Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے شہید میررضا کے قاتلوں کوبیرون ملک فرارکرادیا ہے۔ #JusticeForMirRazaAli #MirRaza شہید میررضا کا بڑھتا ہوا کاروبار کسی وڈیرے کے بیٹے کوپسند نہیں آیا کراچی کو پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے اپنی لوٹ ماراورغنڈہ گردی کا اڈہ بنالیا ہے، فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران امریکہ جنگ میں...

10,500 görüntüleme • 18 gün önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

آپ نے ہمارے نصاب کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مدارس کے نظم و نسق کو بھی جائز تسلیم کیا، آپ نے ہمارے مالیاتی نظام کو بھی جائز تسلیم کیا، پھر اس وقت سے لے کر آج تک مدارس کی رجسٹریشن کیوں نہیں ہو رہی؟ مدارس کے اکاؤنٹس کیوں بند ہیں؟اس کا معنیٰ یہ ہے کہ آپ مسئلے کا حل نہیں چاہتے۔ آپ کسی طرح چاہتے ہیں کہ مدارس اشتعال میں آئیں، سڑکوں پر آئیں، نوجوان کو اشتعال ملے، وہ بندوق کی طرف جائے، اور پھر ریاست بندوق کی طاقت کو طاقت کے ساتھ مارنے کے لیے اپنے لیے ایک جواز مہیا کر سکے۔ سو، ہم نے آپ کو یہ جواز مہیا نہیں کیا۔ ہم نے اس ملک کو پُرامن ملک بنانے کی کوشش کی۔ تاہم ایک گروہ ضرور ہے جو پہاڑوں میں چلا گیا، جو بندوق لے کر کھڑا ہو گیا، لیکن وہ بندوق اٹھا کر جب افغان_ستان جا رہا تھا تو آپ نے افغانس_تان جانے کے لیے اس کا راستہ روکا؟ آپ امریکہ کے اتحادی بھی بنے، آپ نے ہوائی اڈے بھی دیے، فضائیں بھی ان کو دیں، یہاں سے جہاز بھی اڑتے تھے، ان فضاؤں سے گزر کر وہاں پر بمباری بھی کرتے تھے، اور دوسری طرف اس جنگ میں شریک ہونے کے لیے پاکستانی مجاہد بھی جا رہا تھا، اور تم بھی اس کو تھپکی دے رہے تھے کہ آپ مجاہد ہیں۔ پھر انہی حالات میں ان کے ساتھ مصالحت کرنے کے لیے میں نہیں گیا ہوں، ان کے ساتھ مفاہمت کرنے کے لیے میں نے افغانستان کا سفر نہیں کیا۔ میں نے دو ملکوں کے درمیان معاملات ٹھیک کرنے کے لیے سفر کیا، لیکن طال_بان کے ساتھ بات کرنے کے لیے میرے ملک کے آئی ایس آئی کے چیف گئے ہیں، اور اس نے وہاں پر ان سے کیا باتیں کی ہیں، کچھ مجھے معلوم بھی ہے۔ سو اگر ان دہشت گردوں کو کوئی حوصلہ دلانے کا عمل ہے، وہ بھی آپ کے صفوں میں مل رہا ہے، ہمارے صفوں میں تو وہ ہم سے ناراض ہیں۔ آپ اپنے شہداء کی بات کرتے ہیں، مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کس کو کہتے ہیں؟ مجھے سکھاتے ہو کہ شہید کا مقام کیا ہے؟ میں قرآن و سنت کا ایک طالب علم ہوں، میں شہید کے مقام کو جانتا ہوں، شہید کیا ہوتا ہے؟ جو شہید اپنے وطن کے لیے قربانی دیتا ہے، اس کی قدر و منزلت کو میں جانتا ہوں۔ آپ مجھے اس کی قدر و منزلت نہ سمجھائیں۔ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کا اسلام آباد میں وکلاء کنونشن سے خطاب #قائدانقلاب_مولانا #سیاسی_چوکیدار #مولانا_سے_معافی_مانگ #شہداء_صرف_بہانہ #لشکر_نہیں_امن

