Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

کسی کو سزا کسی کو جزا ( جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے) ملک میں کچھ بھی ہوجاے پاکستانی پولیس نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا - کسی بھی معاملے میں جو کرنا چاہیے ' اس کے بالکل متضاد اور برعکس کرکے ہمیشہ میری امید پر یہ...

28,564 Aufrufe • vor 3 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

"اس حمام میں سب ننگے ہیں " آج اسلام آباد میں یونیورسٹی میں جو ہوا اس پر سب سے زیادہ تشویشناک بات نہ فوجی کا گولی چلانا ہے نہ طلباء کا کسی خاتون پر آواز لگانا یا فوجی کی پھینٹی لگانا ہے - ان دونوں باتوں سے زیادہ تشویشناک بات صحافیوں اور سوشل میڈیا پر فریقین کے سپورٹرز کے دلائل ہیں جو اس قدر متعصب اور جذباتی ہیں کہ ان کے درمیان سات سمندروں کا فاصلہ ہے - ایک طرف ایک گروپ کے دلائل میں اس واقعہ سے زیادہ وہ حالات نظر آتے ہیں جن کا اس ملک کو پچھلے کئی سال سے سامنا ہے تو دوسری طرف کے گروپ کے دلائل میں خوشامد اور "غیرت " کا وہ منجن نظر آتا ہے جس کے مطابق آرمی جو بھی کرتی ہے "قوم کے وسیع تر مفاد میں کرتی ہے " اور ایسا کرنا "غیرت کی نشانی " تھا -- یوں یہ یونیورسٹی کا یہ جھگڑا اس ملک میں سویلین اور عسکری اداروں کی لڑائی معلوم ہونے لگتی ہے - چلیں اس ب دلائل کا پوسٹمارٹم کرتے ہیں - کرنل صاحب کے حق میں دلائل دینے والے بہت سے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک یہ دلیل ہے کہ "کسی کی بھی بیوی کو جب ایک گروہ تنگ کریگا تو اس کی غیرت کا تقاضہ ہے کہ پھر وہ ایسا ہی کرے جیسا کرنل صاحب نے کیا " - ایسے ہی لوگوں کے ایسے غیرت والے "بے غیرت " قسم کے دلائل کی وجہ سے اس ملک سے "غیرت پر قتل " کا رواج آج تک قائم ہے کیوں کہ کوئی بھی غیر قانونی کام کرتے ہویے ان کی بھی یہی دلیل ہوتی ہے - غیرت کے علمبردار ان لوگوں سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ مئی 2023 کو ایک لڑکی طیبہ راجہ Tayyaba Rajah🇵🇰 کے بال ایک رینجرز نے کیمروں کے سامنے کھینچے تھے اور اسکو گھسیٹتا ہوا سڑک کے ایک طرف لے گیا تھا -پورے پاکستان نے یہ منظر دیکھا تھا - وہاں اگر طیبہ کا باپ یا بھائی اس رینجر پر پستول تان لیتا یا ہوائی فائر مارتا تو اس کو بھی یونہی غیرت مند کا ٹائٹل ملتا ؟ ہر گز نہیں - اس کو دہشت گرد کہ کر اس پر انسدادی دہشت گردی کا مقدمہ چلتا' اس کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوتا اور اس کے بعد کوئی اس کی شکل نہ دیکھ پاتا - تو اگر غیرت بس فوجی کی بیوی یا بیٹی کی دفعہ ہی جاگتی ہے تو ایسے دلائل دینے والوں میں خود غیرت کا فقدان ہے جس کیلئے ان کو غیرت کے ٹیکے لگوانے چاہیے - ایک اور مثال دیتا ہوں - نومبر 2024 میں اسی اسلام آباد میں کنٹینر پر ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا - اس کو بغیر کسی دست درازی کے رینجرز نے اٹھا کر 25 فٹ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا تھا - اس کو دیکھ کر اگر وہاں موجود مجمع "اسلامی غیرت " کے تحت ان رینجرز پر حملہ کر دیتا تو کیا آج بھی ان درباریوں اور حواریوں کی یہی دلیل ہوتی ؟ ہر گز نہی - تب ان لوگوں کو "آتنک وادی " اور "را کا ایجنٹ " کہا جاتا اور اس کے بعد وہ لاپتہ ہوجاتے - سو یہ کیسی غیرت ہے کہ جو بس صاحب اختیار کی ہو تو " مرد کی غیرت" ' اور کمزور کی ہو تو "مال غنیمت " - اس غیرت والے منجن کی دلیل دے کر یہ لوگ مستقبل میں اس بات کی رواج پیدا کردینگے کہ جس کی بھی بہن پر کوئی ہوٹنگ کرے ؛ وہ کالج میں ڈسپلن کمیٹی کے پاس جانے کی بجاے بندوق لے کر ہوائی فائرنگ شروع کردے - ان خاتون کو بھی وہاں کھڑی پولیس سے بات کرنا چاہیے تھی '- وہ ایک ڈاکٹر تھی ' پروفیسر تھیں - پروفیشنل تھیں - ان طلباء کے خلاف یونیورسٹی کی ڈسپلن کمیٹی بلانی چاہیے تھی پر انہوں نے بھی سیدھا ٹرپل ون بریگیڈ کو بلانا مناسب سمجھا جو ان کے اندر موجود اس احساس کا ترجمان ہے کہ "میرا شوہر کرنل ہے " - یونیورسٹی میں وردی پہن کر آنا غلط نہیں ' ایسا ہوسکتا ہے وہ کام پر جارہے ہوں اور وہاں سے آگیے ہوں - غلط اس وردی کا رعب جھاڑنا ہے اور اس کے زعم میں ہوائی فائر کرنا ہے جو سرحد پر زیادہ اچھے لگتے ہیں ' سویلین پر نہیں - ہر سڑک "ڈی چوک " اسلام آباد نہی ہوتی نہ ہر تاریخ نو مئی یا 26 نومبر ہوتی ہے - عادتیں بدلیں ؛ کہ اب لوگ بدلتے جارہے ہیں - اس پورے واقعہ کا ایک اور پہلو وہاں موجود پولیس کی اس فوجی کو روکنے اور بندوق چھیننے میں ہچکچاہٹ بھی ہے کیوں کہ اس ملک کا ماحول ہی ایسا ہے کہ کوئی بھی وردی والوں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی قانون کیوں نہ توڑے - وہ کوئی سیاست دان ہو ؛ یا جج ہو یا صحافی ہو یا پولیس والا - قانون توڑنے والے اس ہاتھ کو روکنے سے ڈرتا ہے کیوں کہ ان کو بعد میں اپنے انجام سے ڈرلگتا ہے - مجھے یقین ہے وہاں کھڑے ان پولیس والوں کو بہاولنگر میں آرمی کے ہاتھوں پولیس والوں کی ٹھکائی ضرور یاد آتی رہی ہوگی - دوسری طرف یہ بھی ٹھیک نہیں ہوا کہ پورا مجمع ایک عورت اور ایک پروفیسر پر جملے بازی کرے - احتجاج کی حد تک ٹھیک تھا ' زبان درازی اگر ہوئی تو اس کی توجیح ہر گز نہیں دی جاسکتی اور ایسے سٹوڈنٹس کے خلاف بھی ڈسپلن کمیٹی کی کاروائی اور سسپینشن بنتی تھی - اگر ان سٹوڈنٹس نے بھی اس عورت کو محض اس لیے ہوٹنگ کا نشانہ بنایا کہ وہ ایک آرمی کے کرنل کی بیوی تھی تو یہ بھی انتہائی پست ذہنیت کی عکاسی ہے - سٹوڈنٹس کو اپنے غصے اور جذبات میں اس وقت کے واقعات کو حاوی رکھنا چاہیے ' کسی پرانے بغض یا اس عورت کے رشتے یا تعلقات کو نہیں - یہ جذباتی کمزوری (Emotional cowardice) کی نشانی ہے جو قابل مذمت ہے - اس پورے معاملے میں زیادہ ذمے داری کرنل صاحب پر عائد ہوتی ہے - وہ اس لئے کہ وہ ایک ادارے کا یونیفارم پہن کر یہ سب کر رہے تھے - وہ ادارہ جس سے لوگ ویسے ہی نالاں ہیں - غصے میں ہیں - یہ ان کا کینٹ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی جہاں جھگڑا ہو بھی جائے تو آرمی نہی آتی ' پولیس آتی ہے - وہاں پولیس موجود تھی - ان پولیس والوں کے سامنے پہلے لڑکے کو تھپڑ مارنے میں پہل کرنا ' سٹک سے مارنا اور پھر وردی میں آ کر پستول چلانا سیدھا سیدھا اختیارات کا ناجایز استعمال اور اپنی وردی کا غرور تھا ' کوئی غیرت یا سیلف ڈیفینس نہی -- یہ حرکت کسی سویلین تو دور کسی پولیس والے نے بھی آرمی والوں کے ساتھ کینٹ میں کی ہوتی تو اس کا ووہی حال ہوتا جیسا دو سال قبل بہاولنگر میں ہوا تھا جہاں آرمی کی پوری پلٹن نے جا کر پولیس والوں کو وردی میں ٹھڈوں سے مارا تھا اور بعد میں اس پر معافی بھی آئ جی پنجاب نے مانگی تھی - یہ بات کہ اس کرنل کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑیگا اور ملٹری اس کو سزا دے گی ' یہ تو اور بھی زیادہ قابل تنقید کیوں کہ یہ "کونفلیکٹ آف انٹرسٹ " "Conflict of interest" ہے - جب ایک سویلین کسی کینٹ میں جا کر کوئی دنگا فساد کرتا ہے تو اس کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوتا ہے - رائٹ؟ ہم نے تو اس ملک کی عدالتوں سے یہی سیکھا ہے - تو پھر جب ایک کرنل کسی سویلین یونورسٹی میں جاکر وردی کا غلط استعمال کر کے ہوائی فائر کرتا ہے تو اس کو کسی تھانے میں کیوں نہیں بند کیا جاتا ' کسی سویلین کورٹ میں جہاں تاریخ بھی مہینوں بعد آتی ہے ' وہاں کسی فزیکل کسی جوڈیشل ریمانڈ پر کیوں نہیں دیا جاتا ؟ اگر میری بات میں وزن نہی تو وضاحت کردیں - اس پورے واقعہ نے صرف ہماری آرمی نہیں بلکہ ہر صاحب اختیار آدمی کی ذہنیت آشکار کی ہے - میں محض آرمی میں موجود چند آئین شکن افراد کے بغض میں یہ ہر گز نہی کہونگا کہ ایسا بس ہماری آرمی والے ہی کرتے ہیں - یہاں کوئی سیاست دان یا وڈیرہ بھی ہوتا ؛ کوئی بیوروکریٹ یا کمشنر بھی ہوتا ؛ کوئی ایس پی یا آئ جی بھی ہوتا ' وہ بھی ایسی ہی رعونت دکھاتا ' ایسے ہی اختیار یا وردی کا رعب جھاڑتا کیوں کہ اس ملک میں قانون اور آئین یا صرف کتابوں میں رٹا مارنے کیلئے ہیں یا پارلیمنٹ اور عدالتوں میں "شکن " ہونے کیلئے ہیں - - حقیقت میں قانون سامنے نیلی وردی میں کھڑا بھی ہو تو اختیار والا اپنی خاکی وردی کا رعب جھاڑنا نہیں بھولتا اور اس حمام میں کیا فوجی ؛ کیا ایس پی ' کیا چوہدری ' کیا ایڈووکیٹ ' کیا کمشنر کیا منسٹر -- ہم سب ہی ننگے ہیں - "قلم کی جسارت وقاص نواز " -------------------------------------------------------

