Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

بلوچ قومی دھرنا کو تیرہ روز مکمل احتجاجی دھرنا قومی درسگاہ میں تبدیل ۔آج دھرنا گاہ میں منعقد سیمینار میں بابو عبدالکریم شورش اور ملک فیض محمد یوسفزئی کے بلوچ قومی خدمات پر مقالے پیش کئے گئے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماؤں نے دونوں اکابرین کو ان کے قومی خدمات...

23,598 Aufrufe • vor 1 Jahr •via X (Twitter)

9 Kommentare

Profilbild von Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰
Dukhtar-E-Balochistan🇵🇰vor 1 Jahr

بلوچ قوم ادھر نظر نہیں آرہی ،بھائی یہ کیسے قومی دھرنا ہوگیا؟؟؟؟

Profilbild von 🇵🇰 ESPRESSO 🇵🇰
🇵🇰 ESPRESSO 🇵🇰vor 1 Jahr

🤣🤣🤣 اسلام آباد یا لاہور سے دھواں اٹھنے سے پہلے انشاءاللہ تم لوگوں کے جنازے اٹھیں گے چوتیو

Profilbild von passerby🕊️
passerby🕊️vor 1 Jahr

Peace be upon you and all those who fight for Balochistan. Long live Lady Mehrang Baloch and all the fighting men and women.

Profilbild von Zahra Baloch
Zahra Balochvor 1 Jahr

Long live Dr.Mahrang

Profilbild von FANCO
FANCOvor 2 Jahren

NEW OFFICIAL COLLABORATION ALERT! Get your PERSONALIZED @MHAOfficial Japanese hanko stamps at for yourself, friends and family! #fanco #mha #MyHeroAcademia

Profilbild von Sage of Karachi
Sage of Karachivor 1 Jahr

@sakhtarmengal Great intellectual work by true patriots. Victory belongs to the Baloch people.

Profilbild von Aslam Shahwani
Aslam Shahwanivor 1 Jahr

Sardar sab is only hope

Profilbild von nawaz khan
nawaz khanvor 1 Jahr

BYC must never let opportunists hijack the movement. The young educated middle class activists under the leadership of Mahrang Baluch have infused new vigour and energy with their selfless sacrifice and hard work and resurrected a movement that was dormant for decades.

Profilbild von Muhammad Anas
Muhammad Anasvor 1 Jahr

Dahastgard ka sth dety ho or darna b krty ho SubhanAllah ❤️

Ähnliche Videos

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 Aufrufe • vor 3 Monaten

پیغام وردی میں موجود یہ انسان نہیں، ان کے جذبات نہیں، ایک پرامن مارچ کو روکنے کیلئے نامعلوم افراد کی حکومت نے اسلام آباد کی تمام فورسز لانگ مارچ شرکا کے سامنے کھڑا کر دیا ہے۔ ان کیلئے یہ مائیں اور بہنیں انسان نہیں بلکہ وہ ان پر ہنستے ہیں جن کے بچے کئی کئی سالوں سے ان کے زیر حراست قید ہیں۔ اسلام آباد بعد کے غیور لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہزاروں کی تعداد میں یہیں پر آ جائیں جہاں ہمیں پولیس نے روک دی ہے اور آگے جانے نہیں دیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں موجود صحافی حضرات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہماری آواز سنیں جبکہ دھرنا اب یہی روڈ پر جاری رہے گا۔ ہم روڈ بلاک کرنا نہیں چاہتے لیکن یہ ہم پر تشدد کرکے ہمیں جیلوں میں قید کرنا چاہتے ہیں اگر ان کی خواہش یہی ہے کہ ان ماؤں اور بہنوں کو جیل میں ڈال کر وہ بلوچستان کو فتح کر سکتے ہٰیں تو اپنی کوشش کر لیں۔ تمام اسلام آباد کو دھرنا گاہ میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ یہ تحریک گزشتہ 26 دنوں سے ایسے ہی جاری رہی ہے اور آگے بھی ایسے ہی جاری رہے گی۔ بلوچ اب مزید اپنی نسل کشی برداشت نہیں کرے گی، بلوچ مائیں اب مزید اپنے بچوں کی لاشیں نہیں اٹھائیں گے۔ بلوچ قوم فیصلہ کر چکی ہے کہ اب وہ ہر جبر اور تشدد کے خلاف سیاسی مزاحمت کا راستہ اختیار کرے گی۔ #MarchAgainstBalochGenocide

