے، آئی ایس آئی تو 45 سال سے مسلسل ایکٹو ہے افغانستان میں، وہاں تو پنجابی ٹرک ڈرائیور کو بھی ایجنسی کا ایجنٹ سمجھ لیا جاتا یے، لیکن ایجنسی اتنی نکمی تھی کہ اس کو خبر ہی نہ ہو سکی۔ مقامی لوگوں نے بھی نوٹ نہیں کیا۔ نہ مخبروں کو پتہ چل سکا۔ لیکن جونہی عمران ریاض عمان پہنچتے ہیں، پاکستان کی ایجنسیاں اچانک بہت پروفیشنل ہو جاتی ہیں۔ کون سی بات مانیں اور کون سی نہیں؟ آپ ہی بتا دیں۔ عمران ریاض ایک جگہ پر کہتے ہیں کہ میرے دوستوں نے موبائل پر ایسی سیٹنگ کر کے دی ہوئی ہے کہ ایجنسیاں ٹریس ہی نہیں کر سکتیں۔ مان لیا۔ مگر دوسری جگہ پر کہتے ہیں کہ اگر میں نے یہ بتایا کہ میں نے کہاں سے بارڈر کراس کیا، تو فون ریکارڈز سے ایجنسیاں ان لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں جن سے میں رابطے میں تھا۔ اگر پہلی بات مان لیں تو یہ کیسے مان لیں؟ اپ کا تو فون ٹریس ہی نہیں ہو سکتا تھا !! ثمینہ پاشاہ کے انٹرویو میں اپ کہتے ہیں کہ بارڈر کراس کرتے ہوئے اپ کو چوٹ لگی۔ دو زخم ائے۔ آفتاب اقبال کے پروگرام میں مگر آپ کہتے ہیں کہ بھیڑیے نے حملہ کیا تھا۔ کہیں اپ یہ شکوہ کرتے ہیں کہ اپ کا کاروبار تباہ ہو گیا۔ دوسری طرف اپ یہ کہتے ہیں کہ میں صحافی ہوں میرا کوئی کاروبار نہیں۔ پھر وہی سوال، کہ کون سی بات ماننی ہے؟ اپ کہتے ہیں کہ میرے پاس 9 واٹس ایپ نمبرز ہیں۔ اپ کو ایک بندہ ہر دفعہ نئے نمبر سے کال کر کے بتاتا ہے کہ اب ریڈ ہونے والی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ اس کی کال کے سات منٹ بعد ریڈ ہوگئی۔ کوئی منہ اٹھا کر فون کر دیتا ہے کہ کشتی میں ڈنکی لگواتا ہوں، دوسری طرف جنرل فیض جب چیف تھے، تو وہ بیچارے صحافیوں کے ترلے کرتے پھرتے تھے کہ خدا کے لیے، میری عمران ریاض سے بات کروا دو، لیکن ان کی بات نہ ہو پائی۔ ابھی اگلے روز ہی طارق متین نے پوسٹ کی ہوئی تھی کہ میں نے عمران ریاض سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن ہو نہیں پایا۔ دوسری طرف اپ کا مخبر ہر بار نئے نمبر سے کال کرتا یے، جسے آپ اٹینڈ بھی کرتے ہیں۔ کون سی سائنس ہے یہ ؟ میری عمران ریاض سے گزارش ہے کہ ائندہ کبھی ایسی کوئی کہانی بنانی ہو تو بہتر ہے کہ Frederick Forsyth کے کچھ ناول پڑھ لیں، تاکہ آپ کی کہانی کچھ قابلِ یقین لگے، Pierce Brosnan کی فلم November Man کی طرح۔ صاحب بات یہ ہے کہ جناب کے انٹرویو میں اتنے زیادہ تضادات ہیں کہ ایک چھوٹی سی کتاب لکھی جا سکتی ہے ان پر۔ مجھے سچ میں اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ اتنا زیادہ ڈرامہ کیوں؟ عمران ریاض کی کہانی پر فلم بنائی جائے، تو یقین مانیے فلم بنانے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ یہ کامیڈی فلم بن گئی یا تھرلر، رونا ہے یا ہنسنا ہے۔ حد ہوتی ہے چھوڑنے کی۔ ادھر عمران ریاض اپنی درد بھری کہانی سناتے ہیں، ادھر پاکستانی مسلم خواتین مصلے پر گر کر دعاؤں میں لگ جاتی ہیں، بچے رونے لگ جاتے ہیں، مردوں کے چہرے لٹک جاتے ہیں کہ شائد اب وطن دشمن عمران ریاض کو نہ چھوڑیں گے، بعد میں خواتین ایکس پر کہہ رہی ہوتی ہیں کہ عمران ریاض سے سوال نہ پوچھیے ، انہوں نے بہت کچھ سہا ہے۔ مرد یاد کرواتے رہتے ہیں کہ مراد سعید بھی غائب ہے۔ اعتماد عمران ریاض کا بھی دیکھیے۔ بے دھڑک چھوڑے چلے جاتے ہیں۔ وہ اس جھنجھٹ میں نہیں پڑتے کہ کہانی میں کوئی منطق ہے یا نہیں، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاکستانی قوم پھدو بننے کو ہر وقت تیار رہتی ہے، بلکہ پھدو بنانے والوں کا سواگت پھولوں کی پتیوں سے کرتی ہے، اور انہیں اپنے سر پر بٹھاتی ہے۔ وگرنہ ایسی بے سر و پا رام لیلا سنانے کی ہمت وہ کبھی نہ کرتے۔ خیر موضوع کی طرف واپس اتے ہیں، مراد سعید اور عمران ریاض، دونوں کی کہانی اور حالات مکمل مختلف ہیں۔ عمران ریاض نے مگر کمال ہوشیاری سے اپنے آپ کو مراد سعید کے پہلو میں کھڑا کر دیا۔ باریک واردات کسے کہتے ہیں؟ اسے ہی کہتے ہیں !!
Kashif Aslam140,092 Aufrufe • vor 7 Monaten

بس بھئی بس، زیادہ بات نہیں چیف صاب - آج کے بعد ملاقات نہیں چیف صاب چیف صاب کو الوداع کہنے کے لیے اس سے اچھا طریقہ کیا ہو سکتا ہے، کہ ہم سب مل کر یہ گانا بجائیں؟ اگر آپ متفق ہیں، تو دل کھول کر بجائیں، جی بھر کر یہ گانا بجائیں، آپ سب کم از کم ایک بار اس کو ری پوسٹ ضرور کریں .. اور بس بجاتے ہی جائیں 😊
Kashif Aslam124,746 Aufrufe • vor 6 Monaten

عمران ریاض کی ایک اور آڈیو لیک۔ سچ کہوں تو مجھے اس پر یقین نہیں آ رہا۔ عمران ریاض ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟ اس بار، مجھے لگتا ہے کہ عمران ریاض کی طرف سے اس کی تردید آ جائے گی۔ اگر انہوں نے مجھے فالو کر کے بلاک نہ کیا ہوتا، تو میں ان سے ویریفائی کر لیتا۔ یہ ویڈیو جو مجھے موصول ہوئی، دو حصوں پر مشتمل ہے۔ پہلے حصے میں ان کے ایک انٹرویو کا کلپ ہے، جس میں وہ بڑی بڑی باتیں کر رہے ہیں، دعوے کر رہے ہیں، بڑھکیں لگا رہے ہیں ۔ دوسرے حصے میں، ان کی کسی سے گفتگو کے چند جملے ہیں۔ ایک جملہ ایسا ہے جو ان کی شخصیت کو بے نقاب کر کے رکھ دیتا ہے، سارے پردے اتار دیتا ہے۔ اگر یہ آڈیو سچی ہے، تو یہ جملہ عمران ریاض کی اصل شخصیت کے بارے میں بہت کچھ بتا دیتا ہے۔ اگر یہ آڈیو سچی ہے تو۔ اپ نے زندگی میں دیکھا ہوگا، کہ لوگ اپنے دل کی بات نہیں کہتے۔ لیکن جب گفتگو چلتی ہے، کسی سے اپنے موقف کا دفاع ہو نہیں پاتا، تو اچانک ہونٹوں سے ایک جملہ پھسل جاتا ہے، جو من کی دنیا کھول کر رکھ دیتا ہے۔ اگر آڈیو سچی ہے تو یہی عمران ریاض کے ساتھ ہوا۔ عمران ریاض بظاہر کوئی دلیل دے نہیں پا رہے تھے، دلائل لا رہے تھے، عادل راجہ کے حوالے سے، عمران ریاض اچانک کہتے ہیں کہ میں کیوں گواہی دوں؟ میں تو ان کی لڑائی کا مزا لوں گا ! پبلک پلیٹ فارمز پر عمران ریاض کہتے رہے کہ کسی نے ان سے گواہی کے لیے رابطہ نہیں کیا۔ انہیں بلایا جاتا تو وہ ضرور جاتے۔ اس گفتگو سے یہ بھی پتہ چل جاتا ہے کہ رابطے تو ہوتے رہے۔ عادل راجہ کی ایما پر بھی لوگوں نے کہا، اور خود بھی کوششیں کیں۔ کتنے زیادہ کھلے خط تو میں خود لکھ چکا، عمران ریاض تھوڑی سی بھی لچک دکھاتے، دونوں فریق گلے شکوے کرتے، گلے ملتے، مسئلہ حل ہو جانا تھا۔ مگر، اگر آڈیو سچی ہے تو، عمران ریاض لچک کیوں دکھاتے ؟ وہ تو عادل راجہ کی لڑائی کا مزا لینا چاہتے تھے ! عمران ریاض کہتے ہیں کہ عادل راجہ نے ان کے ساتھ بڑی زیادتی کی۔ تفصیل میں جائے بغیر عرض کروں گا کہ کم تو عمران ریاض نے بھی نہیں کی۔ عادل راجہ نے پھر بھی پبلکلی معافی مانگ لی، کھلے لفظوں میں، بغیر اگر مگر، بغیر کسی شرط کے۔ مگر، کیا عمران ریاض نے معافی مانگی ؟؟ ایک طرف لوگوں کی کوشش تھی، کہ ایجنسی کے خلاف جنگ میں عادل راجہ اکیلے نہ پڑیں۔ مگر دوسری طرف، عمران ریاض تھے، اگر آڈیو سچی ہے تو، جو صرف تماشا دیکھنے کا انتظار کر رہے تھے !! تو پیارے پیارے بچو، آپ نے کیا سیکھا؟؟ حب الوطنی، حقیقی آزادی کے لیے جدوجہد جیسے الفاظ وغیرہ وغیرہ صرف عام لوگوں کے لیے اہم ہوتے ہیں۔ بڑے لوگ، ان کی مدد سے عام لوگوں کو بس بے وقوف بناتے ہیں، اور ڈالرز چھاپتے ہیں - آڈیو اگر سچی ہے تو ۔۔ !! کاش عمران ریاض کہہ دیں کہ یہ آڈیو جھوٹ ہے ۔۔ ! گواہی تو آپ نے دی نہیں۔ نو پرابلمز۔ یہی کہہ دیں کہ آڈیو جھوٹ ہے۔ کہہ دیں کہ انہوں نے یہ جملہ نہیں کہا کہ میں باہر بیٹھ کر لڑائی انجوائے کروں گا۔ کچھ بھرم تو رہنے دیں عمران بھائی 🙏
Kashif Aslam112,522 Aufrufe • vor 7 Monaten

عمران ریاض کی لیک آڈیو، میاں اشفاق کا مشکوک کردار ڈاکٹر شہباز گل کی نظر میں ! اس ویڈیو میں ڈاکٹر شہباز گل کی گواہی کے بعد عمران ریاض کی آڈیو سنی جا سکتی ہے، جس میں میاں اشفاق کے حوالے سے ان کے خیالات جانے جا سکتے ہیں۔ کمپنی بہادر کی ایک ادا بہت اچھی لگتی ہے مجھے، کہ یہ اپنے ہر اثاثے کو بے نقاب کر کے رہتی ہے۔ ایک بات مجھے اپنی قوم کی بھی بہت اچھی لگتی ہے کہ اپنے صیاد کے پریم میں رہنے کے تصور سے بھی بہت پریم کرتی ہے۔ کل سے ڈاکٹر شہباز گل کا ایک کلپ وائرل ہوا پڑا ہے، جس میں وہ میاں اشفاق کو مبینہ طور پر آئی ایس آئی کا وکیل کہہ رہے ہیں، ڈاکٹر صاحب بڑے نیچرل سے انداز میں کسی پر یہ پھبتی بھی کس جاتے ہیں کہ میں نے خود کو ٹارزن بنا کر پیش نہیں کرنا۔ پاکستانی صحافت میں یہ اعزاز جناب عمران ریاض کے حصہ میں آیا ہے کہ انہیں ٹارزن کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے، ٹارزن صاحب کی ایک آڈیو بھی لیک ہوئی ہے جس میں مبینہ طور پر ٹارزن جی میاں اشفاق کے بہت بڑے حمائتی نظر آتے ہیں۔ یہ بات عادل راجہ بھی کہہ چکے کہ میاں اشفاق اصل میں ایجنسیوں کے وکیل ہیں، اپنی آڈیو میں ٹارزن جی اس بات پر سیخ پا نظر آتے ہیں کہ عادل راجہ نے میاں اشفاق کو غدار کیوں کہا؟ حقیقت جبکہ یہ ہے کہ عادل راجہ نے میاں اشفاق کو ایجنسی کا بندہ کہا تھا، جس کی گواہی ڈاکٹر شہباز گل نے بھی دے دی۔ یعنی عادل راجہ ایک بار پھر سچے ثابت ہوئے۔ ممکن ہے کہ ٹارزن جی کی یہ مبینہ آڈیو ان کی نہ ہو، اگر وہ چاہیں تو اس کی تردید کر سکتے ہیں ! تمام آثار اب اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ٹارزن صاحب کوئی نہ کوئی ڈیل کر چکے میاں اشفاق کی وساطت ، مگر ٹارزن جی کی ضد ہے کہ انہیں صحافت کا ٹیپو سلطان ہی مانا جائے۔ دوسری طرف عوام کی بہت بڑی تعداد بھی ابھی تک ٹارزن صاحب کو ہیرو مانتی ہے۔ ٹارزن جی خود اشارہ کر چکے ہیں کہ عنقریب ان کے خلاف پروپیگنڈا شروع ہو گا، لگتا ہے کہ ٹارزن صاحب کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہو چکا ہے کہ بہت جلد ان کی حقیقت بے نقاب شروع ہونے والی ہے، لگتا ہے کہ لیکس کا موسم شروع ہونے والا ہے۔
Kashif Aslam106,841 Aufrufe • vor 7 Monaten

جنرل احمد شریف کی پریس کانفرنس اور غریدہ فاروقی کے خطرناک سوالات !! کیا عمران خان نیشنل سیکیورٹی تھریٹ بن چکا ہے ؟ کیا ملاقاتوں سے بیانیہ بنتا ہے؟ ان پر پابندی ہونی چاہیے؟ یہ بیانیہ سوشل میڈیا سے پھیلتا ہے۔ سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند ہونے چاہییں ؟ خیبر پختون خواہ میں گورنر راج لگنا چاہیے ؟ کل اعظم نذیر تارڑ اور عطاء اللہ تارڑ کی پریس کانفرنس بھی انہی نکات پر تھی۔ کہیں عمران خان اور تحریک انصاف کے ساتھ اب وہی تو نہیں کیا جائے گا، جو مصر میں صدر مرسی اور ان کی جماعت کے ساتھ کیا گیا تھا؟؟ لگتا ہے کہ جبر کی ایک نئی کہانی لکھے جانے کی تیاری ہے !! رہے نام اللہ کا 🙏
Kashif Aslam75,943 Aufrufe • vor 6 Monaten

کیا عمران ریاض کو خاتون سے معافی مانگنی چاہیے؟ کیا انہیں اس بدتمیزی سے جواب دینا چاہیے تھا؟ یا پھر عمران ریاض ایک "چھوٹا مستری" بن چکے ہیں؟ پچھلے دنوں عمران ریاض یورپ کی یاترا پر تھے، ڈنمارک میں ایک خاتون نے ان سے پوچھا کہ آپ نے گواہی کیوں نہ دی؟ اس وقت عمران ریاض بیٹھے ہوئے تھے، پتہ نہیں کہاں کہاں مرچیں لگی کہ اٹھ کر اونچی اونچی اواز میں چیخنے لگے، کبھی یہاں کھڑے ہو کر تو کبھی وہاں کھڑے ہو کر۔ کیوں؟ یہی بات تو وہ بیٹھ کر بھی کر سکتے تھے۔ تو چیخنے چلانے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اور کیا انہوں نے سوالات کے جوابات دیے؟ عمران ریاض کا پہلا موقف تھا : مجھے کہا جاتا تو میں گواہی ضرور دیتا اور برگیڈیر کی پمبیری گھما دیتا۔ دوسرا موقف : میری گواہی سے کوئی فرق نہ پڑتا۔ بلکہ آئی ایس آئی تو چاہتی ہے کہ میں گواہی دوں۔ تیسرا موقف : یہ الٹے بھی لٹک جائیں تو میں گواہی نہ دوں گا۔ عمران ریاض کا ایک موقف اور بھی ہے : عاصم منیر بھی میرا موقف نہیں بدل سکتا. پہلے بتاتے تھے کہ عادل راجہ نے ان کی فیملی کی لوکیشن ایکسپوز کی، ان کے پورے خاندان کی جان خطرہ میں ڈالی، میں گواہی کیوں دوں ؟ اب ان کے اپنے انٹرویو سے، جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ ان کی فیملی کی لوکیشن ان کی اپنی وجہ سے ایکسپوز ہوئی تھی، تو اب ایک اور موقف لے ائے : ایک فوجی نے میرے جسم کو چوٹ پہنچائی، دوسرے نے میری روح پر وار کیا۔ ساتھ میں مظلومیت کے ساز پر وہی مانترا : عاصم منیر بھی میرا موقف نہیں بدل سکتا. ان کے جواب کو غور سے سنیں، ڈرامہ کو الگ کریں، جذبات کو ایک سائیڈ پر کریں، نوٹنکی کو ایک طرف رکھیں، اور دیکھیں کہ عمران ریاض نے اصل میں کہا کیا؟ ان کی روح پر کون سا وار ہوا؟ عادل راجہ ان کی اہلیہ کو ان کے بارے میں غلط بتاتے رہے، اور وہ بے چاری یہاں وہاں ڈھونڈتی رہیں۔ جب ایک دنیا کہہ رہی تھی کہ عمران ریاض کو قتل کر دیا گیا ہے، ان کی زبان کو نقصان پہنچا دیا گیا ہے، اپ وہ بول نہیں سکیں گے، اس وقت عادل راجہ ہی تھے جن کے الفاظ میرے سمیت بہت سارے لوگوں کے لیے تسلی کا باعث تھے کہ وہ زندہ ہیں۔ اس وقت میرا عادل راجہ سے کوئی رابطہ نہیں تھا، بلکہ میں عمران ریاض کا پرستار تھا۔ عمران ریاض کا رویہ یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ کہیں انہیں غصہ اس بات پر تو نہیں، کہ جب پوری قوم ان کی زندگی کے بارے میں فکر مند تھی، تو عادل راجہ لوگوں کو کہہ رہے تھے کہ وہ زندہ ہیں، ان کی رہائی کے لیے کوششیں کریں؟ یا پھر انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ عادل راجہ کی یہ خبر بھی سچی کیوں ہو گئی ؟ اب پچھلے کچھ ماہ میں جتنا میں نے عادل راجہ کو جانا، یہ والا الزام بہت گھٹیا ہے۔ بہت سے لوگوں کو لگتا ہوگا کہ عادل راجہ بتاتے ہوں گے کہ کیا لکھنا ہے؟ وہ کبھی بھی نہیں کہتے۔ میرا کوئی سوال ہو تو اس کا جواب دیتے ہیں، ایک دو بار پوچھا تو یہی کہا کہ جو تمہیں ٹھیک لگتا ہے وہ لکھو، بے شک میرے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ اب میں یہ تو مان سکتا ہوں کہ عادل راجہ کے پاس یہ خبر تھوڑی دیر سے پہنچی ہو کہ عمران ریاض کہاں قید ہیں، اور اس وقت تک جگہ بدل چکی ہو، لیکن یہ ماننا مشکل ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر غلط بتایا ہو۔ اس موضوع پر عادل راجہ اور سبین کیانی ایک تفصیلی وی لاگ بھی کر چکے ہیں، اس میں اپ کو بہت سارے سوالات کا جواب مل جاتا ہے۔ وہ ضرور دیکھیے۔ خیر مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ عمران ریاض کی روح پر کون سا وار ہوا جس کی وجہ سے انہیں شانتی نہیں مل پاتی؟ اور کون سے ویوز لینے تھے عادل راجہ نے؟ ان کا تو اس وقت یوٹیوب چینل بھی نہیں تھا ! جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا اگر جذباتیت کو ایک طرف رکھیں، تو عمران ریاض کے جواب میں کچھ بھی نہیں ہے۔ سچ صرف یہ ہے، کہ الفاظ بدل بدل کر عمران ریاض یہی شعر پڑھتے رہتے ہیں کہ میں راجے کو کبھی میرے ڈھول سپاہی نہ دوں گی، میں گواہی نہ دوں گی، میں گواہی نہ دوں گی۔ اور رہی بات حاضرین محفل کی، تو اس بات پر افسوس ہوا کہ کسی نے عمران ریاض کو روکا نہیں۔ انہیں جواب دینا تھا، لیکن وہ الٹا یہ سوال خاتون سے پوچھ رہے تھے کہ عادل راجہ نے کبھی سہیل وڑائچ پر وار کیا؟ حالانکہ سب جانتے تھے کہ عادل راجہ نے سہیل وڑائچ کو بہت ایکسپوز کیا۔ بچے بچے کو پتہ ہے کہ ان کی رومانوی گفتگو کی ریکارڈنگز ایجنسیوں کے پاس ہیں، کس کی وجہ سے؟ عادل راجہ کی وجہ سے! بہتر تو یہ ہوتا کہ اگر حاضرین محفل سے کوئی انسان روکتا، عمران ریاض کو کہتا کہ جوش جذبات میں خاتون کا احترام ملحوظ رکھیں، جواب نہیں دینا، نہ دیں، لیکن بے پر کی نہ اڑائیں، چیخیں نہیں، چلائیں مت۔ لیکن کوئی بھی ایسا نہ تھا جو یہ کہنے کی جسارت کر سکتا۔ سلام ہے اس خاتون کی ہمت کو، جس نے بھری بزم میں سوال اٹھانے کی ہمت تو کی۔ کاش تھوڑی سی ہمت وہاں بیٹھے مرد بھی دکھا سکتے !! کہیں عمران ریاض ایک "چھوٹا مستری" تو نہیں بن چکے جو ہر وہ بات کہہ سکتے ہیں جو وہ کہنا چاہتے ہیں، لیکن ان سے کوئی سوال نہیں ہو سکتا؟ کاش یہی جرات عمران ریاض بریگیڈیر کے خلاف دکھا سکتے! کاش یہی جذبات وہ اس وقت دکھا پاتے جب افتاب اقبال نے انہیں سامنے بٹھا کر تیتر کی پھبتی کسی تھی, اور محترم نے دانتوں کی نمائش کر دی تھی۔ کاش یہی ہمت وہ اس وقت دکھاتے، جب ان کی وجہ سے ان کی فیملی کی لوکیشن ایکسپوز ہوئی، اور یہ اپنی فیملی کو خطرے میں چھوڑ کر سات ملکوں کی سیر کو نکل گئے ! کاش ان کا یہ لہجہ اس وقت بھی ہوتا جب انجینیئر مرزا کو ان کے اوپر چھوڑا گیا تھا، اور وہ للکار للکار کر تھک گیا کہ میری آڈیوز لیک کرو، لیکن ٹارزن بھیا پتلی گلی سے کلٹی مار گئے۔ اس سوال کے ساتھ اجازت : کیا اپنے نامناسب اور غیر مہذب طرز تکلم کی وجہ سے، عمران ریاض کو معافی مانگنی چاہیے یا نہیں؟ کھلم کھلا جھوٹ بولنے پر ندامت کا اظہار کرنا چاہیے، یا نہیں؟ 🤔
Kashif Aslam65,111 Aufrufe • vor 6 Monaten