正在加载视频...

视频加载失败

ابھی چند دن پہلے وزیردفاع نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے فائٹر جہازوں کی اگلی چونچ تیل میں ڈوبی ہوئی ہیں اور اس بات کا ہندوستان اور افغانستان کو بخوبی علم ہے کوئی کسی پلیکھے میں نہ رہے

74,470 次观看 • 11 个月前 •via X (Twitter)

0 条评论

暂无评论

原始帖子的评论将显示在这里

相关视频

عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔ ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کون بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

10,439 次观看 • 3 个月前

اور اب ان کو زندہ جلانے والے کہہ رہے ہیں کہ ہمارے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے۔۔ اب آپ بتائیں ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟ اب وہ شیعہ کارڈ کھیل رہے ہیں ہمارے سپہ سالار کو گالیاں دے رہے ہیں صرف اس لیے کہ اس نے یہ کہا ہے کہ ان دونوں کا خون معاف نہیں ہوگا۔۔ یہ ہمارے سپہ سالار پر اس لیے حملے کر رہے ہیں کہ فوج نے مطالبہ کیا ہے کہ جن لوگوں نے سکردو میں فوج کی تنصیبات پر حملے کیے آرمی پبلک سکول کو جلایا اور دو سپاہیوں کو زندہ جلا کر شہید کیا ان کو فوج کے حوالے کیا جائے۔۔ سارا جھگڑا اسی بات کا ہے ‌‌ مگر یہ حرام زادے یہ بات نہیں بتائیں گے۔ اور اب بھی صرف ایران چلے جانے والی بات کو پکڑ کر طوفان برپا کر رہے ہیں۔ ایران جانے والی بات پورے سیاق و سباق کے ساتھ کی گئی تھی۔۔ اگر آپ پاکستان کو آگ لگاتے ہیں پاکستان کو تباہ کرتے ہیں ہمارے سپاہیوں کو شہید کرتے ہیں فوج پر حملے کرتے ہیں اور پاکستان کے قانون کا احترام نہیں کرتے تو پھر آپ ایران چلے جائیں۔۔ اور انہوں نے پہلے والی ساری بات گول کر دی اور صرف ایران چلے جانے والی بات کو پکڑ کر ماتم کر رہے ہیں۔ دھمکی دے رہے ہیں فوج میں بغاوت کرانے کی بات کر رہے ہیں شام جیسی خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں۔۔ ان بے غیرتوں کو کوئی کہے کہ اس وقت اگر ایران کی کوئی مدد کر رہا ہے تو یہی ہمارے سپہ سالار اور یہی ہماری فوج کر رہی ہے۔۔۔ اور یہ ہمارے سپہ سالار پر حملے کر رہے ہیں تاکہ ایران کی آخری امید بھی ختم ہو جائے۔ اب ایران نے مظاہروں کے دوران پولیس اور پاسداران انقلاب (ایرانی فوج) پر حملے کرنے والے 3 مزید لوگوں کو پھانسی دے دی۔ پاکستان میں فوجیوں کو زندہ جلانے شہید کرنے والوں کے خلاف سخت بات بھی نہ کی جائے! 😡 یہ ناسمجھ چھوٹے بچے تو نہیں ہیں کہ کہیں کہ جاہل لوگوں نے ایسی بات کر دی۔۔۔‌ یہ خوارج کی ذہنیت، یہ حرام زدگی ان میں کہاں سے آئی؟ کیا یہ پاکستانی ہیں؟ کیا یہ مسلمان ہیں؟ ایسے وقت جب تمام مسلمان ملک تباہ کیے جا رہے ہیں یہ پاکستان میں خانہ جنگی کروانا چاہتے ہیں شام کی طرح؟ یہ کس کی خدمت کر رہے ہیں کس کی تنخواہ پر ہیں؟ ان میں اور خوارج جہنم کے کتوں میں پھر کیا فرق ہے؟

⚡️Faisal🤺

14,844 次观看 • 6 个月前

طالب کو افغانستان پر کس نے مسلط کیا ہے؟ کابل سرینا میں جنرل فیض چائے کی پیالی لئے کیا کررہا تھا؟ اس خطے میں جو کچھ بھی ہورہا اسکو امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ محض چند دن میں پورے افغانستان پر قبضہ کرلیا جاتا ہے۔ یہ سارا امریکہ کا رچایا کھیل ہے، خود یہاں سے نکل گیا اور طالب کو اپنی نمائندگی پر یہاں بٹھا دیا۔ افغانستان میں موجودہ حکومت نہ افغانوں کی نمائندہ حکومت ہے اور نہ آئینی۔ افغانستان میں انتخابات ہونے چاہئیں اور یہ بات میں نے اسلام آباد میں امیر متقی کو سامنے کہی کہ افغانوں کو یہ موقع ملنا چاہيئے کہ وہ اپنے نمائندے انتخاب کرسکیں۔ افغان اگر طالب کو منتخب کرینگے تو ہم ساتھ دیں گے۔ موجودہ حکومت کسی لحاظ سے بھی افغانوں کی نمائندہ حکومت نہیں بلکہ امریکہ کی غلام ہے۔ افغانستان کے حالات کا پاکستان بالخصوص پختونخوا اور بلوچستان پر براہ راست اثر ہے، جب تک افغانستان میں امن نہیں آتا پاکستان میں امن کا قیام مشکل ہے۔ ایمل ولی خان صدر اے این پی پختونخوا #ANP | #AimalWaliKhan