BYC - Kech Zone

102,310 Aufrufe • vor 2 Jahren

بی وائی سی آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا پیغام! بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کاروان کو پورے بلوچستان میں ہر جگہ روکا جا رہا ہے۔ ریاست اپنی پوری طاقت اور پوری مشینری بلوچ راجی مُچی کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ ریاست پرامن اور نہتے عوام پر طاقت کا استعمال کرکے بلوچ عوام کے سامنے اپنی بدترین شکست کا اعتراف کر رہی ہے۔ میں بلوچ قوم سے اپیل کرتی ہوں کہ جہاں جہاں بلوچ راجی مُچی کے کاروان کو روکا جا رہا ہے، وہاں پر امن طریقے سے دھرنا دے کر پورے بلوچستان کو بند کریں۔ ہم اس بربریت کے خلاف غیر معینہ مدت کے لیے پورے بلوچستان کو بند کریں گے۔ آج مستونگ میں قافلے پر حملہ، متعدد بلوچ نوجوانوں کو زخمی کرنا، اور دیگر علاقوں میں گرفتاریاں اور تشدد کے تمام واقعات کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے اور ہم ریاست کے ان تمام واقعات کا حساب لیں گے۔ میں انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ فوری طور پر بلوچستان میں ریاستی بربریت کا نوٹس لیں۔ #GwadarIsUnderSiege #WeSupportBalochRaajiMuchi #BalochNationalGathering

Baloch Yakjehti Committee

23,749 Aufrufe • vor 2 Jahren

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,329 Aufrufe • vor 11 Tagen

میں اپنے کارکنان کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ مختصر نوٹس پر بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔آج کا دن ہمارے لیے باعثِ فخر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو سرخرو کیا۔بھارت یہ سمجھ رہا تھا کہ پاکستان اندرونی طور پر تقسیم کا شکار ہے۔ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا قائد اس وقت جیل میں ہے۔بھارت نے سوچا کہ وہ اس صورتِ حال سے فائدہ اٹھا کر پاکستان پر جارحیت کرے گا اور ہمیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گا۔عمران خان نے ہمیشہ کہا کہ پاکستان بھی میرا ہے اور فوج بھی میری ہے۔جب بھی پاکستان کو کسی مشکل کا سامنا ہوا، پی ٹی آئی کے کارکن ہمیشہ فرنٹ لائن پر کھڑے رہے۔ہم پر جو بھی ظلم ہوا، ہم اس کے خلاف اپنے ملک میں آئینی جدوجہد جاری رکھیں گے۔پی ٹی آئی اس وقت ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اور عمران خان اس کے قائد ہیں۔عوام نے ہمیں الیکشن میں کامیاب کرایا ہے، اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ملک کا دفاع کریں۔ہم اپنی ایئر فورس کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ہم ملک کے دفاع کے لیے متحد ہیں، لیکن اگر آپ واقعی قومی یکجہتی چاہتے ہیں تو عمران خان کو رہا کریں۔عمران خان کو جیل میں رکھنا قومی یکجہتی کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔عمران خان ، پی ٹی آئی قیادت اور کارکنان کو فوری رہا کیا جائے۔

