Video yükleniyor...

Video Yüklenemedi

Ana Sayfaya Dön

آج ايک پوڈکاسٹ ريکارڈ کروا کر نکلی تو کسی نے کہا چند بچے آپ سے ملنے آئے ہيں۔بچوں نے ميرا تعارف بتايا کہ “يہ دکانيں بند کرواتی ہيں سبزی والی اور آئس کريم والی” مختصر مگر دلچسپ ملاقات سے خوشی ملی۔بہت پيارے بچے ہيں❤️

29,393 görüntüleme • 3 ay önce •via X (Twitter)

0 Yorum

Yorum bulunmuyor

Orijinal gönderinin yorumları burada görünecek

Benzer Videolar

🚨امریکی CIA نے القاعدہ تک کیسے رسائی حاصل کی؟🚨 جان کریاکو کو القاعدہ کے چار ارکان کے ایک کافی شاپ میں روزانہ ملنے کی اطلاع ملی۔ اس نے عربی حلیے میں روزانہ وہاں جانا شروع کر دیا۔ پھر ان میں سے ایک عربی سے اس کا کیسے رابطہ ہوا؟ یہ سنسنی خیز کہانی سنیے: میں پاکستان میں تھا۔ مجھے ایک اطلاع ملی تھی کہ القاعدہ کے درمیانی سطح کے چند جنگجو روزانہ صبح دس بجے ایک کافی شاپ میں ملاقات کرتے تھے۔ میری عربی اس وقت بالکل درست اور فصیح تھی۔ میں نے آپریشنل وجوہات کی بنا پر ایک گھنی داڑھی رکھی ہوئی تھی۔ انٹرویو کرنے والے نے پوچھا : کیا میں آپ کی کچھ عربی سن سکتا ہوں؟ جان کریاکو نے جواب دیا : ہاں۔ "آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔" بسم اللہ الرحمن الرحیم الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم" میں نے ایک عربی اخبار خریدا اور کافی شاپ میں جا کر بیٹھ گیا، اور واقعی دس بجے وہ چاروں آ گئے۔ ان میں سے ایک نے میری طرف دیکھا، میں نے بھی اس کی طرف دیکھا، اور بس، ہماری نظریں ملیں۔ میں نے یہ ایک ہفتہ کیا۔ دوسرے ہفتے میں وہاں کافی پی رہا تھا، عربی اخبار کے ساتھ بیٹھا ہوا، اور وہ شخص جس نے پچھلے ہفتے میری طرف دیکھا تھا، اس نے سر ہلایا۔ تو میں نے بھی سر ہلایا، بس اتنا ہی —— کوئی اور بات چیت نہیں ہوئی۔ تیسرے ہفتے میں اب اس کے لیے باقاعدہ ایک شناسا انسان بن چکا تھا، وہ مجھے پہچانتا تھا۔ ایک دن اس نے مجھ سے کہا: "السلام علیکم" میں نے کہا: "وعلیکم السلام" — تم پر بھی سلامتی ہو۔ ایک دن وہ اکیلا آیا، تو میں نے کہا: "تفضل، براہ مہربانی بیٹھ جائیں۔ میرے ساتھ بیٹھیں، اس میں کوئی معنی نہیں کہ آپ اکیلے بیٹھیں اور میں اکیلے بیٹھوں۔" تو وہ بیٹھ گیا، ہم بات کرنے لگے، اور میں نے اس سے پوچھا کہ آپ پاکستان میں کب سے ہیں؟ اس نے کہا: میں پانچ سال سے یہاں ہوں۔ میں افغانستان میں تھا، میں نے امریکیوں کے خلاف جہاد کیا تھا۔ میں نے کہا: اوہ، وہ تو جہنم کی طرح رہا ہو گا۔ اس نے کہا: اوہ تورابورا کی بمباری تو وحشیانہ اور خوفناک تھی۔ میں نے کہا: اور آپ کا خاندان کیسا ہے؟ اس نے کہا: میری بیوی، بیٹا اور بیٹی قاہرہ میں ہیں۔ میں نے کبھی اپنے بیٹے سے ملاقات نہیں کی — وہ میری روانگی کے فوراً بعد پیدا ہوا تھا جب میں جہاد کے لیے گیا تھا۔ میں نے کہا: مجھے بہت افسوس ہے۔ اس نے کہا: ہاں، میں تنہا ہوں، اور میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ اور ہم نے یہ رابطہ جاری رکھا۔ آخر کار ایک دن میں نے اس سے کہا: چلو، میں آپ کو ڈنر پر لے جاتا ہوں۔ کافی شاپ سے باہر چلیں۔ حقیقت یہ تھی کہ میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کا کوئی دوست آ کر ہمیں دیکھ لے۔ تو ہم ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیے گئے، اور میں نے کہا: سنیں، ایک چیز ہے جس میں میں نے آپ سے سچ نہیں بولا۔ میں لبنانی نہیں ہوں۔ دراصل، میں امریکی ہوں۔ کیا آپ اس سے ٹھیک ہیں؟ اس نے کہا: مجھے لگتا ہے ہاں۔ میں نے کہا: دراصل، میں سی آئی اے کا افسر ہوں۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے۔ (وہ چیختا ہوا بھاگا نہیں، نہ ہی بندوق نکالی — کچھ نہیں کیا) اس نے پوچھا: آپ مجھے کیوں ملنا چاہتے ہیں؟ آپ مجھ سے بات کیوں کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: دراصل، آپ کے پاس ایک چیز تک رسائی ہے جو میں چاہتا ہوں جو بہت مخصوص تھی۔ میں نے اسے بتا دیا کہ کیا چاہیے؟ اس نے کہا: اور آپ میرے لیے کیا کریں گے؟ میں نے کہا: آپ کے دل کی جو بھی خواہش ہو۔ اس نے کہا: میں گھر جانا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا: میں یہ کر سکتا ہوں۔ (اور معلومات؟ ہاں، میں نے مخصوص معلومات چاہی تھیں جو میں نہیں بتاؤں گا۔) ورنہ میں جیل چلا جاؤں گا۔ تو ہم نے اس کے لیے پاسپورٹ کا بندوبست کیا، میں نے اس کے لیے فرسٹ کلاس ٹکٹ خریدا، اور اسے ایئرپورٹ تک چھوڑنے گیا، کچھ نقد رقم دی تاکہ وہ دوبارہ زندگی کی شروعات کر سکے۔ اور روانگی سے پہلے میں نے پوچھا: میں آپ سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں — آپ مجھے یہ معلومات دینے پر کیوں رضامند ہوئے؟ میں تو غالباً آپ کا دشمن ہوں۔ اس نے کہا: میں یہاں پانچ سال سے ہوں، اور آپ پہلے شخص ہیں جس نے کبھی مجھ سے میرے خاندان کے بارے میں پوچھا۔ تو میں نے کہا: تم بہت خوش نصیب ہو، پھر میں اس سے کبھی نہیں ملا۔ یہی ہمارا کام ہے۔ John Kiriakou #CIA #JohnKiriakou #alQaeda #USA #Pakistan

