Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

For international tourists, this could be an incredible experience. Navigating the whitewater of the Hunza River. غیر ملکی سیاحوں کے لیے یہ ایک شاندار تجربہ ہو سکتا ہے۔ ہنزہ دریا کی سفید پانی کی لہریں اور اس کے چیلنجنگ ریپیڈز کا سامنا کرنا نہ صرف ایڈونچر کی حقیقت کو...

14,239 Aufrufe • vor 2 Monaten •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

مریم صفدر کے کمپلین سیل میں انصاف کی امید لے کر جانے والے ایک باپ کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ دراصل ظلم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں شکایت کرنا جرم بن چکا ہو، وہاں ایک معصوم بچے کی جان بھی محفوظ نہیں رہتی۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کی سفاکی اور بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک ڈاکٹر، جسے مسیحا ہونا چاہیے تھا، اگر انسانیت سے اس قدر گر جائے کہ ایک بچے کو تجربہ گاہ کا سامان بنا دے، تو پھر یہ صرف ایک فرد کا قصور نہیں رہتا بلکہ پورا نظام مجرم بن جاتا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جس میں طاقتور کے لیے قانون ایک کھلونا اور کمزور کے لیے پھانسی کا پھندا بن چکا ہے۔ یہ ملک اب انصاف کا نہیں بلکہ طاقت اور بے رحمی کا اکھاڑا بن چکا ہے، جہاں حکمرانوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ ادارے، جو عوام کی حفاظت کے لیے تھے، اب ظلم کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ انسانیت، اخلاق اور انصاف جیسے الفاظ صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ فارم 47 کی حکومت نے اس ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں مظلوم کی چیخ بھی دب جاتی ہے اور ظالم مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ عوام کی تکلیف ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، کیونکہ اقتدار کی ہوس نے ان کی آنکھوں پر اندھے پن کی چادر ڈال دی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔ لوگ ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے درد کو سمجھے، انصاف بحال کرے، اور اس ظلم کے نظام کو توڑے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائی اور واپسی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کیونکہ عوام کو ایک ایسے رہنما کی تلاش ہے جو کم از کم ان کی آواز سن سکے۔ یہ کہانی صرف ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے خلاف فردِ جرم ہے ایک ایسا نظام جو اگر نہ بدلا گیا تو مزید کتنی زندگیاں اس کی بھینٹ چڑھیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ #نااہل_حکمراں_عوام_پریشان

PTI North Punjab

17,306 Aufrufe • vor 1 Monat

” ذاکر جان، کہاں ہو تم؟ میں آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں “ ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سولہ برس ایک ماں کی آہوں، سسکیوں اور لرزتے ہونٹوں کا کربناک سفر۔ ذاکر کی والدہ، جو ہر دن اپنے بیٹے کے نام کی صداؤں میں گزارتی ہے، آج بھی “ذاکر جان، ذاکر جان” پکار رہی ہے۔ شاید الفاظ اس کے درد کا مکمل احاطہ نہ کر سکیں، مگر اس کی فریاد، اس کی خامشی، اس کی چیخیں، سب کچھ کہہ رہی ہیں۔ اس کی سب سے دل چیر دینے والی بات یہی ہے: “ذاکر جان، میں آپ کے گھر، آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں، کیونکہ وہاں مجھے انصاف نہیں ملا۔ریاستِ پاکستان نے مجھے انصاف نہیں دیا” یہ جملہ صرف ایک ماں کی شکستگی نہیں، یہ ریاستی نظام پر ایک دھچکہ ہے۔ یہ اس ملک کے قانونی، آئینی اور اخلاقی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں “پروپیگنڈا” ہیں، وہ اس ماں کی آنکھوں میں جھانکیں۔ ان کی بے بسی شاید اُن کے سوئے ضمیر کو جگا سکے۔ یہاں جو لوگ کشمیر اور فلسطین کی ماؤں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہیں، جو کہ ہم سب کو کرنا بھی چاہیے۔ مگر جب بات بلوچستان کی ماؤں پر آتی ہے، تو کیوں ہمارے لب سل جاتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ یہاں جبر ریاست پاکستان کے ہاتھوں ہو رہا ہے؟ کیا درد صرف سرحد پار کے مظلوموں کا ہی معتبر ہے؟ یہ ایک ماں کی فریاد ہے جو نہ صرف ذاکر مجید بلوچ کے لیے ہے، بلکہ اُن تمام جبری گمشدہ افراد کی درد کی عکاسی اور اجتماعی پکار ہے جو بلوچستان کی ماؤں، بہنوں اور خاندانوں کی زندگیوں کو سالوں سے ایک اذیت میں ڈالے ہوئے ہے۔

