Shabbir Dar's banner
Shabbir Dar's profile picture

Shabbir Dar

@ShabbirDar5 • 9,979 subscribers

Journalist @geonews_urdu @thenews_intl @jangh_akhbar Tweets are personal. https://t.co/t30ug7HGbe https://t.co/bBdZJJMH3M

Shorts

شہر کو گنجا کرکے کمشنر و چیئرمین Capital Development Authority - CDA, Islamabad رندھاوا صاحب تو ٹک ٹاک پر ایسے انٹریاں مار رہے ہیں جیسے بیوروکریسی میں دور دور تک انکا کوئی مقابلہ نہیں۔

شہر کو گنجا کرکے کمشنر و چیئرمین Capital Development Authority - CDA, Islamabad رندھاوا صاحب تو ٹک ٹاک پر ایسے انٹریاں مار رہے ہیں جیسے بیوروکریسی میں دور دور تک انکا کوئی مقابلہ نہیں۔

226,226 görüntüleme

سماہنی آزاد کشمیر میں کچھ لوگ پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ باکس ہی لے اڑے۔

سماہنی آزاد کشمیر میں کچھ لوگ پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ باکس ہی لے اڑے۔

58,524 görüntüleme

جتنی مرضی اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے خلاف مہم چلاو، چیئرمین Capital Development Authority - CDA, Islamabad رندھاوا صاحب اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایک ایک درخت کی نشاندہی کرکے اسے کاٹ گرائیں گے😊

جتنی مرضی اسلام آباد میں درختوں کی کٹائی کے خلاف مہم چلاو، چیئرمین Capital Development Authority - CDA, Islamabad رندھاوا صاحب اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، ایک ایک درخت کی نشاندہی کرکے اسے کاٹ گرائیں گے😊

168,057 görüntüleme

راولپنڈی کا نیا راجہ بازار جسے ماڈل بازار کا درجہ دیا گیا ہے مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا ہے اسے ملحقہ تحصیل آفس بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، پانی لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا ہے جسے کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا ہے، تحصیل آفس کا رجسٹری آفس بھی پانی میں تیر رہا ہے، انتظامیہ کہیں موجود نہیں نہ نکاسی آب کا کوئی بندوبست نظر آرہا ہے۔

راولپنڈی کا نیا راجہ بازار جسے ماڈل بازار کا درجہ دیا گیا ہے مکمل طور پر پانی میں ڈوب گیا ہے اسے ملحقہ تحصیل آفس بھی پانی میں ڈوبا ہوا ہے، پانی لوگوں کے گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا ہے جسے کروڑوں روپے کا نقصان ہوگیا ہے، تحصیل آفس کا رجسٹری آفس بھی پانی میں تیر رہا ہے، انتظامیہ کہیں موجود نہیں نہ نکاسی آب کا کوئی بندوبست نظر آرہا ہے۔

25,898 görüntüleme

راولپنڈی میں نئے (سی پی او) حسن مشتاق سکھیرا کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سیاسی شخصیات کی سی پی او آفس تک رسائی بڑھنے لگی ہے، جو سابق سی پی او خالد ہمدانی کے دور سے مختلف پالیسی سمجھی جا رہی ہے۔ خالد ہمدانی کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے چودھری نعیم اعجاز کو سی پی او آفس تک رسائی نہیں تھی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق چودھری نعیم اعجاز مختلف نوعیت کے تقریباً 200 مقدمات میں نامزد رہے ہیں، جن میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، غیرقانونی اسلحہ اور اراضی پر مبینہ قبضوں کے مقدمات شامل ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ضیاء اللہ شاہ کے حلقے میں گزشتہ سال 19 سالہ شادی شدہ خاتون کے قتل کے مقدمے میں نامزد سابق چیئرمین یونین کونسل کو خالد ہمدانی نے گرفتار کر کے اس کے خلاف دہشت گردی اور لنچنگ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے چودھری عدنان کے قتل کیس میں بھی خالد ہمدانی کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری تنویر اور ان کے بیٹے ایم این اے چودھری دانیال کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اگرچہ نئے سی پی او کی پالیسی ان کے پیش رو سے مختلف ہو سکتی ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ خدشات ضرور ڈسکس ہورہے ہیں کہ شاید نئی تعیناتیاں پولیس میں سیاسی اثرو رسوخ بڑھانے کا پیش خیمہ ہیں۔

