
اردو ورثہ
@UrduVirsa • 467,775 subscribers
اخوّت کا بیاں ہو جا، محبّت کی زباں ہو جا♥️ اردو سے پیار کرنے والوں کیلئے اردو شاعری، اقوالِ زریں، تحریریں، ناول اقتباس کا خوبصورت انتخاب Admin @MaharJamshaid
Shorts
Videos

حُسن کو سمجھنے کو عُمر چاہیے ، جاناں! دو گھڑی کی چاہت میں لڑکیاں نہیں کھُلتیں پروین شاکر
اردو ورثہ17,427 просмотров • 5 дней назад

وہ ایک دن ہمیں دیوانہ وار ڈھونڈے گا ... اسے کہو کہ ابھی ہیں تو آس پاس رہے ... فریحہ نقوی
اردو ورثہ16,245 просмотров • 6 дней назад

حضرت قمر جلالوی کی یہ نعت بڑے بڑے نعت خوانوں نے پڑھی ہے لیکن اس نابینا بچے کو سن کر محسوس ہوتا ہے جیسے کہ آواز میری ہی روح سے نکل رہی ہو۔ ایک بار ضرور سنیں.... نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سکون پایا ہے بیکسی نے، حدودِ غم سے نکل گیا ہوں خیالِ حضرتﷺ جب آ گیا ہے، تو گرتے گرتے سنبھل گیا ہوں کبھی میں صبحِ ازل گیا ہوں، کبھی میں شامِ ابد گیا ہوں تلاشِ جاناںﷺ میں کتنی منزل، خدا ہی جانے نکل گیا ہوں حرم کی تپتی ہوئی زمیں پر، جگر بچھانے کی آرزو تھی بہارِ خلدِ بریں ملی تو ، بچا کے دامن نکل گیا ہوں مرے جنازے پہ رونے والو، فریب میں ہو بغور دیکھو مرا نہیں ہوں غمِ نبیﷺ میں، لباسِ ہستی بدل گیا ہوں یہ شان میری یہ میری قسمت، خوشا مَحَبّت زہے عقیدت زباں پہ آتے ہی نامِ نامیﷺ، ادب کے سانچے میں ڈھل گیا ہوں بفیضِ حسّان ابنِ ثابت ، برنگِ نعتِ نبیِ اکرمﷺ قمر ؔ میں شعر و سخن کی لے میں،ادب کے موتی اگل گیا ہوں قمر ؔجلالوی
اردو ورثہ43,328 просмотров • 19 дней назад

کسی کالج یا یونیورسٹی کے فرصت کے لمحات میں ایک بہت اچھے مُوڈ میں گائی گئی فیض کی لازوال نَظم۔ اگر اقبال بانو سنتیں تو شاید اس لڑکی کے ماتھے پر بوسہ دیتیں، گذشتہ دس سالوں کے دوران اس لڑکی کی آواز میں یہ نظم بیس پچیس دفعہ تو ضرور سنی ہوگی اور یقین کیجئے ہر بار پہلے سے زیادہ لطف آیا، آپ بھی لطف اٹھائیے ❞شُعلہ سا لپک جائے ہے، آواز تو دیکھو❝ دَشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لَرزاں ہیں تیری آواز کے سائے تیرے ہونٹوں کے سَراب دَشتِ تنہائی میں دُوری کے خس و خاک تلے کِھل رہے ہیں تیرے پہلو کے سَمن٫ اور گلاب اُٹھ رہی ہے ٫ کہیں قُربت سے تیری سانس کی آنچ اپنی خُوشبو میں ٫ سُلگتی ہوئی مَدھم مَدھم دُور اُفق پار چَمکتی ہوئی قطرہ قطرہ گِر رہی ہے تیری دِلدار نَظر کی شبنم اِس قدر پیار سے اے جانِ جہاں رکھا ہے دِل کے رُخسار پہ اِس وقت تیری یاد نے ہاتھ یُوں گماں ہوتا ہے گرچہ ھے ابھی صُبحِ فِراق ڈَھل گیا ہجر کا دن آ بھی گئی وَصل کی رات دَشتِ تنہائی میں اے جانِ جہاں لَرزاں ہیں تیری آواز کے سائے تیرے ہونٹوں کے سَراب (فیض احمّد فیض)
اردو ورثہ50,265 просмотров • 26 дней назад