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

14,941 görüntüleme • 1 ay önce

ضمیر کے مقتل میں انصاف کا جنازہ: جس معاشرے میں انصاف کے ایوان مقبوضہ ہو جائیں، وہاں صرف فیصلے صادر ہوتے ہیں، عدل نہیں ہوتا۔ آج انصاف کے ایوانوں سے ایک بار پھر انصاف کے قتل کی وہ سدا گونجی جس کا ڈر اس ملک کے ہر باضمیر شہری کو تھا۔ ارشد شریف وہ شخص جس نے سچ کی قیمت اپنی جان دے کر چکائی، اس کے کیس کی فائل کو بند کر دینا محض ایک قانونی فیصلہ نہیں، بلکہ پاکستان کے عدالتی نظام کی اخلاقی موت کا اعتراف ہے۔ فسطائیت کے اس دور میں ترازو طاقتور کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ جب عدالتیں مقبوضہ ہوں وہاں ثبوت نظر انداز کرکے طاقتوروں کی منشا پر فیصلے ہوتے ہیں۔ ارشد شریف کا قصور یہ تھا کہ اس نے اس سیاہ نظام کے چہرے سے نقاب الٹنے کی جرات کی تھی جسے آج مقدس بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ ارشدشریف شہید محب وطن پاکستانی ،ایک حق اور سچ کی آواز سے کینیا کی گمنام سڑکوں پر جینے کا حق چھینا گیا، اور آج اپنے ہی وطن کی عدالتوں نے اس کی یاد پر مٹی ڈال کر اس جرم میں اپنا حصہ ڈال دیا ہے۔ ایک ریاست دو دستور کا عملی نمونہ پاکستانی عدالتوں میں آئے روز دیکھنے کو مل رہا جہاں عام آدمی کے لیے قانون کی گرفت آہنی، قابض سیاہ نظام کے خلاف بولنے والے حق پر بھی ہوں ان کے قتل کے کیس بھی داخل دفتر ہوجاتے ہیں۔ جبکہ مخصوص ٹولے کو ملک لوٹنے پر کرسی اور آئین توڑنے پر بڑے عہدوں سے نوازا جاتا ہے۔ ارشد شریف کی ماں آج بھی انصاف کی منتظر ہے، لیکن شاید ہمارے نظام کے پاس اس کی آنکھوں کے آنسوؤں کا کوئی وزن نہیں۔ آپ نے کیس تو ختم کر دیا، لیکن کیا عوام کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات کو بھی ختم کر پائیں گے؟ کیا تاریخ کے اس سیاہ باب کو مٹا پائیں گے جہاں لکھا جائے گا کہ ایک سچے صحافی کے خون کا سودا بے دردی سے کیا گیا؟ #JusticeForArshadSharif

PTI

12,294 görüntüleme • 6 ay önce

میرے بیٹے کے قاتل کا نام قیوم تھا، وزیرستان سے اسکا تعلق تھا اور حکیم اللہ محسود و بیت اللہ محسود کے ساتھ ہوتا تھا وہ کراچی میں گرفتار ہوا تھا، دوران تفشیش اس نے میاں راشد حسین کی ٹارگٹ کلنگ کا انکشاف کیا میرے بیٹے کی شہادت کے بعد وہ ترقی پاکر کراچی میں کمانڈر بن گیا تھا گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد خبر آئی کہ اسکی ضمانت ہونے جارہی ہے اطلاع دی گئی کہ اگر آپ اسکی رہائی نہیں چاہتے تو آپ اسکے خلاف دعویداری کرے مجھے اس کا کافی دکھ ہوا اور میں نے انکو بتایا کہ میری کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے میرا بیٹا قوم کی جنگ میں شہید ہوا تھا، دہشتگردی کے خلاف ریاست کی ایک پالیسی تھی اور میں حکومت کا ایک نمائندہ تھا ہماری حکومت تھی، میں اطلاعات کا صوبائی وزیر تھا اور اسکی پاداش میں میرے بیٹے کو شہید کیا گیا تھا اگر کسی آپریشن کے دوران فوج، پولیس، ایف سی یا دیگر ادارے کا کوئی اہلکار شہید ہوجائے تو اسکی دعویداری ریاست کرتی ہے یا اسکا خاندان؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ شہید ہونے والے کا کیس آگے لیکر جائے اگر میں ذاتی دعویداری کروں گا تو یہ بیٹے کے خون سے غداری ہوگی میری کوئی بھی ذاتی دشمنی نہ پہلے تھی اور نہ اب ہے، ہم امن اور محبت کے پیروکار ہیں اس کے بعد معلوم نہیں کہ اس کیس میں اب تک کیا پیشرفت ہوئی ہے اگر کوئی ریاستی پالیسی کی راہ میں قربان ہوجائے تو اسکو تحفظ فراہم کرنا چاہيئے اور ریاست کو اس کی اونر شپ لینی چاہیئے ایسا کرنے سے دہشتگرد ذاتی طور پر کسی کو ٹارگٹ نہیں کریں گے اور ان کو پیغام جائے گا کہ یہ پوری قوم کی نمائندگی پر ہورہا ہے میاں افتخار حسین صدر عوامی نیشنل پارٹی پختونخوا Mian Iftikhar Husain #ANP | #AwamiNationalParty | #MianIftikharHussain

