正在加载视频...

视频加载失败

یااللہ یااللہ رحم 😭 ایک نوجوان جو موت کے سائے میں آٹے کا تھیلا لیے واپس آیا، تاکہ اس کے گھر کا چولہا جل سکے۔ اس کے اور اس کے گھر والوں کی خوشی دیدنی ہے♥️ غزہ میں زندگی اب ایک تھیلے آٹے کے لیے جان کی بازی لگانے...

47,910 次观看 • 1 年前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

” ذاکر جان، کہاں ہو تم؟ میں آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں “ ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سولہ برس ایک ماں کی آہوں، سسکیوں اور لرزتے ہونٹوں کا کربناک سفر۔ ذاکر کی والدہ، جو ہر دن اپنے بیٹے کے نام کی صداؤں میں گزارتی ہے، آج بھی “ذاکر جان، ذاکر جان” پکار رہی ہے۔ شاید الفاظ اس کے درد کا مکمل احاطہ نہ کر سکیں، مگر اس کی فریاد، اس کی خامشی، اس کی چیخیں، سب کچھ کہہ رہی ہیں۔ اس کی سب سے دل چیر دینے والی بات یہی ہے: “ذاکر جان، میں آپ کے گھر، آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں، کیونکہ وہاں مجھے انصاف نہیں ملا۔ریاستِ پاکستان نے مجھے انصاف نہیں دیا” یہ جملہ صرف ایک ماں کی شکستگی نہیں، یہ ریاستی نظام پر ایک دھچکہ ہے۔ یہ اس ملک کے قانونی، آئینی اور اخلاقی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں “پروپیگنڈا” ہیں، وہ اس ماں کی آنکھوں میں جھانکیں۔ ان کی بے بسی شاید اُن کے سوئے ضمیر کو جگا سکے۔ یہاں جو لوگ کشمیر اور فلسطین کی ماؤں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہیں، جو کہ ہم سب کو کرنا بھی چاہیے۔ مگر جب بات بلوچستان کی ماؤں پر آتی ہے، تو کیوں ہمارے لب سل جاتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ یہاں جبر ریاست پاکستان کے ہاتھوں ہو رہا ہے؟ کیا درد صرف سرحد پار کے مظلوموں کا ہی معتبر ہے؟ یہ ایک ماں کی فریاد ہے جو نہ صرف ذاکر مجید بلوچ کے لیے ہے، بلکہ اُن تمام جبری گمشدہ افراد کی درد کی عکاسی اور اجتماعی پکار ہے جو بلوچستان کی ماؤں، بہنوں اور خاندانوں کی زندگیوں کو سالوں سے ایک اذیت میں ڈالے ہوئے ہے۔

Sammi Deen Baloch

14,908 次观看 • 1 年前

پردیس کا سفر آسان نہیں ہوتا۔ یہ صرف فاصلے کا نام نہیں، بلکہ جذبات، رشتوں اور قربانیوں کا سفر ہوتا ہے۔ جب ایک شخص فکرِ معاش میں اپنے وطن، اپنے گھر، ماں باپ، بیوی بچوں اور دوستوں کو پیچھے چھوڑتا ہے، تو وہ صرف جسمانی طور پر نہیں، دل سے بھی ٹوٹا ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ممالک میں جب روزگار کے مواقع کم ہو جاتے ہیں، تو محنتی لوگ مجبوراً دوسرے ملکوں کا رخ کرتے ہیں۔ وہ دیارِ غیر میں جا کر سخت محنت کرتے ہیں، دھوپ، سردی، تنہائی اور زبان کی رکاوٹوں کے باوجود صرف اس امید پر جیتے ہیں کہ ان کے گھر والے سکون سے جی سکیں۔ پردیسی کے چہرے پر شاید ہنسی ہو، مگر دل میں ایک مستقل اداسی بسی ہوتی ہے۔ ہر تہوار، ہر خوشی، ہر مشکل وقت میں وہ صرف فون کال پر ہوتا ہے، تصویر میں ہوتا ہے، یا صرف دعاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ یہ پردیسی نہ صرف اپنی ذات کی قربانی دیتا ہے بلکہ اپنے خاندان کی بہتری کے لیے ہر دن جدوجہد کرتا ہے۔ اس کی زندگی کا ہر لمحہ قربانی کا نشان ہوتا ہے، اور ہر آنکھ اس کے لیے دعا گو رہتی ہے۔ یا اللہ انکی حفاظت فرما امین۔