راولپنڈی میں نئے (سی پی او) حسن مشتاق سکھیرا کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سیاسی شخصیات کی سی پی او آفس تک رسائی بڑھنے لگی ہے، جو سابق سی پی او خالد ہمدانی کے دور سے مختلف پالیسی سمجھی جا رہی ہے۔ خالد ہمدانی کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے چودھری نعیم اعجاز کو سی پی او آفس تک رسائی نہیں تھی۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق چودھری نعیم اعجاز مختلف نوعیت کے تقریباً 200 مقدمات میں نامزد رہے ہیں، جن میں دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، غیرقانونی اسلحہ اور اراضی پر مبینہ قبضوں کے مقدمات شامل ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے ضیاء اللہ شاہ کے حلقے میں گزشتہ سال 19 سالہ شادی شدہ خاتون کے قتل کے مقدمے میں نامزد سابق چیئرمین یونین کونسل کو خالد ہمدانی نے گرفتار کر کے اس کے خلاف دہشت گردی اور لنچنگ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا تھا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے سابق ایم پی اے چودھری عدنان کے قتل کیس میں بھی خالد ہمدانی کے دور میں مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چودھری تنویر اور ان کے بیٹے ایم این اے چودھری دانیال کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اگرچہ نئے سی پی او کی پالیسی ان کے پیش رو سے مختلف ہو سکتی ہے، تاہم عوامی حلقوں میں یہ خدشات ضرور ڈسکس ہورہے ہیں کہ شاید نئی تعیناتیاں پولیس میں سیاسی اثرو رسوخ بڑھانے کا پیش خیمہ ہیں۔

22,595 görüntüleme

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی جہلم ویلی میں بڑی عوامی ریلی، راجہ فاروق حیدر خان نے چکار LA-32 سے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے، آزاد کشمیر میں پاکستانیت کو کمزور نہیں ہونے دینگے، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں اور پاکستان کو الگ نہیں کرسکتی، ریاست میں افراتفری کی اجازت نہیں دینگے، راجہ فاروق حیدر خان کا ریلی سے خطاب

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کی جہلم ویلی میں بڑی عوامی ریلی، راجہ فاروق حیدر خان نے چکار LA-32 سے کاغذات نامزدگی جمع کرادئیے، آزاد کشمیر میں پاکستانیت کو کمزور نہیں ہونے دینگے، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں اور پاکستان کو الگ نہیں کرسکتی، ریاست میں افراتفری کی اجازت نہیں دینگے، راجہ فاروق حیدر خان کا ریلی سے خطاب

