
Dr Waqas Nawaz
@WaqasnawazMD • 43,529 subscribers
Assistant ProfessorGastroenterology#activist#Philanthropist#writer “قلم کی جسارت کالم سیریز #VicePresident CAPA #Voice of the Voiceless #words can bring CHANGE
Shorts
Videos

کسی کو سزا کسی کو جزا ( جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے) ملک میں کچھ بھی ہوجاے پاکستانی پولیس نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا - کسی بھی معاملے میں جو کرنا چاہیے ' اس کے بالکل متضاد اور برعکس کرکے ہمیشہ میری امید پر یہ لوگ پورا اترے ہیں - ان کو کیوں لگتا ہے کہ لوگ ان سے نرم دل ' میٹھا میٹھا یا حاتم طائ ہونا آئیکسپیکٹ کرتے ہیں - ہر گز نہیں - لوگ ان سے بس قانون کی عمل داری کرنا اور پروفیشنل ہونا ایکسپکٹ کرتے ہیں اور الحمد للہ یہ ہر موقع پر انتہائی غیر پروفیشنل' بے قانون اور غیر ذمے دار ثابت ہوتے ہیں - عورت کو بس ایک عورت اہلکار ہی ہاتھ لگاے -- لیکن نہیں - وہاں ان کے مرد اہلکار عورتوں کے گریبان پر ہاتھ ڈالتے بھی دیکھے گیے ہیں - ایک سرکاری افسر ہوتے ہویے ان کو عوام کا خادم ہونا ہوتا ہے - وہاں ان کے آئ جی پھولوں والی بگھیوں پر برطانوی راج والے پروٹوکول میں اسلام آباد کی سڑکوں پر مٹر گشت کرتے بھی دیکھے گیے ہیں - اور اب آج یہ نمونہ - ایک نوجوان جو بغیر ڈرائیور کے گاڑی کا تجربہ بغیر کسی لائسینس ' کسی انجنیرنگ اتھارٹی اپروول کے اسلام آباد کی ہائی وے پر کر رہا تھا ' اور ساتھ کیمرہ مین کو انٹرویو بھی دے رہا تھا ' اس نے پولیس کی گاڑی میں ٹکر دے ماری تو پولیس محض یہاں ویوز اور عوامی داد سمیٹنے کیلئے ایک انتہائی غفلت والے اقدام کو سراہ رہی ہے اور جگہ جگہ میمز بن رہی ہیں - یہ مذاق ہے ؟ ابھی تین دن پہلے اس ملک میں ایک حادثہ ہوا ہے جہاں ایک ہسپتال میں چودہ ننھے بچے جل کر دنیا سے چلے گیے ہیں ' اس کے بعد اس طرح کے بھیانک مذاق ؟ چلیں یہ تو پولیس تھی - یہی کسی کا بچہ اس نے نیچے دے دیا ہوتا - اپنے ویوز کے چکر میں کسی موٹر سائکل کو کچل دیا ہوتا - کسی ویل چیئر یا فٹ پاتھ پرچڑھ جاتا ' یا کسی کو ساری عمر کیلئے معذور کردیا ہوتا ' تو تب بھی پولیس کا یہی رسپانس ہوتا ؟ اگر جواب "نہیں " میں ہے تو اب یہ والا رسپانس کوئی بہت بردباری نہیں بلکہ انتہائی غیر پروفیشنل رویہ ہے - یہاں کوئی بھی مہذب ملک ہوتا تو اس آدمی کو جرمانہ کرکے اس کے ڈراوئنگ لائسنس کینسل کرکے اس کو حوالات میں رکھتا - کیا آ پ کو معلوم ہے کہ کسی بھی ملک میں شراب پی کر ڈرائیونگ کرنا انتہائی بڑا جرم سمجھا جاتا ہے اور ڈرائیور کا لائسنس معطل کرکے اس پر فوجداری مقدمہ چلایا جاتا ہے وہ اس لئے کہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ شراب پی کر ڈرائیور سیٹ پر ہوتے ہویے بھی دماغی طور پر کار کی سیٹ پر نہیں ہوتا - اور یہاں تو ڈرائیور دماغی طور پر نہیں ' جسمانی طور پر سیٹ سے ہی غائب ہے - اس پر یہ واہ واہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا کوئی بھی شعبہ پروفیشنل نہی ہے - کیا پولیس والے نے چیک کیا کہ اس معاملے میں قانون کی کہتا ہے ؟ پاکستان پینل کوڈکیا کہتا ہے ؟ یہ کبھی سزا دے دینا اور کبھی معاف کردینا کسی پولیس والے کی بساط اور اختیار کب سے ہوگیا ؟ یہ ملک ہے یا ان کا تھانہ ہے کہ کسی کو چھتر چڑھا دیے کسی کو ہار پہنا دیے - جہاں تک اس سٹوڈنٹ کی بات ہے تو اس کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آپ نے اگر ایسا تجربہ کرنا بھی ہے تو اس کا پروٹوکول ہے - آپ کسی آتھینٹک کمپنی سے گاڑی چیک کرواتے ہیں ' اس کے بعد اس گاڑی کے بنانے والے کی اہلیت اور کریڈنشل چیک کراتے ہیں اس کے بعد ایسا تجربہ کسی ایسی جگہ کرتے ہیں جہاں عوام یا ٹریفک نہ ہو - اگر اس طرح کے عمل پر شاباش ملنے لگی تو کل کو کوئی انجن لگا کا جہاز بنا کر چھت سے چھلانگ لگا دیگا اور کسی راہ چلتے پر ٹرانسفارمر جیسا انجن گرادیگا - اسی اصول کے مطابق ون ویلنگ کرنے والے سارے من چلوں کو ایوارڈ دینا چاہیے کہ یہ بھی ٹیلنٹ ہے - خدا کیلئے - کبھی تو ہمیں بھی غلط ثابت کریں - کوئی کام ویسے بھی کیا کریں جیسا قانون کی کتاب میں لکھا ہوتا ہے - آپ کو سوشل میڈیا پر حاتم طائ بننے کی تنخواہ نہی دی جاتی ' قانون پر عملداری کی تنخواہ ملتی ہے جس کا آپ کے عمل سے دور دور کا بھی تعلق نہی ہے - خرد کا نام جنوں پڑ گیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے قلم کی جسارت وقاص نواز ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Hamid Mir حامد میر Imran Riaz Khan Islamabad Police
Dr Waqas Nawaz28,564 次观看 • 2 天前

"میرا یار زندہ ' صحبت باقی" (تحریک انصاف کے مایوس سپورٹرز کو یہ کالم پورا پڑھنا چاہیے ) کل کے ہسپتال ٹرانسفر ساگا میں مجھے کچھ ایسا نہی نظر آتا جس سے تحریک انصاف کے لوگوں کا مایوس ہونا چاہیے- میں اپنی بات کی وضاحت کر دیتا ہوں : کل کے حکومتی ڈرامے کے دوران عمران خان کی ایک بہن کی ان سے ملاقات اور آج ان کی پریس کانفرنس سے جو میرے لئے سب سے تسلی بخش بات ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان حیات ہیں - ان کی صحت الحمد الله ٹھیک ہے - سیاست اور حکومت گئی تیل لینے ' میرے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ عمران خان جن کو نو ماہ سے کسی نے دیکھا بھی نہی تھا ؛ وہ جسمانی طور پر ویسے نہی تھے جیسے بہت سے یوٹیوبرز ان کو بنا کر پیش کر رہے تھے - میرا یار زندہ ' صحبت باقی - اب آتے ہیں اس کے دوسرے پہلو کی طرف - بلاشبہ یہ ٹوپی ڈرامہ کرکے حکومت نے ووہی کیا جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی - میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت کا گریس ' ظرف اور آئین کی پاسداری سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا جواد احمد کا شائستگی سے ، خواجہ آصف کا امور وزارت دفاع سے— چاہت فتح علی کا سروں اور ساز سے -- ہماری عدالتوں کا انصاف سے— اور ہماری اسٹبلشمنٹ اور فوج کا اپنے حلف سے ہے- کل بھی انہوں نے ووہی کیا جیسے کسی محلے کے کن ٹٹے ' نومی ' پومی ' شادا' مادہ یا اچھو ' کرتے ہیں - یعنی جھوٹ ' دھوکہ ' فریب ' اور وہ بھی محض سپریم کورٹ نہیں بلکہ سو سے زیادہ لوکل چینلز ' انٹرنیشنل میڈیا' شفا کے ڈاکٹروں سمیت پچیس کروڑ اس عوام کے ساتھ جو بیچاری وہاں راستوں میں پھول بچھا رہی تھی یا بیرون ملک سے میری طرح پھول بھجوا رہی تھی - لیکن اس معصومیت اور سادگی پر پاکستان کے عوام کو اپنے آپ کو بالکل بھی بدھو اور "naive" نہیں سمجھنا چاہیے کیوں کہ جو بھی ہوجاے سادگی اور معصومیت کبھی بدمعاشی کا نعم البدل نہیں ہوسکتی - اس سارے ڈرامے میں مجھے جو روشنی کی پہلو نظرآتے ہیں وہ یہ ہیں : 1 . سب سے بڑھ کر خان حیات ہے - الحمد لللہ - جسمانی طور پر ابھی بھی اتنا توانا ہے کہ ان کی بینڈ بجا سکتا ہے - 2 . شفا شپتال کی جگہ پمز بھیجنے کی یہ بچگانہ حرکت کرکے اور ڈاکٹر فیصل کو شفا بھیج کر خان کو چیک کرنے والے ڈاکٹروں میں ان کو نہ شامل کرکے حکومت نے کھلم کھلا سپریم کورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی کرکے کم سے کم اپنے خلاف "توہین عدالت " فائل کرنے کا فورم ضرور مہیا کردیا ہے - 3 . ایک ہی رات میں عمران خان کی جیل واپسی نے غریده فاروقی جیسے بہت سے ان "دانش وڑوں" کے اس بیانیے کو بھی دفن کردیا ہے کہ عمران خان کسی "ڈھیل یا ڈیل" کے چکر میں ہیں - ساتھ میں رائٹرز (Reuters ) کو دیے گیے زلفی بخاری کے بیان کو بھی کلئیر کردیا ہے جس کو توڑ مروڑ کر حکومتی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ "خان اب باہر آئیگا تو آرمی چیف پر تنقید نہی کریگا " یعنی یہ سب کسی ڈیل کا نتیجہ ہے - 4. پاکستان کے عوام کا یوں کھلم کھلا مذاق اڑا کر اس حکومت نے اپنے خلاف اس نفرت کو مزید تڑکا لگادیا ہے جو پہلے ہی بام عروج پر تھی - لوگوں کو اس بات کا اور بھی یقین ہوگیا ہے کہ یہ صبح جھوٹ بولتے ہیں ' دوپہر میں کوڑ بکتے ہیں اور شام کو بھی بکواس ہی کرتے ہیں - ان میں نہ اخلاق ہے نہ احساس اور نہ آئین کی پاسداری - مجھے لگتا ہے یہ غصہ اگلے مہینے ہونے والے ستمبر 27 کے احتجاج کو نئی زندگی دیگا - 5 . اس حرکت کے بعد لوکل اور انٹرنیشنل میڈیا میں مسلم لیگ کے اس موقف کے بھی پرخچے اڑ گیے ہیں کہ ہم صحت پر سیاست نہی کرتے - ہر جگہ ایک ہی سوال ہے کہ جب بقول خود ان کے تحریک انصاف حکومت کی سفارش پر نواز شریف جیل سے لندن علاج کیلئے گیے تھے ' تو اپنی دفعہ جب یہ عمران خان کو جیل سے باہر لے ہی آیے تھے تو ایسا کیا تھا کہ پرائیویٹ ہسپتال کی جگہ سرکاری ہسپتال لے کر گیے - ایسا کیا ہے جس کو چھپانا چاہتے ہیں اور ایسا کیا ہے جس کی انویسٹیگیشن سے ان کو ڈر لگتا ہے کہ اس کو چھپانے کیلئے عدالت سے بھی متھا لگالیا اور عوام سے بھی کھلے کھاے- 6 - اس دھوکے کی وجہ سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن اتحاد بننے کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے اور یہ ایک مہینے بعد ہونے والے احتجاج کیلئے مثبت ثابت ہوگا - یہ سب پوائنٹس تحریک انصاف کے حق میں جاتے ہیں - عمران خان شفا ہسپتال میں آ بھی جاتے وہاں بھی کچھ دن بعد وہ خود واپس جانے کی طرف مائل ہوتے کہ وہاں ان کی اہلیہ بیمار ہیں اور وہ کبھی بھی ان کو یوں اکیلا نہ چھوڑتے - ہاں یہ ضرور ہے کہ اس ایک ہفتے میں ان کا کارڈیک ورک اپ ضرور ہوجاتا جو اب نہیں ہوا - پر یہ بھی ایک نکتہ ہے جو عدالتوں کے سامنے اور اگلے ماہ سڑکوں پر اٹھایا جاسکتا ہے - سو میں مطمئن ہوں کہ کچھ بھی ایسا نہیں ہوا جس سے عمران خان یا تحریک انصاف کو نقصان ہوا ہو - ہاں البتہ اس نظام کے "نومی ' اچھو ' اور ان کے پیچھے بیٹھے شادے اور گامے " اور بھی ننگے ہوگیے ہیں جو ایسا موقع ڈھونڈتے ہیں جہاں اپنے منہ پر کالک مل سکیں اور پھر اتنی کالک ملتے ہیں اتنا گوبر لیپتے ہیں کہ بدبو کے بھبھوکے آنے لگتے ہیں اور اس کے بعد فخر سے دلیل دے کر کہتے ہیں کہ گوبر میں نیچرل توانائی ہوتی ہے اسی لیے تو اس سے ایندھن جلتا ہے - مایوس نہ ہوں اور عمران خان کا یہ کلپ سنیں جو ان کی مظبوط شخصیت اور فولادی عزم کی ترجمان ہے -- کیوں کہ میرا یار زندہ - صحبت باقی - قلم کی جسارت وقاص نواز -------------------------------------------------- Mir Mohammad Alikhan Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Maryam Riaz Wattoo Sabee Kazmi Jibran Ilyas
Dr Waqas Nawaz34,965 次观看 • 13 天前

