#mirraza

azizabadi's profile picture

اس قدر نفرت ۔ اس قدر تعصب!!! #JusticeForMirRazaAli #MirRaza میر رضا شہید کی قبرکشائی کے بعد باڈی کے معائنے اور کیمیکل ایگزامن رپورٹ سے ثابت ہوگیا کہ میر رضا کو کمر پر گولی ماری گئی، چہرے کو تیزاب سے جلایا گیا، انگلیوں کو جلایا گیاتاکہ فنگر پرنٹ نہ آئیں، جسم پر جابجا بہیمانہ تشدد کے نشانات ہیں لیکن یہ صاحب بضد ہیں کہ یہ قتل نہیں خود کشی ہے، جن پولیس افسران نے قتل کو خودکشی کا رنگ دیا، یہ ان کی پیشہ ورانہ بددیانتی کا زکر کئے جانے کو بھی لسانی تعصب قرار دے رہے اور حقائق منظرعام پر لانے پر میڈیا کو بھی لسانیت کا طعنہ دے رہے ہیں صرف اسلئے کہ قتل کیا جانے والا نوجوان میر رضا مہاجر ہے۔ یقین نہیں آتا کہ کوئی اس قدر متعصب اور نفرت کرنے والا ہوسکتا ہے۔ایسے ہی متعصب لوگوں کی وجہ سے سندھ میں مہاجر تو چھوڑ دیجئے، سندھی ہاریوں اور عام غریب سندھیوں کو بھی انصاف نہیں ملتا کیونکہ اس جیسے نام نہاد صحافی قاتل وڈیروں اور ان کے سہولت کار پولیس افسران کے جرائم پر پردہ ڈالتے ہیں۔اس شخص کو صحافی کہنا صحافت کی توہین ہے۔ Imdad Soomro (Sehwani) قبرکشائی کے بعد سامنے آنے والی یہ رپورٹ تعصب کی عینک کے بجائے صحافت کی نظر سے دیکھو اور شرم کرو ۔