Asad Qaiser

14,200 Aufrufe • vor 1 Jahr

خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی کے ایک ممبر، جو ضلع دیر سے تعلق رکھتے ہیں، ذرا ان کی تقریر سنیے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے اپنے ایس پی نے کہا کہ لشکر بناؤ اور دہشت گردوں سے لڑو۔ میں وزیرستان کے پڑوس میں ہوں، بنوں کے پڑوس میں ہوں، لکی مروت کے پڑوس میں ہوں، ٹانک میں ہوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں ہوں۔ وہاں قوموں کو نہیں کہا جا رہا کہ لشکر بناؤ؟ اور پھر انہی لشکروں کو لڑایا گیا، اور بعد میں ہماری وہ قومیں، وہ برادریاں، جو معتبر برادریاں ہیں، انہی دہشت گردوں کے ساتھ بیٹھ کر جرگے کرنے پر مجبور ہو گئیں۔ جن کو آپ ملک دشمن کہتے ہیں، جن کو آپ خوارج کہتے ہیں، جن کے خلاف آپ جنگ لڑ رہے ہیں، جب عام لوگ ان کے ساتھ نبرد آزما ہوئے تو وہ اتنے مجبور ہو گئے کہ بالآخر انہیں ان کے ساتھ جرگے کرنے پڑے۔ اس ملک کے اندر آپ دیکھ رہے ہیں، ہمارے ناک کے نیچے سب کچھ ہو رہا ہے۔ اور جب بنگال میں جنگ چھڑ گئی تھی تو وہاں لشکر نہیں بنے؟ جماعتِ اسلامی کے البدر اور الشمس بھی لشکر تھے، جو عوام کی صفوں سے اٹھے ہوئے نوجوان تھے، اور آپ کے ملک کی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ لڑ رہے تھے۔ لیکن آپ تو سرنڈر کر کے آ گئے، ترانوے ہزار لوگوں کو قیدی بنوا دیا۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں رہا کروایا، وہ واپس آئے۔ اور آج بھی، جب تک حسینہ واجد کی حکومت رہی، عوامی لیگ کی حکومت رہی، جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو پھانسیاں نہیں ملیں؟ یہ ہوتا ہے جب آپ عوامی لشکر نکالتے ہیں، اور فوج کہتی ہے کہ تم نکلو، تم نکلو۔ پھر وہ دشمنیاں نسلوں تک چلتی ہیں۔ اور دو تین سال پہلے تک بھی جماعتِ اسلامی کے لوگوں کو وہاں پھانسیاں دی جاتی رہیں۔ کس پاداش میں؟ کیونکہ فوج تو آ گئی، تو یہاں بھی فوج چلی جائے گی، فوج نہیں ہوگی، کوئی اور آ جائے گا، ایک یونٹ جائے گا، دوسرا یونٹ آ جائے گا، لیکن مقامی آبادی تو وہی رہے گی۔ اور یہ بھی تو مقامی آبادی کے وہی لوگ ہیں۔ تو میں ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر بات کرتا ہوں۔ میں کسی کے خلاف بات نہیں کر رہا ہوتا۔ ان چیزوں پر گفتگو ہونی چاہیے، ان پر مکالمہ ہونا چاہیے۔ یہ جو حکومتی نظریات ہیں، اور اس قسم کے فلسفے ہمارے اوپر تھوپتے ہیں، ان کے مقابلے میں میرا ایک مکالمہ ہے، میرا ایک مؤقف ہے۔ میں کسی کے خلاف نہیں بول رہا، لیکن ایک نظریے، ایک طرزِ عمل، ایک حکمتِ عملی کو اپنی دلیل کے ساتھ کاؤنٹر کر رہا ہوں۔ تو دلیل کے ساتھ دلیل میں بات کرو، کردار کشی کیوں کرتے ہو؟ میں راستے بند نہیں کرتا۔ میں نے اب بھی کسی کا راستہ بند نہیں کیا۔ میرا راستہ بند کیا گیا ہے۔ مجھے بند گلی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تو مجھے دفاع پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور اس وقت میں اپنے دفاع کی جنگ لڑ رہا ہوں۔ سوشل میڈیا پر بھی اگر کوئی جنگ ہے تو وہ ایک دفاع کی جنگ ہے۔ پھر مجھ پر تنقید کا نشانہ بنائیں، کسی مسئلے پر مکالمہ شروع کریں، گالیاں کیوں دیتے ہو؟ تم نے جن لوگوں سے میرے خلاف بیان دلوائے، یہ کرائے کے باکو، یہ جو بولتے رہے ہیں، یہ سارے کے سارے جس زبان سے بولتے رہے ہیں، میری حب الوطنی کو مشکوک بنانا، اس وطن کے ساتھ میری وفاداری کو مشکوک بنانا، میری جماعت کی قربانیوں کو مشکوک بنانا، یہ ساری چیزیں... آج تک میں آپ پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن اس کے جواب میں آپ مجھ پر اعتماد نہیں کر رہے۔ آپ میرے مدارس کی رجسٹریشن بحال نہیں کر رہے، آپ میرے مدارس کے اکاؤنٹس بحال نہیں کر رہے۔ تو تعاون، معاونت، یہ تو عربی الفاظ ہیں، اور ان میں دو طرفہ تعلق کا تصور ہوتا ہے۔ یہاں ایک طرفہ طور پر ہم آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، ہم آپ کے ملک کا دفاع بھی کر رہے ہیں، ہم آپ کے شہداء کا احترام بھی کر رہے ہیں، اور آپ کی طرف سے مسلسل شکوک و شبہات، کبھی کردار کشی، کبھی کچھ اور۔ تو ہم تو ایک پگڈنڈی پر سفر کر رہے ہیں۔ ادھر جاتے ہیں تو بھی موت، اُدھر جاتے ہیں تو بھی موت۔ ایک طرف جان کا خطرہ، دوسری طرف سیاسی موت کا خطرہ۔ تو اس پگڈنڈی میں جمعیت علمائے اسلام سیاست کر رہی ہے، لیکن بڑی خود اعتمادی کے ساتھ کر رہی ہے۔ اور میں پوری پبلک کا، آپ کی وساطت سے پوری دنیا کے عوام، بالخصوص پاکستان کے عوام کا شکر گزار ہوں کہ نوّے فیصد آبادی نے ہمارے اس مؤقف کی حمایت کی، ہماری حوصلہ افزائی کی۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کی صحافی آصف نثار سے گفتگو