عزم مصمم کا راز (عمران خان سے ایک میٹنگ کی کہانی ) عمران خان صاحب کی گرفتاری سے پانچ ماہ قبل مارچ 2023 میں مجھے ایک زووم میٹنگ میں ان سے براہ راست بات کرنے کا موقع ملا. جس میں نے یہ پوچھا کہ مجھے کوئی نسخہ بتائیں کہ جب میں ستر سال کو پہنچوں تو اتنا ہی مظبوط اور مقصد پر ڈٹے رہنے والا ہوں اور تھکوں نہ - اس پر انہوں نے جو جواب دیا وہ میں یہاں لگا رہا ہوں - بلاشبہ ان کے الفاظ میں جو عزم اور ان کی مستقل مزاجی تھی انہوں نے ان سالوں میں اپنے عمل سے ثابت کی - (میں نے ان کو عمران بھائی کہ کر بلایا تھا اور میں آج تک حیران ہوں کہ میں نے خان صاحب کیوں نہیں کہا تھا - پر ان کو دیکھ کر سگے بڑے بھائی والی فیلنگ ہی آئ تھی ' سو کہ دیا ) ------------------------------------------------------ Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Jibran Ilyas Sabir Shakir Sabee Kazmi Maryam Riaz Wattoo
Dr Waqas Nawaz32,382 次观看 • 14 天前

"اس حمام میں سب ننگے ہیں " آج اسلام آباد میں یونیورسٹی میں جو ہوا اس پر سب سے زیادہ تشویشناک بات نہ فوجی کا گولی چلانا ہے نہ طلباء کا کسی خاتون پر آواز لگانا یا فوجی کی پھینٹی لگانا ہے - ان دونوں باتوں سے زیادہ تشویشناک بات صحافیوں اور سوشل میڈیا پر فریقین کے سپورٹرز کے دلائل ہیں جو اس قدر متعصب اور جذباتی ہیں کہ ان کے درمیان سات سمندروں کا فاصلہ ہے - ایک طرف ایک گروپ کے دلائل میں اس واقعہ سے زیادہ وہ حالات نظر آتے ہیں جن کا اس ملک کو پچھلے کئی سال سے سامنا ہے تو دوسری طرف کے گروپ کے دلائل میں خوشامد اور "غیرت " کا وہ منجن نظر آتا ہے جس کے مطابق آرمی جو بھی کرتی ہے "قوم کے وسیع تر مفاد میں کرتی ہے " اور ایسا کرنا "غیرت کی نشانی " تھا -- یوں یہ یونیورسٹی کا یہ جھگڑا اس ملک میں سویلین اور عسکری اداروں کی لڑائی معلوم ہونے لگتی ہے - چلیں اس ب دلائل کا پوسٹمارٹم کرتے ہیں - کرنل صاحب کے حق میں دلائل دینے والے بہت سے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک یہ دلیل ہے کہ "کسی کی بھی بیوی کو جب ایک گروہ تنگ کریگا تو اس کی غیرت کا تقاضہ ہے کہ پھر وہ ایسا ہی کرے جیسا کرنل صاحب نے کیا " - ایسے ہی لوگوں کے ایسے غیرت والے "بے غیرت " قسم کے دلائل کی وجہ سے اس ملک سے "غیرت پر قتل " کا رواج آج تک قائم ہے کیوں کہ کوئی بھی غیر قانونی کام کرتے ہویے ان کی بھی یہی دلیل ہوتی ہے - غیرت کے علمبردار ان لوگوں سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ مئی 2023 کو ایک لڑکی طیبہ راجہ Tayyaba Rajah🇵🇰 کے بال ایک رینجرز نے کیمروں کے سامنے کھینچے تھے اور اسکو گھسیٹتا ہوا سڑک کے ایک طرف لے گیا تھا -پورے پاکستان نے یہ منظر دیکھا تھا - وہاں اگر طیبہ کا باپ یا بھائی اس رینجر پر پستول تان لیتا یا ہوائی فائر مارتا تو اس کو بھی یونہی غیرت مند کا ٹائٹل ملتا ؟ ہر گز نہیں - اس کو دہشت گرد کہ کر اس پر انسدادی دہشت گردی کا مقدمہ چلتا' اس کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوتا اور اس کے بعد کوئی اس کی شکل نہ دیکھ پاتا - تو اگر غیرت بس فوجی کی بیوی یا بیٹی کی دفعہ ہی جاگتی ہے تو ایسے دلائل دینے والوں میں خود غیرت کا فقدان ہے جس کیلئے ان کو غیرت کے ٹیکے لگوانے چاہیے - ایک اور مثال دیتا ہوں - نومبر 2024 میں اسی اسلام آباد میں کنٹینر پر ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا - اس کو بغیر کسی دست درازی کے رینجرز نے اٹھا کر 25 فٹ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا تھا - اس کو دیکھ کر اگر وہاں موجود مجمع "اسلامی غیرت " کے تحت ان رینجرز پر حملہ کر دیتا تو کیا آج بھی ان درباریوں اور حواریوں کی یہی دلیل ہوتی ؟ ہر گز نہی - تب ان لوگوں کو "آتنک وادی " اور "را کا ایجنٹ " کہا جاتا اور اس کے بعد وہ لاپتہ ہوجاتے - سو یہ کیسی غیرت ہے کہ جو بس صاحب اختیار کی ہو تو " مرد کی غیرت" ' اور کمزور کی ہو تو "مال غنیمت " - اس غیرت والے منجن کی دلیل دے کر یہ لوگ مستقبل میں اس بات کی رواج پیدا کردینگے کہ جس کی بھی بہن پر کوئی ہوٹنگ کرے ؛ وہ کالج میں ڈسپلن کمیٹی کے پاس جانے کی بجاے بندوق لے کر ہوائی فائرنگ شروع کردے - ان خاتون کو بھی وہاں کھڑی پولیس سے بات کرنا چاہیے تھی '- وہ ایک ڈاکٹر تھی ' پروفیسر تھیں - پروفیشنل تھیں - ان طلباء کے خلاف یونیورسٹی کی ڈسپلن کمیٹی بلانی چاہیے تھی پر انہوں نے بھی سیدھا ٹرپل ون بریگیڈ کو بلانا مناسب سمجھا جو ان کے اندر موجود اس احساس کا ترجمان ہے کہ "میرا شوہر کرنل ہے " - یونیورسٹی میں وردی پہن کر آنا غلط نہیں ' ایسا ہوسکتا ہے وہ کام پر جارہے ہوں اور وہاں سے آگیے ہوں - غلط اس وردی کا رعب جھاڑنا ہے اور اس کے زعم میں ہوائی فائر کرنا ہے جو سرحد پر زیادہ اچھے لگتے ہیں ' سویلین پر نہیں - ہر سڑک "ڈی چوک " اسلام آباد نہی ہوتی نہ ہر تاریخ نو مئی یا 26 نومبر ہوتی ہے - عادتیں بدلیں ؛ کہ اب لوگ بدلتے جارہے ہیں - اس پورے واقعہ کا ایک اور پہلو وہاں موجود پولیس کی اس فوجی کو روکنے اور بندوق چھیننے میں ہچکچاہٹ بھی ہے کیوں کہ اس ملک کا ماحول ہی ایسا ہے کہ کوئی بھی وردی والوں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی قانون کیوں نہ توڑے - وہ کوئی سیاست دان ہو ؛ یا جج ہو یا صحافی ہو یا پولیس والا - قانون توڑنے والے اس ہاتھ کو روکنے سے ڈرتا ہے کیوں کہ ان کو بعد میں اپنے انجام سے ڈرلگتا ہے - مجھے یقین ہے وہاں کھڑے ان پولیس والوں کو بہاولنگر میں آرمی کے ہاتھوں پولیس والوں کی ٹھکائی ضرور یاد آتی رہی ہوگی - دوسری طرف یہ بھی ٹھیک نہیں ہوا کہ پورا مجمع ایک عورت اور ایک پروفیسر پر جملے بازی کرے - احتجاج کی حد تک ٹھیک تھا ' زبان درازی اگر ہوئی تو اس کی توجیح ہر گز نہیں دی جاسکتی اور ایسے سٹوڈنٹس کے خلاف بھی ڈسپلن کمیٹی کی کاروائی اور سسپینشن بنتی تھی - اگر ان سٹوڈنٹس نے بھی اس عورت کو محض اس لیے ہوٹنگ کا نشانہ بنایا کہ وہ ایک آرمی کے کرنل کی بیوی تھی تو یہ بھی انتہائی پست ذہنیت کی عکاسی ہے - سٹوڈنٹس کو اپنے غصے اور جذبات میں اس وقت کے واقعات کو حاوی رکھنا چاہیے ' کسی پرانے بغض یا اس عورت کے رشتے یا تعلقات کو نہیں - یہ جذباتی کمزوری (Emotional cowardice) کی نشانی ہے جو قابل مذمت ہے - اس پورے معاملے میں زیادہ ذمے داری کرنل صاحب پر عائد ہوتی ہے - وہ اس لئے کہ وہ ایک ادارے کا یونیفارم پہن کر یہ سب کر رہے تھے - وہ ادارہ جس سے لوگ ویسے ہی نالاں ہیں - غصے میں ہیں - یہ ان کا کینٹ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی جہاں جھگڑا ہو بھی جائے تو آرمی نہی آتی ' پولیس آتی ہے - وہاں پولیس موجود تھی - ان پولیس والوں کے سامنے پہلے لڑکے کو تھپڑ مارنے میں پہل کرنا ' سٹک سے مارنا اور پھر وردی میں آ کر پستول چلانا سیدھا سیدھا اختیارات کا ناجایز استعمال اور اپنی وردی کا غرور تھا ' کوئی غیرت یا سیلف ڈیفینس نہی -- یہ حرکت کسی سویلین تو دور کسی پولیس والے نے بھی آرمی والوں کے ساتھ کینٹ میں کی ہوتی تو اس کا ووہی حال ہوتا جیسا دو سال قبل بہاولنگر میں ہوا تھا جہاں آرمی کی پوری پلٹن نے جا کر پولیس والوں کو وردی میں ٹھڈوں سے مارا تھا اور بعد میں اس پر معافی بھی آئ جی پنجاب نے مانگی تھی - یہ بات کہ اس کرنل کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑیگا اور ملٹری اس کو سزا دے گی ' یہ تو اور بھی زیادہ قابل تنقید کیوں کہ یہ "کونفلیکٹ آف انٹرسٹ " "Conflict of interest" ہے - جب ایک سویلین کسی کینٹ میں جا کر کوئی دنگا فساد کرتا ہے تو اس کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوتا ہے - رائٹ؟ ہم نے تو اس ملک کی عدالتوں سے یہی سیکھا ہے - تو پھر جب ایک کرنل کسی سویلین یونورسٹی میں جاکر وردی کا غلط استعمال کر کے ہوائی فائر کرتا ہے تو اس کو کسی تھانے میں کیوں نہیں بند کیا جاتا ' کسی سویلین کورٹ میں جہاں تاریخ بھی مہینوں بعد آتی ہے ' وہاں کسی فزیکل کسی جوڈیشل ریمانڈ پر کیوں نہیں دیا جاتا ؟ اگر میری بات میں وزن نہی تو وضاحت کردیں - اس پورے واقعہ نے صرف ہماری آرمی نہیں بلکہ ہر صاحب اختیار آدمی کی ذہنیت آشکار کی ہے - میں محض آرمی میں موجود چند آئین شکن افراد کے بغض میں یہ ہر گز نہی کہونگا کہ ایسا بس ہماری آرمی والے ہی کرتے ہیں - یہاں کوئی سیاست دان یا وڈیرہ بھی ہوتا ؛ کوئی بیوروکریٹ یا کمشنر بھی ہوتا ؛ کوئی ایس پی یا آئ جی بھی ہوتا ' وہ بھی ایسی ہی رعونت دکھاتا ' ایسے ہی اختیار یا وردی کا رعب جھاڑتا کیوں کہ اس ملک میں قانون اور آئین یا صرف کتابوں میں رٹا مارنے کیلئے ہیں یا پارلیمنٹ اور عدالتوں میں "شکن " ہونے کیلئے ہیں - - حقیقت میں قانون سامنے نیلی وردی میں کھڑا بھی ہو تو اختیار والا اپنی خاکی وردی کا رعب جھاڑنا نہیں بھولتا اور اس حمام میں کیا فوجی ؛ کیا ایس پی ' کیا چوہدری ' کیا ایڈووکیٹ ' کیا کمشنر کیا منسٹر -- ہم سب ہی ننگے ہیں - "قلم کی جسارت وقاص نواز " -------------------------------------------------------
Dr Waqas Nawaz18,703 次观看 • 10 天前

