Balochistan National Party's banner
Balochistan National Party's profile picture

Balochistan National Party

@MediaCellBNP_12,941 subscribers

Official Twitter handle of Balochistan National Party.

Shorts

وڈھ میں آج صبح بی این پی کے احتجاجی مظاہرے پر ریاستی بربریت کی انتہا کر دی گئی ۔ براہ راست فائرنگ، شیلنگ سے اب تک کم. از کم پانچ مظاہرین زخمی ہیں۔ جب کہ ریاستی جبر کے باوجود بی این پی کارکنان میدان میں ڈٹے رہے اور اب تک وڈھ میں احتجاج جاری ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں و دیگر سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لئے بلوچستان نیشنل پارٹی کا احتجاج گیارہویں روز میں داخل ہوچکا ہے۔قائد بلوچستان سردار اختر جان مینگل اور ہزاروں کی تعداد میں لانگ مارچ کے شرکاء مستونگ میں لک پاس کے مقام پر بیابان میں محصور ہیں۔جہاں ان پر ایک خود کش حملہ ہوچکا ہے اور اب بھی وہاں بی این پی قائدین سمیت ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ بی این پی کے لانگ مارچ کو کوئٹہ میں داخل ہونے سے روکنے کے خلاف آج دوسرے دن بھی بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور شاہراہوں کی بندش جاری ہے۔کوئٹہ،خضدار، وڈھ،دالبندی، نوشکی،نوکنڈی، تربت، قلعہ سیف اللہ، سوراب، بُلیدہ، نال، قلات، حب، زہری، بسیمہ، جیونی، گوادر سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں شٹرڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ علاوہ از ایں کوئٹہ سمیت بیشتر اضلاع میں بی این پی رہنماؤں کے گھروں کا محاصرہ کیا جا رہا ہے، چادر چار دیواری کی پامالی ہو رہی ہے اور گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

وڈھ میں آج صبح بی این پی کے احتجاجی مظاہرے پر ریاستی بربریت کی انتہا کر دی گئی ۔ براہ راست فائرنگ، شیلنگ سے اب تک کم. از کم پانچ مظاہرین زخمی ہیں۔ جب کہ ریاستی جبر کے باوجود بی این پی کارکنان میدان میں ڈٹے رہے اور اب تک وڈھ میں احتجاج جاری ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں و دیگر سیاسی کارکنوں کی رہائی کے لئے بلوچستان نیشنل پارٹی کا احتجاج گیارہویں روز میں داخل ہوچکا ہے۔قائد بلوچستان سردار اختر جان مینگل اور ہزاروں کی تعداد میں لانگ مارچ کے شرکاء مستونگ میں لک پاس کے مقام پر بیابان میں محصور ہیں۔جہاں ان پر ایک خود کش حملہ ہوچکا ہے اور اب بھی وہاں بی این پی قائدین سمیت ہزاروں افراد کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ بی این پی کے لانگ مارچ کو کوئٹہ میں داخل ہونے سے روکنے کے خلاف آج دوسرے دن بھی بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور شاہراہوں کی بندش جاری ہے۔کوئٹہ،خضدار، وڈھ،دالبندی، نوشکی،نوکنڈی، تربت، قلعہ سیف اللہ، سوراب، بُلیدہ، نال، قلات، حب، زہری، بسیمہ، جیونی، گوادر سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں شٹرڈاؤن ہڑتال جاری ہے۔ علاوہ از ایں کوئٹہ سمیت بیشتر اضلاع میں بی این پی رہنماؤں کے گھروں کا محاصرہ کیا جا رہا ہے، چادر چار دیواری کی پامالی ہو رہی ہے اور گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

47,932 Aufrufe

سریاب حالات بدستور کشیدہ، سیکورٹی فورسز کا بی این پی کے کارکنان پہ شدید فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ جاری ہے۔ مختلف مقامات پر بی این پی کارکنان کے گھروں کو گھیرے میں لیا گیا ہے۔ بی این پی کے کارکنان کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں #BalochLongMarch #StopStateAggression

سریاب حالات بدستور کشیدہ، سیکورٹی فورسز کا بی این پی کے کارکنان پہ شدید فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ جاری ہے۔ مختلف مقامات پر بی این پی کارکنان کے گھروں کو گھیرے میں لیا گیا ہے۔ بی این پی کے کارکنان کی گرفتاریوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں #BalochLongMarch #StopStateAggression

17,017 Aufrufe

Videos

MediaCellBNP_'s profile picture

بلوچستان نیشنل پارٹی سربراہ سردار اختر جان مینگل کا دھرنے سے خطاب کل کوئٹہ کے میدان میں فیصلہ ہوگا قافلے کے آگے میں چلوں گا اور پہلی لاٹھی بھی میں کھاؤں گا آج پوری رات محفل اور ڈھول کی تھاپ پر رقص ہوگی تاکہ پتہ چلے کہ ننگ و ناموس کے وارث آرہے ہیں لانگ مارچ میں شریک بلوچستان کے غیور عوام سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے ہی لباس میں آپ کے ہی زبان میں کچھ انتشار پسند آپ کے ہی درمیان ہونگے ممکن ہے جو نعرے آپ لگائیں وہ انکا جواب بھی دیں اور آپ کو جذبات میں لانے کی کوشش بھی ہوگی، لیکن دھرنے کے تمام شرکا کو سختی سے ہدایت جاری کرتا ہوں کہ ہمارا لانگ مارچ پرامن تھا اور ہم پرامن طریقے سے آگے بڑھیں گے جو نعرے پارٹی قیادت لگائیں گے صرف انہیں کا جواب دینا ہوگا کوئی بھی شخص انتظامیہ اور قیادت سے آگے نہیں بڑھے گا اشتعال انگیز اور انتشار پر مبنی نعروں کا جواب دینا ہوگا اور نہ ہی اس طرح کے نعرے لگانے کی کسی کو اجازت ہوگی ڈسپلن کی پابندی لازمی ہے قافلے کے آگے میں چلوں گا اور پہلی لاٹھی بھی میں کھاؤں گا

Balochistan National Party

34,688 Aufrufe • vor 1 Jahr

MediaCellBNP_'s profile picture

بلوچ قومی دھرنا کو تیرہ روز مکمل احتجاجی دھرنا قومی درسگاہ میں تبدیل ۔آج دھرنا گاہ میں منعقد سیمینار میں بابو عبدالکریم شورش اور ملک فیض محمد یوسفزئی کے بلوچ قومی خدمات پر مقالے پیش کئے گئے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے دونوں اکابرین کو ان کے قومی خدمات پر بھرپور خراج عقیدت پیش کیا۔ آج تیرھویں روز بھی دھرنا گاہ میں بلوچ عوام کی بڑی تعداد غیر متزلزل ارادوں کے ساتھ شریک رہی۔ مختلف علاقوں سے قافلوں کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ جب کہ ملحقہ شاہراہیں بدستور بند رہیں۔ دھرنا گاہ کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے قائد بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ تھوڑا ہمت کریں (امبلاک) وہ لرز رہے ہیں۔ مجھے لاہور اور اسلام آباد سےدھواں اٹھتا ہوا نظر آرہا ہے۔ہم کسی کا مال مڈی چھیننے یا اقتدار کے حصول کے لئے تو کوئٹہ نہیں جا رہے تھے ہم تو اپنے آپ کو ان خواتین کا وارث سمجھتے ہیں جن کی چادریں اتاری گئی تھی لیکن ہمیں آگے جانے کی اجازت نہیں۔Akhtar Mengal

Balochistan National Party

23,598 Aufrufe • vor 1 Jahr

Keine weiteren Inhalte verfügbar