Awami National Party

90,207 görüntüleme • 2 yıl önce

اس قدر نفرت ۔ اس قدر تعصب!!! #JusticeForMirRazaAli #MirRaza میر رضا شہید کی قبرکشائی کے بعد باڈی کے معائنے اور کیمیکل ایگزامن رپورٹ سے ثابت ہوگیا کہ میر رضا کو کمر پر گولی ماری گئی، چہرے کو تیزاب سے جلایا گیا، انگلیوں کو جلایا گیاتاکہ فنگر پرنٹ نہ آئیں، جسم پر جابجا بہیمانہ تشدد کے نشانات ہیں لیکن یہ صاحب بضد ہیں کہ یہ قتل نہیں خود کشی ہے، جن پولیس افسران نے قتل کو خودکشی کا رنگ دیا، یہ ان کی پیشہ ورانہ بددیانتی کا زکر کئے جانے کو بھی لسانی تعصب قرار دے رہے اور حقائق منظرعام پر لانے پر میڈیا کو بھی لسانیت کا طعنہ دے رہے ہیں صرف اسلئے کہ قتل کیا جانے والا نوجوان میر رضا مہاجر ہے۔ یقین نہیں آتا کہ کوئی اس قدر متعصب اور نفرت کرنے والا ہوسکتا ہے۔ایسے ہی متعصب لوگوں کی وجہ سے سندھ میں مہاجر تو چھوڑ دیجئے، سندھی ہاریوں اور عام غریب سندھیوں کو بھی انصاف نہیں ملتا کیونکہ اس جیسے نام نہاد صحافی قاتل وڈیروں اور ان کے سہولت کار پولیس افسران کے جرائم پر پردہ ڈالتے ہیں۔اس شخص کو صحافی کہنا صحافت کی توہین ہے۔ Imdad Soomro (Sehwani) قبرکشائی کے بعد سامنے آنے والی یہ رپورٹ تعصب کی عینک کے بجائے صحافت کی نظر سے دیکھو اور شرم کرو ۔