اکرم راعی Akram Raee

135,662 görüntüleme • 6 ay önce

شہید ڈاکٹر علی لاریجانی ایک واقعہ سناتے ہوئے: ’’ایک وقت تھا جب میں امریکہ گیا ہوا تھا، مسٹر کسنجر (Henry Kissinger) نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ میری بھی خواہش تھی کہ ان سے ملوں۔ وہ آئے اور ایٹمی پروگرام اور دیگر مسائل پر مختلف باتیں کیں۔ پھر انہوں نے پوچھا: 'کیا آپ ہمارے ساتھ تزویراتی تعلقات (Strategic Relations) رکھنا چاہتے ہیں؟' میں نے کہا: 'ہمارا تو آپ کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں ہے، آپ تزویراتی تعلقات کی بات کر رہے ہیں؟ آپ مجھ سے یہ سوال کیوں کر رہے ہیں؟' اس پر انہوں نے میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: 'ہم نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد خود لکیریں کھینچیں، ملکوں کو نام دیئے۔ سوائے دو ملکوں کے؛ ایک ایران اور دوسرا مصر۔ آپ (تاریخی طور پر) موجود تھے، ہیں اور رہیں گے۔ ہمارے پاس آپ کے ساتھ چلنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔' ایک صاحبِ فکر شخص جب کسی قوم کا تاریخی پس منظر جانتا ہو، تو وہ اس طرح بات کرتا ہے۔ وہ 'تسلیم ہو جانے' کی بات نہیں کرتا۔ آپ سے بڑے (طاقتور) بھی اس قوم کو تسلیم نہیں کروا سکے

Harmeet Singh

198,607 görüntüleme • 6 ay önce

یہ واقعہ انسانیت، صبر اور جدید ٹیکنالوجی کے باہمی اشتراک کی ایک دل کو چھو لینے والی مثال ہے۔ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کی میرا پیارا ٹیم نے پانچ سال سے لاپتہ رہنے والے سپیشل بچے طیب کو اس کی ماں سے ملانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ بچے کی ذہنی حالت کے باعث وہ اپنا نام اور پتہ بتانے سے قاصر تھا۔ مارچ 2020 میں گھر سے نکلنے کے بعد وہ راستہ بھول گیا اور ایک نیک دل انسان اسے ملتان کے ایدھی سینٹر پہنچا گیا، جہاں اس کی نگہداشت کی گئی۔ میرا پیارا ٹیم نے بچے کا انٹرویو ریکارڈ کر کے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا۔ الحمدللہ، یہ ویڈیو بچے کی والدہ تک پہنچی، انہوں نے اپنے بیٹے کو پہچانا اور ٹیم سے رابطہ ممکن ہوا۔ یوں پانچ سال بعد ماں اور بیٹے کی ملاقات نے خوشی، امید اور شکر کے جذبات کو تازہ کر دیا۔ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کا میرا پیارا پروگرام اسی عزم کے ساتھ کام کر رہا ہے کہ کوئی بچہ، سپیشل فرد یا بزرگ اپنے پیاروں سے جدا نہ رہے۔ آج بھی ملک بھر میں سینکڑوں افراد اپنے خاندانوں سے بچھڑے ہوئے ہیں، اور میرا پیارا ٹیم ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ ہر گھر دوبارہ آباد ہو۔ #safecity #merapyara #PSCA #PunjabPolice #child #specialchild #reunion #missing #humanity #hope

Punjab Safe Cities Authority

26,132 görüntüleme • 9 ay önce

میرا بھتیجا پمز میں پیدا ہوا تو میں وہیں موجود تھی ایک عورت بھاگتی ہوئی آئی اور اس نے بتایا کہ اوپر آگ لگ گئی ہے میں فوراً اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے بھتیجے کو اٹھا کر وہاں سے نکالا وہاں پمز کا کوئی عملہ موجود نہیں تھا میں جلدی سے اپنے بھتیجے کو لے کر نیچے آئی تو دیکھا کہ پمز کے عملے نے ہمیں ہی ایک کمرے میں بند کر دیا تھا میں نے ان سے کہا کہ اوپر آگ لگی ہوئی ہے مگر انہوں نے جواب دیا کہ آپ باہر نہیں جا سکتیں کیونکہ بات پھیل جائے گی اس وقت بھی ان بے حس لوگوں کو اپنی بدنامی کی فکر تھی انہیں یہ خوف لاحق تھا کہ کہیں یہ خبر باہر نہ پہنچ جائے شرم آنی چاہیے ایسے بے حس لوگوں کو بچی کہتی ہے کہ میں نے عملے سے کہا کہ اوپر جائیں اور بچوں کو بچائیں مگر پمز کا کوئی اہلکار اوپر نہیں گیا وہ ان معصوم بچوں کو آگ میں جلتا ہوا دیکھتے رہے اور کسی نے انہیں بچانے کی کوشش نہیں کی اس پورے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور غفلت کے مرتکب تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے

Agha Sheikh Sarwar

178,336 görüntüleme • 1 ay önce

سانحہ کاہنہ میں زندہ بچ جانے والے اس بچے کو ہسپتال والوں نے سر پر ٹانکے لگا کر پٹی اس لئے نہیں باندھی اور گھر بھیج دیاکیونکہ اس کی ماں ہسپتال کے باہر سے پٹی خرید کر ڈاکٹروں کو نہیں دے سکی۔ اس بچے کا منہ چوٹوں سے سوجا ہوا ہے اور اس اس کے جسم پر زخموں پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔ میں نے جب اس کے خاندان والوں کو کہا کہ ہم اس کا علاج کسی پرائیویٹ ہسپتال سے کروا دیتے ہیں تو انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ سب انسپکٹر نے کہا ہے کہ اسے جزل ہسپتال کے علاوہ کہیں نہیں دکھا سکتے کیونکہ پولیس تحقیقات کر رہی ہے۔ حکومت پنجاب نہ تو صحافیوں کو گلیوں میں جانے دے رہی ہے اور نہ ہی کسی کو متاثرہ بچوں کے علاج کی سہولت فراہم کرنے دے رہی ہے۔ یہ وزیراعظم شہباز شریف Shehbaz Sharif کا حلقہ ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کو اپنے حلقے میں ہونے والے اتنے بڑھے سانحے پر خود جانا چاہئے۔ وزیراعلی پنجاب Maryam Nawaz Sharif کو محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کے خلاف کروائی کرنی چاہئے

Faisal Mir

29,386 görüntüleme • 2 ay önce

شمالی وزیرستان میر علی کی یہ فوٹیج دیکھ کر مجھے خدیجہ بی بی یاد آگئی جس سے میری ملاقات بکا خیل کے مقام پر اس وقت ہوئی جب ضرب عضب کے شروع ہونے کے بعد میں شمالی وزیرستان سے آنے والے آئی ڈی پیز کی کوریج کر رہی تھی کہ سڑک پر چادر میں لپٹی ایک خاتون گائے کی رسی ہاتھ پکڑے وزیرستان سے بنوں کی طرف جانے والی روڈ پر جاتی نظر آئی ۔میں نے اس کے پاس جا کر اُس سے پوچھا کہ کہاں سے آرہی ہیں اپ اور باقی گھر والے کہاں ہیں تو اُس نے بتایا کہ میں میر علی سے آرہی ہوں اور باقی گھر والے ٹرک پر بنوں چلے گئے لیکن ٹرک میں جگہ نہیں تھی تو میں اپنی گائے کو پیدل لے کر جا رہی ہوں ۔میں نے حیران ہو کر پوچھا گائے کے لئے آپ میر علی سے پیدل بنوں جا رہی ہیں تو اس نے کہا کہ جب یہ پیدا ہو ئی تو اس وقت سے اب تک میں نے اسے اپنے بچوں کی طرح پالا اب بمباری میں مرنے کے لئے اسے کیسے چھوڑ دیتی ۔۔ (آئی ڈی پیز پر ایک پریزنٹیشن میں میں نے اسکی وڈیو استعمال کی تھی اس میں ایک تصویر آج بھی میرے پاس محفوظ ہے) نوٹ : اس ملک کی اصل کہانیاں کچھ اور ہیں لیکن بدقسمتی سے میڈیا کو ایک طرف لگایا ہوا ہے

Farzana Ali

32,840 görüntüleme • 2 yıl önce