正在加载视频...

视频加载失败

10 نومبر کو اجلاس میں سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے چئیرمین سینیٹ کے سامنے دو بار استعفے کا کہا اور چیئرمین سینیٹ نے منظور کیا،آج ان کی سینیٹ میں موجودگی ایک اجنبی سے زیادہ کی نہیں تھی،چیئرمین سینیٹ نے غیر آئینی کام کیا اور جو آئینی ترمیم منظور ہوئی...

39,694 次观看 • 9 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,433 次观看 • 5 个月前

پیپلز پارٹی، جو خود کو ایک بہت بڑی جمہوری پارٹی کہتی ہے، آج کس منہ سے جمہوریت کی بات کرے گی۔ 1973ء کا آئین ذوالفقار علی بھٹو کا ایک عظیم تحفہ تھا، اور آج اس کے نواسے نے اسی آئین کا جنازہ نکال دیا۔ آج وہ کس منہ سے ملک میں ڈیموکریسی، قانون اور آئین کی بات کرے گا، کس منہ سے عوام کے حقوق کی بات کرے گا۔میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تو دو تہائی اکثریت تھی، اور صرف ایک چھوٹی سی اپوزیشن تھی۔ اس کے باوجود بھٹو نے تمام اپوزیشن کو ساتھ ملا کر کنسنسس پیدا کیا اور تمام مختلف سیاسی نقطہ نظر رکھنے والے لوگوں کو ساتھ لے کر قوم کو سب سے بڑا آئینی دستاویز تحفے میں دیا۔اب میں بلاول بھٹو صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں، آپ نے کیا کیا؟ آپ کی پارٹی نے تو 1973ء کے آئین کی روح کا قتل کیا ہے۔ آپ کی پارٹی نے اپنے نانا کی جو عظیم کنٹریبیوشن دی، آج اس کنٹریبیوشن کو خاک میں ملا دیا۔ آج اگر ذوالفقار علی بھٹو زندہ ہوتے تو کیا کہتے۔

Asad Qaiser

35,450 次观看 • 9 个月前

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان کا سینیٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ کے اجلاس میں ایف آئی اے کی جانب سے بے بنیاد الزامات میں گرفتار کسٹم کلکٹر ڈاکٹر کرم الہی بارے اظہار خیال 🟥ڈاکٹر کرم الہی جس کا تعلق پختونخوا کے ضلع دیر سے ہے، ایک نہایت ایماندار کسٹم کلکٹر ہے 🟥عوامی نیشنل پارٹی سے ان کا کوئی تعلق نہیں، نظریاتی طور پر ان کا گھرانہ جماعت اسلامی سے وابستہ ہے 🟥اس کو بلوچستان ٹرانسفر کیا گیا، وہ ایک دیانتدار آفیسر تھا اور کسی دباؤ میں نہیں آرہا تھا 🟥اس سے روابط ہوئے مگر اس نےکوئی بھی غیر قانونی کام سے انکارکیا 🟥دباؤ نہ ماننے کی پاداش میں آج اس کو نشان عبرت بنانے کی کوشش ہورہی ہے 🟥پہلے تو وہ غائب کردیا گیا، کسی کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں پر ہے 🟥اس کی فیملی کو ہراساں کیا گیا، اس کا ایک بھائی یونیورسٹی لیکچرر ہے، اس کو بھی اذیت دی گئی 🟥اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے 600 کلو غیر قانونی چاندنی پکڑی تھی 🟥چاندنی پکڑنے کے بعد اس کو پختونخوا ٹرانسفر کیا گیا 🟥600 کلو کی چاندنی کی لاہور منتقلی کے وقت 200 کلو نقلی چاندنی کے ساتھ تبدیل کی گئی 🟥اگر اس نے کرپشن کی تھی تو گرفتاری کا بھی ایک طریقہ کار اور ادارے ہیں 🟥مگر یہاں تو 20 دن اس کا پتہ تک نہیں چل رہا تھا کہ وہ کہاں اور کس کے پاس ہے 🟥اگر اس نے کرپشن کی بھی ہے تو اس کے گھر والوں کا کیا قصور تھا کہ ان کو ہراساں کیا گیا 🟥آج وہ ایف آئی اے کی کسٹڈی میں ہے کیونکہ اس نے غیرت کی تھی اور غیر قانونی کام سے انکار کیا تھا #AimalWaliKhan | #ANP

Awami National Party

38,959 次观看 • 10 天前

اقرار الحسن سے عوام نے جو سوالات پوچھے ہیں ان میں سے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گیا۔ پہلا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں کہا کہ جب آپ چھٹی جماعت میں تھے تو آپ کے والد نے دوسری شادی کی اور پھر جرمنی چلے گئے۔ آپ نے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم وہ کہاں رہتے ہیں کیا کرتے ہیں یا انہوں نے کتنی شادیاں کی ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف دوسری شادی کی وجہ سے کوئی ملک چھوڑ کر جرمنی میں پناہ لیتا ہے؟ ملک چھوڑنے کی اصل وجہ کیا تھی وہ آپ نے آج تک نہیں بتائی۔ دوسرا سوال آپ کے والد اسماعیل شاہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی شان میں گستاخی کے الزامات ہیں اور اس کی ویڈیو شواہد بھی موجود ہیں۔ آپ کے والد پر 295C کی دفعات بھی درج ہیں۔ اگر یہ سب جھوٹے الزامات تھے تو آپ کے والد نے عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا اور پاکستان چھوڑ کر بھاگنے کو ترجیح کیوں دی؟ تیسرا سوال آپ کی کمپنی Perfectum Pakistan کا واحد بیرون ملک دفتر جرمنی کے فرینکفرٹ میں ہے جہاں آپ کے والد مقیم ہیں۔ یہ محض اتفاق ہے یا آپ کے اور آپ کے والد کے درمیان کاروباری تعلق بھی ہے؟ اگر آپ کو اپنے والد کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تو پھر جرمنی میں دفتر کیوں؟ چوتھا سوال آپ نے خود ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ آپ نے اہم معاملات پر والد سے رابطہ کیا اور ان سے مشورہ لیا۔ جب آپ انہیں نہیں جانتے اور ان سے کوئی تعلق نہیں تو پھر مشورہ کس بات پر لیا گیا؟ یہ تضاد کیسے؟ پانچواں سوال آپ کہتے ہیں آپ کو فخر ہے مگر برسوں میں ایک بار بھی والد سے ملاقات کا کوئی ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آیا۔ جس باپ پر فخر ہو اس کے ساتھ ایک تصویر ایک مشترکہ ویڈیو بھی نہیں؟ یہ کیسا فخر ہے جو چھپ کر ہو؟ چھٹا سوال آپ کے والد کا تعلق اہل تشیع مکتب فکر سے ہے اور وہ ایک مذہبی مقرر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی ان کی سوچ اور عقائد سے الگ ہیں تو آپ نے کبھی عوامی سطح پر اپنے والد کے ان مبینہ بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کیوں نہیں کیا؟ ساتواں سوال آپ نے پاسپورٹ شناختی کارڈ اور اسناد دکھا کر والد کا نام ثابت کیا مگر کسی نے آپ کی والدیت پر سوال نہیں اٹھایا۔ عوام آپ کے والد کے مبینہ کارناموں کے بارے میں حقائق جاننا چاہتی ہے جو زبان زد عام ہیں منقول

Aamir Gujjar

29,062 次观看 • 4 个月前