Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

آج مری کی لارنس کالج روڈ پر ایک ایسا گھر مسمار کیا جا رہا ہے جو برسوں سے ایک خاندان کا واحد آسرا تھا۔ وہی گھر… جس کی دیواروں پر بچوں کی ہنسی گونجتی تھی، جہاں ہر اینٹ ایک یاد سنبھالے بیٹھی تھی۔ سکول سے واپس آنے والے معصوم...

24,419 views • 10 months ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

وقت گزر جاتا ہے، مگر بچوں کی ہنسی، ان کی معصوم باتیں اور ان کے ننھے قدم دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج ایک پرانی ویڈیو دیکھتے ہوئے احساس ہوا کہ زندگی کی سب سے بڑی نعمتیں وہی ہیں جنہیں ہم اکثر معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ میرے نزدیک اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا انعام اولاد، صحت اور محبت ہیں۔ میں خود کو بے حد خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ میرے رب نے مجھے یہ تینوں نعمتیں فراوانی سے عطا کیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اپنی رحمتوں اور نعمتوں کی بارش ہمیشہ بے حساب کی ہے۔ اس نے مجھے زندگی میں توقعات سے کہیں بڑھ کر عزت، محبت، مواقع اور آسائشیں عطا کیں۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں جو نعمت میرے دل کے سب سے قریب ہے، وہ میری اولاد ہے۔ ریان، بہرام اور میری پیاری بیٹی میری زندگی کا حاصل ہیں۔ یہ میری محبت، میری امید، میری خوشی اور میرے آنے والے کل کا سرمایہ ہیں۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ میری سب سے قیمتی متاع کیا ہے، تو میرا جواب ہمیشہ یہی ہوگا کہ میری اصل دولت میرے بچے ہیں۔ میں ان کا قیدی ہوں، اور یہ وہ قید ہے جس پر مجھے فخر ہے۔ زندگی کے اس مرحلے پر میری سب سے بڑی خواہش نہ شہرت ہے، نہ دولت اور نہ کوئی منصب۔ میری دعا صرف یہ ہے کہ میں اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر سکوں کہ وہ اچھے انسان، باکردار شہری اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنیں۔ کیونکہ آخرکار انسان کی کامیابی کا پیمانہ اس کی اولاد کے کردار سے ہی ناپا جاتا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال حالات نے ہمیں مختلف ملکوں میں رکھا۔ میرے بچے دبئی اور برطانیہ میں رہے اور میں پاکستان میں۔ ان کی جدائی نے مجھے ہر روز یہ احساس دلایا کہ گھر دیواروں سے نہیں، بچوں کی موجودگی سے بنتا ہے۔ میں نے انہیں بے حد یاد کیا، شاید اتنا جتنا الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اور آج، جب میرے بیٹے دبئی سے واپس آرہے ہیں اور میں انہیں لینے ایئرپورٹ جا رہا ہوں، تو دل کی کیفیت بیان سے باہر ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے میری دنیا کا ایک گمشدہ حصہ دوبارہ اپنی جگہ لوٹ رہا ہو۔ اولاد دراصل اللہ تعالیٰ کی وہ زندہ دعا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے پروان چڑھتی ہے۔ جتنا انہیں دیکھتا ہوں، اتنا ہی اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہوں۔ ریان، بہرام اور میری بیٹی — تم میری کامیابی نہیں، میری دنیا ہو۔ ❤️ الحمدللہ، ہر نعمت پر، ہر آزمائش پر، ہر وصال اور ہر جدائی پر؛ اور سب سے بڑھ کر، تم پر۔ ✨

Sher Afzal Khan Marwat

91,594 views • 2 months ago

🚨 راولپنڈی کے عوام، راولپنڈی پولیس اور متعلقہ حکام سے فوری اپیل 🚨 یہ ویڈیوز میں نے خود ریکارڈ کی ہیں۔ گزشتہ چند دنوں سے اپنے ایک دوست کے فلیٹ پر آنا جانا ہوا، جہاں کھڑکی سے سامنے والے ایک گھر میں تقریباً 8 سے 10 سال کے ایک معصوم بچے کے ساتھ مسلسل تشدد ہوتے دیکھا۔ کچھ دن پہلے میں نے اس گھر کے سربراہ کو اس بچے کو مارتے ہوئے دیکھا، اور تقریباً ایک ہفتے بعد آج اسی گھر کے ایک نوجوان بیٹے کو بھی اس بچے پر تشدد کرتے دیکھا۔ میری نظر میں یہ ایک بار کا واقعہ نہیں بلکہ بار بار ہونے والا رویہ معلوم ہوتا ہے۔ اس بچے سے مسلسل گھریلو کام کروایا جاتا ہے، اسے ڈانٹا جاتا ہے، ذلیل کیا جاتا ہے، اور متعدد مرتبہ میں نے اسے لوہے کی راڈ سے مارتے ہوئے بھی دیکھا۔ یہ سب رات کے وقت چھت پر میری آنکھوں کے سامنے ہو رہا تھا۔ یہ سوچ کر دل مزید دکھتا ہے کہ اگر کھلی جگہ پر اس کے ساتھ ایسا سلوک کیا جا رہا ہے تو گھر کے اندر اس کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ میں نے اس پوسٹ کے ساتھ ویڈیوز، گھر کی بیرونی تصویر اور لوکیشن بھی شامل کر دی ہے تاکہ متعلقہ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر اس بچے کی حفاظت یقینی بنائیں اور اگر تحقیقات میں یہ حقائق درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں۔ ایک معصوم بچے کے ساتھ ظلم کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ براہِ کرم اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ راولپنڈی پولیس اور متعلقہ اداروں تک جلد از جلد پہنچ سکے اور اس بچے کو مزید تشدد سے بچایا جا سکے۔ Sattelite block c Near punjab food authority office Opposite Hafiz abad motton shop Rawalpindi