Awami National Party

14,748 次观看 • 2 年前

" ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا " چیف جسٹس سرفراز ڈوگر کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں 14 اگست کے روز منعقدہ تقریب سے خطاب "اب اس ملک کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہاتھوں میں دیا ہے ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے یہ ہماری بنیادی ذمہ داری ہے اس ملک کو فتنے سے ، فساد سے ، انتشار سے اور نفرت کی سیاست سے ہم لوگوں نے اس کو دور رکھنا ہے اس کو محبت سے سینچنا ہے اپنے تمام جذبات کو اور اس کی تمام جو یکجہتی ہے اکائیاں ہیں ان اکائیوں کو یکجا کر کے رکھنا ہے ہمیں پاکستان کی تعمیر و ترقی کے لئے اخلاص محبت اور ادب کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوام عالم میں ان پچھلے دو سالوں میں پاکستان نے جو چیزیں حاصل کیں ہیں اور دفاعی لحاظ سے بھی اور سفارتی لحاظ سے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمارے اوپر خاص کرم کیا اور ہمیں امن کا نمائندہ بنا کر دنیا میں اجاگر کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی کرم نوازی ہے اس کی بڑی رحم دلی ہے otherwise کسی زمانے میں پاکستان کا اس طرح کا کوئی نام نہیں تھا ممتاز حیثیت نہیں تھی یہ ممتاز حیثیت ہمیں پچھلے دنوں ہمارے ڈپلومیٹک رویے اور کاوشیں جو ہمارے ان لوگوں سفارت کاروں نے کیں ان کے وجہ سے پاکستان اس وقت ممتاز حیثیت رکھتا ہے دفاعی لحاظ سے دیکھیں تو پاکستان کے لئے سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم نے تمام اسلامی ممالک کو اکٹھا کیا اور دفاعی تعاون کے ساتھ ایک معاہدہ طے پایا ہے یہ وہی بات ہے جو ہمارے اقوام عالم کے اندر کسی دور میں بھٹو صاحب نے یہ خواب دیکھا تھا اور یہ سوچا تھا کہ اقوام عالم میں صرف مسلم مملک اکٹھے ہو کر چلیں "

Saqib Bashir

136,260 次观看 • 1 个月前

"میں سب سے پہلے اپنے وزیراعلی سے ایک شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ کل میرے علاقے دیر تشریف لائے حالانکہ سوات میں ان کا کوئی معمولی سا دورہ تھا جس کے لیے وہ گئے تھے لیکن پھر شاید کوئی یہ بات ان کے علم میں لایا ہو گا کہ دیر میں اس طرح کا واقعہ ہوا ہے۔ ہم مہمان نواز لوگ ہیں، ہماری دہلیز پر اگر کوئی دشمن بھی چل کر آئے تو ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں، یہ تو ہمارے اپنے وزیراعلیٰ ہیں۔ لیکن جس طریقے سے وہ آئے اور جس طریقے سے وہ گئے، میرے خیال میں یہ دیر کے ان غیرت مند لوگوں کی ایک قسم کی توہین ہے۔ اور توہین اس بنیاد پر ہے کہ اس وقت ہسپتالوں میں تین شہداء اور دیگر لوگ پڑے تھے۔ میڈیا نے بھی دیکھا، کچھ لوگوں اور ان پولیس والوں نے جو وزیراعلیٰ سے فریاد اور شکایتیں کر رہے تھے، آپ نے بھی سنا ہو گا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چونکہ وہ صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ آپ دیر آ رہے ہیں، سیکیورٹی کی اتنی بڑی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ آپ کور کمانڈر کو، آئی جی خیبر پختونخوا کو، یہاں کے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور تمام متعلقہ انتظامیہ کو بلاتے اور میٹنگ کرتے۔ میٹنگ میں دیر کے عمائدین کو بلاتے، سیاسی پارٹیوں کو بلاتے، اور سوال کرتے، کسی کو جوابدہ بناتے۔ یہ کس طرح کا دورہ تھا کہ آپ آئے اور واپس چلے گئے اور نہ کسی سے سوال ہوا نہ کسی سے جواب طلب کیا گیا؟ کیا دیر کی ماؤں نے بیٹے اس لیے جنم دیئے ہیں کہ وہ اس طرح کی ایک سنسان جنگ میں مارے جائیں گے اور کوئی اس پر سوال بھی نہیں اٹھائے گا، کوئی اعتراض بھی نہیں کرے گا؟ اور مجھے تحریک انصاف کے اپنے کارکنوں سے بھی گلہ ہے کہ وزیراعلیٰ کا جس طرح انہوں نے استقبال کیا اور ہسپتال کے اندر نعرے بازی کر رہے تھے، کیا وہ ادھر کوئی فتح کا جشن منانے آئے تھے؟ ہمیں ان رویوں کو تبدیل کرنا ہو گا۔ دیر ہمارا وطن ہے، یہ سیاست پیچھے ہے، دیر کی غیرت اور ناموس آگے ہے۔ ترجمان تحریک تحفظ آئین پاکستان اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی

Tehreek-e-Tahafuz-e-Ayin-e-Pakistan

12,370 次观看 • 2 个月前