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

20,843 Aufrufe • vor 1 Monat

ہوشیار 🚨 اسلام آباد اور لاہور میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھائی جا رہی ہے۔ ان میں سے کچھ کو کوہ سلیمانی لہجہ اور کچھ کو مکرانی لہجہ سکھایا گیا ہے۔آپ کو بتاتا چلوں کہ کوئی بھی زبان کے بنیادی الفاظ، عام جملے یا رٹی رٹائی باتیں یاد رکھنا یا کیمرہ کے سامنے بولنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ بہت سے لوگ روس، چین اور دیگر ممالک میں سکالرشپس پر پڑھنے جاتے ہیں اور وہاں کی زبان چھ ماہ سے ایک سال کے اندر آسانی سے سیکھ لیتے ہیں۔ اب جبکہ بلوچستان میں صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور بلوچ مسلح تنظیموں کی جنگی حکمت عملی بھی تبدیل ہو رہی ہے۔ اب خواتین نے بھی جنگ کا حصہ بننے کے لیے ہتھیار اٹھا لیے ہیں۔ پنجاب کے سو کالڈ تجزیہ کار جن میں مختلف ٹاؤٹسس، کچھ پشتون لڑکیاں بھی، استعمال کی گئیں لیکن بلوچ عوام نے ان کو مسترد کیا، براق ڈیجیٹل، آزاد ڈیجیٹل سمیت ہر فارمولا ناکام ہوا کیونکہ بلوچ ان کے اصل چہرے جانتے ہیں۔ پاکستان کو بیانیہ کی جنگ (narrative warfare) میں بلوچ خواتین کی ضرورت پڑی، لیکن بلوچستان کی مقامی خواتین اس قسم کے پروپیگنڈا کا حصہ بننے کے لیے تیار نہیں ہوئیں (سوائے چند ایک کے)۔ اس لیے ریاست نے پنجاب اور دیگر شہروں کی لڑکیوں کو بلوچی زبان سکھانا شروع کر دیا۔آج کل انسٹاگرام، ایکس (ٹویٹر)، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بلوچی زبان بولتی ہوئی خواتین ایک مخصوص بیانیہ چلانے کی کوشش کر رہی ہیں، جو مکمل طور پر سرکار کی سرپرستی اور حمایت میں ہو رہا ہے۔ واضح کرتا چلوں اگر ان کا بائیو ڈیٹا نکالا جاۓ تو ان میں سے ہر ایک کا تعلق پنجاب کے مختلف شہروں سے ہے۔ ان خواتین کا بلوچستان یا بلوچ کاز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Zorakh Baloch