Israr Ahmed Rajpoot

119,955 views • 2 months ago

کبھی کبھی منظر آنکھوں سے نہیں، سیدھا دل پر نقش ہو جاتا ہے۔ آج اڈیالہ کے باہر ان تینوں بہنوں کو پریشان دیکھ کر جو کیفیت بنی، وہ لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں۔ چہروں پر تھکن، آنکھوں میں انتظار، اور دل میں ایک ہی دعا… کہ سب خیر ہو جائے۔ ڈھائی ماہ کوئی چھوٹا عرصہ نہیں ہوتا۔ ہر دن ایک سال جیسا لگتا ہے جب کوئی اپنا کوئی دور ہو۔ ایسے لمحوں میں سیاست، بحث یا اختلاف کی گنجائش نہیں رہتی بس انسانیت رہ جاتی ہے۔ دکھ سب کا ایک جیسا ہوتا ہے، آنسو سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں، اور انتظار سب کو ایک سا تڑپاتا ہے لیکن جس کا اپنا بھائی ، بیٹا ، والد یا والدہ جس مشکل سے گزر رہے ہوں اس کی تکلیف صرف اسی کا خاندان محسوس کر رہا ہوتا ہے اور یہ ہم نے 9 مئی کے بعد ہر احتجاج میں گرفتار بے گناہ متاثرہ خاندانوں کو اپنی انکھوں سے یہ تکلیف برداشت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔۔ اللہ سب کے دلوں کو سکون دے اور آسانی پیدا کرے اور عمران خان سمیت تمام بے گناہ قیدیوں کے لیے آسانیاں پیدا فرمائے آمین

Ch Awais Younas

12,602 views • 7 months ago

اسی لیے تو کہتے ہیں کہ عشق اندھا ہوتا ہے کراچی میں ایک بار پھر ایسی محبت کی مثال سامنے آئی ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ 25 سالہ نوجوان لڑکی نسرین نے اپنی سہیلی کے والد (عمر 65 سال) سے محبت کی شادی کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق نسرین اپنی سہیلی کے گھر آتی جاتی رہتی تھی۔ وہاں اس کی ملاقات سہیلی کے والد سے ہوئی۔ آہستہ آہستہ بات چیت بڑھتی گئی اور دونوں کے درمیان گہری دوستی ہو گئی۔ یہ دوستی آہستہ آہستہ محبت میں تبدیل ہو گئی۔ نسرین نے اپنے خاندان کو بتایا کہ وہ سہیلی کے والد سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ خاندان والے پہلے تو حیران رہ گئے، مگر نسرین کے پختہ فیصلے کے سامنے آخر کار مان گئے۔ سہیلی کے والد نے بھی اپنے بچوں سے مشورہ کیا۔ ان کے بچوں نے بھی اس شادی کو قبول کر لیا۔ آخر کار دونوں نے ایک سادہ سی تقریب میں نکاح کر لیا۔ اب یہ عجیب جوڑا خوشی سے ایک ساتھ رہ رہا ہے۔ لوگ اس شادی کو دیکھ کر کہہ رہے ہیں کہ "محبت کے سامنے عمر کوئی رکاوٹ نہیں ہوت
0:18

Sensitive content

اسی لیے تو کہتے ہیں کہ عشق اندھا ہوتا ہے کراچی میں ایک بار پھر ایسی محبت کی مثال سامنے آئی ہے جس نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ 25 سالہ نوجوان لڑکی نسرین نے اپنی سہیلی کے والد (عمر 65 سال) سے محبت کی شادی کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق نسرین اپنی سہیلی کے گھر آتی جاتی رہتی تھی۔ وہاں اس کی ملاقات سہیلی کے والد سے ہوئی۔ آہستہ آہستہ بات چیت بڑھتی گئی اور دونوں کے درمیان گہری دوستی ہو گئی۔ یہ دوستی آہستہ آہستہ محبت میں تبدیل ہو گئی۔ نسرین نے اپنے خاندان کو بتایا کہ وہ سہیلی کے والد سے شادی کرنا چاہتی ہے۔ خاندان والے پہلے تو حیران رہ گئے، مگر نسرین کے پختہ فیصلے کے سامنے آخر کار مان گئے۔ سہیلی کے والد نے بھی اپنے بچوں سے مشورہ کیا۔ ان کے بچوں نے بھی اس شادی کو قبول کر لیا۔ آخر کار دونوں نے ایک سادہ سی تقریب میں نکاح کر لیا۔ اب یہ عجیب جوڑا خوشی سے ایک ساتھ رہ رہا ہے۔ لوگ اس شادی کو دیکھ کر کہہ رہے ہیں کہ "محبت کے سامنے عمر کوئی رکاوٹ نہیں ہوت