Dr Waqas Nawaz

18,703 Aufrufe • vor 10 Tagen

"ایک چھری اپنی غیر سنجیدگی پر بھی پھیر " (کیوں کہ یہ نبیوں کی سنت ہے ؛ کوئی ٹک ٹاک نہی ) ہمارا معاشرہ اپنی زندگیوں میں کس قدر غیر سنجیدہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پوری بڑی عید پر سوشل میڈیا اس طرح کی وڈیوز سے بھرا رہا جس میں کہی کوئی بیل قصائی کو ٹکر مار کر بھاگ رہا ہے تو کہیں کوئی ویڑآ کسی دکان میں گھس کر وہاں شیشے توڑ رہا ہے - کہیں کوئی بیل چھت سے گر رہا ہے اور کہیں کوئی قصائی دوڑ رہا ہے اور بیل اس کے پیچھے پیچھے ہے - ایک وڈیو میں قصائی کے پاؤں میں رسی پھنسی ہے اور بیل بھاگ رہا ہے اور قصائی پیچھے پیچھے گھسیٹتا جارہا ہے اور بیک گراونڈ میں ٹک ٹاک والا سستا گانا چل رہا ہے - ان سب وڈیوز کو اکثر ازراہ مذاق اور طفنن پیش کیا گیا ہے (جیسا کہ اس وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے جو میں نے یہاں لگائی ہے جس کے شروع میں ہی بنانے والے نے لکھا ہے کہ یہ میں نے "تفریح کیلئے " بنائی ہے ) جہاں کومنٹس اور پیچھے لگا میوزیک یہ چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ ہمارے ہاں کسی انسان کے اوپر بیل کا چڑھ جانا اب ایک عام بات ہے - کسی انسان کا نیچے گر جانا اب بس دیکھنے والوں کیلئے ایک مذاق رہ گیا ہے - ہے یہ مذاق ہے بس تب تک جب تک وہ انسان آپ کا اپنا باپ یا بھائی نہ ہو یا اپ خود نہ ہوں - کسی جگہ میں نے ایسے واقعات کی مذمت اور ان کی روک تھام کیلئے کوئی تحریر نہی دیکھی نہ کوئی ایسی وڈیو نظر سے گزری - چلیں امریکا چلتے ہیں - یہاں امریکا میں اس سال قربانی کی - ایک فارم ہاؤس پر بکرا خریدا - اس کو پسند کیا - اس کا نام رکھا - لیکن اس کو گھر لانے کی اجازت نہی تھی - عید کے دن نماز پڑھ کر فارم پر گیے - اپنے سامنے وہی اس کو چھری پھروائی' پروفیشنل قصائی نے اس کی کھال اتاری ' اس کا گوشت کاٹا' لیکن کسی سڑک پر نہیں ' بلکہ ایک خاص جگہ پر جو چار دیواری تھی' آبادی سے دور تھی تاکہ جانور بھاگے بھی تو کسی کو نقصان نہ پہنچاسکے - پہلے مجھے یہ سب بہت عجیب لگتا تھا - یہ کیا بات ہوئی کہ سڑک پر نہ کوئی جانور نہ کوئی خون- یہ کیسی عید ہوئی - یہ کیا بات ہوئی - پر پھر مجھے اعداد و شمار نظر آیے جو میں نے سوشل میڈیا پر بہت کم دیکھے - محض اس سال 2026 میں عید کے صرف پہلے دن پاکستان میں چودہ ہزار لوگ جانوروں کو ذبح کرتے ہویے زخمی ہویے - یہ ڈیٹا ابھی ان حادثات کا ہے کہ جن واقعات میں لوگوں کو ہسپتال لیجانا پڑا یا 1122 کو بلانا پڑا - جن وڈیوز کی میں بات کر رہا ہوں وہ ان کے علاوہ ہیں - ان جانوروں کو جس اناڑی طریقے سے ذبح کیا جاتا ہے اور پھر جب وہ رسی تڑوا کر بھاگتے ہیں ان سے ہونے والے گاڑیوں کے نقصانات کا تخمینہ ایک ہزار سالانہ سے زیادہ ہے - یہ ہر سال ہوتا ہے - اس کے باوجود نہ میں کسی اتھارٹی کی طرف سے کوئی خاص اقدامات دیکھتا ہوں نہ عوام کی طرف سے کوئی خاص احتیاط - کسی بیل کو جب بس تین چار اناڑی لوگ ذبح کر رہے ہوتے ہیں تو بچوں سمیت عوام کا جم غفیر پاس کھڑا ہوتا ہے اس بات سے بے نیاز کے جب یہ بیل بھاگے گا تو کسی بچے پر چڑھ جائیگا - اس کے برعکس جب ایسا ہوتا ہے تو بچے کو بچانے والے کی ٹک ٹاک تو بہت وائرل ہوتی ہیں پر ایسا کوئی پلان واضح نہیں ہوتا کہ آئندہ ایسا نہ ہو - نہ ماں باپ پر کوئی پوچھ گچھ ہوتی ہے کہ اتنے چھوٹے بچے کے ساتھ آپ وہاں کیوں کھڑے تھے نہ بیل کے مالک سے سوال ہوتا ہے کہ آپ نے ذبح کرنے سے پہلے ایسی جگہ کا انتخاب کیوں نہی کیا جہاں اگر بیل بھاگے بھی تو باقی لوگوں یا املاک کا نقصان نہ ہو - نہ اس قصائی کا کوئی لائسنس ہوتا ہے کہ بھائی آپ واقعی پیشہ ور قصائی ہیں یا دو دن کیلئے مزدور اور حجام سے قصائی بنے ہیں اور اپنے سے پچاس گنا وزنی بیل کو گرانے کی کوشش میں معصوم بچوں اور لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں تو اس کا کوئی تو لائسنس ہوگا ' وہ دکھا دیں - الغرض میں ہر سال ایسی وڈیوز پر بس عوام کے قہقہے اور اقوال زریں کہ "جسے الله رکھے اسے کون چکھے " دیکھتا رہتا ہوں پر ان واقعات کے سدباب سے متعلق نہ کوئی تحریر پڑھنے کو ملتی ہے نہ کوئی انتظام یا قانون دیکھنے کو نظر آتا ہے - نہ کسی عالم کی طرف سے کوئی رہنمائی سامنے آتی ہے نہ میڈیا پر ایسی کوئی کیمپین دیکھنے کو ملتی ہے - اس تحریر کو پڑھ کر مذھب کے ایک فریضے پر اعتراض کرنے یا میرے مذھب بیزار ہونے کا فتوی لگانے سے پہلے اس کو دوبارہ پڑھیں اور پھر ہسپتال میں کسی قصائی یا بچے سے مل کر آئیں جس کا کولہا فریکچر ہوگیا ہو یا جس کا سر پھٹ گیا ہو - یا کسی ایسے دکان والے سے ملکر آئیں جس کی کل جمع پونجی کسی کے جانور کی سرعام قربانی کی نذر ہوگئی اور جس نے وہ دکان بنانے کیلئے قرضہ لیا تھا جو اب ٹوٹ پھوٹ گئی ہے اور یہی دکان اس کے خاندان کا واحد روزگار تھی - آپ قربانی ضرور کریں ' ہر سال کریں ' لیکن بس اپنے جانور کی قربانی کریں ' کسی کی کمر کی نہی ' کسی کی ہڈی کی نہیں ' کسی کی دکان کی نہی ' کسی کی گاڑی کی نہیں - اگر ہر سال ان احتیاطوں کو کرلیا جائے تو ممکن ہے کہ ہمیں ٹک ٹاک پر لطیفے اور سستی وڈیوز تو نہ ملیں پر عوام محفوظ ضرور ہوجائیں گے : 1. کسی بھی بیل یا ویڑے کو سڑک پر باندھنے کی پابندی ہونی چاہیے- اس کیلئے ایسی جگہ ہو جو چار دیواری والی ہو اور اگر کسی کے پاس ایسا انتظام نہیں تو اس کو بکرا لینا چاہیے ' بیل نہی - 2. جانور منڈیاں شہری آبادی سے دورہوں ' اور وہاں سے جانور لانے کیلئے کسی چنگچی کسی کھلی گاڑی کسی رکشے پر پابندی ہونی چاہیے - ایسی خاص گاڑیاں حکومت کی طرف سے چلائی جائیں جن میں جالی لگی ہو تاکہ جانور کو بغیر کسی حادثے کے دوسری جگہ پہنچایا جاسکے - 3. بیل اور ویڑوں کو گھروں میں لانے پر پابندی ہو - ان کو وہی رکھا جائے جہاں سے خریدا گیا ہو یا ایسے کھلے پلاٹ یا ایک خاص جگہ ہو جہاں ان کو باندھا جائے اور وہی قربان کیا جائے اور اس چیز کو حکومت خود ریگولیٹ کرے - 4. سڑک پر کسی بھی بیل کی قربانی قابل سزا جرم ہو - اس کیلئے لازمی ہو کہ چار دیواری والی جگہ ہو جہاں کسی بھی بچے کو لیجانا جرم ہو - بچوں نے دیکھنا ہو تو اوپر چھت سے دیکھیں یا وڈیوز میں دیکھیں لیکن تیس فٹ تک وہاں کوئی بچہ یا ایسا بندہ نہ کھڑا ہو جس کا اس قربانی سے کوئی تعلق نہی ہے - 5. جانور کی قربانی کرنے والا کوئی پروفیشنل قصائی ہو جس کا باقاعدہ لائسنس ہونا چاہیے - وہ عام دنوں میں بھی قصائی ہی ہو اور اس کے ساتھ کم سے کم پانچ چھے ایسے افراد ضرور ہوں جو جانور کو گرانے اور اس کو سنبھالنے میں مہارت رکھتے ہوں - 6. عید سے پہلے قصائی حضرات کی ٹریننگ کا طریقہ وضع کیا جانا چاہیے اور حکومت کی طرف سے یا محلوں کی سطح پر ایسی ورکشاپس ہونی چاہیے جن میں ان لوگوں کی ٹریننگ ہو اور اس کے بعد ہی ان کا اس سال کا قربانی کا لائسینس رینیو کیا جائے - 7 . جانور کو گرانے کا ایک آفیشل طریقہ حکومت کی طرف سے لاگو ہونا چاہیے اور اسی طریقے سے جانور کو گرایا جانا چاہیے - اور ان پابندیوں کو لوکل کمشنر اور بیوروکریسی کے افراد خود دیکھیں - 8 . کسی بھی بیل کو کرین سے اوپر یا نیچے لیجانے پر سخت پابندی ہونی چاہیے - یہ نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس قربانی کے جانور کی بھی توہین ہے جو کبھی چھت سے نیچے گر رہا ہے اور کبھی چھت پر لیجاتے ہویے پھسل رہا ہے - 9 . اگر کسی کے پاس ان جانوروں کو محفوظ طریقے سے رکھنے اور قربان کرنے کا انتظام نہی ہے تو ان کو پھر قربانی میں حصہ ڈالنا چاہیے اور ایسے فارمز اور کھلی جگہیں ہونے چاہیے جہاں ان جانوروں کو رکھا جائے جن میں لوگوں نے حصہ ڈالا ہو - 10 . جس کے جانور سے کسی کی گاڑی یا دکان کا نقصان ہو وہ شخص اس نقصان کو پورا کرنے کا پابند ہو اور اس کو حکومت کی طرف سے بھی اتنے سخت جرمانے کیے جائیں کہ لوگ ان قربانیوں کو نمائش اور تفریح کی بجاے ایک مقدس فریضہ سمجھ کر تمیز اور احتیاط سے انجام دیں - 11 . ایسے ماں باپ کی پولیس سے بازپرس ہونی چاہیے جو بچوں کو لے کر ذبح ہوتے بیل کے سر پر کھڑے ہوتے ہیں - امریکا میں بچے کو گود میں لے کر گاڑی کی اگلی سیٹ پر بٹھانا ہی اتنا بڑاجرم سمجھا جاتا ہے کہ ڈرائیور کا لائسنس کینسل ہوسکتا ہے کیوں کہ ان کے ڈیٹا کے مطابق حادثے کی صورت میں اگلی سیٹوں والوں کا زیادہ نقصان ہوتا ہے - اگر ہم فیشن میں مغرب کی نقل کرسکتے ہیں ' کھانوں میں ان کے پیزے اور پاستے کھاسکتے ہیں تو روز مراه کی زندگیوں میں بھی ان سے تھوڑی احتیاط تھوڑی تمیز سیکھ سکتے ہیں تاکہ بڑے نقصان سے بچ سکیں - 12. عید پر ایسی مزاحیہ وڈیوز اور ٹک ٹاک کو پروموٹ کرنے کی بجاے ایسی تحریروں کو لکھنے کا رجحان بنائیں اور ان کو وائرل کریں جن میں سنجدیگی ہو اور مثبت بات ہو ' کسی کی جان بچانے کی بات ' کسی کی دکان بچانے کی بات - میں جانتا ہوں کہ یہ تدابیر پڑھ کر بہت لوگ ہنس رہے ہونگے کہ یہ پاکستان ہے - یہاں ڈرائیورز کے پاس لائسنس نہی تو قصائی کے پاس کہاں سے ہوگا - لیکن یہ آگاہی دینے میں مجھے کوئی حرج نہی - میرے نزدیک اگر کوئی ایک بھی ان ہدایات پر عمل کرلیتا ہے اور کوئی ایک بھی حادثہ بچ جاتا ہے تو میرا وقت حلال ہوا - یاد رکھیں - عید قربان ایک بہت مقدس فریضہ ہے کوئی ٹکٹاک کا گانا نہی - یہ نبیوں کی سنت ہے - پر پوری سیرت نبوی (صلی اللہ علیھ وسلم ) میں ایسے کوئی واقعہ نہی ملتا جہاں کسی جانور کی قربانی کے وقت کسی دوسرے کو نقصان پہنچا ہو - قربانی ضرور کریں لیکن اپنا جانور قربان کرنے سے پہلے اپنے اندر نمود و نمائش کے حیوان کے گلے پر چھری پھریں ' اپنی بے احتیاط اور لاابالی طبیعت اور غیر سنجیدہ مزاج کی گردن کاٹیں ' تاکہ بس آپ کے جانور کا خون بہے ' کسی ایسے انسان کا نہیں جس کا اس قربانی سے کوئی لینا دینا بھی نہیں ہے - شکریہ قلم کی جسارت وقاص نواز -------------------------------------------------------- Noshi Gilani Moeed Pirzada Imran Riaz Khan Fan

