Shabbir Dar's banner
Shabbir Dar's profile picture

Shabbir Dar

@ShabbirDar58,801 subscribers

Journalist @geonews_urdu @thenews_intl Tweets are personal. https://t.co/t30ug7HGbe https://t.co/bBdZJJMH3M

Shorts

سماہنی آزاد کشمیر میں کچھ لوگ پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ باکس ہی لے اڑے۔

سماہنی آزاد کشمیر میں کچھ لوگ پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ باکس ہی لے اڑے۔

57,944 Aufrufe

راولپنڈی کا نیا راجہ بازار جسے ماڈل بازار کا درجہ دیا گیا ہے مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا ہے اسے ملحقہ تحصیل آفس بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، پانی لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا ہے جسے کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا ہے، تحصیل آفس کا رجسٹری آفس بھی پانی میں تیر رہا ہے، انتظامیہ کہیں موجود نہیں نہ نکاسی آب کا کوئی بندوبست نظر آرہا ہے۔

راولپنڈی کا نیا راجہ بازار جسے ماڈل بازار کا درجہ دیا گیا ہے مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا ہے اسے ملحقہ تحصیل آفس بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، پانی لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا ہے جسے کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا ہے، تحصیل آفس کا رجسٹری آفس بھی پانی میں تیر رہا ہے، انتظامیہ کہیں موجود نہیں نہ نکاسی آب کا کوئی بندوبست نظر آرہا ہے۔

25,880 Aufrufe

شہر کو گنجا کرکے کمشنر و چیئرمین Capital Development Authority - CDA, Islamabad رندھاوا صاحب تو ٹک ٹاک پر ایسے انٹریاں مار رہے ہیں جیسے بیوروکریسی میں دور دور تک انکا کوئی مقابلہ نہیں۔

شہر کو گنجا کرکے کمشنر و چیئرمین Capital Development Authority - CDA, Islamabad رندھاوا صاحب تو ٹک ٹاک پر ایسے انٹریاں مار رہے ہیں جیسے بیوروکریسی میں دور دور تک انکا کوئی مقابلہ نہیں۔

226,226 Aufrufe

راولپنڈی میں نئے (سی پی او) حسن مشتاق سکھیرا کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سیاسی شخصیات کی سی پی او آفس تک رسائی بڑھنے لگی ہے، جو سابق سی پی او خالد ہمدانی کے دور سے مختلف پالیسی سمجھی جا رہی ہے۔ خالد ہمدانی کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے چودھری نعیم اعجاز کو سی پی او آفس تک رسائی نہیں تھی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق چودھری نعیم اعجاز مختلف نوعیت کے تقریباً 200 مقدمات میں نامزد رہے ہیں، جن میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، غیرقانونی اسلحہ اور اراضی پر مبینہ قبضوں کے مقدمات شامل ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ضیاء اللہ شاہ کے حلقے میں گزشتہ سال 19 سالہ شادی شدہ خاتون کے قتل کے مقدمے میں نامزد سابق چیئرمین یونین کونسل کو خالد ہمدانی نے گرفتار کر کے اس کے خلاف دہشت گردی اور لنچنگ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے چودھری عدنان کے قتل کیس میں بھی خالد ہمدانی کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری تنویر اور ان کے بیٹے ایم این اے چودھری دانیال کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اگرچہ نئے سی پی او کی پالیسی ان کے پیش رو سے مختلف ہو سکتی ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ خدشات ضرور ڈسکس ہورہے ہیں کہ شاید نئی تعیناتیاں پولیس میں سیاسی اثرو رسوخ بڑھانے کا پیش خیمہ ہیں۔

راولپنڈی میں نئے (سی پی او) حسن مشتاق سکھیرا کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سیاسی شخصیات کی سی پی او آفس تک رسائی بڑھنے لگی ہے، جو سابق سی پی او خالد ہمدانی کے دور سے مختلف پالیسی سمجھی جا رہی ہے۔ خالد ہمدانی کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے چودھری نعیم اعجاز کو سی پی او آفس تک رسائی نہیں تھی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق چودھری نعیم اعجاز مختلف نوعیت کے تقریباً 200 مقدمات میں نامزد رہے ہیں، جن میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، غیرقانونی اسلحہ اور اراضی پر مبینہ قبضوں کے مقدمات شامل ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ضیاء اللہ شاہ کے حلقے میں گزشتہ سال 19 سالہ شادی شدہ خاتون کے قتل کے مقدمے میں نامزد سابق چیئرمین یونین کونسل کو خالد ہمدانی نے گرفتار کر کے اس کے خلاف دہشت گردی اور لنچنگ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے چودھری عدنان کے قتل کیس میں بھی خالد ہمدانی کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری تنویر اور ان کے بیٹے ایم این اے چودھری دانیال کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اگرچہ نئے سی پی او کی پالیسی ان کے پیش رو سے مختلف ہو سکتی ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ خدشات ضرور ڈسکس ہورہے ہیں کہ شاید نئی تعیناتیاں پولیس میں سیاسی اثرو رسوخ بڑھانے کا پیش خیمہ ہیں۔