Mustafa Azizabadi

11,717 görüntüleme • 17 gün önce

شہدائے پاکستان کو سلام وطن سے محبت میں جان نچھاور کرنا پاک فوج کے سپاہیوں کی پہچان ہے جان قربان کرنے والے عظیم سپوتوں کی قربانیوں نے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا دفاع وطن میں جان قربان کرنے والی داستانوں میں سے ایک سپاہی عاطف نذیر شہید کی ہے سپاہی عاطف نذیر شہید نے 18 جنوری 2019 کو شمالی وزیرستان میں آپریشن المیزان کے دوران دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا سپاہی عاطف نذیر کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے سپاہی عاطف نذیر شہید نے سوگواران میں والدہ اور بھائی چھوڑے سپاہی عاطف نذیر کے لواحقین نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "بیٹا بہت دلیر تھا، اس کی خواہش تھی کہ وہ شہید ہو" والدہ، سپاہی عاطف نذیر شہید مجھے خبر ملی کہ عاطف بہت زخمی ہے اور بنوں ہسپتال میں ہے، بیٹے کی شہادت کا سن کے مجھے بہت رونا آیا مگر اللہ کا شکر ادا کیا، والدہ، سپاہی عاطف نذیر شہید بیٹا بہت فرمانبردار تھا، گھر کے کام میں بھی ہاتھ بٹاتا تھا، بہت خوش قسمت ہوں کہ بیٹا راہِ حق میں ملک و قوم کے لیے شہید ہوا، بھائی کو شہید ہونے کا شوق تھا، آخری بار بھی کال پر شہید ہونے کی دعا کا بولا، بھائی، سپاہی عاطف نذیر شہید پاک فوج کے جوانوں کے لیے پیغام ہے کہ دشمن کا قلع قمع کریں جو ملک کو میلی نظر سے دیکھتے ہیں، بھائی، سپاہی عاطف نذیر شہید بیٹے نے شہید ہو کر پورے خاندان کا سر فخر سے بلند کر دیا، چچا، سپاہی عاطف نذیر شہید اس کی جدائی کا بہت افسوس ہے مگر اس نے ملک اور قوم کے لیے شہادت نوش کی، ہماری دعا ہے کہ اللہ اس کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ہمیں ہمارے شہداء پر بہت فخر ہے جو ملک و قوم کے لیے اپنی جان قربان کرتے ہیں، چچا، سپاہی عاطف نذیر شہید سپاہی عاطف نذیر کی شجاعت اور بہادری تاریخ کا ایک روشن باب ہے پاک فوج کے اس بہادر سپوت نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے وطن کی سالمیت کو برقرار رکھا ان کی قربانی ہم سب کے لیے باعثِ فخر ہے