As a doctor, I feel ashmaed how one of our teachers Dr Javed Akram remained silent on the wrong interpretation of the postmortem report of Late Zil e Shah. Here I put my strongest condemnation words on this criminal silence and mutilation of the report. Being silent and advocate of the murder is being part of the murder.
Dr Waqas Nawaz1,080,498 次观看 • 3 年前

ایک زمانہ تھا کہ لوگ راڈو گھڑی بہت فخر سے ہاتھ پر پہنتے تھے - پھر لوگوں نے یہ گھڑی جہیز میں دینا شروع کردی - شروع شروع میں لوگ ہاتھ میں پہن کر لہراتے تھے پر شعور کے ساتھ یہ شرمندگی کی علامت بن گئی کہ فلاں نے خود نہی لی بلکہ سسرال سے مانگی ہوگی -- ان ایوارڈز کے ساتھ بھی راڈو والا حال ہورہا ہے - یقین کریں کہ ان تمغوں اور ایوارڈز کو جن پیمانوں پر دیا جارہا ہے وہ وقت دور نہی جب لوگ ملنے والے تمغوں کو چھپایا کریں گے کیونکہ یہ قابلیت اور میریٹ کا مظہر نہی ہوگا بلکہ خوشامد ' دشنام طرازی اور شاہ کی وفاداری کی علامت بن جائیگا اور لوگ ٹھٹھا اڑنے کے ڈرسے اس کو الماریوں میں چھپاتے پھریں گے کیونکہ یہ میریٹ کی کمائی نہی ہوگا بلکہ کرپٹ کی بروکری (دلالی ) کی علامت سمجھا جائیگا -
Dr Waqas Nawaz87,670 次观看 • 3 个月前

اس پورے معاملے کے بعد جو ایک نتیجہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ اقرار الحسن Iqrar ul Hassan Syed نے چاہتے نہ چاہتے اس بات پر مہر ثبت کردی ہے کہ کسی کا جواد احمد Jawad Ahmad سے موازنہ ہونا گالی' بد دعا اور تذلیل کی بات ہے اور یہ اس ریاست کیلئے بھی گالی کی بات ہے جس نے جواد احمد کو سیاست دان بنانے کی کوشش کی - یہ میں نہیں کہ رہا - مجھے تو یہ کلپ دیکھ کر یہی سمجھ آیا ہے ورنہ تو اس افسر نے اور کوئی گالم گلوچ نہی کیا اس کے مقابلے میں مجھے اقرار صاحب اس کو "بے شرم " کہتے دکھائی دیے- - اپنی نظر میں تو جواد احمد ملک کے سب سے انقلابی لیڈر اور اس ریاست کیلئے آخری آپشن ہیں ' پر اقرار صاحب کے اس اوور ری ایکشن نے یہ خوش فہمی بھی گمان میں بدل دی - اور اگر یہ کلپ صحیح ہے اور اقرار صاحب جواد احمد بننے کی دعا اور پشین گوئی پر اتنا سیخ پا ہویے ہیں تو پھر اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ آگ بگولہ ہونا اقرار الحسن کا نہی جواد احمد کا بنتا ہے - یعنی میچ کھیلا بھی نہیں اور کلین بولڈ ہوگیے - یہ سارا ڈرامہ کسی باہر کے ملک میں ہوا ہوتا تو محض اپنی راے دینے پر اقرار صاحب نے جو شور شرابہ مچایا اور جس طرح اس ملازم کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اس کو ہراسا کیا ' اب تک یہ جیل میں ہوتے - - پورے کلپ میں عمران خان کا اس افسر نے نام تک نہیں لیا ' پر یہاں بھی اقرار نے فرض کرلیا کہ یہ عمران خان کا سپورٹر ہوگا جو ان کو جواد احمد جیسا حال ہونے کی بد دعا دے رہا ہے - اگر اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں عمران خان کا ووٹر توڑنے کا یہی حربہ رہ گیا ہے تو ان کو چاہیے کہ ٹاک شاک کرلیں ورنہ ان کا حال بھی ووہی ہوگا جو جواد احمد کا ہوا -
Dr Waqas Nawaz94,510 次观看 • 4 个月前

"Medical Facts, Not Political Agendas: The Reality of Parathyroid Disease Treatment in Pakistan" Every patient has the right to seek treatment in any country they choose in order to access the best possible care. However, they should not resort to blatant misinformation to justify their decision. It is misleading and inaccurate to claim by Maryam Nawaz Sharif that parathyroid diseases are only treated in the USA and Switzerland. Parathyroid conditions such as hyperparathyroidism and hypoparathyroidism have treatment options available in many countries around the world, including UK, Pakistan, France, Germany, Australia, India, the UAE, Qatar and many others. Hyperparathyroidism, often caused by a parathyroid adenoma, is primarily treated with surgical removal. The associated bone diseases due to high parathyroid hormone (PTH) levels are managed with medications like Cinacalcet (Mimcipar) , Bisphosphonates, and Denosumab—all of which are available in Pakistan. Many tertiary and private hospitals in Pakistan perform parathyroidectomy, including Aga Khan University Hospital, Shifa International, Doctors Hospital, and Shaukat Khanum Memorial Cancer Hospital & Research Centre. Endocrine surgery is a common procedure in almost every major city in Pakistan. In the case of hypoparathyroidism, treatment typically involves calcium and vitamin D supplements, and for severe chronic cases, Teriparatide (a PTH analogue) is available in Pakistan for replacement therapy with the name "Forteo". The prevalence of parathyroid disease is around 1%. I am writing this fact check to correct the medical inaccuracies, as such disinformation can have serious consequences: 1. It can create hopelessness and despair among tens of thousands of patients with hyperparathyroidism in Pakistan, who are currently being successfully treated through endocrine surgery and medical management within the country. 2. It is a disrespect to the Pakistani medical community, which includes many renowned specialists in endocrine surgery and disease management. One such name is Professor Dr. Khawaja Azim, who served as the head of surgery at Mayo Hospital in 2009 during our times, and is now working at Shalimar Hospital in Lahore as "consultant endocrine surgeon". I am surprised that none of the UK-based journalists present there have rebutted this false statement. Pakistani political figures must verify the facts and be aware of the impact such statements can have on the healthcare system. Not every Pakistani has the means to travel to the USA or Switzerland for parathyroid treatment—and, more importantly, they do not need to, as the same high-quality treatments are available in Pakistan. I am surprised they included UK in this list of countries without parathyroid treatment. I am tagging UK parathyroid foundation Parathyroid UK and UK medical license body GMC for the correction. I hope Maryam Nawaz Sharif will recognize this error and take the necessary steps to correct it because the parathyroid disease affecting thousands of Pakistani patients is equally important, and medical facts are not the political ballot boxes that could be manipulated for personal agendas. Thank you. ----------------------------------------------------------- Moeed Pirzada @drfaranahmad
Dr Waqas Nawaz280,908 次观看 • 1 年前

کسی نے مجھے پوچھا کہ آج کی فنڈریزنگ میں کیا عمران خان کا ذکر ہوگا ؟ تو میں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اس کے باغ کا ذکر تو کریں پر باغباں کا ذکر نہ کریں ؟ ستاروں کا ذکر کریں پر چاند کا ذکر نہ کریں ؟ شوکت خانم کا ذکر کریں پر اس کے بیٹے کا ذکر نہ کریں ؟ میں ضرور اس کا ذکر کرونگا کیونکہ آج اگر شوکت خانم کراچی اپنے وقت پر مکمل نہی ہوسکا تو اس کے پیچھے وہ سیاست شامل ہے جس نے انسانیت کو بھی شرما دیا - My tribute to Imran Khan during Fundraising Ceremony Donate to Shaukat Khanum
Dr Waqas Nawaz98,571 次观看 • 6 个月前

If Assoc. of Pakistani Physicians of North America is being criticized for blurring Imran Khan's face in his iconic 1992 picture, this criticism did not arise overnight. It has a history rooted in the perception that Assoc. of Pakistani Physicians of North America has been manipulated and influenced by the Pakistani establishment and government. As the largest association of Pakistani-American physicians in the USA, APPNA's silence regarding the negligence and denial of proper medical treatment to one of Pakistan's most iconic figures (regardless of the fact that he is a politician) and his wife has raised serious questions within the Pakistani-American community. Being doctors, it is their medico-ethical responsibility to raise questions about medical deprivation of any Pakistani regardless of his political affiliation. If we accept the APPNA president's explanation that he did not notice the error made by the decorators until he saw it on social media, then this reflects sheer incompetence on the part of the decoration committee. They were organizing APPNA's largest convention of the year, yet they failed to review the banners and display materials before they were put up. I am aware that the same banner also included another picture of Imran Khan holding the Pakistani flag. However, that image was not nearly as prominent as the iconic 1992 photograph that was altered. In light of the criticism and the reaction from the Pakistani-American community, APPNA should recognize that it needs to review its policies when it comes to Pakistan. The widespread reaction from the Pakistani-American community should serve as a wake-up call for APPNA. If APPNA claims to be non-political, then altering the face of someone who is not only a political figure but also a philanthropist, a sportsman, and the apple of the eye of millions of Pakistanis is, in itself, a political act. Whether APPNA's action was a mistake or a deliberate act, it is condemnable in either case. If it was a mistake, it reflects incompetence. If it was deliberate, it reinforces the perception that APPNA is playing into the hands of the establishment. Either way, APPNA owes the Pakistani-American community a transparent explanation and a commitment to ensuring that such an incident is never repeated. ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Dr. Shahbaz GiLL DrJalil
Dr Waqas Nawaz30,062 次观看 • 2 个月前