Dr Waqas Nawaz

20,100 Aufrufe • vor 3 Monaten

سوال: اچھا مولانا صاحب ملک کے بہتر مفاد میں آپ عمران خان سے بھی مل سکتے ہیں ان کو شامل ہونے کی دعوت دے سکتے ہیں؟ جواب: دیکھیے ہر چیز باوقار انداز سے ہو اس میں کوئی شک نہیں کہ دس بارہ سال ہم ایک دوسرے کے بڑے مد مقابل رہے ہیں اور ہمارے بڑے تحفظات ہیں اور ان کو اگر دور کیا جاتا ہے تو ہم سیاسی لوگ ہیں مذاکرات سے بھی انکار نہیں کریں گے اور مذاکرات کے لیے اگر ماحول بنتا ہے تو اس کی بھی حوصلہ افزائی کریں گے ہم کوئی مستقل جھگڑے اور جنگ اور تلخیاں اس کو باقی رکھنا نہ ملک کے مفاد میں سمجھتے ہیں نہ ہمارے سوسائٹی کے مفاد میں ہے۔ سوال: آپ کی طرف سے ویلکم ہے عمران خان کے لیے۔۔ تو یہ ذرا واضح کیجیے گا اگر آپ کو ضرورت پڑتی ہے یا۔۔۔۔ جواب: میرے پاس ان کے دو وفود آئے ہیں اس کے باوجود ان کے لوگ جو ہیں وہ مجھے مسلسل مل رہے ہیں چاہے آف دی ریکارڈ مل رہے ہیں یا میڈیا کے سامنے بھی مل رہے ہیں تو ملتے ہیں اور یہی گفتگو چل رہی ہے کہ آپس کے جو تحفظات ہیں کس طرح ان کو دور کرنے کے لیے ماحول بنایا جائے۔ سوال: مولانا صاحب ابھی آپ نے فرمایا کہ 10 12 سال کی تلخیاں تھی اب آپ سیاسی طور پر کہہ رہے ہیں کہ سیاسی لوگ دروازے کھلے رکھتے ہیں تو جو سب سے زیادہ پچھلے سات آٹھ سالوں میں آپ کی طرف سے الزام کہ یہ یہودی لابی ہے تو یہ سیاسی تلخیاں ختم ہوں گی تو آپ ان کو یہودی لابی سے مسلمان لابی میں کیسے دیکھیں گے؟ جواب: یہ بات ذہن میں رکھے اگر ہم نے برصغیر کی سیاست میں کسی کو انگریز کا ایجنٹ کہا ہے یا ہم نے عالمی سطح پر کسی کو امریکہ کا ایجنٹ کہا ہے تو یہ عنوان ہے یہ گالی نہیں ہے مطلب یہ ہے کہ جو عالمی سطح پر ایک ورلڈ وائڈ جو ایکنامک نیٹ ورک ہے اور اس کے اوپر جو جیوش کی ایک بالادستی ہے جب میں دیکھوں گا کہ میرے ملک کو بھی اس نیٹ ورک کے اندر ڈالا جا رہا ہے اور یہاں پر میں سود کے خاتمے کی بات کرتا ہوں اور میں مکمل طور پر عالمی سطح پر سودی نظام کے اندر جا رہا ہوں ان کی معیشت کے اصولوں کے مطابق چلوں گا تو اس سے میرا اختلاف ہوگا اب اس اختلاف کا عنوان اگر یہ ہے کہ یہودی ایجنٹ تو اس کو گالی کیوں کہا گیا اس کو سنجیدگی سے لینا چاہیے تھا مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں اگر میں کہتا ہوں کہ قادیانیوں کو دوبارہ مسلم سٹیٹس پاکستان میں دینا یہ میرے تحفظات ہیں بجائے اس کے کہ آپ مجھے اس کے بدلے میں گالیاں دیں آپ مجھے مطمئن کریں میں پاکستان کا شہری ہوں میرے پیچھے کچھ لوگ ہیں ان کے ایک سوچ ہے ان کے تحفظات ہیں میں ان کے نمائندگی کر رہا ہوں اگر میں کہتا ہوں کہ پاکستان میں مغربی تہذیب کو فروغ دیا جا رہا ہے اور ہماری اسلامی اور مشرقی تہذیب جو ہے اس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے اس کے بدلے میں گالی دینے کی بجائے مجھ سے پوچھا جائے مجھ سے بات کی جائے سیاستدان کا کام یہی ہوتا ہے اگر میں نے آپ کے اوپر کوئی اعتراض کیا ہے یا آپ کے ساتھ میں کوئی ایک تحفظات کا اظہار کیا ہے تو اپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یہ بات کہے کہ فضل الرحمان یہ بات آپ کیوں کر رہے ہیں مجھے تاکہ جب میں آپ کے ساتھ اپنی بات رکھوں تو آپ یا مجھے مطمئن کر سکیں اس بات پر کہ میں میرے ایجنڈا نہیں ہے یا یہ کہ یہ میرا ایجنڈا ہے اور آپ کے مفاد کے لیے ہے کچھ تو کرنا پڑے گا نا جی تو یہ چیزیں جو ہیں ان کو سیاسی طور پر ہم لے رہے ہیں اور آج جب ان کے لوگ آئے ہیں اگر یہ لوگ 12 سال پہلے بھی اتے تب بھی میرے یہی ایٹیٹیوڈ ہوتا اور اگر آج آئے ہیں تب بھی میرا وہی ایٹیٹیوڈ ہے