Muhammad Hanzala

11,438 görüntüleme • 1 yıl önce

کراچی سب سے زیادہ ریونیودینے والا شہر ہے لیکن کراچی کے ساتھ ہردورمیں حق تلفیاں کی گئی ہیں اورآج بھی کی جارہی ہیں۔قیام پاکستان کے بعد کراچی ملک کا دارالحکومت تھا لیکن بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کوایک سازش کےتحت سلوپوائزن دیکر راستے سے ہٹانے اوران کےدستِ راست خان لیاقت علی خان کے قتل کے بعد ملک پر انگریزوں کے وفادارجنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لالگا دیا جن کے دورحکومت میں 1959میں ملک کا دارالخلافہ کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔اسی دورسے پاکستان میں مہاجرں کے ساتھ حق تلفیوں اورناانصافیوں کاسلسلہ شروع کردیا گیا۔ملک کاانتظامی ڈھانچہ کھڑا کرنے والے مہاجروں کوسول سروسز سے نکالاجانے لگا اورجنرل ایوب خان کے بعد جنرل یحییٰ خان کے دورمیں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ جس کے بعد رہی سہی کسر پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقارعلی بھٹو نے پوری کردی۔ درحقیقت پیپلزپارٹی ایک کراچی دشمن جماعت ہے، اس کی تاریخ کراچی حیدرآباد دشمنی سے بھری پڑی ہے، پیپلزپارٹی گزشتہ 50سال سے بلاشرکت غیرے سندھ میں حکومت میں رہی ہے اور 2008ء سے سندھ میں مستقل اس کی حکومت ہےلیکن گزشتہ 17سالوں میں پیپلز پارٹی کے وڈیروں نےلوٹ ماراورکرپشن کابازار گرم کرکے کراچی کوموئنجودڑوبنا دیا ہے۔ کراچی اورحیدرآباد سب سے زیادہ ریونیو دیتا ہےلیکن اس کی ترقی پر ایک فیصد بھی خرچ نہیں کیاجاتا، ساراپیسہ پیپلزپارٹی کی زرداری مافیا کھاجاتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے وڈیروں نے سندھ کےخزانے پر اتنا ڈاکہ ڈالاہےکہ انہوں نےکچے کے ڈاکوؤں بھی پیچھے چھوڑدیا ہے۔ایم کیوایم نے اپنے دورمیں کراچی میں پل، فلائی اورز، سڑکیں اورباغات بناکر شہرکا نقشہ بدل دیاتھالیکن گزشتہ 17سالوں میں پیپلزپارٹی نے کراچی کوتباہ وبربادکرکے رکھ دیا ہے۔ یہ پیپلزپارٹی کے وڈیرہ مافیا کی کراچی دشمنی ہے۔ پیپلزپارٹی کی نسل پرست حکومت اوراس کی وڈیرہ مافیا صرف مہاجروں پر ہی ظلم نہیں کررہی ہے بلکہ اپنی کراچی دشمنی کے ذریعے پورے شہر کوتباہ وبرباد کررہی ہےلہٰذا میں کراچی کے تمام شہریوں خواہ وہ مہاجر ہوں، پنجابی ہوں، پختون ہوں، بلوچ ہوں، غریب سندھی ہوں یا کسی بھی قوم سے تعلق رکھتے ہوں، وہ نیوکراچی ،لیاقت آباد لانڈھی، کورنگی میں رہتے ہوں یا ڈیفنس کلفٹن سوسائٹی جیسے علاقوں میں رہتے ہوں، میں ان سب سے اپیل کرتاہوں کہ وہ کراچی دشمن پیپلزپارٹی وڈیرہ مافیا سے نجات کےلئے اورشہر کے حقوق کے لئے متحد ہوجائیں، اپنے شہرکےحقوق کے لئے آواز اٹھائیں اورمتحد ہوکر جدوجہد کریں۔ جب تک کراچی میں پیپلزپارٹی مافیا کی حکومت رہےگی، کراچی کوکچھ نہیں ملے گا، یہ وڈیرے شہر کو لوٹتے رہیں گے اورشہرتباہ ہوتارہے گا۔ میں چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپیل کرتاہوں کہ وہ کراچی اورسندھ کولوٹ مار کرنے والی پیپلزپارٹی کی مافیا سے نجات دلائیں، کراچی اورشہری سندھ کواس کے حقوق دلائیں، کراچی آکر علاقوں میں جاکر عوام سے خود پوچھیں کہ پیپلزپارٹی کی اس ڈاکواورشاؤنسٹ حکومت کراچی کے ساتھ کیا کیاظلم ڈھارہی ہے۔ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے یہ بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ پورے ملک کو نواز زرداری لوٹ مارے کےاتحاد کو ختم کیاجائے ، ملک کوان لٹیروں سے نجات دلائی جائے ، عمران خان اوران کے ساتھیوں کو رہاکیا جائے،ایم کیوایم پر ناجائزاورغیرآئینی پابندیاں ختم کی جائیں، ایم کیوایم کے بے گناہ کارکنوں کو رہاکیا جائے، لاپتہ کارکنوں کو بازیاب کیاجائے، بلوچستان میں آپریشن بند کیاجائے،ماہ رنگ بلوچ اوران کے ساتھیوں کورہا کیاجائے، خیبرپختونخوا میں ڈرون حملے بندکئے جائیں، سب کوپاکستانی سمجھیں اور بندوق کے استعمال کے بجائے عوام کے دلوں کوجیتیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 315ویں فکری نشست سے خطاب 12ستمبر 2025 (مکمل خطاب دیکھنے کیلئے اس لنک پر کلک کیجئے 👇)

Altaf Hussain

14,420 görüntüleme • 11 ay önce

🔴مریضوں کو تنہا نہ چھوڑنے والے ڈاکٹر حمام اللّٰہ اہل خانہ سمیت شہید غزہ کے سب سے بڑے اسپتال الشفاء سے وابستہ ڈاکٹر حمام اللّٰہ اسرائیلی بم باری کے نتیجے میں اہلِ خانہ سمیت شہید ہو گئے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق 36 سالہ ڈاکٹر حمام اللّٰہ نے اسرائیل کی جانب سے موصول ہونے والی شمالی غزہ سے نکلنے کی دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر زخمی فلسطینیوں کے علاج کو ترجیح دی تھی۔ شہید ڈاکٹر حمام اللّٰہ نے اپنے آخری انٹرویو میں شہید ہونے والے ساتھی ڈاکٹروں اور ہیلتھ ورکرز کو خراجِ عقیدت پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ اگر میں یہاں سے محفوظ مقام پر چلا گیا تو میرے مریضوں کا علاج کون کرے گا؟ وہ جانور نہیں ہیں، انہیں مناسب دیکھ بھال کی ضرورت ہے، یہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ آپ کو کیا لگتا ہے کہ میں میڈیکل اسکول یا پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری کے لیے 14 سال صِرف اس لیے صَرف کیے کہ میں آج کے دن اپنے مریضوں کی بجائے اپنے بارے میں سوچوں؟