18,916 Aufrufe • vor 2 Monaten

کشمیر کے عوام کے ووٹ کا احترام کرنا ہوگا۔ منصفانہ انتخابات ہونے دیں، جس کا ووٹ نکلے اسی کی حکومت بننے دیں۔ یہی جمہوریت کا اصول ہے اور یہی کشمیری عوام کا حق ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ قومی مفاد کو مقدم رکھا ہے۔ ہم اسلام آباد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں تاکہ ملک کو درپیش مسائل کا مقابلہ کیا جا سکے اور قومی معاملات کو ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ ہم آج بھی صبر کر رہے ہیں، کیونکہ ہمارے لیے پاکستان اور عوام کا مفاد سب سے اہم ہے۔ لیکن ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے۔ اگر کوئی ہم سے لڑائی چاہتا ہے تو لڑائی چھیڑ لے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس تمام جمہوری اور آئینی آپشنز موجود ہیں، اور ہم احتجاج کرنا بھی جانتے ہیں۔ 10 اگست کو کشمیر کے عوام صرف پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیں گے، بلکہ اپنے ووٹ کا تحفظ بھی کریں گے۔ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالے یا ان کے مینڈیٹ کو پامال کرے۔ اور میں آج واضح کر دینا چاہتا ہوں: اگر کشمیر کے عوام کے ساتھ ناانصافی ہوئی، اگر ان کے ووٹ کے ساتھ ظلم ہوا، تو میں خود عوام کے ساتھ کھڑا ہوں گا، ان کے ساتھ بیٹھوں گا اور ان کے حق کے لیے احتجاج کروں گا۔ طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہے۔ کشمیر کا فیصلہ کشمیر کے عوام ہی کریں گے۔

Bilawal Bhutto Zardari

52,627 Aufrufe • vor 1 Monat

بلوچ قوم! جیسے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ دشمن بڑی “بہادری” سے بلوچ نسل کشی کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ “بہادری” سے رات کے اندھیرے میں اور دن کی روشنی میں ہمارے نوجوانوں کو جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے۔ آج وہ چھوٹے بچوں کو بھی جبری طور پر گمشدہ کر رہا ہے، اور خواتین کو بھی جبری طور پر لاپتہ کر رہا ہے۔ اس سب کی وجہ ہماری خاموشی ہے۔جب دشمن یہ دیکھتا ہے کہ ہم خوف کا شکار ہو چکے ہیں، تو وہ اور زیادہ بہادر بن جاتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہماری مدد کے لیے کوئی اور نہیں آئے گا۔اپنی نسلوں کی حفاظت اور اپنے لوگوں کو بچانے کا ہمارے سوا کوئی آسرا نہیں۔ہمیں خود آگے آنا ہوگا، اور اپنے لوگوں کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ ہم تمام لوگوں سے درخواست کرتے ہیں کہ جب ان کے عزیز جبری طور پر لاپتہ کیے جائیں تو وہ خاموش نہ رہیں۔ وہ آگے آئیں، اور ظلم کے خلاف بولیں۔اور ہم پورے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان متاثرہ خاندانوں کا ساتھ دیں۔ کل بیسیمہ میں ماہ جبین بلوچ کی رہائی کے لیے ایک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی۔ہم بیسیمہ کے عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس ریلی میں بھرپور شرکت کریں۔اور ہم اپنے بلوچ قوم سے اپیل کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کو تنہا نہ چھوڑیں۔ یہ ظلم صرف ایک گھر تک محدود نہیں،، یہ ظلم ہم سب کو ختم کر دے گی لیکن خاموشی کا جو داغ ہم پر لگ جائے گا، وہ ہماری آنے والی نسلیں بھی نہیں مٹا سکیں گی۔ آگے آئیں… اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں! #ReleaseMahjabeenAndYounusBaloch #StopBalochGenocide

Baloch Yakjehti Committee

39,758 Aufrufe • vor 1 Jahr

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

15,053 Aufrufe • vor 2 Monaten

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,165 Aufrufe • vor 2 Monaten