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

17,018 Aufrufe • vor 2 Jahren

"کیا زخموں کی شماری بتآئیگی ملک سے یاری ؟" آج کی پریس کانفرنس کا سب سے نرالہ اور خطرناک مطلب یہ تھا کہ آج ڈی جی ای ایس پی آر کی طرف سے حب الوطنی کا ایک نیا معیار سیٹ کیا گیا ہے - ماضی میں کسی لیڈر کو ایجنٹ کہ دینا یا کسی کو غدار یا دشمن کا آلہ کار کہ دینا تو سنا تھا پر یہ معیار کہ جس جماعت کے زیادہ لوگ دہشت گردی کا شکار ہویے ہیں وہ زیادہ حب الوطن ہے جبکہ جس جماعت کے لوگ اس کا شکار نہیں ہوتے وہ دہشت گردوں کی سہولت کار اور ہمنوا ہے' بہت ہی خطرناک ہے - یہ بات نہ صرف حقائق کے منافی ہے بلکہ اس منصب اور ڈیوٹی کے بھی برعکس ہے جسکے تحت ملک کے اداروں کا کام یہاں سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہے نہ کہ دہشت گردوں کو نیے نیے ٹارگٹ دکھانا - 1. کی پی کے صوبے کے اسی ہزار سے زیادہ عوام دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں تو کیا اس کا یہ مطلب ہوگا کہ پنجاب یا سندھ کے لوگ کم حب الوطن اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ؟ 2. پیپلز پارٹی کی لیڈر بے نظیر کو شہید کیا گیا پر آج تک مسلم لیگ نواز کے کسی بڑے لیڈر کو یوں قتل نہی کیا گیا ' تو کیا یہ پیپلز پارٹی کو "محب الوطن " اور نواز لیگ کو ملک دشمن ثابت کرتا ہے ؟ 3. جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو یہ بات حقائق کے ہی برعکس ہے کہ ان کے لوگوں کو کبھی دہشت گردوں نے نشانہ نہیں بنایا - 2024الیکشن کے دوران اکرام الله گنڈا پور کا قتل ہو یا بونیر میں کی پی کے کے چیف منسٹر کے مشیر خاص سردار سوران سنگھ کا قتل ہو جس کی ذمے داری تحریک طالبان نے قبول کی تھی ' تحریک انصاف کے ممبر ملک لیاقت علی خان پر گولیاں چلنا ہو یا بلوچستان میں تحریک انصاف کی ریلی میں خود کش حملے کے نتیجے میں چار لوگوں کا ہلاک ہونا ہو ' یہ حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ پر اپنے خون کی مہر ثبت کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہیں ؟ 4. نومبر 2022 میں عمران خان خود دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں - وزیر آباد میں ان پر جو گولیاں چلائی گئیں' کیا وہ دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتی ؟ اور اگر نہیں آتی تو پھر اس کا یہ مطلب کیوں نہ لیا جائے کہ وہ ان کی طرف سے ہی تھا جو آج ایک ادارے سے ایک سیاسی جماعت بن چکے ہیں ؟ 5. جہاں تک یہ بات کہ بس ایک جماعت ہی ملٹری آپریشن کے خلاف ہے ' حقائق کے منافی ہے - دہشت گردی کے خلاف ملٹری آپریشن کا فیصلہ محض تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پورے صوبے کی تمام جماعتیں اور جرگے "امن جرگہ " میں اسی رایے کا اظہار کر چکے ہیں تو کیا اب ان سب کو بھی اپنے لاشے بچھانے پڑیں گے تب جا کر ان کی نیت پر اداروں کو یقین آئیگا ؟ 6. اور اگر اسی منطق پر چلنا ہے تو آج تک کسی تھری یا فور سٹار جرنیل کو بھی تحریک طالبان نے ڈائریکٹ ٹارگٹ نہی کیا ' تو کیا پھر ان کو بھی سہولت کار سمجھا جائے اور ان کی حب الوطنی پر بھی سوالیہ نشان لگایا جاسکتا ہے یا یہ پیشکش بس سیاسی جماعتوں کیلئے ہی ہے ؟ اب عوام جب یہ نکتہ اٹھائیگی تو کہا جائیگا کہ دہشتگردوں کو راستہ دکھایا جارہا ہے ' تو پھر سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنے کے حوالے سے آج ڈی جی آئ ایس پی آر کے اس بیان کو دہشت گردوں کو تحریک انصاف کے لوگوں کو ٹارگٹ کرنے کا راستہ دکھانا کیوں نہ سمجھا جائے ؟ 7. آج کی پریس کانفرنس میں کسی طلال چوہدری کسی فیصل واوڈا اور کسی رانا ثنا الله کی طرح اپنی مرضی کے کلپس دکھاے گیے جس میں فقط تحریک انصاف کے لیڈروں کی تقریریں دکھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ طالبان اور دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں ' تو لگے ہاتھوں ایک کلپ اس جلسے کا بھی چلا دیتے جس میں مریم نواز کی موجودگی میں "یہ جو دہشت گردی ہے " والے نعرے لگا کر اداروں کو بھی ان کا سہولت کار کہا گیا تھا ' جس پر مریم نواز محض مسکراتی رہی تھیں ' تو پھر ہمیں لگتا کہ واقعی اداروں کا کسی سیاسی جماعت سے بغض یا تعلق نہی ہوتا بلکہ وہ غیر سیاسی ہوتے ہیں - لیکن یہاں تو ایسا لگ رہا تھا کہ رانا ثنا الله وردی میں ملبوس چیخ چنگھاڑ رہے ہیں فیصل واوڈا جوش خطابت سے سرشار ہیں - 8. اس پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر طالبان کے خلاف آپریشن نہی کرنا تو کیا ان کے قدموں میں بیٹھ جانا ہے ' یہ ہیبت الله کو صوبے کا چیف منسٹر بنانا ہے ؟ یہ کہتے ہویے ہمارے ڈی جی آئ ایس پی آر ان طالبان کی ہسٹری ہی بھول گیے کہ آج سے پینتالیس سال قبل امریکا اور سی آئ اے کے ایماپر ان طالبان کو جنم دینے والی کوکھ بھی ہمارے اداروں کی ہی تھی - زیادہ دور نہیں جاتے 2022 میں تمام پارلیمانی جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کا حل ان سے بات چیت ہے - اگر فوجی آپریشن مسلے کا حل ہے تو پچھلے بائیس بڑے اور چودہ ہزار کے قریب انٹیلجنس آپریشنز ' جن کی تفصیل ہر مہینے یہی ادارے آ کر بتاتے رہے ہیں ' تو یہ سب فوجی آپریشن بھی آج تک ان کو کیوں نہیں ختم کرسکے ؟ اور جو اگلا ملٹری آپریشن ہوگا اس میں ایسا کیا نیا ہوگا جو پچھلے بائیس میں نہیں تھا ؟ 9. کیا کبھی اس ملک کے میڈیا اور اداروں نے ایک عام پشتون بن کر بھی ان آپریشنز کے دوسرے پہلوؤں کے بارے میں سوچا ہے ؟ ان فوجی آپریشن میں کولیٹرل ڈیمیج جو ہوتا ہے وہ بھی اسی صوبے کے عوام کا ہوتا ہے جن کی حب الوطنی پر آج سوال اٹھاے گیے ہیں - طالبان کا جو ردعمل آتا ہے وہ بھی ان کے شہروں اور بستیوں میں آتا ہے کسی ڈی ایچ اے میں نہی - ڈرون سے لے کر فضائی حملوں میں بم کبھی بچوں اور مقامی پشتونوں اور طالبانوں میں فرق نہی کرتے اور اس بات کی ہسٹری گواہ رہی ہے - 10.لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ملٹری آپریشن کی اجازت دینے کا مینڈیٹ کس کا ہے ؟ اگر اس ملک میں تھوڑا سا بھی آئین ' قانون اور ضابطہ بچ گیا ہے تو پھر ڈی جی آئ ایس پی آر کو یہ پڑھنا چاہیے کہ کسی بھی صوبے میں ملٹری آپریشن کا اختیار کسی ادارے کے گریڈ بائیس کے کسی افسر یا ملازم کے پاس نہی بلکہ اس صوبے کے چیف ایکزیکٹو کے پاس ہوتا ہے جس کو اس صوبے کے عوام نے منتخب کیا ہوتا ہے اور جو اس صوبے کی باقی جماعتوں ' جرگوں اور عوامی حلقوں کے باہمی مشورے سے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ یہاں کیا کرنا ہے اور یہ مینڈیٹ کسی بھی عسکری ادارے کے پاس نہی ہے - یہ بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے کہ ملکہ کے دفاعی ادارے ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈروں کی دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاکتوں سے ہی اس جماعت کی ملک دوستی اور دہشت گردوں کے خلاف ان کی سنجیدگی کے بارے میں مطمین ہوں - پاسبانی والے اداروں کا مقتولین کی تعداد اور وکٹم کے زخموں کی بنیاد پر ان کے وفاداری کو جج کرنا میرے نزدیک ایسے ہی ہے کہ آپ ایک غازی اور ایک شہید فوجی میں آپس میں مقابلہ کروادیں کہ جو شہید ہوا ہے وہ زیادہ وفادار اور بہادر تھا اور جو جان بچانے میں کامیاب ہوگیا ہے ' اس کی بہادری اور جانثاری قابل سوال اور قابل اعتراض ہے - آپ کا کام زخموں کی گنتی سے وفاداری کی جانچ کرنا نہی بلکہ ان زخموں پر مرہم رکھنا ہے - باقی آپ ضرور ہر پریس کانفرنس میں عمران خان کے خلاف زہر اگلیں ' کیوں کہ اس سے آپ کا اپنا ہی بیانیہ کہ "آپ کا سیاست سے تعلق نہیں ہے " غلط اور جھوٹا ثابت ہوتا ہے لیکن جس بہادری اور جرات کا نشان آپ نے اپنے جسم پر ملبوس کیا ہوا ہے اس کا تو یہی تقاضہ ہے کہ ہر دوہفتے بعد ایک جیل میں بند انسان کے خلاف تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرنے کے بعد آپ کم سے کم دو مہینے میں ایک دفعہ ضرور اس کو جواب دینے کا موقع دیں کہ وہ اپنی فیملی سے مل کر آپ کے ان دعووں اور الزامات کا پوسٹ مارٹم تو کرسکے- شکریہ "قلم کی جسارت وقاص نواز " ---------------------------------------------------- Moeed Pirzada Imran Afzal Raja

Dr Waqas Nawaz

24,674 Aufrufe • vor 8 Monaten

یہ صاحب اس وی لاگ میں جس معدے کے ڈاکٹر کا ذکر کر رہے ہیں وہ میں ہوں جس نے ان پر پی ٹی وی پر کینسر کے بارے میں اس جھوٹ کو کہ "کرایو تھراپی کیموھراپی کا متبادل ہے " غلط ثابت کیا تھا کیوں کہ یہ کینسر کے علاج کے بنیادی اصول کے ہی منافی ہے کیوں کہ کیوتھراپی اس وقت لگتی ہے جب لیمف نوڈ (lymph node) تک کینسر پھیل چکا ہے یعنی سٹیج تھری - اور اس وقت کوئی کرایو تھراپی کوئی کوبلیشن مشین اس کا علاج نہی کرسکتی - میری اس بات پر یہ مجھے بلاک کر کے بھاگ گیے اور آج اس وی لاگ میں کہ رہے ہیں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر پر کیسے بات کرسکتا ہے - ان کی یہ جہالت چیک کریں کہ معدے کا ڈاکٹر کینسر کے بنیادی اصولوں جو سب ڈاکٹروں کو پتا ہوتے ہیں ' ان پر بات نہیں کرسکتا لیکن ایک نام نہاد صحافی جس کا میڈیسن سے دور دور تک لینا دینا نہی وہ یہ بات پورے اعتماد سے کرسکتا ہے - اس بارے میں میں صحافی شفا یوسفزئی Shiffa Z. Yousafzai کے ساتھ ایک تفصیلی پروگرام بھی کر چکا ہوں جس میں میرے ساتھ ڈاکٹر فیضان ملک جو ایک انکالوجسٹ ہیں وہ بھی موجود تھے اور اس بات کو ہم نے تفصیل سے غلط ثابت کیا تھا کہ کرایو تھراپی یا کوبلیشن مشین کسی طرح بھی کیموتھراپی کا متبادل نہیں ہے - اسی جہالت کی وجہ سے اس وقت بھی پی ٹی وی نے ان کو شو کاز نٹس اشو کیا تھا کہ آپ نے کینسر سے متعلق غلط بات کی ہے اور یہ بات آج بھی اپنی جگہ قائم ہے - اس شخص کا عمران خان اور شوکت خانم کینسر ہسپتال سے بغض اس قدر زیادہ ہے کہ یہ اس کی آگ میں کینسر کے مریضوں کو بھی جھونک سکتا ہے -