RTEUrdu

86,446 görüntüleme • 2 yıl önce

میں آج اس بات پر بہت افسوس کرتا ہوں کہ کل عمران خان کی بہن علیمہ خان کے گھر کی چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کی گئی۔علیمہ خان کے بیٹے، جس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، کو اغوا کیا گیا۔علیمہ خان کے بیٹے کی پی ٹی آئی کے کسی بھی ایونٹ میں کوئی تصویر تک نہیں ہے۔جس طرح اسے اغوا کیا گیا، اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ملک میں ریاست ماں کے جیسی نہیں ہے۔ظلم و جبر کا نظام ہے، اس ملک میں قانون کا کوئی احترام نہیں ہے۔عدالتوں میں وہ سکت نہیں رہی کہ شہریوں کو محفوظ رکھ سکیں۔آج علیمہ خان کے دوسرے بیٹے شیرشاہ کو اغوا کیا گیا۔میں مریم نواز سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ جس طرح پنجاب پولیس کر رہی ہے یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔اتنا ظلم کریں، جتنا کل کو برداشت کر سکیں۔ہم نے تو ہمیشہ اصول کی سیاست کی ہے، ہم ہمیشہ قانون کے احترام کی بات کرتے ہیں۔اب تمام راستے اور حدود کراس کر دی گئی ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عدلیہ ہمیں میرٹ کے مطابق انصاف دے۔جو 8 دنوں کا ریمانڈ دیا گیا ہے، کس بنیاد پر دیا گیا ہے۔واضح ہو گیا ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کی ایما پر ہو رہا ہے۔حکومت نے عدالت پر اثر انداز ہو کر سب کچھ کیا ہے۔پنجاب کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے۔اسمبلی میں بھی آواز اٹھائیں گے، آپ کے حربوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ہم اپنی تحریک کو آگے بڑھائیں گے اور ظلم کی تاریک رات جلد ختم ہوگی۔

Asad Qaiser

36,456 görüntüleme • 1 yıl önce

ماورائے عدالت قتل۔۔۔ شہید حمدان کی بہن “یہ تصویر جو آپ میرے ہاتھ میں دیکھ رہے ہیں، یہ میرے بھائی شہید حمدان کی ہے، جسے 29 دسمبر 2025 کو گھر سے لاپتہ کیا گیا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد اس پر جھوٹے الزامات لگا کر میڈیا میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد میرے بھائی کو تین مرتبہ عدالت میں بھی پیش کیا گیا، لیکن وہ ہر بار کوئی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے، اگلی پیشی کی تاریخ سے ایک دن پہلے، میرے بھائی حمدان اور دیگر تین بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے ماورائے عدالت قتل کیا گیا، اور پھر اسے مقابلے کا نام دیا گیا۔ اگر یہ مقابلہ تھا تو اس میں صرف بلوچ نوجوان ہی کیوں مارے گئے؟ آپ کے اہلکاروں کا ایک بندہ تک کیوں نہیں مرا؟ اور پھر اسی طرح، بنا ثبوت اور ناانصافی پر مبنی فیصلے کے تحت ڈاکٹر ماہ رنگ اور ان کی دیگر ساتھیوں کو آپ کی عدالت نے عمر قید سنائی ہے۔ میرا یہ ویڈیو بنانے کا مقصد یہ ہے کہ سرفراز بگٹی صاحب کہتے ہیں کہ اہلکار شبیر بلوچ کے لواحقین کے ساتھ انصاف ہوا ہے۔ اگر ایک واقعے پر مکمل طور پر ردِعمل آ سکتا ہے، اگر لوگوں کو سزائیں سنائی جا سکتی ہیں، تو پھر ہمارے بھائی حمدان بلوچ کے معاملے میں خاموشی کیوں ہے؟ کیوں ہمارے بھائی کے کیس کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے؟ اگر آپ کی عدالت بے گناہ لوگوں کو عمر قید کی سزا سنا سکتی ہے، تو اُن سی ٹی ڈی اہلکاروں کی کیا سزا ہونی چاہیے جنہوں نے بلوچ نوجوانوں کو اپنی کسٹڈی میں تشدد کرکے انہیں ماورائے عدالت قتل کیا؟ اگر بقولِ آپ کے شبیر کے لواحقین کو انصاف ملا ہے، تو حمدان بلوچ کے لواحقین کا انصاف کہاں ہے؟ اگر آپ انصاف کی بات کر رہے ہیں، تو ہمارے لیے آپ لوگوں کے منہ اور عدالتوں کے دروازے کیوں بند ہو جاتے ہیں؟ ہم بھی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ہمارے اہلِ خانہ کو انصاف دیا جائے اور ان سی ٹی ڈی اہلکاروں کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر ان کو سزا نہیں دی گئی تو یہ آنے والی نسلوں کے لیے خطرہ ہے۔ اسی لیے ہمارے خاندان کو انصاف دیا جائے۔”