"کیس نمبر 9 میں ایک اور گواہی " آج "کیس نمبر 9 " کے ایک سین میں جس طرح جسٹس منصور علی شاہ کا ذکر کیا گیا اور جس طرح اس پارلیمنٹ کی بدنیتی اور چھبسویں ترمیم کے پیچھے ان کے غلیظ عزائم کا ذکر کیا گیا وہ اپنی مثال آپ ہے - بہت خوبصورت انداز میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس منصور علی شاہ کے ریپ کی کیسیز میں وکٹم بلیمنگ سے متعلق فیصلوں کا بتایا گیا اور پھر کہا گیا کہ "جسٹس منصور اس ملک کے چیف جسٹس ہوتے اگر چھبسویں ترمیم کے ذریے ان کا راستہ نہ روکا جاتا " - یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ کسی ڈرامے میں اس وقت کے سیاسی اور عدالتی حالات کی وہ حقیقت برملا بیان کی گئی ہے جو سٹیٹ میڈیا بھی کہتے ہویے جھجھکتا ہے - شکر ہے کسی نے تو ان ترمیموں پر بات کی ورنہ آج کل تو موضوع بس شاہد بھٹی اور شاہزیب خانزادہ' اور سال پرانا عدت کیس ہے جس کو خود سے زندہ کیا جارہا ہے جبکہ یہ ہے اصل موضوع جس پر ہر وقت بات اور انٹرویو ہونے چاہیے - مزے کی بات ہے کہ یہ جملے بھی شاہزیب خانزادہ نے بحثیت رائیٹر لکھے - اس کی ڈرامے والوں کو اجازت کیسے ملی یہ ایک معمہ ہے پر تاریخ میں ایک اور گواہی ضرور شامل ہوگئی ہے کہ یہ پارلیمنٹ ربڑ سٹیمپ تھی اور ایک قابل اور سینئیر ترین جج کا بدنیتی سے راستہ روکا گیا - کیا منظر ہوگا جب جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس امین الدین نے اپنی فیملیز کے ساتھ یہ قسط دیکھی ہوگی - تھوڑی سی شرم تو آئ ہوگی - اس پارلیمنٹ کے سپیکر ؛ بلاول بھٹو ' نواز شریف اور شہباز شریف کے خاندانوں نے چینل تو بدلے ہونگے - کسی کینٹ میں یہ قسط دیکھ کر بچوں کے سامنے ندامت تو ہوئی ہوگی - یا شاید ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہوگا کیوں کہ جن میں ندامت ہوتی ہے ان میں بربریت اور فسطایت نہیں ہوتی - -------------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Imran Afzal Raja
Dr Waqas Nawaz76,480 次观看 • 9 个月前

"ایک مسنگ پرسن کے نام " یہ ٹویٹ ایک مسسنگ پرسن کیلئے ہے - مسنگ پرسن جو پچھلے تین سال سے نہیں دیکھا گیا ' اور پچھلے 7 ماہ سے اس کے خاندان میں سے کسی نے اس سے نہ بات کی نہ ملاقات کی - مسنگ پرسن جو پاکستان کا سب سے مقبول پرسن ہے لیکن غائب ہے - مسنگ پرسن جس کی ایک آنکھ مسنگ کردی گئی لیکن اس نظام اور اس عوام کے کان پر جوں تک نہ رینگی - مسنگ پرسن جس کا مقدمہ نہ کسی تھانے میں درج ہوتا ہے نہ کسی عدالت میں دائر ہوتا ہے - مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کی سپریم کورٹ ہی مسنگ ہوگئی- وہاں عدل مسنگ ہوگیا - وہاں انصاف مسنگ ہوگیا - مسنگ پرسن جس کس انتخابی نشان مسنگ کردیا گیا جس کا بیلٹ باکس مسنگ کر دیا گیا - مسنگ پرسن جس کو مسنگ کرنے کیلئے اس ملک کا آئین ترمیم زدہ کرکے مسنگ کردیا گیا - مسنگ پرسن جس کے سب مقدمے بھی ماوراے عدالت ' جس کی سب سزائیں بھی ماوراے عدالت - جس پر الزام بھی ماوراے عدالت - جس کا انجام بھی ماوراے عدالت - مسنگ پرسن جس کے وسیلے سے اس ملک میں کینسر مسنگ ہونے لگا ' پر آج وہ خود آمریت کے کینسر سے گھائل مسنگ نظر آتا ہے - مسنگ پرسن جس کے اپنے بھی مسنگ ' جس کے سجن بھی مسنگ ' جس کی عوام بھی مسنگ ' جس کے منسٹر بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے وکیل بھی مسنگ ' جس کے مشیر بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کی جیل کے باہر دھرنا بھی مسنگ ' عوام کا بپھرنا بھی مسنگ - پارٹی کا احتجاج بھی مسنگ - کوئی ہڑتال کوئی لانگ مارچ بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کی میڈیا پر سے اب خبر بھی مسنگ ' جس کا نام بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے بغیر اس نوجوان کا سیاست میں اشتیاق بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے بغیر اس ملک کے غریب کا "احساس " بھی مسنگ ' جس کے بعد بے گھر کی "پناہ گاہ " بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے بعد بیمار کا "ہیلتھ کارڈ" بھی مسنگ ' جس کے بعد "بلین ٹری اور ماحولیات" کی بات بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے بعد ملک کا وقار بھی مسنگ ' آزاد خارجہ پالیسی کا انداز بھی مسنگ - مسنگ پرسن جس کے بعد وردی کی حرمت بھی مسنگ اور پاسبان سے محبت بھی مسنگ - یہ میرا کالم اس مسنگ پرسن کے نام ہے جس کا مسنگ ہونا اب اس ملک ؛ اس نظام اور اس عوام کیلئے ایک نیو نارمل بنتا جارہا ہے اور سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اس نسیان اور اس بیوفائی اور طوطا چشمی پر ہمارا ضمیر بھی مسنگ - #ImranKhanisEssentiallyaMissingPerson قلم کی جسارت وقاص نواز ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Sabee Kazmi Sabir Shakir Mario Nawfal Maryam Riaz Wattoo salman akram raja Sohail Afridi
Dr Waqas Nawaz15,091 次观看 • 2 个月前

"شوکت خانم ہسپتال کراچی - ایک بچہ جس کی ماں کھو گئی ہو" آج اگر عمران خان صاحب آزاد ہوتے ' تو شاید شوکت خانم کراچی کو اپنی تکمیل کیلئے ان مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑتا جو اس وقت کرنا پڑرہا ہے - اس وقت شوکت خانم کراچی یتیم ہے - اس بچے کی مانند جس کی ماں کھو جائے اور اس کو صبح کے وقت سکول کیلئے تیار کرنے والا کوئی نہ ہو - اس بچی کی مانند جس کا باپ بے گناہ قید کردیا جائے اور اس کو گھر چلانے کیلئے سکول چھوڑ کر لوگوں کے گھروں میں کام کرنا پڑے - آج مجھے شوکت خانم کراچی ایسا ہی مجبور اور مغضوب نظر آتا ہے جو کب کا مکمل ہوچکا ہوتا اگر عمران خان ٹی وی پر آکر بس ایک ٹیلی تھون کردیتا - اس کے ایک دفعہ "إِيَّاكَ نَعۡبُدُ وَإِيَّاكَ نَسۡتَعِينُ " کہنے سے لوگ اتنا ڈونیٹ کرتے کہ سارا خسارہ ختم ہوجاتا اور یہ نامکمل در و دیوار کب کے مکمل ہو کر بیمار انسانیت کیلئے شفا خانے بن چکے ہوتے - کاش ایک کینسر زدہ ماں شوکت خانم کی محبت میں اس کے بیٹے کی طرف سے شروع کی گئی اس کوشش میں حریف سیاست سے زیادہ انسانیت کرتے ' اور اس میں ہر اس ماں کا چہرہ دیکھتے جس کو کینسر نے وقت سے پہلا بوڑھا اور لاغر اور اس کے بچوں کو کمسنی میں مسکین اور لاوارث کر دیا ہے - پاکستان جیسے ملک میں جہاں 40 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے رہتی ہے ' وہاں کینسر جیسے مرض کا پتا چلنا ہی اکثر اوسان کی موت کا سبب بن جاتا ہے - انسان ہمت ہار جاتا ہے کہ اس بیماری کے ٹیسٹ اورعلاج کیلئے جانا کہاں ہے ؟ چولہا روٹی تو ہوتا نہیں ؛ اس بیماری سے کیسے نمٹنا ہے جسکا اوسط خرچہ دس لاکھ روپے ہے - اس ملک میں جہاں کینسر سکریننگ کا کوئی رجحان نہیں ہے وہاں اکثر ایسے کینسر سٹیج سوم یا آخری سٹیج پر تشخیص ہوتے ہیں ' جس کا مطلب صرف سرجری نہیں بلکہ کیموتھراپی جیسا مہنگا علاج ہوتا ہے - ایسے میں انسان کی رہی سہی امید بھی دم توڑ جاتی ہے اور وہ اپنا علاج کرنے کا سوچنے کی بجاے جمع پونجی اولاد کیلئے چھوڑنے کا سوچنے لگتا ہے - ایسے ملک اور ایسی آبادی کیلئے شوکت خانم ہسپتال کسی نعمت سے کم نہیں ہے جہاں ایک ہی چھت کے نیچے 75 فیصد مریضوں کا بالکل مفت کینسر علاج ہوتا ہے - 29 دسمبر 1994 کو جس شوکت خانم کی بنیاد عمران خان نے رکھی تھی آج اس کی تیسری برانچ تعمیرکے مرحلے میں ہے جہاں کراچی میں شوکت خانم ہسپتال بن رہا ہے جس کا سائز لاہور والے کیمپس سے دوگنا ہے - دس لاکھ سکیر فٹ پر محیط اس ہسپتال میں 288 کمرے ' کیموتھراپی کے 69 انفیوزن کمرے ' 47 آوٹ پیشنٹ کلینک' 16 آپریشن تھیٹر اور 24 آئ سی یو بیڈز ہیں جہاں کراچی کی دو کروڑ آبادی جس میں منہ اور آنت کے کینسر کی بڑی تعداد موجود ہے اس کے علاج کا انتظام کیا جارہا ہے - شوکت خانم ہسپتال اور ریسرچ سینٹر پاکستان کے ان تین ہسپتالوں میں سے ایک ہے جو امریکی ادارے "جوائنٹ کمیشن انٹرنیشنل " (Joint Commission International) Joint Commission Int سے منظور شدہ ہے - اس کے علاوہ آغا خان کراچی اور شفا ہسپتال اسلام آباد وہ ہسپتال ہیں جو اس کمیشن سے منظور شدہ ہیں - یہ سند اپنے آپ میں نہ صرف شوکت خانم کی کلینکل اور پیشہ ورانہ ایکسیلینس کی دلیل ہے بلکہ اس سے منظور ہونے کی شرایط میں مالی آڈیٹ بھی شامل ہے - یہ اس پروپیگنڈے کا جواب ہے جو پچھلے کئی سالوں سے وقتا فوقتا اس ہسپتال کے خلاف دیکھنے میں آتا ہے جہاں مخالفین اور انسانیت سے عاری لوگ سیاست کو انسانیت سے اس بے رحمی سے گڈ مڈ کرنے لگتے ہیں کہ جیسے ان کو خود اوپر والے نے یہ گارنٹی دے رکھی ہو کہ وہ خود یا ان کے پیارے کبھی کینسر جیسے مرض کا شکار نہیں ہونگے - کبھی کسی پی ٹی وی پر ایک نان میڈیکل اور غیر پروفیشنل اینکر بیٹھ کر کیموتھراپی پر غیر سائنسی اور غیر منطقی بات کرکے عمران خان کے بغض میں شوکت خانم کو نشانہ بناتا ہے اور کبھی اس ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کیلئے شہر میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں - ہوٹل بک نہیں ہونے دیے جاتے ' فنڈ ریزنگ ایونٹ نہیں کرنے دیے جاتے اور یوں روز کسی نہ کسی کینسر کے مریض کی جان سے کھیلا جاتا ہے جو شاید بچ جاتا اگر ان رکاوٹوں سے آج شوکت خانم کراچی کا یوں راستہ نہ روکا جاتا - میرے نزدیک آج عمران خان اور شوکت خانم کے خلاف جتنا پروپیگنڈا ہورہا ہے اس کا جواب اس کیمپین میں بڑھ چڑھ کر ڈونیٹ کرنا ہے - جب جب کوئی اینکر پی ٹی وی پر کسی شوکت خانم کے خلاف پروگرام کرے ' تب تب پاکستانیوں کو اس میں ڈونیٹ کرنا چاہیے - جب جب اس کے بانی پر کوئی کیس بنے ' تب تب عوام کو اس کے اس نیک مقصد کو اور آگے بڑھانا چاہیے ------ اسی مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے ہم اس ہفتے کولمبس اوہایو میں بروز 7 فروری شوکت خانم کراچی کیلئے ایک فنڈ ریزنگ ایونٹ منعقد کر رہے ہیں جس میں ہم ہر ایسے پروپیگنڈے کا جواب شوکت خانم کو عطیات دے کر کریں گے - میری اس کالم کو پڑھنے والے تمام ان لوگوں سے جو اوہایو میں رہنے والے ہیں ؛ ان سے گزارش ہے کہ وہ اس ایونٹ میں شرکت کریں - اور باقی لوگ شوکت خانم کی ویب سائٹ پر جاکر ڈونیٹ کریں تاکہ ہم کینسر زدہ انسانیت کو سیاست اور بغض سے بچا لیں - میرے نزدیک ہماری یہ کوشش انسان سے محبت ہے - ہماری یہ کاوش پاکستان سے محبت ہے - ہماری یہ کیمپین عمران خان سے محبت ہے - Event: 7th Feb 2026 at 6 pm at The Makoy-5462 Center Street, Hilliard, OH 43026 Link to Buy tickets: Link to donate to Shaukat Khanum
Dr Waqas Nawaz37,514 次观看 • 6 个月前

