
Syed Kousar Kazmi
@SyedKousarKazmi • 89,226 subscribers
Official Spokesperson to Chief Minister Punjab.
Shorts
Videos

پنجاب بھر میں شدید بارشوں کے بعد واسا اور ضلع انتظامیہ کا بہترین فیلڈ رسپانس، ایک ہزار سے زائد جدید مشینری کے ذریعے متاثرہ علاقوں سے ریکارڈ مدت میں پانی کی نکاسی مکمل کی گئی جبکہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے صورتحال کی مسلسل مانیٹرنگ جاری ہے، اور ان تمام تر انتظامی اقدامات کی خود وزیراعلیٰ مریم نواز شریف براہِ راست مانیٹرنگ کر رہی ہیں۔ #پنجاب_ہر_لمحہ_تیار
Syed Kousar Kazmi101,671 views • 1 month ago

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اہم اجلاس میں مون سون کی صورتحال، اربن فلڈنگ سے نمٹنے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے جامع اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ انسانی و مشینی وسائل بروئے کار لا کر نکاسیٔ آب اور ہنگامی امدادی کارروائیاں مؤثر انداز میں جاری رکھی جائیں، جبکہ بجلی سے ہونے والے حادثات کی روک تھام، خستہ حال عمارتوں کی نگرانی، تعمیراتی مقامات پر حفاظتی انتظامات اور دریاؤں، ڈیموں و بیراجوں پر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوام کی حفاظت اور بروقت ریلیف حکومت کی اولین ترجیح رہے گی۔
Syed Kousar Kazmi92,574 views • 1 month ago

بلاول صاحب نے وہاڑی ڈی جی خان راجن پور اور پنجاب کے دیگر شہروں کے حوالے سے جو سوال اٹھائے انکے جواب میں اگر میں کچھ نہ بولوں اور آپ وہ ویڈیو چلا دیں جو میں نے آپکو ابھی بھیجی تو سب کو جواب مل جائے گا- ہونا تو یہ چائیے تھا کے پنجاب کی ترقی کا جواب وہ سندھ کی ترقی سے دیتے مگر نہیں کیونکہ پنجاب کی ترقی کا مقابلہ انکے بس کی بات ہی نہیں-
Syed Kousar Kazmi90,081 views • 1 month ago

میری اہلیہ بیمار میرے بچوں سے میری بات کروا دیں مگر جیلر کا محمد نواز شریف کو انکار اور تھوڑی دیر بعد وہی جیلر انہیں اہلیہ کی موت کی خبر دیتا ہے PTI ہمیں نہ سمجھائے مصائب کا مفہوم پوری قوم جانتی ہے IK کی ہدایات پر مرحومہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری میں PTI برطانیہ کے کارندے ہسپتال میں گھس جاتے تھے حسن نواز کے گھر کے دروازے پر حملہ کرتے تھے اور بیمار کی تیمارداری کو جانے والے گھر کے افراد کو گالیاں دی جاتیں- وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف ہوں یا PMLN کی تمام لیڈرشپ کسی نے یہ نہیں کہا کہ IK سے تمام سہولیات لےکر انکو اصل جیل دکھائیں گے-
Syed Kousar Kazmi30,836 views • 14 days ago

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ویژن پنجاب اور پانی دونوں محفوظ-
Syed Kousar Kazmi53,796 views • 1 month ago

موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج اور پنجاب کی منصوبہ بندی: شہری سیلاب کے مستقل خاتمے کی طرف تاریخی پیش رفت مون سون کے دوسرے اسپیل نے پنجاب کے متعدد اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں گوجرانوالہ میں صوبے کی سب سے زیادہ 250 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، سیالکوٹ میں 94، جہلم میں 81، لاہور اور گجرات میں 48، 48، منڈی بہاؤالدین اور اٹک میں 37، 37، نارووال میں 34 اور چکوال میں 26 ملی میٹر بارش ہوئی۔ محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے نے راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سیالکوٹ، ملتان اور فیصل آباد کو شہری سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ رکھا ہوا ہے۔ یہ محض موسمی تغیر نہیں۔ یہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کا وہ عملی مظہر ہے جس کا سامنا آج پوری دنیا کو ہے۔ کلاؤڈ برسٹ اور مختصر وقت میں غیر معمولی شدت کی بارش اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ پرانے شہری نکاسی آب کے نظام ایسی شدت کے لیے کبھی ڈیزائن ہی نہیں کیے گئے تھے۔ فوری ردعمل: ہفتوں کا کام گھنٹوں میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر پورے صوبے میں نکاسی آب کا آپریشن بارش تھمتے ہی شروع کر دیا گیا۔ اکتالیس اضلاع میں واسا کے قیام اور ایک ہزار سے زائد مشینری کی موجودگی نے شدید بارشوں کے باوجود بارشی پانی کی تیز رفتار نکاسی کو ممکن بنایا۔ لاہور کے لکشمی چوک، جہاں پانی کئی روز کھڑا رہتا تھا، صرف نوے منٹ میں صاف کر دیا گیا، جبکہ گجرات شہر سے بارشی پانی تین گھنٹوں میں نکال دیا گیا۔ گوجرانوالہ میں ریکارڈ 250 ملی میٹر بارش کے پانی کی نکاسی مکمل کی گئی۔ بہتر مشینری اور منظم منصوبہ بندی کے باعث بارشی پانی کی نکاسی کا دورانیہ ماضی کے اڑتالیس گھنٹوں سے کم ہو کر دو سے ڈھائی گھنٹے رہ گیا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے: "زخم لگنے کے بعد مرہم رکھنا کوئی کارنامہ نہیں، اصل حکمرانی زخم کو لگنے سے پہلے روکنے کا نام ہے۔" بنیادی حل: تاریخ کا سب سے بڑا شہری نکاسی آب پروگرام فوری ریلیف اپنی جگہ، مگر مستقل حل انفراسٹرکچر میں ہے۔ یہ وہ خلا تھا جسے ماضی میں مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی قیادت میں پہلی بار ایک لاکھ سے زائد آبادی والے 189 شہروں کے لیے جامع سیوریج، ڈرینج اور اسٹارم واٹر مینجمنٹ منصوبہ منظور کیا گیا۔ اس پر تین سو ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ منصوبے پر کام گزشتہ مالی سال میں شروع ہو چکا ہے اور آئندہ دو برسوں میں مزید دو سو ارب روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے، جس کے بعد اسٹارم واٹر ڈرینز اور نشیبی علاقوں میں پانی کھڑا ہونے کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا۔ منصوبے کے نمایاں اجزاء درج ذیل ہیں: چھ ہزار کلومیٹر سے زائد سیوریج لائنیں اور 189 کلومیٹر اسٹارم واٹر ڈرینز کی تعمیر تراسی ڈسپوزل اسٹیشنز کی تعمیر، اکسٹھ موجودہ ڈسپوزل اسٹیشنز کی بحالی اور چھپن نئے ڈسپوزل اسٹیشنز کا قیام پانی اور سیوریج کی فوری نکاسی کے لیے 358 زیرزمین اسٹوریج ٹینکس کا نیٹ ورک، جن میں شہروں کے لیے 34 بڑے زیرزمین اسٹوریج ٹینکس شامل ہیں ایچ ڈی پی پائپ لائنوں کی تنصیب، جن کی متوقع عمر ایک سو سال ہے صوبے بھر میں 328 ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کا قیام صاف پانی اور سیوریج کی لائنیں مناسب فاصلے پر الگ الگ بچھانا تاکہ آلودگی کا امکان ختم ہو 517 ارب روپے کے پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام نے صوبے میں متوازن ترقی کا نیا باب کھولا ہے۔ بارشوں میں ڈوبنے والے شہر جلد ماضی کا قصہ بن جائیں گے۔ موسمیاتی موافقت اور زیرزمین پانی کی بحالی یہ منصوبہ صرف پانی نکالنے کا نہیں، پانی بچانے کا بھی ہے۔ یہی موسمیاتی موافقت اور تخفیف کی حکمت عملی کا اصل جوہر ہے۔ زیرزمین اسٹوریج ٹینکس کے ساتھ ری چارج ویلز تعمیر کیے جا رہے ہیں تاکہ بارش کا پانی ضائع ہونے کے بجائے زیرزمین آبی ذخائر میں واپس جائے۔ صوبے بھر میں ایک ہزار ری چارج ویلز کی تعمیر کا منصوبہ ہے، جو شہروں کے ساتھ ساتھ زرعی رقبوں اور منتخب علاقوں میں بھی لگائے جا رہے ہیں۔ ذخیرہ شدہ بارشی پانی آبپاشی اور دیگر مقاصد کے لیے دوبارہ استعمال میں لایا جائے گا۔ اس اقدام کی ضرورت اعداد و شمار سے واضح ہے۔ لاہور کا واٹر ٹیبل سالانہ چار فٹ تک نیچے جا رہا ہے، گلبرگ میں پانی کی گہرائی 125 فٹ سے بڑھ کر 300 فٹ سے زائد ہو چکی ہے، اور بعض علاقوں میں پینے کا پانی 800 فٹ کی گہرائی پر ملتا ہے۔ بارش کا پانی نالوں میں بہا دینا اب عیاشی نہیں، نقصان ہے۔ ادارہ جاتی تیاری پنجاب کلائمیٹ اینڈ ڈیزاسٹر ریزیلینس پلان 2026 کے تحت وفاق اور پنجاب کے درمیان شدید موسمی واقعات کی پیشگی وارننگ اور کم از کم چھ گھنٹے قبل باہمی رابطے پر اتفاق ہوا ہے۔ مون سون سے قبل صوبے بھر میں نالوں اور آبی گزرگاہوں کی بڑے پیمانے پر صفائی مکمل کی جا چکی ہے، جبکہ سیف سٹی کیمروں کے ذریعے نکاسی آب کی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری
Syed Kousar Kazmi48,632 views • 1 month ago