12,342 görüntüleme

Videos

ShabbirDar5's profile picture

یہ وہی پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر ہیں جن کے خلاف 2018 میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سو موٹو نوٹس لیکر پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹیٹیوٹ بند کروا دیا تھا، عدالت نے ہسپتال کو بند کرنے کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ہسپتال پر 25 سے 30 ارب روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن اسے آپریشنل نہیں کیا گیا اور ڈاکٹروں کو بھاری تنخواہیں دی جارہی ہیں، جو قومی خزانے پر بوجھ ہے، جبکہ بعد میں ہسپتال بند کرنے کی سیاسی وجہ بھی سامنے آئی تھی کیونکہ یہ ہسپتال سابق وزیراعلٰی پنجاب Shehbaz Sharif کی حکومت کا فلیگ شپ منصوبہ تھا، PMLN نے ثاقب ثاقب نثار پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران اس منصوبے کو بدنام کرنے اور ن لیگ کو سیاسی نقصان پہنچانے کے لیے اسے نشانہ بنایا، ثاقب نثار کی جانب سے PKLI کے خلاف سو موٹو نوٹس کو پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سمیت دیگر میڈیکل ایسوسی ایشنز اور عالمی تنظیموں نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر پاکستان کے مایہ ناز یورولوجسٹ (ماہرِ امراضِ گردہ و مثانہ) اور ٹرانسپلانٹ سرجن ہیں، پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر (PKLI) کے بانی اور بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین ہیں، آپ نے امریکہ سے یورالوجی اور پیوند کاری (Transplant) کی اعلیٰ تربیت حاصل کی۔ وہ امریکن بورڈ آف یورالوجی کے ڈپلومیٹ اور ییل یونیورسٹی سے (MPH) کیا ہوا ہے، انہوں نے لاہور کے بعد اب راولپنڈی کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹیٹیوٹ کو بھی فعال کردیا ہے، اور یہاں سے دو لیور جبکہ ایک کڈنی ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں، جسے ماہرین صحت بڑا سنگ میل قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اس علاج کیلئے لوگوں کو چند سال قبل انڈیا یا پھر کسی دوسرے ملک جانا پڑتا تھا، اچھی بات یہ ہے کہ PKLI راولپنڈی سے جو تین ٹرانسپلانٹ ہوچکے ہیں وہ بلکل مفت کئے گئے ہیں اور تینوں ٹرانسپلانٹس پر تقریبا ڈیڑھ کروڈ روپیہ اخراجات آئے ہیں، پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر کے مطابق راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف یورالوجی کو PKLI کے سپرد کرنے سے ایک تاثر ابھرا ہے کہ شاید سرکاری ہسپتال کو نجی شعبے کو منتقل کردیا گیا ہے جو درست بات نہیں، یہاں جو ادائیگی کرسکتا ہے اسکا بھی علاج ہوتا ہے جو نہیں کرسکتا اسکا بھی علاج ہوتا ہے، لیکن مریض کی باقاعدہ تشخیص، اسکریننگ اور استطاعت دیکھی جاتی ہے، ادارہ عطیات پر چلتا ہے، وزیراعلٰی پنجاب Maryam Nawaz Sharif ٹرانسپلاٹ فنڈ سے بھی مستحق افراد کا علاج کیا جاتا ہے، پروفیسر سعید اختر کا کہنا تھا راولپنڈی میں PKLI کو فعال کرنے میں کافی وقت لگا لیکن یہ ایک بڑی کامیابی ہے، اسے شمالی پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخواہ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی عوام مستفید ہوگی، علاج میں کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی.