امرتا پریتم کی آواز میں انکی مشہور نظم جو بٹوارے پر وارث شاہ کو مخاطب کر کے لکھی تھی،۔ امرتا پریتم کی آواز میں سنیں۔ ( 31 اگست 1919ء گوجرانوالہ- 31 اکتوبر 2005ء دہلی) اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بول تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول اک روئی سی دھی پنجاب دی تُوں ِلکھ ِلکھ مارے وین اج لکھاں دھیاں روندیاں تینوں وارث شاہ نوں کہن اُٹھ دردمنداں دیاں دردیا اُٹھ تک اپنا پنجاب اج بیلے لاشاں ِوچھیاں تے لہو دی بھری چناب کسے نے پنجاں پانیاں وچ دِتی زہر رلا تے انہاں پانیاں نے دھرت نُوں دِتا پانی لا ایس زرخیز زمین تے لُوں لُوں پُھٹیاں زہر گٹھ گٹھ چڑھیاں لالیاں پُھٹ پُھٹ چڑھیا قہر ویہو ولسّی وا فیر وَن وَن وگی جھگ اوہنے ہر اِک وانس دی انجھلی دِتی ناگ بنا ناگاں کِیلے لوک مُونہہ بَس فیر ڈنگ ہی ڈنگ پل او پل ای پنجاب دے نیلے پے گے انگ وے گلے اوں ٹُٹے گیت فیر، ترکلے اوں ٹُٹی تند ترنجنوں ٹُٹیاں سہیلیاں چرکھڑے کُوکر بند سنے سیج دے بیڑیاں لُڈن دِتیاں روڑھ سنے ڈالیاں پینگ اج پپلاں دِتی توڑ جتھے وجدی سی پُھوک پیار دی اوہ انجھلی گئی گواچ رانجھے دے سب وِیر اج بُھل گئے اوہدی جاچ دھرتی تے لہُو وسیا قبراں پیاں چوون پرِیت دِیاں شاہ زادیاں اج وِچ مزاراں روون وے اج سبھے کیدو بن گئے ، حُسن عشق دے چور اج کتھوں لیائیے لبھ کے وارث شاہ اِک ہور اَج آکھاں وارث شاہ نُوں کتھوں قبراں وچوں بول تے اج کتاب عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول شکریہ اسلم ملک
اردو ورثہ16,632 просмотров • 11 дней назад

کل رات جو ایندھن کے لیے کٹ کے گرا ہے چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے پروین شاکر افسوس یہ ہے کہ ہم نئے درخت لگانے میں سستی کرتے ہیں اور پرانے، برسوں میں پروان چڑھنے والے درخت لمحوں میں کاٹ دیتے ہیں۔ نجانے کتنے پرندے بے گھر ہوئے، کتنے انسان اور جانور سائے سے محروم ہوئے، اور فطرت ایک بار پھر خاموشی سے زخمی ہو گئی۔ 😥
اردو ورثہ90,302 просмотров • 3 месяцев назад

نہ جانے کتنی بار ایک دوسرے کو معاف کیا ہو گا، کتنی بار خود کو بھلا کر ساتھ نبھایا ہوگا، کتنی دعاؤں اور خدمتوں سے یہ رشتہ یہاں تک پہنچا ہو گا۔ محبت اگر دیکھنی ہو تو لفظوں میں نہیں، ایسے جھریوں بھرے چہروں میں دیکھو جہاں آج بھی ایک لقمہ کھلانے میں پوری زندگی کی وفا جھلکتی ہے ❤️
اردو ورثہ83,988 просмотров • 3 месяцев назад