Dr Waqas Nawaz

45,473 Aufrufe • vor 11 Monaten

نئے صوبوں سے متعلق سوال پر امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا جواب: ایک بات میں پہلے آپ صحافیوں سے کرنا چاہوں گا جی، ذرا مہربانی کریں، آپ میڈیا کی دنیا میں حمایت اور مخالفت کی لکیر نہ کھینچیں۔ یہ ایک ڈیبیٹیبل ایشو ہے اور اس پر مختلف پہلوؤں سے بات ہو سکتی ہے۔ اصولی طور پر ایک مسئلے کی پوزیشن اور ہوتی ہے، عملی طور پر جب آپ آتے ہیں تو پھر اس کی صورت اور ہوتی ہے۔ اصولی طور پر آپ کو حق ہے کہ آپ اپنا گھر بنائیں، لیکن کیا آپ کے پاس وسائل ہیں کہ آپ بنا سکیں؟ وسائل نہیں ہیں، جیب خالی ہے اور آپ جا کر وہاں اینٹیں رکھنا شروع کر دیں تو لوگ کہیں گے کہ یہ کیا کر رہا ہے؟ تو وہ ایک خامخواہ ضائع ہونے والی بات ہو جاتی ہے۔ میری اپنی ذاتی رائے یہ ہے کہ اصولی طور پر تو ہم یونٹس کے خلاف نہیں ہیں۔ ہم نے اس سے پہلے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے سرائیکی صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے اس سے پہلے ہزارہ صوبے کی بھی حمایت کی تھی، ہم نے خود فاٹا کو صوبہ بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم سندھ ذرا اس سے مختلف تھا کہ سندھ کے عوام صوبے کی تقسیم کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس وقت بھی نہیں تھے اور اب بھی نہیں ہیں۔ لیکن جو میری معلومات ہیں، جب اس وقت صوبہ، صوبہ ہو رہا تھا تو اسٹیبلشمنٹ بھی اس کی مخالف تھی۔ چنانچہ ان عناصر کی حوصلہ شکنی کی گئی جو صوبہ، صوبہ کر رہے تھے اور حکومتوں اور اسمبلیوں میں وہ لوگ نہیں آ سکے، کمزور پوزیشن میں آئے اور بالآخر ان کو وہ ایشوز چھوڑنے پڑ گئے۔ آج پھر کون سی ایسی وحی آ گئی ہے ان کے اوپر کہ آؤ، ان کو پتا نہیں کتنے اور کوئی نقشہ بھی نہیں ہے۔ کبھی آپ سولہ یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی آپ بتیس یونٹس میں تقسیم کر رہے ہیں، کبھی ہر ڈویژن کو صوبے کا درجہ دے رہے ہیں۔ کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ نقشہ کیا ہے۔ تو ایک بات کہہ دینا اور پھر لوگوں کو چھوڑ دینا کہ وہ اس پر بحث کرتے رہیں، میرے خیال میں ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے یہ ایشو پھینکا گیا ہے۔ اس میں کوئی سنجیدگی ہے، نہ اس کے لیے اس وقت کوئی ماحول موجود ہے اور نہ ہی اس کے لیے کوئی تیاری موجود ہے۔ جب ماحول بھی نہیں ہے، اس وقت تیاری بھی نہیں ہے، تو خامخواہ ایک غیر سنجیدہ گفتگو، جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا۔ ہمارے حکمران اس وقت باہر کی دنیا کے ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہیں اور ان کو یہ اندازہ نہیں ہے کہ پاکستان کی سرزمین جو خون سے سرخ ہے، اس کو بھی تو ہمیں سنبھالنا ہے۔ تو جہاں خون بہہ رہا ہو، جہاں ملکی زمین جو ہے وہ خون سے سرخ ہو اور آپ باہر دنیا میں جا کر وہاں پر ریڈ کارپٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہوں، تو ذرا گھر کو تو ٹھیک کریں۔ ہم نہیں کہتے کہ آپ باہر کی دنیا سے اچھے تعلقات نہ رکھیں۔ ہم نے تو امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کو سپورٹ کیا ہے۔ ہم نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے کو سپورٹ کیا ہے۔ ترکی کی شمولیت کو ہم نے سپورٹ کیا ہے۔ مصر اس میں آتا ہے، ایران اس میں آتا ہے۔ خیر، مقدم کریں گے ایک اسلامی بلاک کے قیام کا۔ یہ خود جمعیت علماء اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔ تو جو چیزیں دنیا میں ہمارے اپنے فکر اور ہمارے نظریے کے مطابق آگے بڑھیں گی، ہم اس کو سپورٹ کریں گے۔

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

11,199 Aufrufe • vor 17 Tagen

ہم جس حال میں خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہے ہیں، کوئی ہمیں حکومت کرنے کے لیے چھوڑ بھی نہیں رہا . صوبے کے چیف منسٹر کو اپنے لیڈر سے ملاقات نہیں کرنے دیا جا رہا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کو نہیں روکا جا سکتا۔ جیل مینوئل کے مطابق کسی بھی قیدی سے ملاقات کی جا سکتی ہے۔ عمران خان اس ملک کے وزیر اعظم رہے ہیں اور ایک منتخب چیف منسٹر اس سے ملاقات نہیں کر سکتا۔ کیا پاکستان کسی ضابطے اور اصول پر چلتا ہے نہیں، یہ صرف ڈھنڈے سے چلتا ہے۔ ظلم اور ڈھنڈے کا یہ نظام ہمیں کسی صورت منظور نہیں ہے۔ اس ملک میں اگر ہم نے رہنا ہے تو قانون اور آئین کے تحت رہنا ہے۔ یہ جو ظلم ہو رہا ہے، یہ صرف عمران خان کے ساتھ نہیں ہو رہا، عوام کے ساتھ ہو رہا ہے۔ عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا گیا، یہ فیصلہ عوام نے نہیں کرنا ہے کہ ہم نے کس کو ووٹ دینا ہے۔ ووٹ ڈالنے والے سے ووٹ گننے والا اہم ہے۔ اگر کسی ممبر عوامی نمائندے کو معلوم ہو کہ اس کے ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں، تو کیا وہ آپ کی بات مانے گا۔ عوام کے پاس ووٹ کا حق ہے تو آپ کا نمائندہ آپ کی قدر کرتا ہے۔ ابھی جو ہری پور ضمنی انتخابات میں ہوا ہے، ووٹ کسی اور کو پڑا اور رکن کوئی بن گیا۔ فارم 45 کے مطابق سب کچھ ٹھیک ہے، لیکن کمپیوٹر پر بیٹھا آدمی اپنی مرضی کا ڈیٹا فیڈ کر رہا ہے۔ کس قسم کی عدالت، کس قسم کی الیکشن کمیشن، عدالتوں کو انتظامیہ کے ماتحت کیا گیا ۔

Asad Qaiser

16,009 Aufrufe • vor 8 Monaten

اس پورے معاملے کے بعد جو ایک نتیجہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ اقرار الحسن Iqrar ul Hassan Syed نے چاہتے نہ چاہتے اس بات پر مہر ثبت کردی ہے کہ کسی کا جواد احمد Jawad Ahmad سے موازنہ ہونا گالی' بد دعا اور تذلیل کی بات ہے اور یہ اس ریاست کیلئے بھی گالی کی بات ہے جس نے جواد احمد کو سیاست دان بنانے کی کوشش کی - یہ میں نہیں کہ رہا - مجھے تو یہ کلپ دیکھ کر یہی سمجھ آیا ہے ورنہ تو اس افسر نے اور کوئی گالم گلوچ نہی کیا اس کے مقابلے میں مجھے اقرار صاحب اس کو "بے شرم " کہتے دکھائی دیے- - اپنی نظر میں تو جواد احمد ملک کے سب سے انقلابی لیڈر اور اس ریاست کیلئے آخری آپشن ہیں ' پر اقرار صاحب کے اس اوور ری ایکشن نے یہ خوش فہمی بھی گمان میں بدل دی - اور اگر یہ کلپ صحیح ہے اور اقرار صاحب جواد احمد بننے کی دعا اور پشین گوئی پر اتنا سیخ پا ہویے ہیں تو پھر اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ آگ بگولہ ہونا اقرار الحسن کا نہی جواد احمد کا بنتا ہے - یعنی میچ کھیلا بھی نہیں اور کلین بولڈ ہوگیے - یہ سارا ڈرامہ کسی باہر کے ملک میں ہوا ہوتا تو محض اپنی راے دینے پر اقرار صاحب نے جو شور شرابہ مچایا اور جس طرح اس ملازم کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اس کو ہراسا کیا ' اب تک یہ جیل میں ہوتے - - پورے کلپ میں عمران خان کا اس افسر نے نام تک نہیں لیا ' پر یہاں بھی اقرار نے فرض کرلیا کہ یہ عمران خان کا سپورٹر ہوگا جو ان کو جواد احمد جیسا حال ہونے کی بد دعا دے رہا ہے - اگر اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں عمران خان کا ووٹر توڑنے کا یہی حربہ رہ گیا ہے تو ان کو چاہیے کہ ٹاک شاک کرلیں ورنہ ان کا حال بھی ووہی ہوگا جو جواد احمد کا ہوا -