22,595 Aufrufe

جتنی مرضی اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے خلاف مہم چلاو، چیئرمین Capital Development Authority - CDA, Islamabad رندھاوا صاحب اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایک ایک درخت کی نشاندہی کرکے اسے کاٹ گرائیں گے😊

جتنی مرضی اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے خلاف مہم چلاو، چیئرمین Capital Development Authority - CDA, Islamabad رندھاوا صاحب اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایک ایک درخت کی نشاندہی کرکے اسے کاٹ گرائیں گے😊

168,057 Aufrufe

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی جہلم ویلی میں بڑی عوامی ریلی، راجہ فاروق حیدر خان نے چکار LA-32 سے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے، آزاد کشمیر میں پاکستانیت کو کمزور نہیں ہونے دینگے، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں اور پاکستان کو الگ نہیں کرسکتی، ریاست میں افراتفری کی اجازت نہیں دینگے، راجہ فاروق حیدر خان کا ریلی سے خطاب

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی جہلم ویلی میں بڑی عوامی ریلی، راجہ فاروق حیدر خان نے چکار LA-32 سے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے، آزاد کشمیر میں پاکستانیت کو کمزور نہیں ہونے دینگے، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں اور پاکستان کو الگ نہیں کرسکتی، ریاست میں افراتفری کی اجازت نہیں دینگے، راجہ فاروق حیدر خان کا ریلی سے خطاب

12,325 Aufrufe

Videos

ShabbirDar5's profile picture

میر واعظ عمر فاروق نے گزشتہ روز سرینگر کی جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عوامی تحریک اپنی اخلاقی برتری اسی وقت برقرار رکھ سکتی ہے جب وہ تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ایک طبقے کے حقوق کی بات کرتے ہوئے دوسرے طبقے کے آئینی اور جمہوری حقوق کو نظر انداز یا فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لہٰذا ان کی آئینی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لیے مساوات، انصاف اور باہمی احترام ناگزیر ہیں، اس لیے تمام فریقین کو مل بیٹھ کر ایسا درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ میر واعظ نے کہا کہ آزاد کشمیر ہو یا مقبوضہ کشمیر، ہم ریاست جموں و کشمیر کے ہر متاثرہ فرد کی بات کرتے ہیں۔ ریاست کے ہر علاقے کے باشندوں کے حقوق کی نمائندگی کرنا ضروری ہے، کیونکہ ہماری جدوجہد اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ہم ریاست کے تمام علاقوں کے لوگوں کے حقوق کی بات کریں اور انہیں اپنے دائرۂ جدوجہد میں شامل کریں۔ انہوں نے آر پار امن و امان، اتحاد اور اتفاق کیلئے دعا کی، اور امید ظاہر کی کہ تمام مسائل تشدد اور تصادم کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔ نوٹ: خطاب کشمیری زبان میں ہے۔

Shabbir Dar

56,851 Aufrufe • vor 8 Tagen

ShabbirDar5's profile picture

دلچسپ۔۔۔۔۔۔ راولپنڈی کے حلقہ PP-19 سے منتخب پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پنجاب اسمبلی تنویر اسلم راجہ کا تعلق باغ، آزاد کشمیر سے ہے۔ وہ مہاجرِ کشمیری نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کے پاس آزاد کشمیر اور پاکستان، دونوں کی شہریت موجود ہے، پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے خود بتایا کہ ان کا ووٹ پنجاب میں بھی ہے اور آزاد کشمیر میں بھی، وہ پنجاب سے الیکشن لڑ کر رکنِ اسمبلی منتخب ہوئے۔ اب سوال یہ ہے اگر آزاد کشمیر کا ایک رہائشی پاکستان میں ووٹ ڈال سکتا ہے، الیکشن لڑ سکتا ہے اور صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو سکتا ہے، جس پر پنجاب کے لوگوں کو کوئی اعتراض نہیں تو پھر پاکستان میں مقیم مہاجرینِ کشمیر کو آزاد کشمیر کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے حق پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ نوٹ: تنویر اسلم راجہ نے پنجاب اسمبلی میں اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا مسلہ ووٹ کا نہیں بلکہ ووٹوں کے کم تناسب پر پاکستان سے منتخب ہوکر آزاد کشمیر اسمبلی کا ممبر منتخب ہونا ہے، پنجاب کی کوئی نشست آزاد کشمیر میں نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اسمبلی کی کسی نشست پر پاکستان میں کیسے ووٹنگ ہوسکتی ہے۔