Sammi Deen Baloch

14,880 Aufrufe • vor 1 Jahr

یہ ہے وہ سڑک… جس پر پاکستان کو سالانہ اربوں کی آمدنی ہوتی ہے…! جی ہاں! یہ ہے وہ قیمتی سڑک…! یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو تک جاتا ہے — ہر سال ہزاروں سیاح، ٹریکرز اور مہم جو اسی راستے سے گزرتے ہیں، اور پاکستان کو کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کی سیاحت کی آمدنی ہوتی ہے یہی وہ خستہ حال، ٹوٹی پھوٹی، گرد و غبار میں لپٹی سڑک ہے… جو ہمیں دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ کے ٹو تک لے جاتی ہے یہ ہے پاکستان کی ایک قیمتی سڑک کی حالیہ حالت- یہ وہ سڑک ہے جس کے ذریعے پاکستان ہر سال لاکھوں ڈالرز کی آمدن حاصل کرتا ہے۔ یہی راستہ دنیا بھر سے آنے والے ہزاروں سیاحوں، کوہ پیماؤں اور ایڈونچر لورز کو کے ٹو اور دیگر خوبصورت مقامات کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ پاکستان کا ایک نہایت اہم اور بین الاقوامی شہرت یافتہ روٹ ہے، جس پر بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ گزشتہ چند مہینوں میں حکومت نے ٹورازم رائلٹی فیس میں اضافہ کر مقامی ٹور آپریٹرز، سروس پرووائیڈرز اور ایڈونچر ٹورازم سے وابستہ افراد کو شدید مشکلات میں ڈالا ہوّا تھا۔ بطور سوشل ورکرز ہم نے یہ امید کی کہ شاید اس آمدنی کو انفراسٹرکچر کی بہتری، خاص طور پر سڑکوں کی مرمت یا سیاحوں کے لیے بنیادی سہولیات میں بہتری کے لیے استعمال کیا گیا ہو گا۔ تاہم، حال ہی میں پاکستان کے معروف کوہ پیما سرباز خان کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ نے دل کو بہت رنجیدہ کر دیا۔ اُن کی ویڈیو سے معلوم ہوا کہ کے ٹو تک جانے والا راستہ پہلے سے بھی زیادہ خراب، خطرناک اور خستہ حال ہو چکا ہے۔ یہ سڑک برالدو ویلی کے درمیان سے گزرتی ہے، جو قدرتی خوبصورتی اور گلیشیئرز سے بھرپور ایک وادی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں کے لوگ ہر سال گلیشیئرز کے پگھلنے اور سیلاب کے باعث متاثر ہوتے ہیں۔ سڑک کی عدم دستیابی کی وجہ سے خواتین اور بچوں کو خاص طور پر بیماری یا ہنگامی صورتحال میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان مسائل کی ایک بڑی وجہ موسمیاتی تبدیلیاں (climate change) بھی ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے نہ صرف مقامی حکومت بلکہ UNDP اور GLOF جیسے بین الاقوامی اداروں کو بھی فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ راستہ نہ صرف غیر ملکی سیاحوں کے لیے خطرناک ہے بلکہ یہاں کے مقامی لوگوں کے لیے بھی کسی موت کے کنویں سے کم نہیں۔ اگر، خدانخواستہ، اس سڑک پر کوئی حادثہ پیش آتا ہے، تو اس کی ذمہ داری ٹورازم ڈیپارٹمنٹ پر عائد ہوگی، جو اجازت نامے جاری کرکے لوگوں کو اس راستے پر روانہ کرتا ہے۔ ہم برالدو ویلی کے باسیوں سے بھی گزارش کرتے ہیں کہ صرف گھوڑوں اور خچروں کے کرائے بڑھانے کے لیے احتجاج کرنے کے بجائے، اپنی جان، زمین اور مستقبل کے تحفظ کے لیے بھی آواز بلند کریں۔ اداروں کے دروازے کھٹکھٹائیں، سوال کریں، اور اپنے حقوق کے لیے منظم ہو کر بات کریں۔ یہ وقت صرف شکایت کرنے کا نہیں، بلکہ اجتماعی طور پر عملی اقدامات اُٹھانے کا ہے تاکہ پاکستان کا یہ انمول اور عالمی شہرت یافتہ ایڈونچر روٹ محفوظ، پائیدار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ نیچے دی گئی ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ایک بین الاقوامی سیاح کس طرح ایک خطرناک پل عبور کر رہا ہے، اور اپنے تاثرات بھی بیان کر رہا ہے۔ نیپال سے تعلق رکھنے والے مشہور کوہ پیما مینگما جی نے بتایا کہ وہ ایک مقام پر بال بال بچے۔ ان کے تاثرات دنیا بھر میں ہزاروں ایڈونچررز سنتے ہیں اور اُن پر عمل عمل بھی کرتے ہیں