Dr Waqas Nawaz

94,510 Aufrufe • vor 4 Monaten

بریکنگ نیوز 🚨غیرت مند، حلالی ماں کا حلالی بیٹا، جسٹس انوارالحق پنوں چھا گیا۔ شہباز گل نے اپنے ویلاگ میں مکمل کلپ چلا دی۔ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے کچھ پلے نہ چھوڑا، پچھلے اگلے ریکارڈ توڑ ڈالے۔ آج تک آپ نے اپنی پوری زندگی میں کسی جج کی ایسی دبنگ، باکمال، حق پر مبنی گفتگو نہیں سنی ہوگی۔ ایک ایک الفاظ سننے سے تعلق رکھتا ہے۔ شروع سے لے کر اینڈ تک سننا، مس مت کرنا 🔥🔥 ہم جھوٹے ہیں، ہم دغاباز ہیں، ہماری ویلیو سسٹم اپنی زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں جا چکا ہے۔ اس لیے اس سے کسی قسم کی توقع فوری طور پر کئی نئے صوبے بنا لیں، لوکل گورنمنٹ لے آئیں، کوئی چانس بہتری کا نہیں ہے۔ مجھے ان دو تین ٹرمز سے بڑی حیرت ہوتی ہے، فلاں حکمران خاندان ڈیموکریسی میں بھی کبھی یہ تصور ہوتا ہے کہ جی فلاں حکمران خاندان، فلاں مقتدرہ۔ کیا ڈیموکریسی میں بھی کسی اسٹیبلشمنٹ کو مقتدرہ کہا جاتا ہے؟ تو جب تک یہ لوگ اپنے اپنے آربٹ (مدار) میں نہیں جاتے، اور یہ اب نہیں جائیں گے، اس لیے کہ اس ملک کے وسائل کم ہوتے جا رہے ہیں، ان کی خواہشات بڑھتی چلی جا رہی ہیں۔ ان کو کاکروچ ماننے کو بھی تیار نہیں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ انہوں نے انڈیا والوں نے تو خود کو کاک روچ سے آئڈینٹیفائی کیا، ایک سمبولیکلی (علامتی طور پر) کیا کہ ہماری حیثیت یہ ہے، مگر انہوں نے ایک ڈیموکریٹک سسٹم کے اندر ڈیمونسٹریشن کرنے کے بعد اپنی ایک بات کو منوایا۔ یہاں تو آزادی سے سوچنے کی اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ آپ کسی سے شیئر نہیں کر رہے، آپ کو سوچنے کی اجازت نہیں ہے، آپ کو کسی سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جس ملک میں آزادی سے سوچنے کی اجازت نہ ہو، جس ملک میں آزادی سے بات کرنے کی اجازت نہ ہو، وہ ملک کسی قیمت پر ترقی نہیں کر سکتا۔ یہ آفاقی اصول ہیں۔ آپ دنیا بھر کے جو ملک ہیں، جس جس ملک نے ترقی کی ہے، اگر انہوں نے کسی اصول پر، ادارے قائم کر کے ترقی کی ہے، تو ہمیں بھی اسی پر جانا پڑے گا۔ ہمارا کوئی علیحدہ سے خطہ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کسی کے کہنے پر یہ اسمبلیاں 15 دنوں میں، 5 دنوں میں اتنی بڑی امینڈمنٹس (ترامیم) ہوتی ہیں، کیا وزیر قانون کو بھی نہیں پتہ ہونا چاہیے کہ کیا امینڈمنٹ انٹروڈیوس ہو رہی ہے؟ کیا پاکستان کی عدلیہ جو ہے، اس کو اس حد تک سبجوگیٹ (ماتحت) ہونا چاہیے تھا؟ کیا پنجاب کے اندر ہر روز ہاف فرائی اور فل فرائی کی جو ٹرم چل رہی ہے، وہ ہزاروں لوگ قتل ہو گئے، یہ گڈ گورننس ہے؟ یہ کیا ہو رہا ہے اس ملک کے ساتھ؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے آپ بہت دیر وقت گزار لیں گے؟ ان کو سیکنڈ کون کر رہا ہے؟ اور اس کے بعد ایک ٹی وی پروگرام جو کل میں نے دیکھا، وہ ایک منصور علی خان کوئی جرنلسٹ ہیں، جس انداز میں انہوں نے بات کی ہے، فائلیں تیار ہو چکی ہیں، فلاں جو مسلم لیگ ن ہے اس کی جو لیڈرشپ ہے اس کو یہ کیا جائے گا۔ کیا ہو رہا ہے؟ یہ کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ آپ کا اختیار ہے؟ یہ آپ کے کہنے پر صوبے بننے چاہئیں؟ یہ اس ملک کے جن کی زمین ہے، جن کا آسمان ہے، جن کی فضا ہے، یہ ان کے لیے، ان کے کہنے پر بننے چاہئیں۔ اس ملک کو تنخواہ دار طبقے نے لوٹا ہے۔ خود کو مالک سمجھ کر خواہ ججز ہوں، خواہ بیوروکریٹس ہوں، خواہ فوجی ہوں، انہوں نے تباہ کیا ہے اور ابھی تک کر رہے ہیں۔

‏زہـــرہ لیــاقت

14,184 Aufrufe • vor 26 Tagen

ٹرمپ کون ہوتے ہیں کہ وہ کسی آزاد قوم اور ان کی سرزمین پر قبضہ کرنےکی بات کررہے ہیں ؟ ایک آزاد قوم کو دوسرے ملکوں میں مہاجر بنانے کی بات کررہے ہیں، ٹرمپ کا کا کٹھ پتلی پندرہ مہینے سے فلسطینیوں کا قتل عام کر کے انسانی جرم کا مرتکب ہوا ہے،اگر صرف دو تین شہروں میں فوجی کاروائی کے نتیجے میں قتل ہونے والوں کے پاداش میں صدام حسین کو لٹکایا جا سکتا ہے تو اس پاداش میں جہاں نیتن یاہو کو سرعام پھانسی ملنی چاہیے تھی اس کو آج امریکہ فلسطینیوں کے خون پر ان کو سپورٹ کر رہا ہے۔ جنگ عظیم اول کے بعد جب دنیا میں یہودی در بدر ہو گئے اور جرمنوں کے ہاتھوں پٹ گئے تو اس زمانے میں لیگ آف نیشنز اقوام متحدہ میں قرارداد پاس کی کہ ان دربدر شدہ یہود یوں کو جگہ دینا ان کو از سرِ نو بسانا یہ بین الاقوامی ذمہ داری ہے، بین الاقوامی ذمہ داری قرار دے کر صرف فلسطین کی سرزمین کو اس کے لیے کیوں خاص کیا گیا؟ کسی ملک نے ان کو جگہ نہیں دی اور سب کو اکٹھا کر کے فلسطین کی سرزمین میں لایا گیا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی شہری کو، کسی یہودی کو جبراً کہیں آباد نہیں کیا جائے گا، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کسی سرزمین پر سرزمین والوں سے پوچھے بغیر جبرا ان کو آباد نہیں کیا جا سکتا، یہودیوں کو بھی جبراً لا کر آباد کیا گیا، فلسطین سے بھی جبراً زمین لی گئی اور وہاں ان کو آباد کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ فلسطین Over Populated Area ہے یہاں مزید کسی کو آباد کرنے کی گنجائش نہیں ہے، اس کے باوجود Over Populated Area پر ان کو آباد کیا گیا، قرارداد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فلسطین معاشی لحاظ سے انتہائی کمزور ہے اس پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، اس معاشی لحاظ سے کمزور ترین ملک پر اتنی بڑی یہودی آبادی کا بوجھ ڈال دیا گیا، اور آج تک یہ صرف بوجھ ہی نہیں بلکہ ان کی پیٹھ میں گھونپا ہوا چھرا ہے، خنجر ہے جو آج بھی ہمارے جسم کو چھو رہا ہے اور ہمارے جسم سے لہو بہہ رہا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,921 Aufrufe • vor 1 Jahr

تمام لبرل حضرات کو میں ایک ہی جواب دینا چاہتا ہوں🚨 سب سے پہلی بات یہ ہے کہ آپ اپنے خیالات اور لبرل ازم کا پرچار خیبرپختونخوا کے لوگوں پر مسلط نہ کریں، محترم۔ یہ نہ خیبرپختونخوا کا کلچر ہے اور نہ ہی یہاں بیٹیوں کو اس مقصد کے لیے کالجز بھیجا جاتا ہے۔ آپ پختونخوا کو امریکہ نہ بنائیں، اور نہ ہی صرف اپنی مرضی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کریں !! دوسری بات یہ کہ میں نے یہ ٹویٹ خیبرپختونخوا سے لکھ کر پوسٹ کیا ہے۔ ہم نے اپنے معاشرے کی حیا اور عزت کے مطابق بات کی ہے۔ مذہب اور کلچر کا لفظ استعمال کیے بغیر بھی میں نے واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی بھی والدین اپنی بیٹی کو ایسے تعلیمی ادارے میں نہیں بھیجے گا !! ہمارے خیبرپختونخوا کے مشران نہ لڑکوں کو غیر اخلاقی ہونے کی اجازت دیتے ہیں اور نہ لڑکیوں کو۔ اور خاص طور پر یہ حقیقت کہ عورت کو سب سے زیادہ عزت، احترام اور وقار اسلام نے دیا ہے۔ مرد اور عورت کا مقام الگ ہے — عورت عزت، احترام اور وقار کا نام ہے !! ایک مرد جب تعلیم حاصل کرتا ہے تو اس کی تعلیم اس کی ذات تک محدود رہتی ہے، لیکن جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو اس کی تعلیم نسلوں کی تعلیم بنتی ہے، معاشرے کی تربیت بنتی ہے۔ یہ عورت کا وقار ہے — اور آپ جیسے لبرل لوگ اسی وقار کو چھیننا چاہتے ہیں !! ہم بھی یہی چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹیاں تعلیم یافتہ ہوں، علم حاصل کریں، خوشیاں پائیں۔ مگر ہمارے ہاں پختونخوا میں جو ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں، ان میں لڑکیوں کا سرعام رقص کرنا اور اس کو سراہنا معاشرتی گندگی پھیلانے اور عورت کے وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے !! اگر کسی کو اپنی بیٹی کو نچوانے کا اتنا ہی شوق ہے تو برائے مہربانی اپنی ذاتی پرائیویسی میں رکھ کر نچوائے — نہ کہ تعلیمی اداروں میں بیٹیوں کا ڈانس کروا کر اس پر تالیاں بجوائے۔ کوئی بھی والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی بیٹی ناچنے کے لیے تعلیمی ادارے میں داخلہ لے !! ہر والدین اپنے بیٹے اور بیٹی کو باحیا اور باعزت دیکھنا چاہتا ہے، ایسا کہ ان کی عزت پر کوئی انگلی نہ اٹھے۔ اور اگر کوئی بندہ مرد اور عورت کو ایک جیسا درجہ دینا چاہتا ہے کہ عورت اور مرد برابر ہیں، تو وہ سرعام اعلان کرے کہ وہ اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ اللہ رب العالمین کے قوانین کے مطابق عورت کی اپنی عزت ہے اور مرد کی اپنی عزت !! لہٰذا یہ لبرل ازم اور یہ بے حیائی خیبرپختونخوا سے باہر رکھیں۔ یہ بات ان لوگوں کے لیے ہے جو اللہ کے احکامات کو مانتے ہیں۔ جو نہیں مانتے، ان کے لیے تو سڑکوں پر ناچنا بھی کوئی بڑی بات نہیں !! اور یہی وہ لوگ ہیں جو "میرا جسم میری مرضی" کو ان ڈائریکٹلی ڈیفینڈ کر رہے ہیں، ورنہ اگر غور کیا جائے تو مقصد ایک ہی ہے صرف طریقہ بدل ہے !!