"غیر سیاسی لوگ " (ایک ہی ہویے واوڈا اور ڈی جی آئی ایس پی آر' نہ کوئی پروفیشنل رہا ' نہ کوئی باتمیز اورغیرجانبدار) نواز شریف کی ایک بات کا میں قائل ہوگیا ہوں کہ وہ وہ بدلہ ضرور لیتے ہیں اور دل سے بات باہر نہیں نکالتے - ماضی میں فوج نے ان کے ساتھ جو کیا اس کا انہوں نے ایسا بدلہ لیا ہے کہ اس کی مثال نہی ملتی - یعنی اپنا بدلہ پورا کرنے کیلئے وہ فوج جیسے ادارے کو اس سطح پر لے آیے ہیں کہ یہ فرق ہی ختم کرڈالا ہے کہ سامنے بیٹھا پریس کانفرنس میں چیخنے والا کوئی لیفٹیننٹ جرنل ہے یا پھر کوئی لیگی ایم این اے طلال چوہدری ؛ اعظمی بخاری ' رانا ثنا الله یا عطاتارڑ ہے - منہ سرخ کرتا کوئی یونیفارم افسر ہے یا پھر منہ سے تھوک اڑاتا کوئی فیصل واوڈا ' یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا - پنجاب پولیس کو پرائیویٹ گارڈز اور فوج کو پنجاب پولیس کی سطح پر لاکر برحال نواز شریف نے اپنا انتقام لے لیا ہے - آج پوری پریس کانفرنس میں جو الفاظ سنے ان کو سن کر کم سے کم یہ بیانیہ تو زائل ہوا کہ یہ بہت پروفیشنل اور ڈسپلن لوگ اور ادارہ ہوتا ہے - "ہمیں سیاست سے دور رکھیں " اور پھر یہ کہ کر پوری پریس کانفرنس ایک سیاسی جلسے کی طرح کرڈالی جس میں ایک سابق وزیر اعظم کو ٹارگٹ کیا گیا جس کو آٹھ سو دن سے قید میں ڈالا ہوا ہے ' جس کے ٹرائل بھی جیل میں بند دیواروں کے پیچھے ہوتے ہیں ' جس کا نام میڈیا میں بین ہے - جس کی ملاقاتیں خاندان سے بند ہیں - جس کی پارٹی کے ٹکڑے کیے جاچکے ہیں' جس کی بیوی بھی قید ہے ؛ جس کا بھانجا بھی قید ہے ' اس کے بعد بھی وہ شخص ان کے حواسوں پر ایسا سوار ہے کہ سارا ڈسپلن سارا پروفیشنلزم آج دریا برد ہوتا نظر آیا - اس پوری پریس کانفرنس میں ایک بات پر میں آئی ایس پی آر کا مشکور ہوں کہ آج وہ خود سامنے آکر اسی لہجے میں بولے جس لہجے میں پہلے کسی فیصل واوڈا ' کسی حسن ایوب کسی محسن نقوی کسی گورنر کامران ٹیسوری کو بولنے کیلئے بھیجتے تھے - پوری پریس کانفرنس میں بس ایک بات سچ تھی اور وہ یہ تھی کہ "آپ کچھ لوگوں کو ہر وقت بیوقوف بنا سکتے ہیں پر آپ ہر ہر وقت سب لوگوں کو بیوقوف نہیں بناسکتے " اس کے علاوہ جو جو باتیں کی وہ حقائق کے لحاظ سے جھوٹ ' غلط اور دروغ گوئی تھی - اس کا پوسٹمارٹم یہاں کیے دیتے ہیں - 1-وہ ذہنی مریض ہے : کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان ذہنی مریض ہیں اور سکیورٹی تھریٹ بن چکے ہیں - اس سے پہلے آرمی نے کبھی عمران خان کیلئے "ذہنی مریض" کا لفظ استعمال نہی کیا - منشیات کا بلاواسطہ الزام لگاتے رہے پر مینٹل ہیلتھ کا کبھی نہی کہا - چونکہ اپنے پچھلے ٹویٹ میں عمران خان نے آرمی چیف کو ذہنی مریض کہا تھا سو اب دو دن میں جوابا عمران خان کو ذہنی مریض کہنا ثابت کرتا ہے کہ یہ "جواب در جواب" ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ورنہ ایسا پہلے بھی کہا جاتا - خود جیل انتظامیہ کے ایک سال پہلے کیے گیے سروے اور چیک اپ کے مطابق عمران خان بالکل نارمل حواس اور ذہنیت کے حامل ہیں لہذا یہ بات بس "تم خود ہوگے ' یا " جو کہتا ہے ووہی ہوتا ہے " سے زیادہ کچھ بھی نہی ہے - 2. وہ سکیورٹی تھریٹ ہے : دوسری بات کہ عمران خان سکیورٹی رسک ہیں - اس کا تیا پانچہ تو خود منصور علی خان کے سوال نے کردیا کہ اس ملک کی تاریخ رہی ہے کہ ہر سویلین لیڈر کو اس وقت تھریٹ کہا جاتا ہے جب وہ سویلین بالادستی اور حقیقی جمہوریت کی بات کرتا ہے - محترمہ فاطمہ جناح اس لسٹ میں سب سے اوپر ہیں - ذولفقار علی بھٹو کو بھی ضیاء نے سکیورٹی تھریٹ کہا تھا - باچا خان - لیاقت علی خان اور حسین شہید سہروردی بھی اسی لسٹ میں شامل ہیں - بینظیر بھٹو بھی اس لسٹ میں رہ چکی ہیں - تو آج اگر عمران خان کو سکیورٹی رسک کہا جارہا ہے تو یہ ان کیلئے طرہ امتیاز اور ایک میڈل کے مترادف ہے - ہم سویلین کو خاکی جیبوں پر لٹکتے گولڈ والے میڈل تو ملتے نہی تو یہی سویلین لیڈرز کا میڈل ہوتا ہے کہ ان کو "غدار " اور "تھریٹ " کہا جائے - مجھے لگتا ہے کہ عمران خان کو "سکیورٹی تھریٹ " کہ کر آئی ایس پی آر نے ان کو وہ اعزاز دیا ہے جو فاطمہ جناح کو جرنل ایوب نے دیا تھا اور یوں ان کی عزت میں اضافہ کیا ہے - 3. مجیب ارحمن کا فالووور ہے : اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے مجیب ارحمن جسے غدار کو ایڈیل بنایا ہوا ہے اور وہ اس سے متاثر ہے - یہ بات بھی حقائق کی رو سے غلط ہے - خود حکومت پاکستان نے 1968میں مجیب پر غداری کا جو "اگرتلہ سازش" کیس بنایا تھا وہ خود 1969میں واپس لے لیا تھا - پوری حمود ارحمن کمیشن رپورٹ پڑھ لیں کہیں مجیب ارحمن کو "غدار " نہیں قرار دیا گیا - 1974 میں خود پاکستان نے مجیب ارحمن کو لاہور مدعو کیا تھا اور سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا تھا ' تو اس بات کا ثبوت کہ وہ "غدار " تھا کہا ہے ؟ مجیب ارحمن کو اکثریت نے ووٹ دیا تھا پر آج کی طرح اس وقت بھی 82 سیٹوں والوں کو 160 سیٹوں پر ترجیح دی گئی تھی کیوں کہ وہ قبول تھے اورمجبیب قبول نہیں تھا ' سو غدار قرار پایا - اگر مجیب غدار ہی تھا تو پھر پاکستان کے آرمی چیف مشرف نے بنگلادیش سے معافی کیوں مانگی تھی ؟ ڈی جی ای ایس پی آر صاحب کو لگتا ہے کہ آج بھی پاکستانی قوم بس مطالعہ پاکستان پڑھتی ہے جہاں مجیب غدار ' اور جرنل یحییٰ وفادار تھا - محترم ! اس قوم نے حمود ارحمن رپورٹ پڑھ رکھی ہے - اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی ار برگیڈئر سالک کی "میں دے ڈھاکہ ڈوبتا دیکھا " کو بھی پڑھ رکھا ہے ' سو یہ غداری والا چورن اب بس پرائمری جماعت کو پڑھائیں - عمران خان کا موقف مجیب سے اس لئے ملتا ہے کہ کیوں کہ مجیب کی طرح عمران خان کی 180 سیٹوں کے مقابلے میں سترہ سیٹوں والوں کو حکومت دے کر عمران خان کو جیل میں ڈال دیا گیا - آج کی پریس کانفرنس میں مجیب ارحمن کو غدار اور عمران خان کو اس کا حمایتی قرار دے کر خود ای ایس پی آر نے مان لیا ہے کہ آج بھی جرنل یحیی ہی حکومت کر رہا ہے کیوں کہ اس کا بھی مجیب کے بارے میں یہی موقف تھا - 4. عوام اور افواج یک جان دو قالب ؟ . اس پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کسی کا باپ بھی عوام اور افواج میں خلیج نہیں پیدا کرسکتا - یہ بات درست ہے - عوام اور افواج کا رشتہ اس قدر مظبوط تھا کہ کوئی سیاستدان یا کوئی باہر کی طاقت اس کو کمزور نہیں کرسکتی تھی - اس کو اگر کوئی کمزور کرسکتا تھا وہ فوج خود تھی ' جو اس نے کردیا - عوام کا مینڈیٹ غصب کیا ' آواز اٹھانے والوں کو غائب کیا ' صحافیوں کو جلاوطن کیا - سویلین کا ملٹری ٹرائل کیا ' عوامی ججوں کو معزول کیا ' من چاہی ترمیمیں کروا کر اپنے لوگوں کو لامتناہی طاقت اور مدت دی - جب یہ سب کیا تو نتیجہ کیا نکلنا تھا ؟ وہ تعلق جو جذبات ؛ احساس اور اخلاص کی بنیاد پر قائم تھا اس کو ظلم ' فسطائیت اور ایسی سیاسی پریس کانفرنسوں نے ختم کرڈالا - جو کسی کا باپ بھی نہیں کرسکتا تھا ' وہ خود آپ نے کردیا ' تو اب غصہ کیسا - اب آپ مرے کالج سیالکوٹ کا وزٹ کریں یا لمز یونیورسٹی کا چکر لگائیں ' ہر پریس کانفرنس میں جب آپ کو یہ بتانا پڑتا ہے کہ "کسی کا باپ بھی تعلق کمزور نہیں کرسکتا " تو وہ دراصل اس نفرت اور بیزاری کا اعتراف ہوتا ہے جو آپ ان کالجوں میں دیکھ کر آتے ہیں یا کالج کے گیٹ سے نکلنے کے ساتھ ہی محسوس کرتے ہیں کیوں کہ محبت ایک ایسی چیز ہے جو کسی سے زبردستی نہی کروائی جاسکتی - 5 :اپنے بچے باہر کیوں ؟ اس کانفرنس میں کہا گیا کہ "اپنے بیٹے تو خان نے باہر رکھے ہیں ' فوج میں کیوں نہیں بھیجتا " واقعی - عمران خان کو اپنے دونوں بیٹے فوج میں بھرتی کروانے چاہیے جیسے مریم نواز کا بیٹا کیپٹن جنید صفدر پی ایم اے کاکول میں ہے - جیسے میجر حسین نواز سیاچن میں تعینات ہے - جیسے کرنل حسن نواز بلوچستان میں کمیشن آفیسر ہے - جیسے لانس نائیک بلاول بھٹو وانا میں ڈیوٹی پر ہے - جیسے مشرف کے بچے عائلہ مشرف اور بلال مشرف افغان بارڈر پر تعینات ہیں ؟ کہاں ہیں باجوہ صاحب کے بچے ؟ خود آرمی چیف کے بچے - یہ اب کہاں ہیں ؟ جب جب سیاسی بیانیہ بنانا ہوتا ہے یہ بارڈر پر شہید ہونے والے اپنے سپاہیوں کو ڈھال بنالیتے ہیں - یاد رکھیں - ہر خون سرخ ہوتا ہے - اس دھرتی کے ہر بیٹے کا خون مقدم ہے - سرحد پر دشمن کے ہاتھ شہید ہونے والے لانس نائیک کا بھی اور کینیا میں اپنوں کے ہاتھوں مارے جانے والے ارشد شریف Arshad Sharif کا بھی --خوارج کے ہاتھوں شہید ہونے والے سپاہی اور ایف سی اہلکار کا بھی اور وزیر آباد میں کسی وزیر اعظم کو ٹارگٹ کرنے والی گولی سے مرنے والے تین بچوں کے باپ معظم اور پولیس تشدد سے مرنے والے ظلے شاہ کا بھی - تحریک طالبان کے ہاتھوں شہید ہونے والے کیپٹن کا بھی اور 26 نومبر کو اپنوں کی ہی گولیوں سے شہید ہونے والے انیس ستی کا بھی - مجھے ڈیوٹی کے دوران شہادت کو سیاسی طور پر کیش کرنے والوں کی منطق کی آج تک سمجھ نہی آئی - اگر کرونا کے مریضوں کا خیال کرتے ہویے کرونا سے مرنے والے ڈاکٹر یہ کہنے لگ جائیں کہ ہم ڈیوٹی کے دوران جان دیتے ہیں سو ہمیں ریاست مانو ' تو کیا آپ ان کا یہ مطالبہ مان لیں گے ؟ اگر جواب ہان ہے تو پھر بارڈر پر ہر شہادت کے بدلے ہم بھی آپ کو ریاست مان لینگے- 6 . آئین اجازت نہی دیتا : : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ کونسا آئین اجازت دیتا ہے کہ ایک سزا یافتہ شخص سے سیاسی ملاقاتیں کی جائیں اور وہ پھر ریاست کے خلاف بیان دے - ڈی جی صاحب کے منہ سے لفظ "آئین " سن کر مجھے ایسا لگا کہ میں نے سنی لیون کے منہ سے لفظ "حجاب " سن لیا ہو - زرداری کے منہ سے ایمانداری " سن لیا ہو - شرابی کے منہ سے "زم زم " سن لیا ہو - جس آئین کو چار دفعہ ان کے ادارے نے توڑ پھوڑ کر اپنے کینٹ کا بٹلر بنایا ہوا ' اس میں اتنی ترمیمیں کی ہوں کہ یہ نہ پتا چلے کہ اصل والا آئین تھا کونسا ' جس کو توڑ توڑ کر اس میں صدارتی ریفرنڈمز کے پنکچرز لگاے ہوں ' جس آئین کا ذکر بس آئین کی کتاب میں ہو ' نہ وہ الیکشن کی تاریخ میں نظر آے ' نہ عدالتوں کی نظیر میں دکھائی دے ' نہ پارلیمنٹ کی تشکیل میں محسوس ہو ' نہ عوام کی تقدیر میں فنکنشنل ہو ' نہ وہ اپنے ججوں کو ہراساں ہونے سے بچاے ' نہ وہ اپنے صحافیوں کو جلاوطن ہونے سے روک پاے - اس آئین کا حوالہ سن کر آج اچھا لگا - کوئی تو ڈی جی صاحب کو بتاتا کہ یہ ووہی آئین ہے جس کو ابھی ابھی آپ نے ایک ربڑ سٹیمپ پارلیمنٹ کی مدد سے مسخ کیا ہے - جس کے تحت ایک سزا یافتہ اشتہاری مجرم لندن سے پریس کانفرنس کرتا تھا ' اس کی پوری پارٹی اس سے سیاسی مشورے لینے ایون فیلڈ جاتی تھی - وہ براہ راست تقریر میں اس وقت کے آرمی چیف کو تڑیا بھی لگاتا تھا - وہ جب پاکستان آیا تھا تو اشتہاری ہوتے ہویے بھی اس ملک کی ہائی کورٹ اس کو خود لینے اور اس کو آزاد کرنے ائر پورٹ پر بھی گئی تھی - آئین کا نام نہ لیا کریں ' آئین اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اب آپ کے نام لینے سے ہی ٹوٹ جاتا ہے - 7 . نو مئی ریاست پر حملہ : پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ عمران خان نے اسی جی ایچ کیو پر حملہ کروایا جہاں آج آپ سب صحافی بیٹھے ہیں - لیکن کسی صحافی نے ان کو یہ نہی بتایا کہ اس نو مئی کی صبح بھی کچھ ہوا تھا جب یہاں سے دس پندرہ میل دور اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں موجود سابق وزیراعظم جو خود عدالت میں پیش ہونے آیا تھا ' اس کو شیشے توڑ کر رینجرز نے گھسیٹا اور ہتک آمیز انداز میں بکتر بند گاڑی میں ڈالا - وہ حملہ آئین اور عدالت پر حملہ تھا - وہ حملہ کس نے کیا ؟ نو مئی اب اس بھینس کی طرح ہو چکی ہے کہ جس کو گوالا ٹیکے لگا لگا کر دودھ دوہنا چاہتا ہے پر اب بھینس سوکھ گئی ہے اور گوالےکو سواے گوبر کے اور کچھ نہی دے سکتی - 8 . عمران خان بھارت کے سامنے کشکول لے جاتا : اس پریس کانفرنس کا سب سے مضحکہ خیز لمحہ وہ تھا جب یہ کہا گیا کہ اس دفعہ سات مئی کو جب بھارت سے جنگ ہوئی ' اگر عمران خان ہوتا تو وہ کشکول لے کر بھارت سے صلح اور بات چیت کی بھیک مانگتا - یہ بات حقیقت سے اتنی ہی دور تھی جتنی پاکستانی اسٹبلشمنٹ آئین سے اور ڈی جی ای ایس پی ار پروفیشنلزم سے دور ہیں - اگر کوئی غیرت مند صحافی وہاں بیٹھا ہوتا تو ڈی جی صاحب کو یاد دلاتا کہ فروری 2019 میں جب بھارت سے لڑائی ہوئی تھی تب وزیر اعظم عمران خان نے کیا کہا تھا " ہم جواب دینے کا سوچیں گے نہی ' ہم جواب دیں گے " - اور جو جواب دیا تھا وہ دنیا نے دیکھا تھا - اس کو بتایا جاتا کہ جو جہاز گرے تھے اور جو پائلٹ پکڑے گیے تھے وہ کس کے دور میں ہوا تھا - اس کے برعکس کون "شریف " سا کشکول لے کر بھارت کے بیانیے کو بڑآھوا دیتا رہا اس کیلئے ان کو یاد دلانا چاہیے تھا کہ کس نے ممبئی حملوں کے بعد یہ کہا تھا کہ پاکستان اس میں ملوث تھا اور کس کے بیان کو بھارت گواہی کے طور پر انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں لے کر گیا تھا - یہ بہت بنیادی اور کامن سینس کی بات ہے کہ جب فورا جنگ ہورہی ہوتی تو جنگی جواب ہی ہوتا ہے ' لیکن جنگ سیٹل ہونے کے بعد آپ نے ٹیبل ٹاک اور مذاکرات کا راستہ ہی ڈھونڈنا ہوتا ہے ' اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو پھر کس منہ سے پاکستان نے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی معاہدے کی حمایت کی ہے ؟ جنگ جاری رکھنے کی رٹ کیوں نہں لگائی ؟ یہ اتنی بنیادی بات ہے کہ اگر کسی انسان کی تعلیم ایف سے زیادہ ہو تو اس کو یہ بات بخوبی سمجھ آجاے- 9 . پروفیشنل زبان : اس پریس کانفرنس میں کی خبر پختنخوہ کے چیف منسٹر کے سکیورٹی فورسز پر اس الزام کو کہ وہ وہاں کے لوگوں کے بارے میں ہتک آمیز زبان استعمال کرتے ہیں خود ڈی جی آئی ایس پی آر نے صحافیوں اور کیمروں کے سامنے صحیح ثابت کردیا یہ کہ کر "جو بھونکتا ہے اس کو بھونکنے دو " - آپ نے یہ محض ایک شخص کو "بھونکنے والا " نہیں کہا بلکہ چار کروڑ لوگوں کے انتخاب کیلئے یہ لفظ استعمال کیا ہے جو آپ کے پروفیشنل ' ڈسپلن اور جمہوی ہونے کی تاریک نشانی ہے - 10. این ڈی یو میں جانے والوں کو میر جعفر کیوں کہا ؟ پریس کانفرنس میں اس بات پر بہت غصہ کیا گیا کہ تحریک انصاف کے جو لوگ این ڈی یو کی تقریب میں گیے ان کو کیوں میر جعفر کہا ؟ - این ڈی یو جانے پر آج جن پر غصہ کیا جارہا ہے وہ تحریک انصاف کے لوگ ہیں ' جو غصہ کر رہا ہے وہ تحریک انصاف کا چیئر مین ہے تو پهر آج یہ ہمدردی کیوں ؟ حیرت کی بات ہے - تحریک انصاف کے ان ممبرز سے اتنی ہمدردی ؟ یہی ادارے تحریک انصاف کے لوگوں کو بات بات پر غدار ' انڈیا کا یار اور اغیار کا ہتھیار کہتے رہے - کتنے نامعلوم افراد کے ذریے ایف ای آر کروائی گیں کہ فلاں تحریک انصاف کے ممبر نے ریاست مخالف بات کی ہے ' فلاں پر کیس ڈال دیا ' فلا کو گرفتار کرلی جب ایک ادارہ ایک باقاعدہ فریق بن جائیگا ' ایک سیاسی پارٹی بن جائیگا ' اور ذاتی انتقام کیلئے کسی مقبول لیڈر کو جیل میں رکھے گا ' اس کے خلاف ایسی دھمکی آمیز پریس کانفرنس کریگا ' یہ پارٹی کے چیئر مین کا نام لینا ہی میڈیا پر بند کروا دیگا تو پهر اس پارٹی کے چیئر مین کو پورا استحقاق ہے کہ وہ اپنے لوگوں پر غصہ کرے کہ وہ کیوں کسی ایسی تقریب میں گیے جو ایک مخالف فریق کی ہے جو اس وقت فسطائیت کا استعارہ بنا ہوا ہے ؟ پارٹی اس کی ' لوگ اسکے ' یہاں بیگانی شادی میں عبدللہ کیوں اتنا دیوانہ ہوا پهر رہا ہے ؟ 11. تم ہو کون ؟ Who Are You پریس کانفرنس میں عمران خان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ " تم ہو کون ؟ کیا چاہتے ہو ؟ بہت حیرت کی بات ہے - یعنی ایک ایکزیکٹیو کے ماتحت کابینہ کے ایک ادارے وزارت دفاع کے سیکریٹری کے ماتحت کام کرنے والی گریڈ اکیس بائیس کے افسر کو یہ نہی پتا کہ جس کی وہ بات کر رہا ہے وہ اس ملک کا سابق وزیر اعظم ہے اور اسی ایکزیکٹیو کا سابق چیف ایکزیکٹو ہے جس کے یہ تنخواہ دار ہیں - لیکن سوال تو وہاں بیٹھے صحافیوں کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ تو عوام کا منتخب نمائندہ ہے ' آپ کون ہیں ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ایسی سیاسی کانفرنس کرنے کا ؟ آپ کو کس نے اختیار دیا ہے ڈنڈے کے زور پر آئین بدلنے کا ؟ یہ وہ سوال ہیں جو اپنے اندر ہی جواب رکھتے ہیں بس پوچھنے کیلئے صحافتی حمیت اور فریڈم آف ایکسپریشن چاہیے جو پاکستان میں مقید ہے یہ تھی پریس کانفرنس - نہایت پروفیشنل - ڈسپلن - مہذب اور غیر سیاسی - اس میں سیاست نہی تھی پر عمران خان تھا - اس میں کہی کسی پارٹی کیلئے جانبداری نہیں تھی بس تحریک انصاف کو تھوڑی سی تڑیاں تھی ' چیف منسٹر کی پی کیلئے تھوڑی بدلفاظی تھی - یہ سب کہ کر آئی ایس پی ار نے بہت عاجزی اور پروفیشنل طریقے سے سب سے درخواست کی کہ "ہم غیر سیاسی لوگ ہیں - پلیز - ہمیں سیاست سے دور رکھیں " - شکریہ ----------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja Maryam Riaz Wattoo Ryan Grim Javeria Siddique
Dr Waqas Nawaz45,959 次观看 • 9 个月前