𝔸𝕞𝕒𝕝𝕢𝕒|🇵🇰

27,603 次观看 • 10 个月前

اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مندوب نے پی ٹی آئی کی زبان بولی ہے ، آپ کو ماننا پڑے گا کہ ہم نے جو نشاندہی کی تھی وہ اب درست ثابت ہورہی ہے، اسرائیل امریکہ اور مغرب کے ہاتھوں کا ایک خنجر ہے جس نے فلسطین کی پیٹھ پر گھونپ کر مقدس سر زمین پر قبضہ کیا،بیت المقدس پہ قبضہ کیا اور عالمی قوتیں ایک ناجائز ملک کا تحفظ کر رہی ہیں، اسرائیل وہ ملک ہے جو قیام پاکستان کے ایک سال بعد 1948 میں وجود میں آیا،جس کے پہلے وزیراعظم نے خارجہ پالیسی پر پہلا پالیسی بیان دیا کہ اسرائیل کی خارجہ پالیسی کا اساس اور اس کا بنیادی ہدف دنیا میں ایک نو زائدہ مسلم ریاست (پاکستان) کا خاتمہ ہوگا،اسرائیل اپنے قیام کے بعد اپنی زندگی کا آغاز پاکستان کے خاتمے کے اہداف سے کرتا ہے اور پاکستان میں لوگ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم جوئی کر رہے ہیں،یہ وہ غلامانہ ذہنیت ہے جس کے خلاف ہم میدان عمل میں ہیں، یہ وہ جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں،یہ تہذیب کی جنگ ہے اور اس کے پیچھے سیاسی جنگ ہے، پھر اس کے پیچھے اقتصادی جنگ ہے۔اور ہم انشاءاللہ اسرائیل اور اس کے ایجنٹوں کا ہر محاذ پر راستہ روکیں گے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

202,621 次观看 • 3 年前

والد کے پاس موبائل فون نہ ہونے پر ڈکیتوں کا گالی دینا اور ایک ننھی جان کو گولی مار دینا اس بات کی علامت ہے کہ یہاں انسان نہیں، صرف درندے آزاد گھوم رہے ہیں۔ کراچی ایف سی ایریا شہید چوک کے قریب رونما ہونے والا یہ واقعہ صرف ایک تین سال کی بچی کا قتل نہیں بلکہ اس بے حس اور تباہ شدہ قانون کا ثبوت ہے جو اس شہر پر مسلط ہے۔ یہ المیہ صرف گلی کے ایک مجرم کا نہیں، بلکہ اس بوسیدہ اور مفلوج نظام کا ہے جو شہریوں کی سیکیورٹی میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ پیپلزپارٹی حکومت اور وزارتِ داخلہ سندھ کی بے حسی اب ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکی ہے۔ کہاں ہیں وہ ادارے جن کی ذمہ داری شہریوں کا تحفظ ہے؟ رینجرز اور پولیس کی اتنی بھاری نفری، اربوں روپے کے بجٹ اور گلی گلی ناکوں کے باوجود اس شہر کی گلیوں پر نفاذِ قانون کے بجائے اسٹریٹ کرمنلز کا راج کیوں ہے؟ جب ایک باپ اپنی تین سالہ بچی کے ساتھ بھی محفوظ نہیں، تو پھر ان اداروں کے قائم رہنے اور ان کے شاہانہ اخراجات کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟

Sყҽԃ Mσɳιʂ Jαʋҽԃ

19,141 次观看 • 1 个月前

مریم صفدر کے کمپلین سیل میں انصاف کی امید لے کر جانے والے ایک باپ کو شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ دراصل ظلم کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ ایک ایسا نظام جہاں شکایت کرنا جرم بن چکا ہو، وہاں ایک معصوم بچے کی جان بھی محفوظ نہیں رہتی۔ یہ واقعہ صرف ایک خاندان کا المیہ نہیں بلکہ پورے نظام کی سفاکی اور بے حسی کا کھلا ثبوت ہے۔ ایک ڈاکٹر، جسے مسیحا ہونا چاہیے تھا، اگر انسانیت سے اس قدر گر جائے کہ ایک بچے کو تجربہ گاہ کا سامان بنا دے، تو پھر یہ صرف ایک فرد کا قصور نہیں رہتا بلکہ پورا نظام مجرم بن جاتا ہے۔ یہ وہی نظام ہے جس میں طاقتور کے لیے قانون ایک کھلونا اور کمزور کے لیے پھانسی کا پھندا بن چکا ہے۔ یہ ملک اب انصاف کا نہیں بلکہ طاقت اور بے رحمی کا اکھاڑا بن چکا ہے، جہاں حکمرانوں کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت اور ضمیر مردہ ہو چکے ہیں۔ ادارے، جو عوام کی حفاظت کے لیے تھے، اب ظلم کے سہولت کار بن گئے ہیں۔ انسانیت، اخلاق اور انصاف جیسے الفاظ صرف کتابوں میں رہ گئے ہیں۔ فارم 47 کی حکومت نے اس ملک کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں مظلوم کی چیخ بھی دب جاتی ہے اور ظالم مزید مضبوط ہو جاتا ہے۔ عوام کی تکلیف ان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی، کیونکہ اقتدار کی ہوس نے ان کی آنکھوں پر اندھے پن کی چادر ڈال دی ہے۔ ایسے حالات میں عوام کا غصہ اور مایوسی فطری ہے۔ لوگ ایک ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کے درد کو سمجھے، انصاف بحال کرے، اور اس ظلم کے نظام کو توڑے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی رہائی اور واپسی کی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کیونکہ عوام کو ایک ایسے رہنما کی تلاش ہے جو کم از کم ان کی آواز سن سکے۔ یہ کہانی صرف ایک واقعے کا ردعمل نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے خلاف فردِ جرم ہے ایک ایسا نظام جو اگر نہ بدلا گیا تو مزید کتنی زندگیاں اس کی بھینٹ چڑھیں گی، اس کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ #نااہل_حکمراں_عوام_پریشان

PTI North Punjab

17,320 次观看 • 2 个月前