Gilgit Baltistan Tourism.

38,119 Aufrufe • vor 1 Jahr

🔴 - حال ہی میں فتنہ الخوارج کی جانب سے ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں ان کے دہشتگرد جدید امریکی اسلحے FGM-148 Javelin اینٹی ٹینک میزائل، کے ساتھ تربیت حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ویڈیو میں ایک جنگجو کو جدید FGM-148 Javelin اینٹی ٹینک میزائل داغتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس مہلک ہتھیار کی قیمت تقریباً دو لاکھ امریکی ڈالر ہے۔ یہ میزائل امریکہ میں تیار کیا گیا اور اس کا مقصد دشمن کے ٹینکوں کو تباہ کرنا ہے۔ جیولن (Javelin) میزائل ایک جدید خطرناک اور مؤثر اینٹی ٹینک ہتھیار ہے۔ یہ میزائل نظام دشمن کے ٹینکوں، بکتر بند گاڑیوں اور قلعہ بند ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے اس کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی "فائر اینڈ فارگیٹ" ٹیکنالوجی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ میزائل فائر کرنے کے بعد فائر کرنے والے کو مزید اس کی رہنمائی کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ میزائل خودکار طریقے سے اپنے ہدف کو تلاش کر کے نشانہ بناتا ہے، اور اسے داغنے والا فرد فوراً محفوظ مقام پر منتقل ہو سکتا ہے۔ اس میزائل میں جدید انفراریڈ گائیڈنس سسٹم نصب ہوتا ہے، جو دشمن کے ہدف کی حرارتی شعاعوں کو شناخت کر کے میزائل کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔ یہ خصوصیت Javelin کو دن اور رات دونوں کی کاروائی میں مؤثر بناتی ہے۔ طالبان کے ہاتھوں اس قدر جدید اور مہنگے ہتھیار کا استعمال نہایت تشویشناک امر ہے، جو خطے میں سیکیورٹی کے لیے ایک نیا اور سنجیدہ چیلنج بن سکتا ہے*۔ دہشتگرد عناصر کو ایسے مہلک ہتھیاروں کی فراہمی خطے کی سلامتی کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان سے جدید غیر ملکی اسلحے کی پاکستان اسمگلنگ اور خوارج کی جانب سے سیکیورٹی فورسز اور پاکستانی عوام کے خلاف اس کا استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ امریکی انخلاء کے بعد یہی ہتھیار خوارج کو سرحد پار حملوں میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ یہ تمام شواہد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغان عبوری حکومت نہ صرف فتنہ الخوارج کو اسلحہ فراہم کر رہی ہے بلکہ دیگر دہشتگرد تنظیموں کو بھی محفوظ پناہ گاہیں اور نقل و حرکت کے راستے مہیا کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان میں چھوڑا ہوا امریکی اسلحہ واپس لینے کا اعلان کیا جو کہ وقت کی ایک اہم ضرورت بھی ہے۔