"ایک چھری اپنی غیر سنجیدگی پر بھی پھیر " (کیوں کہ یہ نبیوں کی سنت ہے ؛ کوئی ٹک ٹاک نہی ) ہمارا معاشرہ اپنی زندگیوں میں کس قدر غیر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پوری بڑی عید پر سوشل میڈیا اس طرح کی وڈیوز سے بھرا رہا جس میں کہی کوئی بیل قصائی کو ٹکر مار کر بھاگ رہا ہے تو کہیں کوئی ویڑآ کسی دکان میں گھس کر وہاں شیشے توڑ رہا ہے - کہیں کوئی بیل چھت سے گر رہا ہے اور کہیں کوئی قصائی دوڑ رہا ہے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے ہے - ایک وڈیو میں قصائی کے پاؤں میں رسی پھنسی ہے اور بیل بھاگ رہا ہے اور قصائی پیچھے پیچھے گھسیٹتا جارہا ہے اور بیک گراونڈ میں ٹک ٹاک والا سستا گانا چل رہا ہے - ان سب وڈیوز کو اکثر ازراہ مذاق اور طفنن پیش کیا گیا ہے (جیسا کہ اس وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جو میں نے یہاں لگائی ہے جس کے شروع میں ہی بنانے والے نے لکھا ہے کہ یہ میں نے "تفریح کیلئے " بنائی ہے ) جہاں کومنٹس اور پیچھے لگا میوزیک یہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ہمارے ہاں کسی انسان کے اوپر بیل کا چڑھ جانا اب ایک عام بات ہے - کسی انسان کا نیچے گر جانا اب بس دیکھنے والوں کیلئے ایک مذاق رہ گیا ہے - ہے یہ مذاق ہے بس تب تک جب تک وہ انسان آپ کا اپنا باپ یا بھائی نہ ہو یا اپ خود نہ ہوں - کسی جگہ میں نے ایسے واقعات کی مذمت اور ان کی روک تھام کیلئے کوئی تحریر نہی دیکھی نہ کوئی ایسی وڈیو نظر سے گزری - چلیں امریکا چلتے ہیں - یہاں امریکا میں اس سال قربانی کی - ایک فارم ہاؤس پر بکرا خریدا - اس کو پسند کیا - اس کا نام رکھا - لیکن اس کو گھر لانے کی اجازت نہی تھی - عید کے دن نماز پڑھ کر فارم پر گیے - اپنے سامنے وہی اس کو چھری پھروائی' پروفیشنل قصائی نے اس کی کھال اتاری ' اس کا گوشت کاٹا' لیکن کسی سڑک پر نہیں ' بلکہ ایک خاص جگہ پر جو چار دیواری تھی' آبادی سے دور تھی تاکہ جانور بھاگے بھی تو کسی کو نقصان نہ پہنچاسکے - پہلے مجھے یہ سب بہت عجیب لگتا تھا - یہ کیا بات ہوئی کہ سڑک پر نہ کوئی جانور نہ کوئی خون- یہ کیسی عید ہوئی - یہ کیا بات ہوئی - پر پھر مجھے اعداد و شمار نظر آیے جو میں نے سوشل میڈیا پر بہت کم دیکھے - محض اس سال 2026 میں عید کے صرف پہلے دن پاکستان میں چودہ ہزار لوگ جانوروں کو ذبح کرتے ہویے زخمی ہویے - یہ ڈیٹا ابھی ان حادثات کا ہے کہ جن واقعات میں لوگوں کو ہسپتال لیجانا پڑا یا 1122 کو بلانا پڑا - جن وڈیوز کی میں بات کر رہا ہوں وہ ان کے علاوہ ہیں - ان جانوروں کو جس اناڑی طریقے سے ذبح کیا جاتا ہے اور پھر جب وہ رسی تڑوا کر بھاگتے ہیں ان سے ہونے والے گاڑیوں کے نقصانات کا تخمینہ ایک ہزار سالانہ سے زیادہ ہے - یہ ہر سال ہوتا ہے - اس کے باوجود نہ میں کسی اتھارٹی کی طرف سے کوئی خاص اقدامات دیکھتا ہوں نہ عوام کی طرف سے کوئی خاص احتیاط - کسی بیل کو جب بس تین چار اناڑی لوگ ذبح کر رہے ہوتے ہیں تو بچوں سمیت عوام کا جم غفیر پاس کھڑا ہوتا ہے اس بات سے بے نیاز کے جب یہ بیل بھاگے گا تو کسی بچے پر چڑھ جائیگا - اس کے برعکس جب ایسا ہوتا ہے تو بچے کو بچانے والے کی ٹک ٹاک تو بہت وائرل ہوتی ہیں پر ایسا کوئی پلان واضح نہیں ہوتا کہ آئندہ ایسا نہ ہو - نہ ماں باپ پر کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ آپ وہاں کیوں کھڑے تھے نہ بیل کے مالک سے سوال ہوتا ہے کہ آپ نے ذبح کرنے سے پہلے ایسی جگہ کا انتخاب کیوں نہی کیا جہاں اگر بیل بھاگے بھی تو باقی لوگوں یا املاک کا نقصان نہ ہو - نہ اس قصائی کا کوئی لائسنس ہوتا ہے کہ بھائی آپ واقعی پیشہ ور قصائی ہیں یا دو دن کیلئے مزدور اور حجام سے قصائی بنے ہیں اور اپنے سے پچاس گنا وزنی بیل کو گرانے کی کوشش میں معصوم بچوں اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں تو اس کا کوئی تو لائسنس ہوگا ' وہ دکھا دیں - الغرض میں ہر سال ایسی وڈیوز پر بس عوام کے قہقہے اور اقوال زریں کہ "جسے الله رکھے اسے کون چکھے " دیکھتا رہتا ہوں پر ان واقعات کے سدباب سے متعلق نہ کوئی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے نہ کوئی انتظام یا قانون دیکھنے کو نظر آتا ہے - نہ کسی عالم کی طرف سے کوئی رہنمائی سامنے آتی ہے نہ میڈیا پر ایسی کوئی کیمپین دیکھنے کو ملتی ہے - اس تحریر کو پڑھ کر مذھب کے ایک فریضے پر اعتراض کرنے یا میرے مذھب بیزار ہونے کا فتوی لگانے سے پہلے اس کو دوبارہ پڑھیں اور پھر ہسپتال میں کسی قصائی یا بچے سے مل کر آئیں جس کا کولہا فریکچر ہوگیا ہو یا جس کا سر پھٹ گیا ہو - یا کسی ایسے دکان والے سے ملکر آئیں جس کی کل جمع پونجی کسی کے جانور کی سرعام قربانی کی نذر ہوگئی اور جس نے وہ دکان بنانے کیلئے قرضہ لیا تھا جو اب ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور یہی دکان اس کے خاندان کا واحد روزگار تھی - آپ قربانی ضرور کریں ' ہر سال کریں ' لیکن بس اپنے جانور کی قربانی کریں ' کسی کی کمر کی نہی ' کسی کی ہڈی کی نہیں ' کسی کی دکان کی نہی ' کسی کی گاڑی کی نہیں - اگر ہر سال ان احتیاطوں کو کرلیا جائے تو ممکن ہے کہ ہمیں ٹک ٹاک پر لطیفے اور سستی وڈیوز تو نہ ملیں پر عوام محفوظ ضرور ہوجائیں گے : 1. کسی بھی بیل یا ویڑے کو سڑک پر باندھنے کی پابندی ہونی چاہیے- اس کیلئے ایسی جگہ ہو جو چار دیواری والی ہو اور اگر کسی کے پاس ایسا انتظام نہیں تو اس کو بکرا لینا چاہیے ' بیل نہی - 2. جانور منڈیاں شہری آبادی سے دورہوں ' اور وہاں سے جانور لانے کیلئے کسی چنگچی کسی کھلی گاڑی کسی رکشے پر پابندی ہونی چاہیے - ایسی خاص گاڑیاں حکومت کی طرف سے چلائی جائیں جن میں جالی لگی ہو تاکہ جانور کو بغیر کسی حادثے کے دوسری جگہ پہنچایا جاسکے - 3. بیل اور ویڑوں کو گھروں میں لانے پر پابندی ہو - ان کو وہی رکھا جائے جہاں سے خریدا گیا ہو یا ایسے کھلے پلاٹ یا ایک خاص جگہ ہو جہاں ان کو باندھا جائے اور وہی قربان کیا جائے اور اس چیز کو حکومت خود ریگولیٹ کرے - 4. سڑک پر کسی بھی بیل کی قربانی قابل سزا جرم ہو - اس کیلئے لازمی ہو کہ چار دیواری والی جگہ ہو جہاں کسی بھی بچے کو لیجانا جرم ہو - بچوں نے دیکھنا ہو تو اوپر چھت سے دیکھیں یا وڈیوز میں دیکھیں لیکن تیس فٹ تک وہاں کوئی بچہ یا ایسا بندہ نہ کھڑا ہو جس کا اس قربانی سے کوئی تعلق نہی ہے - 5. جانور کی قربانی کرنے والا کوئی پروفیشنل قصائی ہو جس کا باقاعدہ لائسنس ہونا چاہیے - وہ عام دنوں میں بھی قصائی ہی ہو اور اس کے ساتھ کم سے کم پانچ چھے ایسے افراد ضرور ہوں جو جانور کو گرانے اور اس کو سنبھالنے میں مہارت رکھتے ہوں - 6. عید سے پہلے قصائی حضرات کی ٹریننگ کا طریقہ وضع کیا جانا چاہیے اور حکومت کی طرف سے یا محلوں کی سطح پر ایسی ورکشاپس ہونی چاہیے جن میں ان لوگوں کی ٹریننگ ہو اور اس کے بعد ہی ان کا اس سال کا قربانی کا لائسینس رینیو کیا جائے - 7 . جانور کو گرانے کا ایک آفیشل طریقہ حکومت کی طرف سے لاگو ہونا چاہیے اور اسی طریقے سے جانور کو گرایا جانا چاہیے - اور ان پابندیوں کو لوکل کمشنر اور بیوروکریسی کے افراد خود دیکھیں - 8 . کسی بھی بیل کو کرین سے اوپر یا نیچے لیجانے پر سخت پابندی ہونی چاہیے - یہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس قربانی کے جانور کی بھی توہین ہے جو کبھی چھت سے نیچے گر رہا ہے اور کبھی چھت پر لیجاتے ہویے پھسل رہا ہے - 9 . اگر کسی کے پاس ان جانوروں کو محفوظ طریقے سے رکھنے اور قربان کرنے کا انتظام نہی ہے تو ان کو پھر قربانی میں حصہ ڈالنا چاہیے اور ایسے فارمز اور کھلی جگہیں ہونے چاہیے جہاں ان جانوروں کو رکھا جائے جن میں لوگوں نے حصہ ڈالا ہو - 10 . جس کے جانور سے کسی کی گاڑی یا دکان کا نقصان ہو وہ شخص اس نقصان کو پورا کرنے کا پابند ہو اور اس کو حکومت کی طرف سے بھی اتنے سخت جرمانے کیے جائیں کہ لوگ ان قربانیوں کو نمائش اور تفریح کی بجاے ایک مقدس فریضہ سمجھ کر تمیز اور احتیاط سے انجام دیں - 11 . ایسے ماں باپ کی پولیس سے بازپرس ہونی چاہیے جو بچوں کو لے کر ذبح ہوتے بیل کے سر پر کھڑے ہوتے ہیں - امریکا میں بچے کو گود میں لے کر گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھانا ہی اتنا بڑاجرم سمجھا جاتا ہے کہ ڈرائیور کا لائسنس کینسل ہوسکتا ہے کیوں کہ ان کے ڈیٹا کے مطابق حادثے کی صورت میں اگلی سیٹوں والوں کا زیادہ نقصان ہوتا ہے - اگر ہم فیشن میں مغرب کی نقل کرسکتے ہیں ' کھانوں میں ان کے پیزے اور پاستے کھاسکتے ہیں تو روز مراه کی زندگیوں میں بھی ان سے تھوڑی احتیاط تھوڑی تمیز سیکھ سکتے ہیں تاکہ بڑے نقصان سے بچ سکیں - 12. عید پر ایسی مزاحیہ وڈیوز اور ٹک ٹاک کو پروموٹ کرنے کی بجاے ایسی تحریروں کو لکھنے کا رجحان بنائیں اور ان کو وائرل کریں جن میں سنجدیگی ہو اور مثبت بات ہو ' کسی کی جان بچانے کی بات ' کسی کی دکان بچانے کی بات - میں جانتا ہوں کہ یہ تدابیر پڑھ کر بہت لوگ ہنس رہے ہونگے کہ یہ پاکستان ہے - یہاں ڈرائیورز کے پاس لائسنس نہی تو قصائی کے پاس کہاں سے ہوگا - لیکن یہ آگاہی دینے میں مجھے کوئی حرج نہی - میرے نزدیک اگر کوئی ایک بھی ان ہدایات پر عمل کرلیتا ہے اور کوئی ایک بھی حادثہ بچ جاتا ہے تو میرا وقت حلال ہوا - یاد رکھیں - عید قربان ایک بہت مقدس فریضہ ہے کوئی ٹکٹاک کا گانا نہی - یہ نبیوں کی سنت ہے - پر پوری سیرت نبوی (صلی اللہ علیھ وسلم ) میں ایسے کوئی واقعہ نہی ملتا جہاں کسی جانور کی قربانی کے وقت کسی دوسرے کو نقصان پہنچا ہو - قربانی ضرور کریں لیکن اپنا جانور قربان کرنے سے پہلے اپنے اندر نمود و نمائش کے حیوان کے گلے پر چھری پھریں ' اپنی بے احتیاط اور لاابالی طبیعت اور غیر سنجیدہ مزاج کی گردن کاٹیں ' تاکہ بس آپ کے جانور کا خون بہے ' کسی ایسے انسان کا نہیں جس کا اس قربانی سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے - شکریہ قلم کی جسارت وقاص نواز -------------------------------------------------------- Noshi Gilani Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Fan
Dr Waqas Nawaz20,100 次观看 • 3 个月前