Ghayyur Naqvi - Consultant

68,725 views • 20 days ago

یومِ تکبیر کی رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے پمز ھسپتال میں دل کے امراض کی ایمرجنسی وارڈ میں ایک قریبی عزیز کی عیادت کے لئیے اپنے دوست صحافیوں کے ساتھ جانے کا اتفاق ہواا، ہم وارڈ سے تقریباً200 گز دور سڑک پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اچانک ہی فضا سڑک پر رگڑ کھاتے لوہے کے سٹریچر کے کمزور اور ٹوٹے پہیوں کی آواز سے گونجنا شروع ہو گئی، ہم سب نے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو ایک خاتون سٹریچر کے اگلے دائیں سائڈ کے ٹوٹے پہئیے والے کونے کو ہاتھوں سے ہوا میں رکھنے کی کوشش کر رہی تھی اور ساتھ میں دو مرد حضرات سٹریچر پر پڑے ایک تقریباً سولہ سترہ سال کے بچے کو جلدی میں کھینچ رہے تھے، بظاہر انہیں پمز کی تقریباً مزید تین سو گز دور حادثاتی ایمرجنسی سے گاڑی یا ایمبولنس کی بجائے ٹوٹے سٹریچر پر ہی لواحقین کے حوالے کر کہ ایک سمت میں دھکیل دیا گیا تھا، پھولتی سانسوں کیساتھ پریشان خاتون (جو بظاہر ماں لگ رہی تھی) نے پوچھا یہ دل کا وارڈ کہاں ہے، میں تو اس صورت حال سے پریشانی کے عالم میں کبھی اُس ماں اور سٹریچر پر پڑے اُسکے بچے کو دیکھتا اور کبھی اُن لوگوں کے ہی پیچھےاُس طویل اندھیری سڑک کو جس پر وہ یہ ٹوٹا ہوا سٹریچر کھینچ کر لا رہے تھے، ایسے میںُ ہمارے ایک ساتھی صحافی افضل باجوہ نے ٹوٹے پہئیے والے سٹریچر کے کونے کو سنبھال لیا- بظاہر پمز کی حادثاتی ایمرجنسی میں کوئی ایسا ڈاکٹر نہ تھا جو اُس بچے کو ٹوٹے سٹریچر اور پریشان حال ماں باپ کو سڑک پر دھکیلنے سے پہلے کم سے کم ابتدائی طبی امداد دے سکتا اور پھر ھسپتال کے پچھواڑے میں قائم دل کی ایمرجنسی میں بذریعہ ایمبولنس بھیج دیتا، جہاں دل کی ایک دھڑکن اور ایک سیکنڈ کے فرق سے زندگی اور موت کا سفر طے ہوتا ہے وہاں ایک بچے کو ٹوٹے سٹریچر پر ڈال لر یوں سڑک پر دھکیل دینا کونسی انسانیت ہے؟ ایٹمی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالخلافہ کے سب سے بڑے ھسپتال کی دل کی ایمرجنسی ھسپتال کے مرکزی داخلی دروازے پر نہیں بلکہ اسکے پچھواڑے میں ہے جہاں پہنچتے پہنچتے سٹریچر کے پہئیے جواب دے جاتے ہیں اور مائیں راستہ پوچھتی رہ جاتی ہیں، کیا وجہ ہے کہ باہر سے آنے والے دل کے مریضوں کا دل کی ایمرجنسی کے قریب الگ داخلی راستہ نہیں؟ عام لوگ دل کے مریضوں کو مرکزی داخلی راستے پر قائم حادثاتی ایمرجنسی میں ہی لے کر جاتے ہیں تو کیا وہاں پر ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو فوری اور ابتدائی ہنگامی امداد نہیں ملنی چاہئیے؟ کیا حادثاتی ایمرجنسی میں آنے والے دل کے مریضوں کے لئیے کوئی خصوصی راہنمائی والا عملہ یا شٹل سروس ایمبولنس نہیں ہونی چاہئیے جو ہارٹ اٹیک کا شکار مریضوں کو حادثاتی ایمرجنسی سے فوری طور پر دل کی ایمرجنسی میں منتقل کر دے؟ منسلک ویڈیو صورت حال کی ایک جھلک ہے۔ سٹریچر اور اُس پر پڑا بچہ آخر ایمرجنسی پہنچ تو گیا مگر کتنے نقصان کے بعد؟ یہ تو ڈاکٹر ہی بتا سکتے ہیں۔

Matiullah Jan

255,843 views • 2 years ago