Eagle Eye

29,143 Aufrufe • vor 1 Jahr

� ہنزہ کی آہنی خاتون 🌸 اور ایک گزارش سیاحوں اور مقامی افراد سے بھی ہے۔۔ آج میں آپ کو ہنزہ کی ایک ایسی باہمت خاتون کی کہانی سنانا چاہتا ہوں جو ہم سب کے لیے ایک مثال ہے۔ پانچ سال پہلے، ہنزہ گلگت بلتستان حسینی برج کے قریب، انہوں نے ایک سادہ سی ٹیبل لگائی۔ اس پر گلگت بلتستان کے روایتی ڈرائی فروٹس رکھے، اور اپنے چھوٹے سے خواب کو حقیقت میں بدلنے کا سفر شروع کیا۔ آج… ماشاءاللہ، وہ ٹیبل ایک مکمل دکان میں بدل چکی ہے۔ 💪 یہ ہے محنت، لگن اور دیانتداری کا صلہ۔ 🌿 یہ ہے حوصلے کی معراج۔ 🌸 اور یہ ہے ہنزہ کی آہنی خاتون کی پہچان۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے کاروبار کو دن دوگنی، رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین۔ اور ایک گزارش سیاحوں اور مقامی افراد سے بھی ہے: جب آپ مقامی خشک میوہ جات یا پھل کھائیں، تو ان کے بیج کو یوں ہی مت پھینکیں۔ انہیں سنبھال کر ایک تھیلی میں رکھیں۔ جب آپ سفر پر ہوں اور ایسی جگہ سے گزریں جہاں درخت کم ہیں، تو وہ بیج کھڑکی سے باہر پھینک دیں۔ قدرت ان بیجوں کو سنبھال لے گی۔ تھائی لینڈ، ملیشیا جیسے ممالک برسوں سے یہ عمل کر رہے ہیں — یہی وجہ ہے کہ وہاں سبزہ ہے، پھل ہیں، درخت ہیں۔ آئیے ہم بھی قدرت کے ساتھ ایک قدم آگے بڑھائیں۔ 🌱 ایک بیج، ایک امید 🌳 ایک درخت، ایک نسل کی زندگی

Gilgit Baltistan Tourism.