Shabbir Dar

21,505 Aufrufe • vor 1 Monat

ShabbirDar5's profile picture

مطیع اللہ جان پاکستان کے نامور اور منجھے ہوئے صحافی ہیں جبکہ پروفیسر Tahir Naeem Malik ہم سب کے قابل احترام استاد ہیں۔ دونوں معزز دوستوں نے میری ایک تحریر کو زیرِ بحث لایا ہے، جس پر چند وضاحتیں ضروری ہیں۔ چند روز قبل میں نے "باریک واردات" کے عنوان سے ایک تحریر لکھی تھی جس میں آزاد کشمیر کے ممبران اسمبلی کے حلف سے متعلق بعض نکات اٹھائے گئے تھے، اس تحریر کا پس منظر یہ تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ ممبران اسمبلی کے حلف میں ترمیم کی جائے اور ریاست جموں و کشمیر کی جغرافیائی وحدت سے وفاداری کی شق بھی اس میں شامل کی جائے۔ مطیع اللہ جان صاحب نے یا تو میری تحریر کو پوری توجہ سے نہیں پڑھا، یا پھر اس کی ایسی تشریح کی ہے جو میرے موقف کی درست عکاسی نہیں کرتی، سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ میں نے اپنی تحریر میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی ممبران اسمبلی کا حلف تبدیل کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے بلکہ میں نے ہر جگہ لفظ "ترمیم" استعمال کیا ہے، ترمیم کا مطلب کسی موجودہ دستاویز میں اضافہ یا کمی کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اسے مکمل طور پر ختم کر دینا۔ لہٰذا میں نے ہرگز یہ الزام عائد نہیں کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی پاکستان سے وفاداری کی شق کو ختم کروانا چاہتی ہے، میری تحریر میں واضح طور پر یہ بیان کیا گیا ہے کہ کمیٹی موجودہ حلف میں اپنی سوچ اور منشا کے مطابق ایک نئی شق کا اضافہ چاہتی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے متعدد رہنما مختلف انٹرویوز میں اس مطالبے کا برملا اعتراف بھی کر چکے ہیں لیکن اس شق کو مطالبے میں شامل کرنے کا کوئی واضع جواب نہیں دے پائے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آخر اس مطالبے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ ممبران اسمبلی کے حلف میں ترمیم اور مہاجرین کی بارہ نشستوں سے متعلق مطالبات کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ یہ بیانیہ کس نے تشکیل دیا اور اسے مسلسل آگے بڑھانے والے عناصر کون تھے؟ فیس بک پر میری آج کی پوسٹ انہی سوالات پر مشتمل ہے، اور میرا خیال ہے ان سوالات کے واضح اور دوٹوک جوابات سامنے آنا ضروری ہیں تاکہ حقائق اور قیاس آرائیوں میں فرق کیا جا سکے، میں نے باریک واردات کے عنوان سے تحریر میں بھی آخر پر یہ سوال چھوڑا تھا کہ قیادت کی طرف سے اس مطالبے کی وضاحت ضروری آنی چاہیئے۔

Shabbir Dar

24,394 Aufrufe • vor 1 Monat

ShabbirDar5's profile picture

طاہرہ توقیر گیلانی، توقیر گیلانی کی اہلیہ ہیں، توقیر گیلانی آزاد کشمیر میں خودمختار کشمیر کے بیانیے کے سب سے بڑے علمبرداروں میں شمار ہوتے ہیں، پاکستان اور اسکے اداروں کے خلاف ان کے سخت گیر موقف کے باعث انہیں 2020 میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ (JKLF) سے نکال دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے اپنا الگ دھڑا قائم کر لیا، اسی گروپ میں بعد ازاں سردار امان خان بھی شامل ہوئے، جو آج جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کی قیادت کر رہے ہیں، طاہرہ توقیر گیلانی بھی اسی گروپ کی سرگرم رکن ہیں۔ توقیر گیلانی خود تو امریکہ کا ویزا حاصل کرکے وہاں مستقل سکونت اختیار کر چکے ہیں، لیکن ان کے قائم کردہ گروپ کا ایک سرکردہ رہنما سردار امان خان آج JAAC کی قیادت کر رہا ہے، جبکہ اسی گروپ کی سرگرم رکن اور توقیر گیلانی کی اہلیہ طاہرہ توقیر گیلانی، JAAC کے حوالے سے بالکل مختلف اور متضاد مؤقف رکھتی ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر گروپ ایک ہے، مقصد ایک ہے اور قیادت بھی ایک ہی سوچ سے نکلی ہے، تو پھر JAAC کے بارے میں دو متضاد بیانیے کیوں؟ اصل موقف کون سا ہے؟ سردار امان خان والا یا طاہرہ توقیر گیلانی والا؟ اس معمے کی وضاحت تو توقیر گیلانی صاحب ہی کر سکتے ہیں جو آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر ہماری ہر رائے اور تبصرے کو سہولت کاری سے تعبیر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ اس متضاد موقف کے حوالے سے ہمارے پاس جو معلومات ہیں شاید ہم چاہ کر بھی بیان نہیں کرسکتے، کیونکہ آزاد کشمیر کے بعض خودساختہ دانشور فوری تعصب اور سہولت کاری کی اسناد بانٹنا شروع کر دیتے ہیں۔

Shabbir Dar

13,527 Aufrufe • vor 1 Monat

ShabbirDar5's profile picture

Can't agree more

Shabbir Dar

53,689 Aufrufe • vor 5 Monaten