یہ صاحب اس وی لاگ میں جس معدے کے ڈاکٹر کا ذکر کر رہے ہیں وہ میں ہوں جس نے ان پر پی ٹی وی پر کینسر کے بارے میں اس جھوٹ کو کہ "کرایو تھراپی کیموھراپی کا متبادل ہے " غلط ثابت کیا تھا کیوں کہ یہ کینسر کے علاج کے بنیادی اصول کے ہی منافی ہے کیوں کہ کیوتھراپی اس وقت لگتی ہے جب لیمف نوڈ (lymph node) تک کینسر پھیل چکا ہے یعنی سٹیج تھری - اور اس وقت کوئی کرایو تھراپی کوئی کوبلیشن مشین اس کا علاج نہی کرسکتی - میری اس بات پر یہ مجھے بلاک کر کے بھاگ گیے اور آج اس وی لاگ میں کہ رہے ہیں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر پر کیسے بات کرسکتا ہے - ان کی یہ جہالت چیک کریں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر کے بنیادی اصولوں جو سب ڈاکٹروں کو پتا ہوتے ہیں ' ان پر بات نہیں کرسکتا لیکن ایک نام نہاد صحافی جس کا میڈیسن سے دور دور تک لینا دینا نہی وہ یہ بات پورے اعتماد سے کرسکتا ہے - اس بارے میں میں صحافی شفا یوسفزئی Shiffa Z. Yousafzai کے ساتھ ایک تفصیلی پروگرام بھی کر چکا ہوں جس میں میرے ساتھ ڈاکٹر فیضان ملک جو ایک انکالوجسٹ ہیں وہ بھی موجود تھے اور اس بات کو ہم نے تفصیل سے غلط ثابت کیا تھا کہ کرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہیں ہے - اسی جہالت کی وجہ سے اس وقت بھی پی ٹی وی نے ان کو شو کاز نٹس اشو کیا تھا کہ آپ نے کینسر سے متعلق غلط بات کی ہے اور یہ بات آج بھی اپنی جگہ قائم ہے - اس شخص کا عمران خان اور شوکت خانم کینسر ہسپتال سے بغض اس قدر زیادہ ہے کہ یہ اس کی آگ میں کینسر کے مریضوں کو بھی جھونک سکتا ہے -
Dr Waqas Nawaz45,473 次观看 • 11 个月前