Mohammad Shehzad Khan

41,533 Aufrufe • vor 8 Monaten

آج جو شریکِ جرم ہیں، کل کو وہی فریادی ہوئے تو ؟ ایک صوبے کا منتخب وزیراعلیٰ، اپنی پوری کابینہ اور ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ، گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر سڑک پر کھڑا رہا، اور آج صبح سویرے سے سپریم کورٹ کے دروازے پر دھرنا دے کر بیٹھ گیا ہے، نہ اقتدار کی شان، نہ پروٹوکول کا غرور۔ اور اس لیے نہیں کہ اسے اقتدار چاہیے، اس لیے بھی نہیں کہ کوئی این آر او مانگ رہا ہے، بلکہ صرف ایک مطالبہ کہ جس شخص کے نام پر عوام نے ووٹ دیا، وہ اڈیالہ جیل میں قید ہے، 2 دسمبر کے بعد نہ اس سے ملاقات کرائی گئی، نہ اس کی خیریت کی خبر دی گئی۔ وہ ملاقات، جس کی اجازت آئین دیتا ہے، قانون دیتا ہے، جیل مینوئل دیتا ہے اور عدالتی فیصلے دیتے ہیں، وہ ملاقات چھین لی گئی، اور پھر ایک رات، خاموشی سے، اندھیرے میں، اسی قیدی کو پمز اسپتال منتقل کیا جاتا ہے، جزوی اینستھیزیا دیا جاتا ہے، سرجری ہوتی ہے اور پھر اسی خاموشی سے واپس جیل پہنچا دیا جاتا ہے، نہ خاندان کو بتایا جاتا ہے، نہ پارٹی کو، نہ قوم کو۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ غیر آئینی ہے کہ ایک منتخب وزیراعلیٰ اپنے لیڈر کی صحت پر سوال اٹھائے؟ کیا یہ غیر قانونی ہے کہ اس کے ذاتی معالجین کو مریض سے ملنے دیا جائے؟ کیا یہ جرم ہے کہ قوم کو بتایا جائے کہ جسے انہوں نے مینڈیٹ دیا، اس کی صحت کس حال میں ہے؟ جمہوریت، نیم جمہوریت یا ہائبرڈ نظام، دنیا کے کسی نظام میں ایسا نہیں ہوتا، ہاں بندوبستی نظام میں ایسا ضرور ہوتا ہے، جہاں آمریت نافذ ہوتی ہے، جہاں فیصلے آئین سے نہیں، طاقت سے ہوتے ہیں، جہاں عدالتیں، حکومتیں اور ادارے سب ایک ہی جگہ سجدہ ریز ہوتے ہیں، لہٰذا ایسے بندوبستی نظام سے کیا شکوہ، وہ قائم ہی اسی مقصد کے لیے کیا گیا ہے۔ لیکن سوال ان سیاسی جماعتوں، ان کے رہنماؤں اور کارکنوں سے ہے جن کی شراکت داری سے یہ بندوبستی نظام قائم ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وقت کا پہیہ رکنے کا نام نہیں لیتا، آج آپ شریکِ جرم ہیں، کل اس کا شکار بھی ہو سکتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان مار کھا کر بھی کھڑے ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ عوام ہے، جو ٹوٹے نہیں، بکھرے نہیں۔ اگر خدا نہ کرے کہ کل یہی ظلم کسی اور جماعت، کسی اور لیڈر کے حصے میں آئے، تب نہ کندھا ملے گا، نہ ہمدردی، نہ آواز، کسی بھی معاشرے کے لیے اس سے زیادہ شرمناک لمحہ اور کوئی نہیں ہوتا کہ وہ ظلم کو دیکھے، سمجھے اور پھر بھی خاموش رہے۔

Waseem Malik

38,228 Aufrufe • vor 7 Monaten

پاکستان نے اس وقت جو ایران امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور اس کے جو دنیا میں مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں، پاکستان کے اندر ان کو ہمیں سمیٹنا چاہیے، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اس طرز عمل کو اس کے مفادات کو سمیٹے، لیکن جہاں وہ باہر سے کما رہے ہیں پاکستان کے اندر اس کو گنوا رہے ہیں، یہاں حکومت کی ان کامیابیوں کے عوام پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہو رہے ہیں۔ یہاں امن و امان نہیں ہے اور خیبر پختونخوا، بلوچستان میں تو پہلے ہی امن و امان نہیں تھا، سندھ کے لوگ ڈاکوں کے ہاتھوں محکوم نظر آ رہے ہیں، لیکن اگر کشمیر کی بھی ایسی صورت حال بنتی ہے تو جہاں فوج کو یا بارڈرز پہ ہونا چاہیے یا بیرکوں پہ ہونا چاہیے آج وہ پاکستان کے صحراؤں میں پھیلے ہوئے ہیں، پاکستان کے پہاڑوں میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کے فوجی شہید ہو رہے ہیں، اور اس مشکل میں ریاست پھنسی ہوئی ہے کہ اس مشکل وقت میں انہیں قومی یکجہتی کی ضرورت ہے۔ اگر ان حالات میں بھی حکومت کی طرف سے ایسے بیانات آئے کہ جس سے قوم تقسیم ہو، جس سے اپوزیشن کو سخت سے ردعمل دینا پڑے تو پھر میں نہیں سمجھتا کہ یہ ملک کی یکجہتی کے لیے کوئی کردار ہوگا، بلکہ ملک کو تقسیم کرنے کا سبب بنے گا۔ بہت زیادہ اشتعال ہے ملک کے اندر، ہم نے پرسوں چارسدہ میں جلسہ کیا، ہم نے اس سے پہلے پشین میں جلسہ کیا، لاکھوں لوگ وہاں اکٹھے ہوئے، بہت ہی کامیاب اجتماعات، پبلک نے اتفاق کیا اور یہ وہ میدان ہے کہ اگر ایک سیاسی جماعت پبلک میں اترتی ہے اور تاحد نظر انسانوں کا سمندر اکٹھا کرتی ہے یہ ایک وہ سیاسی جنگ ہے کہ جہاں قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور آپ کے کارکنوں کا مورال بلند ہوتا ہے، امن پسندوں کا مورال بلند ہوتا ہے، اور مسلح قوتوں کا مورال گر جاتا ہے، تو میرے خیال میں ہم جس محاذ پر کام کر رہے ہیں، میں تو سمجھتا ہوں کہ ہمیں پبلک کی طرف سے زبردست قسم کا ایک مثبت ردعمل ملا ہے، کیا وہ ردعمل حکومتی پارٹی کو بھی مل سکتا ہے؟ میرے خیال میں اس وقت ان کے لئے وہ حالات نہیں ہیں۔ آپ کو وہ حالات بنانے ہوں گے، کہ ہم یکجہتی کا اظہار کریں۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن کا پارلیمنٹ ہاوس میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,163 Aufrufe • vor 2 Monaten

احمد رضا ڈار پر آپ نے ریپ کا کیس نہیں ڈالا، اسے بچا لیا گیا ہے، اور اسے ریپ کے الزام سے بچایا گیا ہے؟ میری تمام انویسٹیگیٹو جرنلسٹس سے گزارش ہے کہ ہمارے پاس ان خواتین کے رابطہ نمبرز موجود ہیں۔ آپ ان خواتین سے بھی بات کر سکتے ہیں اور ان کے والدین سے بھی بات کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پاکستان کے اداروں پر یقین نہیں ہے، تو شاید آپ کو بیرونِ ملک موجود ان افراد کی بات پر زیادہ یقین ہو۔ آپ ان سے بھی بات کر لیں۔ہم نے ان خواتین کو ایک ایک ملزم کی تصویر دکھائی تھی، اور انہوں نے جو بیان جج کے سامنے دیا، اس میں ایک خاتون کا چار صفحات پر مشتمل بیان ہے جبکہ دوسری خاتون کا بیان تین صفحات پر مشتمل ہے۔ 164 کا بیان اور میڈیکل کسی کی مرضی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جب جج 164 کے تحت بیان ریکارڈ کر رہا ہوتا ہے تو وہ بار بار یہ پوچھتا ہے اور سرٹیفکیٹ پر دستخط بھی کرواتا ہے کہ آپ جو بیان دے رہے ہیں، وہ بعد میں آپ کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ Muzamal Suharwardy Lahore Police Official