حضرت امام حسینؓ کی شان میں میرے انیسؔ کا یہ بے مثال کلام ♥️ اردو کے عظیم مرثیہ نگار میر انیسؔ کا نہایت خوبصورت مرثیہ، جس میں مولا امام حسینؓ کی آنکھوں کے حسین اور نورانی عظمت کو انتہائی دلنشیں انداز میں بیان کیا گیا ہے.... اس لازوال کلام کو علامہ ضمیر نقویؒ نے اپنے انداز میں پیش کیا ہے... آنکھوں کو کہئے عین تو عینِ خطا ہے یہ پردے نہ کیوں ہوں سات کہ نورِ خدا ہے یہ سب کو ہے چشمِ داشت کہ عینِ عطا ہے یہ بیمار خود پہ سب کے مرض کی دوا ہے یہ سرخوش ہے جام ان کی جو اُلفت کا پی گیا دیکھا نگاہِ لطف سے جس کو وہ جی گیا احسان بھی، حیا بھی، مروّت بھی، قہر بھی خود موت بھی، حیات بھی، امرت بھی، زہر بھی بینا بھی، نکتہ سنج بھی، دانائے دہر بھی تسنیم بھی، بہشت بھی، کوثر کی نہر بھی سر شرم سے جھکائے ہے نرگس ریاض میں جنت سواد میں یدِ بیضا بیاض میں آہو شکار و تیر و کماں دار و شیر گیر ہشیار و خوش نگاہ و سخن سنج و دل پذیر خوں ریز و جاں فریب و دلآویز و بے نظیر قبضے میں ابرؤں کی کمانیں مژہ کے تیر جس سادہ دل کو ان کی سیاہی کی یاد ہو ناخواندہ بھی اگر ہو تو روشن سواد ہو ذرّہ نواز و زہد نما صاحبِ امتیاز طنّاز و شرمگیں و گراں خواب و سرفراز حق بین و پاکباز و خدا بین و بے نیاز بیداد و داغ دیدہ و خونبار و غم طراز گرد اِس کے پھر یہ کعبئہِ ایماں کا طوف ہے بس ائے انیسؔ بس نظرِ بد کا خوف ہے میر انیس
اردو ورثہ14,913 просмотров • 13 дней назад

تیری شرطوں پہ ہی کرنا ہے اگر تجھ کو قبول یہ سہولت تو مجھے سارا جہاں دیتا ہے اظہر فراغ
اردو ورثہ20,683 просмотров • 21 дней назад

نعت رسول مقبول ﷺ ساری صدیوں پہ جو بھاری ہے، وہ لمحہ ملتا کاش سرکارِ دو عالم ﷺ کا زمانہ ملتا آپ ﷺ کو دیکھتا، مکے سے میں ہجرت کرتے آپ ﷺ کا نقشِ قدم، آپ ﷺ کا رستہ ملتا آپ ﷺ کو دیکھتا طائف میں دعائیں دیتے یوں مرے صبر و تحمل کو سلیقہ ملتا آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیتا میں سب کچھ لا کر نصرتِ دین کے لیے جب بھی اشارہ ملتا اپنا گھر بار لٹا دیتا تو اس کے بدلے حبِ سرکارِ مدینہ ﷺ کا خزانہ ملتا آپ ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو کے نمازیں پڑھتا آپ ﷺ کے قدموں کے پیچھے مجھے سجدہ ملتا بھول جاتا میں کسی طاق میں آنکھیں رکھ کر آپ ﷺ کو دیکھتے رہنے کا بہانہ ملتا آپ ﷺ کی طرح بٹھاتا میں اسے شانوں پر راہ میں آپ ﷺ کا جب کوئی نواسا ملتا حشر تک میری غلامی یوں ہی قائم رہتی میری ہر نسل کو فخریؔ یہی ورثہ ملتا زاہد فخری
اردو ورثہ16,240 просмотров • 16 дней назад

زندگی کے پرچے کے سب سوال لازم ہیں سب سوال مشکل ہیں.... امجد اسلام امجد
اردو ورثہ17,155 просмотров • 19 дней назад

ہم کہ دکھ اوڑھ کر خلوت میں پڑے رہتے ہیں ہم نے بازار میں زخموں کی نمائش نہیں کی احمد فراز
اردو ورثہ14,442 просмотров • 20 дней назад

محسن نقوی کا بہت ہی خوبصورت بےمثال پیارا نعتیہ کلام... جناب قاضی مطیع اللہ کی زبان سے ♥️ ایک بار ضرور سنیں...
اردو ورثہ11,836 просмотров • 16 дней назад

اِس ڈر سے کہ کٹ جائیں نہ بِینائی کے ریشے آنکھوں نے تیری راہ سے ہٹ کر نہیں دیکھا فرحت عباس شاہ
اردو ورثہ12,319 просмотров • 18 дней назад