Baloch Yakjehti Committee

13,648 görüntüleme • 1 ay önce

میری ماہ رنگ بلوچ کی جو بہن ہے، نادیہ بلوچ، ان سے اور وہ باقی جو ان کی سینئر رہنما ہے، سمی دین بلوچ، ان سے تفصیلی بات ہوئی ہے۔ اور میں آپ کو بتاؤں کہ پچھلے دس دن سے وہ بل... جو جیل میں ہیں وہاں پہ انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ اور اس بنیاد پہ انہوں نے دھرنا دیا ہے کہ ان کو، اب عدالت یہ کہہ رہی ہے، پراسیکیوشن یہ کہہ رہی ہے کہ ان کو ہم عدالت نہیں لا سکتے، ان کا جو ہے نہ وہ موبائل پہ جو فیس ٹرائل ہے وہ، اس طرح کا ٹرائل کریں۔ تو اس کے خ... خلاف انہوں نے دھرنا دے رکھا ہے۔ یہ ان کا، یہ سیاسی قیدی ہیں۔ ​یہ سیاسی قیدی ہیں اور سیاسی قیدیوں کو سیاسی قیدیوں کی طرح ہی ٹریٹ کیا جائے۔ یہ خدانخواستہ کوئی ملک دشمن عناصر نہیں ہیں۔ بلوچستان آگے اس میں جو ہے نہ آپ کو سب کو پتا ہے کہ بلوچستان کے اس وقت حالات کیا ہیں؟ بلوچستان کے اندر لاء اینڈ آرڈر کی سچویشن کیا ہے؟ اور آپ اس میں پھر جمہوری آوازوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ رکھ رہے ہیں۔ ​پرسوں اختر مینگل صاحب کی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو ان کے گھر کے دہلیز پہ شہید کیا گیا اور کلاشنکوف کے بٹ سے مار کر شہید کیا گیا۔ پھر لواحقین کو ان کی لاش حوالے نہیں کی گئی۔ پھر اختر مینگل صاحب اور ان کی پارٹی کے باقی لوگ ان کے گھر جانا چاہتے تھے، ان کی رسائی روک دی گئی۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اسیران کے ساتھ آپ کا یہ رویہ ہے، تو ہم آپ سے پھر یہی پوچھنا چاہتے ہیں کہ آپ خدارا اس ملک کو کس طرف لے کے جانا چاہ رہے ہیں؟ ​تو ہمارا یہ مطالبہ ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جتنے بھی اسیران ہیں، ان کا آئینی اور قانونی حق ہے کہ ان کا عدالتی ٹرائل اسی طرح ہو جس طرح باقی ملزمان کے ساتھ ہوتے ہیں

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,890 görüntüleme • 2 ay önce