Mustafa Azizabadi

11,717 views • 15 days ago

AltafHussain_90's profile picture

پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے شہید میررضا کے قاتلوں کوبیرون ملک فرارکرادیا ہے۔ #JusticeForMirRazaAli #MirRaza شہید میررضا کا بڑھتا ہوا کاروبار کسی وڈیرے کے بیٹے کوپسند نہیں آیا کراچی کو پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے اپنی لوٹ ماراورغنڈہ گردی کا اڈہ بنالیا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکہ جنگ میں ثالثی کرارہے ہیں، اپنے ملک میں معصوم شہریوں پر ظالم وڈیروں کی جانب سے جوظلم ہورہا ہے اس کا حل بھی نکالیں۔ الطاف حسین ……………………………………………… سندھ خصوصاًکراچی کو پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے اپنی لوٹ ماراورغنڈہ گردی کا اڈہ بنالیاہے،کراچی کے شہریوں خصوصاً نوجوانوں کوتعلیم، روزگار، کاروبار، سماجی ومعاشی ترقی اور ہرمیدان میں حق تلفیوں اورزیادتیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے، ان کے ساتھ دشمنوں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔کراچی کے وہ نوجوان جواپنی تعلیمی قابلیت، صلاحیت اوردن رات کی محنت کے ذریعے اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی کوششیں کررہے، کسی قسم کا کاروبارشروع کررہے ہیں، وہ خاص طورپر پیپلزپارٹی کے وڈیروں، ان کی اولادوں اوران کی حکومت کے کارندوں کی غنڈہ گردی کا نشانہ بنائے جارہے ہیں، ان کی جانیں لی جارہی ہیں۔ غنڈہ گردی کا یہ سارا عمل پیپلزپارٹی کی حکومت، پولیس اورحکومتی مشینری کی سرپرستی اور معاونت سے کیا جارہا ہے۔ کراچی کے نوجوان میر رضا کا سفاکانہ قتل اس کی تازہ ترین مثال ہے۔ شہید سید میررضاعلی ایک نہایت قابل اور پڑھا لکھا نوجوان تھا،اس نے اپنی قابلیت سے Wafflix نامی فوڈشاپ کھولی اورپھر رات دن محنت ومشقت کے ذریعے ایک شاپ سے دوسری اوردوسری سے تیسری شاپ کھولی اوراپنے کاروبار کوترقی دی۔ لیکن وڈیروں اوران کی اولادوں کوشہید میررضا کی یہ ترقی برداشت نہ ہوئی، اسے پہلے دھمکیاں دی گئیں پھر28 جولائی کوشہید میررضا کواغوا کرنے کے بعد سفاکانہ تشدد کرکے قتل کردیا گیا، میررضاشہید کی آخری لوکیشن گلستان جوہر میں واقع ایک گیسٹ ہاؤس کی آئی ہے،اطلاعات کے مطابق یہ گیسٹ ہاؤس پیپلزپارٹی کے کسی وڈیرے کا بتایا جا رہا ہے۔ 29جولائی کواسی گیسٹ ہاؤس کے قریب شہید میررضاکی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی۔ پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے اپنا حکومتی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اپنی مرضی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ بنوائی تاکہ اس قتل کارخ موڑاجاسکے۔ شہید میررضا کے اہل خانہ کاشروع سے یہی کہنا تھا کہ شہید میررضاکو قتل کیا گیا ہے لیکن پولیس وڈیروں کی ایما پر شہید سید میررضاعلی کے سفاکانہ قتل کو خودکشی کا نتیجہ قراردیتی رہی اور عوام کوگمراہ کرنے کے لئے میڈیا کے ذریعے مختلف دعوے کرتی رہی۔ شہید میررضا کے والدمیرحسین علی نے بیٹے کی شہادت کاغم ایک طرف رکھ کراپنے مقتول بیٹے کو انصاف دلانے کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کرسچ بولناشروع کیا، شہید کے دوستوں اورجین زی نے انصاف کے لئے پر امن احتجاج بھی شروع کردیا۔ شہید کے والد نے بیٹے کی لاش کادوبارہ معائنہ کرانے کے لئے قبرکشائی کروانے کیلئے عدالت سے رجوع کیا، عدالت کے حکم کے باوجود پیپلزپارٹی کی حکومت نے میڈیکل بورڈ کوبھی تبدیل کیا لیکن شہید کے اہل خانہ کے احتجاج پر پرانے میڈیکل بورڈ بحال کرکے قبرکشائی کی گئی۔ قبرکشائی کے بعد جب لاش کا دوبارہ معائنہ کیا گیا تو ڈاکٹر حیران رہ جاتے ہیں، اس حوالے سے کیمیکل رپورٹ میں جوحقائق سامنے آئے ہیں وہ انتہائی تکلیف دہ ہیں۔ شہید سید میررضاعلی کو کمرسے گولی کانشانہ بنایا گیا تھا،شہید میررضا کاچہرہ ناقابل شناخت تھا، شکل کوچھپانے کے لئے چہرے کو تیزاب سے جلایا گیا، ہاتھوں کوکیمیکل سے جلایا گیا تاکہ فنگرپرنٹ نہ آسکیں اورشناخت مٹادی جائے، شرٹ پر بھی تیزاب کے نشانات، جسم پر جگہ جگہ بدترین تشدد کے نشانات واضح تھے۔ آخر شہید میررضا کا قصورکیا تھا؟ اس کا جرم کیا تھا؟ اس کا بڑھتا ہوا کاروبارکسی وڈیرے کے بیٹے کوپسند نہیں آیا،وہ اسے پھیلنے سے روکنے میں ناکام ہوئے توانہوں نے یہ سوچاکہ اس کا کام ہی اتاردو اور اسے سفاکی سے قتل کردیا گیا۔ سننے میں آرہا ہےکہ شہیدمیررضا کے قاتلوں کو بیرون ملک فرارکرادیا گیا ہے اورفرارکرانے میں بھی پیپلزپارٹی کی حکومت کے وڈیرے ملوث ہیں اورایئرپورٹ پر ایجنسیوں کےحکام نے اس میں معاونت کی۔ میں شہید میررضا کے والد سید میر حسین علی اورتمام اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتاہوں، میں اورمیرے وفاپرست کارکنان اور لاکھوں کروڑوں چاہنے والے آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ ہم شہید میررضا کوانصاف دلانےکے لئے آواز اٹھارہے ہیں اورجب تک درندہ صفت قاتلوں کوکیفرکردار تک نہیں پہنچایا جائے گا، ہم آوازاٹھاتے رہیں گے۔ ظالم وڈیرے کراچی میں معصوم نوجوانوں کوقتل کرارہے ہیں، اندرون سندھ کاروکاری اورغیرت کےنام پر چھوٹی بچیوں کوماررہے ہیں، غریب ہاریوں پر ظلم کررہے ہیں، لیکن انہیں روکنے والاکوئی نہیں۔ 1/2

Altaf Hussain

10,387 views • 16 days ago

No more content to load