Muzamal Suharwardy Team

28,871 Aufrufe • vor 2 Monaten

کچھ ویڈیوز سامنے آچکی ہیں اور اطلاعات ہیں کہ آنے والے دنوں میں مزید ویڈیوز بھی سامنے آسکتی ہیں۔ ممکن ہے بچے اور بچیاں ابھی خوف کی وجہ سے خاموش ہوں، یا ان کے والدین نے انہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا ہو۔ اس لیے کسی بھی واقعے کے تمام پہلوؤں پر حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے مکمل شواہد کا سامنے آنا ضروری ہے۔ خاتون کا گریبان پکڑنے یا انہیں ہراساں کرنے کے الزام کی تاحال کوئی ویڈیو سامنے نہیں آئی۔ البتہ ایسی ویڈیوز ضرور سامنے آچکی ہیں جن میں ایک خاتون کو لاتیں چلاتے، پولیس اہلکار سے لاٹھی چھینتے اور بچیوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ مزید یہ کہ ویڈیو میں بچیوں کو ایف آئی آر کی دھمکیاں بھی سنائی دیتی ہیں، جبکہ دوسری طرف باحجاب بچیاں صرف ’’وی وانٹ جسٹس‘‘ کے نعرے بلند کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ اب تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کے بعد ہر شخص اپنے ضمیر سے یہ سوال ضرور کرے کہ اس موقع پر ہراساں کون کر رہا تھا اور انصاف کا مطالبہ کون کر رہا تھا؟ فرعونیت کے سامنے انصاف مانگنا اگر کسی کی رعونت کو ’’ہراساں‘‘ کرنا بن جائے تو پھر مسئلہ انصاف مانگنے والوں میں نہیں، طاقت کے زعم میں ہے۔ جس طرح ایک باحجاب بچی یہ کہتی دکھائی دیتی ہے کہ ان کے سروں سے دوپٹے کھینچے گئے، لیکن اس دعوے کی تائید میں تاحال کوئی واضح ویڈیو یا قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آیا، اسی طرح ٹیچر کا گریبان پکڑے جانے اور انہیں ہراساں کیے جانے کے دعوے کے لیے بھی فی الحال کوئی واضح ویڈیو ثبوت موجود نہیں۔ دونوں دعووں کو ایک ہی معیارِ ثبوت پر پرکھا جانا چاہیے۔ اس معاملے میں ایک اور عجیب پہلو یہ ہے کہ ابتدا میں مذکورہ خاتون کو ’’افسر صاحب کی بیٹی‘‘ کہا گیا، پھر ’’بیوی‘‘ قرار دیا گیا، جبکہ اب یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ شاید ان میں سے کوئی نسبت درست نہیں۔ اگر یہ دعوے غلط ثابت ہوتے ہیں تو بھی اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کے بجائے حقائق کی تصدیق ضروری ہے۔ معاملہ بنیادی طور پر اتنا سادہ تھا کہ بچے اور بچیاں احتجاج کر رہے تھے۔ اساتذہ کو چاہیے تھا کہ معاملہ باہمی گفتگو سے حل کرتے، طلبہ کی بات سنتے اور انہیں اعتماد میں لیتے۔ ’’امورِ طلبہ‘‘ سے وابستہ ذمہ داران کا بنیادی کام ہی یہی ہے کہ طلبہ کے مسائل سنیں اور تنازعات کو مزید بگاڑنے کے بجائے انہیں حل کریں۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں اختیار، ذمہ داری کے بجائے طاقت کا احساس پیدا کرنے لگے۔ ایسی صورتِ حال میں احتجاج کرنے والے طلبہ کو سننے کے بجائے ان پر غصہ، دھمکی یا طاقت کا استعمال کسی مسئلے کا حل نہیں۔ اور حیرت ان لوگوں پر بھی ہے جو ایسی صورتحال میں درجنوں لاشیں گرانے کی باتیں کرتے ہیں، سوال اٹھانے والوں کو گالم گلوچ کا نشانہ بناتے ہیں، یا محض اس بنیاد پر کہ معاملے میں ایک عورت موجود ہے، بغیر شواہد کے اپنی تمام ہمدردیاں ایک ہی فریق کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں۔ ان سے صرف ایک سوال ہے: اگر یہی طرزِ عمل آپ کی اپنی بچیوں کے ساتھ کسی تعلیمی ادارے میں اختیار کیا جائے تو کیا آپ اسے درست سمجھیں گے؟ کیا آپ چاہیں گے کہ آپ کی بچیاں بھی اختلاف یا احتجاج کے جواب میں لاتیں چلائیں، پولیس سے لاٹھی چھینیں اور دوسری بچیوں کی طرف حملہ آور ہونے کی کوشش کریں؟ اگر یہ دعویٰ بھی درست ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ خاتون کا افسر صاحب سے بیٹی یا بیوی کا کوئی رشتہ نہیں، تو پھر ان تمام لوگوں کو بھی اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے جو محض کسی بااثر شخصیت سے تعلق یا قربت کے مفروضے کی بنیاد پر ایسے رویے کا دفاع کر رہے ہیں۔ کسی بھی معاشرے میں طاقتور سے قربت کسی کو قانون، اخلاق اور دوسرے انسانوں کی عزت سے بالاتر نہیں کرتی۔ جہاں تک افسر صاحب کا تعلق ہے، ان کے معاملے کی تحقیقات متعلقہ ادارہ کر رہا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کیا جائے اور جو بھی نتیجہ سامنے آئے، اسے شواہد اور قانون کی بنیاد پر پرکھا جائے۔ اور آخر میں ان لوگوں کے لیے جو ہر صورت میں غلاظت کو ’’کھیر‘‘ ثابت کرنے پر بضد ہیں: آپ اپنی ملازمت، اپنے مفادات اور اپنی مجبوریوں کے مطابق جس طرح چاہیں اسے درست ثابت کرتے رہیں۔ لیکن کم از کم اتنا ضرور یاد رکھیے کہ سچ کو شور، گالم گلوچ یا طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اصل ضرورت کسی فریق کو ہیرو یا ولن بنانے کی نہیں، بلکہ مکمل حقائق سامنے لانے کی ہے۔ جو قصوروار ہو، اسے قانون کے مطابق جواب دینا چاہیے، اور جو بے قصور ہو، اسے محض الزام یا طاقت کے زور پر نشانہ نہیں بننا چاہیے۔ #fmasimmunirleadingpeace #SarhadUniversity

Muhammad Maaz Siddiqui - ⚖️

11,596 Aufrufe • vor 9 Tagen

رات ایک پروگرام میں موصوف شیر افضل مروت صاحب بھی کسی کی چابی بن کر مجھ پر تنقید کر رہے تھے۔ میں نے ہمیشہ کوشش کی کہ پارٹی میں اندرونی معاملات پر بطور عہدیدار نہ بات کروں۔ لیکن اس شخص کا ہمیشہ سے مخصوص ایجنڈا رہا ہے اور اندرونی طور پر میں نے ہمیشہ اس کو رانگ نمبر کہا کہ یہ نوسر باز ہے اور مخصوص ایجنڈا کے تحت مخصوص لوگوں کو ٹارگٹ کرتا ہے۔ میں تو حقیر سا ورکر ہوں اس شخص کو سب سے پہلے Azhar Mashwani سے مسئلہ تھا جس کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھُپی نہیں جو شادی کے دوسرے ہفتے اٹھایا گیا جس کے خاندان پر زمین تنگ کر دی گئی، پھر اس نے عمران خان صاحب کے خاندان خاص کر Aleema Khanum آپا پر مسلسل الزامات کی بوچھاڑ کر رہا ہے ان پر بھی اس کو اعتراض ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جب بھی کوئی تحریک چلنے لگتی ہے یا کوئی ہلچل ہونے لگتی ہے تو چابی والا بندر میدان میں آ جاتا ہے پھر Intazar Hussain Panjutha پر بھی اعتراض ہے اس کو۔ جو ظلم انتظار پنجوتہ صاحب کے ساتھ ہوا ہے کیا وہ سارے پاکستان نے نہیں دیکھا اس لیے یہ پاگل ہو چکا ہے ہے اور جو پیچھے سے پرچی پر لکھ کر دیا جاتا ہے یہ اردلی کا کردار ادا کرتا ہے۔ میری پارٹی کے لیڈران سے گزارش ہے کہ جس پروگرام میں یہ شخص بھیجا جاتا ہے اس کا بائیکاٹ کریں کیوں کہ ان کی اہمیت صرف اس پٹاخے کی ہے جو چل چکا ہے اور اب صرف اس کی واحد جگہ کوڑے دان کا ہے

Ehsan Toor

11,345 Aufrufe • vor 1 Jahr

کیا دہشتگردی ختم ہوگئی؟آپ اور ہم جس صوبے سے تعلق رکھتے ہیں، پورے طول و عرض پر آپ نظر ڈال لیں، کہیں پر امن ہے؟ اور صرف بدامنی کی بات نہیں کر رہا، بدامنی اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ حکومتی رِٹ ختم ہو رہی ہے، پولیس کا چین آف کمانڈ ٹوٹ گیا ہے۔ لکی مروت میں، بنوں میں، ٹانک میں پولیس جو ہے، وہ آزاد ہو گئی ہے اور اس نے اپنی امن کمیٹیاں بنا لی ہیں، اور وہ وردی بھی نہیں پہن رہے، اور کانسٹیبل جو ہے، وہ خود اپنا نظام اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی ڈی پی او کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی ڈی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے، نہ کوئی آئی جی کا آرڈر چلتا ہے۔ پرسوں ترسوں ہمارے بنوں کے ڈی آئی جی کی جو سیکیورٹی ہے، وہ ایک کانسٹیبل نے کِلوز کی ہے۔ ایک کانسٹیبل نے آرڈر دیا کہ سب یہ ڈیوٹی چھوڑ دو، آ جاؤ واپس۔ یہ حالت ہے! اب اس حالت میں ہم زندگی گزار رہے ہیں۔ کب تک ہم یہ زندگی اس طرح گزارتے رہیں گے؟ اور کہہ رہے ہیں کہ ہم ٹھیک کریں گے، ہم لڑیں گے۔ وہ ایک چڑیا ہے، وہ کہتا ہے: بلوچستان کےلئے تو ایک تھانیدار کی مار ہے۔ بس ،، تمہارے تھانیداروں کا کیا حشر کر دیا۔ تمہارے تھانوں کا کیا حشر کر دیا؟ کچھ تو حقائق کی طرف جاؤ۔ تو جب ہم حقائق کی طرف جائیں گے تو پھر ہم اس کے بعد مشاورت تو ہونا ہے۔ اب شہباز شریف بیچارہ وزیر اعظم ہے، پوری دنیا میں جاتا ہے، اور اگر وہ قابلِ قبول ہوگا تو آرمی چیف کو ساتھ لے کر جائے گا، ورنہ پھر اس کو کوئی ہاتھ بھی نہیں ملائے گا۔ بھئی، تم باہر جاؤ، تمہیں کوئی عزت دے، ہم اس کو پاکستان کی عزت کہیں گے، لیکن آپ کے ملک کے اندر کی سرزمین خون سے سرخ ہے اور تم باہر دنیا میں ریڈ کارپٹس کو انجوائے کر رہے ہو، کوئی احساس نہیں آپ کو؟ اسی سے گزارہ کر رہے ہو، کہ فلاں ملک پر آپ اتر رہے ہیں، ریڈ کارپٹس پر جا رہے ہیں، آپ کا استقبال ہو رہا ہے، بادشاہ آپ کا استقبال کر رہے ہیں۔ یہ ساری چیزیں ہیں۔ ہاں، کوئی جائز کام ہے، اگر آپ نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا، جمعیت اس کو سپورٹ کرتی ہے۔ اگر اس پر ترکی شامل ہو گیا، ہم سپورٹ کرتے ہیں۔ جمعیت علماء اسلام کا منشور ہے: ایک اسلامی بلاک کا قیام۔ اگر اور اسلامی ممالک اس میں شامل ہوتے ہیں، اور یہ درحقیقت اس طرف ایک قدم ہے کہ اسلامی دنیا امریکہ پر اپنا انحصار ختم کرے، اور باہم یہ اپنی قوت کو مجتمع کرے، تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی ہے تو ہم نے تو اختلاف نہیں کیا۔ اختلاف برائے اختلاف نہیں ہو رہا، ورنہ ہم یہاں بھی اختلاف کرتے ہیں۔ تو آپ کیوں جا رہے ہیں؟ آپ تو نمائندے نہیں ہیں پاکستان کے، آپ کی حکومت تو جعلی ہے اور واقعی جعلی ہے، اس میں بھی کوئی شک نہیں۔ اور پھر اقلیت حکومت کر رہی ہے۔ پیپلز پارٹی حکومت کا حصہ نہیں ہے، صرف آئینی عہدے لئے ہوئے ہیں ۔ گلگت میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، مقابلہ ہے ان کا۔ کشمیر میں الیکشن ہے، ایک دوسرے کے خلاف بول رہے ہیں، بھرپور بول رہے ہیں۔ اور اسمبلی میں آ کر بیٹھتے ہیں تو پہلے اختلاف کرتے ہیں، پھر جب ووٹ کا وقت آتا ہے،،،،،،،،،،،،،،، اس قسم کی ایک سیاست ہے جو ملک کے اندر چل رہی ہے۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا پشاور میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,447 Aufrufe • vor 12 Tagen