اب سوال یہ ہے آپ کا بچہ اب بھی پرائیویٹ اسکول میں ہے؟جہاں کبھی سرکاری اسکول خالی نظر آتے تھے، آج وہاں داخلوں کی قطاریں ہیں۔ صرف دو سال چار ماہ میں 40 لاکھ 30 ہزار بچوں کے داخلے کا ہدف حاصل ہونا اس تبدیلی کی بڑی مثال قرار دیا جا رہا ہے۔اب صرف اجلاس نہیں، وزیرِ تعلیم خود بھی ہر ہفتے ایک سرکاری اسکول میں جا کر بچوں کو پڑھائیں گے، جبکہ افسران بھی گلی گلی اور محلہ محلہ اسکولوں کی نگرانی کریں گے۔
Syed Kousar Kazmi51,638 views • 1 month ago

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ بیواؤں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی کفالت بہترین نیکیوں میں سے ہے۔ اسی جذبے کے تحت پنجاب حکومت کی جانب سے بیوہ اور نادار طلاق یافتہ خواتین کو گائے اور بھینسیں فراہم کی جا رہی ہیں، تاکہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے باعزت روزگار حاصل کریں، اپنے گھر کا خرچ چلائیں اور اپنے بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت یقینی بنا سکیں۔ مدد کا بہترین طریقہ صرف امداد نہیں، بلکہ کسی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے۔
Syed Kousar Kazmi50,660 views • 1 month ago

جوش خطابت میں گریبان نہیں پکڑنا چاہیے کہ رات کو پاؤں پکڑنے پڑیں - شدید بارشوں میں اگر پنجاب ڈوبا تو ہمارے تمام محکمے متحرک ہوئے اور 2 گھنٹوں میں نکاسی آپ کو ممکن بنایا - بسوں پر بولنے والی PPP کی کشمیر میں قائم حکومت نے الیکشن اناؤنس ہونے کے بعد وہاں بجلی اور سڑکوں کے منصوبوں کا باقاعدہ افتتاح کیا تو کیا وہ پری پول رگنگ نہیں تھی ؟
Syed Kousar Kazmi32,035 views • 1 month ago