"چل جھوٹی " آج جس وقت سپریم کورٹ میں مریم نواز شریف اپنے جیل میں قید ہونے کے دکھ سنا رہی تھیں کہ "میری تیرہ سالہ بیٹی جب ملنے آتی تھی ' روتے ہویے جاتی تھی" تو عین اس وقت پنجاب کی جیل میں قید ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سے لڑ رہی تھی ' صنم جاوید اور فلک جاوید محض سیاسی بغض میں مہینوں سے جیل میں قید تھیں اور ایمان زینب مزاری محض ایک ٹویٹ پر جیل میں قید چیف منسٹر کی منافقت کو منہ چڑھا رہی تھی - جس وقت مریم نواز جیلوں میں اصلاحات جیسے کہ قیدیوں کیلئے وڈیو کالز ' خاندان سے ملاقات کیلئے الگ کمروں کا ذکر کر رہی تھیں ؛ اس وقت پنجاب کی ہی ایک اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے سات ماہ سے اپنے گھر والوں سے نہیں ملا تھا - اس کے بچوں سے اسکی بات اور اس کی بہنوں سے اسکی ملاقات پر پابندی چیخ چیخ کر اس اداکاری کا پردہ فاش کر رہی تھی - جس وقت مریم نواز یہ کہ رہی تھیں کہ جیل میں قید چاہے کوئی میرا مخالف ہی کیوں نہ ہو ' بنیادی انسانی حقوق پر اس کا حق ہے ' اس وقت جیل میں قید بشری بیبی اپنی بیمار آنکھ پر ہاتھ رکھے اپنے بنیادی انسانی حقوق چھن جانے پر اس جھوٹ اور مکاری پر مسکرا رہی تھیں - اس تقریر کو سننے والے سامنے بیٹھے چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحیی آفریدی کو بھی خوب معلوم تھا کہ یہ سب جھوٹ ' بکواس ' کوڑ اور کذب ہے ' پر وہ بھی اپنی تنخواہ والی ڈیوٹی پوری کر رہے تھے یعنی سر ہلا رہے تھے - اور اس ہال میں موجود ہر چیز ہر در و دیوار ہر کرسی و محراب سمیت ہرشخص تقریر کے دوران جس طرح مسکرا رہا تھا مجھے لگ رہا تھا کہ زبان حال سے جیسے کہ رہا ہو "چل جھوٹی " --------------------------------------------------- Sabir Shakir Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Maryam Riaz Wattoo
Dr Waqas Nawaz12,194 次观看 • 2 个月前

"ماضی کے منیب فاروق اور غریده فاروقی " غلاظت اور کالک میں ایک بہت خاص بات ہوتی ہے - یہ ہمیشہ اندر چھپی نہی رہ سکتی - کالک باہر آتی ہی آتی ہے اور اپنا داغ دکھاتی ہی دکھاتی ہے - اسی غلاظت عیاں ہو کر اپنا تعفن واضح کرتی ہی کرتی ہے کیوں کہ اس کی سرشت میں ہی یہی ہے کہ یہ خود اپنی قباحت عیاں کرے - اس کلپ میں بھی یہی ہورہا ہے - ماضی کی غلاظت اور کالک آج خود کو خود عیاں کر رہی ہے اور ایسا کرتے ہویے ذرا بھی شرم ' بھرم ' ندامت ' ہزیمت اور قباحت محسوس نہی کر رہی - خیر ان کا حال دیکھ کر بھی ان کے ماضی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر آج یہ مصلحت کے شامی ہیں تو تب بھی کونسا کوئی “چی گویرا” ہونگے - آج بھی گوبر کو "گجریلا" ثابت کرتے ہیں اور تب بھی بلغم کو "مقیت شہد" لکھتے ہونگے میں نے ہمیشہ لکھا ہے کہ ہر دور میں ایسے صحافی رہے ہیں جو اپنے قلم سے آمروں اور ڈکٹیٹرز کے بوٹوں میں تسمے ڈالتے رہے ہیں - آج اگر آپ کو غریده فاروقی ' طلعت حسین ' ' منیب فاروق ' حسن ایوب اور کامران شاہد نظر آتے ہیں تو ماضی میں بھی مجیب شامی جیسے صحافی موجود رہے ہیں جو آج بہت فخر سے بتا رہے ہیں کہ "ہم کس طرح ڈکٹیٹر ضیاء کو قائل کرتے تھے کہ سیاسی جلسوں پر پابندی ہونی چاہیے' بیانیہ تو وہ ہے جو ہم جیسے صحافی آپ کیلئے بنا ہی دیں گے ' لیکن آپ کو انتخاب سے پہلے احتساب کروانا چاہیے وغیرہ وغیرہ" اسی طرح بیس تیس سال بعد کوئی غریده فاروقی' کوئی حسن ایوب' منیب فاروق بیٹھا ہنس ہنس کر بتا رہا ہوگا کہ کس طرح ہم 26 نومبر 2024 کا دفاع کرتے تھے’ کس طرح چھبسویں اور ستائیسویں ترامیم کو “آب حیات” قرار دیتے تھے ‘ اور کس طرح آمروں کو کہتے تھے کہ فروری 2024 کے انتخاب میں آپ جو مرضی گند کرلیں ‘ ہم عوام میں آپ کی مرضی کا بیانیہ بنالیں گے - اس مملکت خدا داد نے بھی کیا نصیب پایا ہے - آمر ملے تو ہٹلر ' منصف ملے تو سوداگر سیاستدان ملے تو گداگر اور صحافی ملے تو ......... بنجر (جو آپ سننا چاہ رہے ہیں وہ لفظ میں نہیں لکھونگا کیوں کہ میں گالیاں نہیں لکھتا 😊 )
Dr Waqas Nawaz35,731 次观看 • 8 个月前