24,457 Aufrufe • vor 1 Jahr

یہ راولاکوٹ کا ایک منظر ہے۔ اسلام آباد پولیس کی وردیوں کو آپ بخوبی پہچانتے ہوں گے۔ ویڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مظاہرین پولیس اہلکاروں کو پانی پیش کر رہے ہیں۔ مگر اس منظر کو صرف دیکھنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے بانی رکن عمر نذیر پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ ان کے ایک ساتھی شہید ہو گئے جبکہ عمر نذیر خود گولی لگنے سے زخمی ہوئے۔ ان کے چاہنے والے انہیں حفاظت کے پیشِ نظر ایک خفیہ مقام پر منتقل کر دیتے ہیں جبکہ شہید کی میت ہسپتال کے گیٹ پر موجود ہوتی ہے اور احتجاج جاری رہتا ہے۔ ادھر ایف سی، پی سی، رینجرز اور دیگر فورسز تعینات کی جاتی ہیں۔ اسلام آباد پولیس شیلنگ کرتی ہوئی دھرنے کے مقام تک پہنچتی ہے۔ دوسری طرف لوگ مسلسل یہی مؤقف اختیار کیے بیٹھے ہیں کہ ہم پُرامن ہیں۔ طویل شیلنگ، دوڑ دھوپ اور کشیدہ حالات کے باعث پولیس اہلکار تھکن کا شکار ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس پانی بھی موجود نہیں ہوتا۔ اور پھر وہ منظر سامنے آتا ہے جو اس ویڈیو میں محفوظ ہے؛ دھرنا دینے والے لوگ انہی پولیس اہلکاروں کو پانی پیش کر رہے ہیں جو ان کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ وہی لمحے ہیں جن کے بعد گولیاں چلتی ہیں۔ لاشیں گرتی ہیں۔ درجنوں خاندان سوگوار ہوتے ہیں۔ سینکڑوں لوگ زخمی ہوتے ہیں۔ یہ وہی حالات ہیں جن میں شہداء کی لاشیں بھی عوام کے حوالے نہیں کی جاتیں۔ مگر اس سب کے باوجود، اس سب کے درمیان بھی، لوگ اسی پولیس کو پانی پیش کر رہے ہیں۔ پانی دینا شاید کوئی بہت بڑا کارنامہ نہیں، مگر یہ منظر انسانیت کے وقار کی ایک بڑی مثال ضرور ہے۔ یہ اس تہذیب، اس تربیت اور اس شعور کا عکس ہے جس میں دشمنی سے پہلے انسان کو دیکھا جاتا ہے۔ سوچئے، سامنے اسلحے سے لیس وہ لوگ کھڑے ہیں جن پر گولیاں چلانے، شیلنگ کرنے اور لاشوں کو روکنے کے الزامات ہیں، مگر اگر وہ پیاسے ہیں تو انہیں پانی پیش کیا جا رہا ہے۔ پرامن ہونے کی اس سے بڑی دلیل شاید کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف پانی نہیں، یہ انسانیت کا احترام ہے۔ یہ صرف ایک منظر نہیں، یہ ایک قوم کے ظرف کا تعارف ہے۔

Awami Action Committe

24,785 Aufrufe • vor 1 Monat

اللہ کا ماسٹر پلان کیا ہے؟ ہماری زندگی کا مقصد کیا ہے؟ کیا یہ سب کچھ اتفاقاً ہو رہا ہے؟ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ یہ کائنات، یہ ستارے، یہ زمین کچھ بھی بیکار یا کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا اللہ کا ایک ماسٹر پلان ہے،جس کا مرکز آپ اور میں ہیں۔ ہم یہاں کیوں ہیں؟ ہم یہاں ایک بہت بڑے مقصد کے لیے ہیں،اللہ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہےیعنی ایک ایسا ذمہ دار، جسے اللہ نے عقل دی، شعور دیا اور سب سے بڑھ کر 'فری وِل' (اختیار) دیا تاکہ وہ اپنی مرضی سے سچ اور نیکی کا راستہ چن سکےہماری زندگی میں جو اتار چڑھاؤ آتے ہیں، جو دکھ اور تکلیفیں آتی ہیں، وہ اس ماسٹر پلان کا حصہ ہیں،یہ دنیا ایک ٹیسٹنگ گراؤنڈ (آزمائش گاہ) ہے،یہاں کا درد، یہاں کی خوشی، سب عارضی ہے،اصل مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آپ ان حالات میں کیسا ردِعمل دیتے ہیں۔ قرآن کہتا ہے:اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا، یہاں عبادت کا مطلب صرف سجدہ کرنا نہیں، بلکہ اللہ کی معرفت حاصل کرنا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر اس دنیا کو بہتر بنانا ہے۔ تو جب بھی آپ کو لگے کہ زندگی بے مقصد ہے، تو یاد رکھیں کہ آپ اللہ کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں، آپ کی تخلیق کوئی اتفاق نہیں ہے، آپ کو ایک مقصد کے لیے چنا گیا ہے

شبانہ شوکت

14,109 Aufrufe • vor 5 Monaten