Shabbir Dar

20,768 görüntüleme • 4 gün önce

ShabbirDar5's profile picture

بحریہ ٹاون فیز 7 میں واقع #WestMinisterSchool میں کل دو سے تین گھنٹے گزار کے آیا، اسکول میں 5 سالہ بچی سے مبینہ ہراسانی کے واقعہ پر اسکول انتظامیہ نے تمام والدین کو میٹنگ کیلئے بلایا تھا، اسکول انتظامیہ نے مخصوص بلاک کی CCTV فوٹیج دکھانے کا انتظام کیا تھا لیکن متاثرہ بچی کے والدین نے اعتراض کیا اور ساری فوٹیج کو Publicly دکھانے سے منع کیا، والدین کا موقف تھا یہ فوٹیج وہ انفرادی طور پر دیکھنا چاہتے ہیں، اسکول انتظامیہ اور موقع پر موجود والدین نے متاثرہ بچی کے والدین سے اتفاق کیا، جبکہ اسکول انتظامیہ کو موقف تھا فوٹیج میں کوئی قابل اعتراض مواد نہیں، خیر متاثرہ بچی کے والدین کو فوٹیج دکھانے کیلئے الگ انتظام کیا گیا، میٹنگ کے دوران اسکول انتظامیہ نے والدین کو بریفنگ دی اور اب تک کی انکوائری سے متعلق آگاہ کیا، والدین اسکول انتظامیہ کی بریفنگ سے مطمئن نہیں ہوئے، بلکہ متاثرہ بچی کی والدہ نے اسٹیج پر جاکر اسکول انتظامیہ کے رویہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکول انتظامیہ والدین کو آدھا سچ اور آدھا جھوٹ بتارہے ہیں، میٹنگ کے بعد والدین اور کچھ بچوں سے بات ہوئی سب کا اتفاق تھا کہ اسکول انتظامیہ ضرور کچھ چھپا رہی ہے، اسکول انتظامیہ کے ایک افسر سے بھی بات ہوئی انکے مطابق اسکول میں ایسا کوئی وقوعہ پیش ہی نہیں آیا ہے یہ سب اسکول کو بدنام کرنے کی کوشش ہے، تقریبا تمام والدین پریشان تھے اور اس واقعہ کی شفاف انکوائری تک بچوں کو اسکول بھیجنے کیلئے راضی نہیں تھے، کچھ والدین کا کہنا تھا یہ صورتحال انکے لئے مسلسل پریشانی کا باعث بن رہی ہے، اسکول انتظامیہ کی بریفنگ سے غیر مطمئن ہوکر اب والدین نے 20 رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں اسکول انتظامیہ کا کوئی بندہ شامل نہیں ہوگا، یہ کمیٹی اپنے طور اس معاملے کی تحقیقات کرائے گا، اسکول انتظامیہ کے خلاف قانونی راستہ اختیار کرنا پڑا تو وہ بھی کیا جائے گا، متاثرہ بچی کے والدین فی الحال میڈیا سے دور رہنا چاہتے ہیں اور قانونی کاروائی کیلئے بھی سوچ بچار کررہے ہیں، کچھ دوستوں کے بچے یہاں پڑھتے ہیں انہوں نے بتایا معاملہ serious ہے، والدین بچوں کو اب اس اسکول میں نہیں بھیجنا چاہتے۔

Shabbir Dar

44,569 görüntüleme • 13 gün önce

ShabbirDar5's profile picture

میر واعظ عمر فاروق نے گزشتہ روز سرینگر کی جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی عوامی تحریک اپنی اخلاقی برتری اسی وقت برقرار رکھ سکتی ہے جب وہ تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ایک طبقے کے حقوق کی بات کرتے ہوئے دوسرے طبقے کے آئینی اور جمہوری حقوق کو نظر انداز یا فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں مقیم لاکھوں مہاجرینِ کشمیر کا حقِ رائے دہی ان کا آئینی اور جمہوری حق ہے، لہٰذا ان کی آئینی حیثیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اجتماعی حقوق کے تحفظ کے لیے مساوات، انصاف اور باہمی احترام ناگزیر ہیں، اس لیے تمام فریقین کو مل بیٹھ کر ایسا درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہیے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔ میر واعظ نے کہا کہ آزاد کشمیر ہو یا مقبوضہ کشمیر، ہم ریاست جموں و کشمیر کے ہر متاثرہ فرد کی بات کرتے ہیں۔ ریاست کے ہر علاقے کے باشندوں کے حقوق کی نمائندگی کرنا ضروری ہے، کیونکہ ہماری جدوجہد اسی وقت کامیاب ہو سکتی ہے جب ہم ریاست کے تمام علاقوں کے لوگوں کے حقوق کی بات کریں اور انہیں اپنے دائرۂ جدوجہد میں شامل کریں۔ انہوں نے آر پار امن و امان، اتحاد اور اتفاق کیلئے دعا کی، اور امید ظاہر کی کہ تمام مسائل تشدد اور تصادم کے بجائے بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔ نوٹ: خطاب کشمیری زبان میں ہے۔

Shabbir Dar

57,104 görüntüleme • 1 ay önce

ShabbirDar5's profile picture

Can't agree more

Shabbir Dar

53,689 görüntüleme • 7 ay önce