Загрузка видео...

Не удалось загрузить видео

На главную

اُس کےلئے وہ ایک فن تھا، اب پیچھے ماں کا کلیجہ پھٹ رہا ہے، کیوں ایسا کانٹینٹ بناتے ہیں جس سے لوگوں کی دل آزاری ہو، اور بھی بہت ٹاپک ہیں جن پر کانٹینٹ بنایا جا سکتا ہے، اِس ماں کی فریاد۔۔۔آہیں اور سسکیاں دیکھی نہیں جا رہیں، ہو...

24,772 просмотров • 6 месяцев назад •via X (Twitter)

Комментарии: 22

Фото профиля Muhammad Ahmed Bhandara
Muhammad Ahmed Bhandara6 месяцев назад

بھائی قرآن کی تضحیک کسی جذباتی معاملے کی نظر نہیں کی جانی چاہیے

Фото профиля Mohammad Shan Elahi
Mohammad Shan Elahi6 месяцев назад

kaleeja ni sirf or sirf acting ho rhi h

Фото профиля Abdul Qadir
Abdul Qadir6 месяцев назад

اپنی اپنی اولادوں کی تربیت ڈھنگ سے کریں ، آج کل کے والدین بھی ایسے ہیں بچہ چاہے حرام گھر میں لائے احساس کمتری کا شکار والدین لاکھوں روپے دیکھ کر غلط سہی کا فرق نہیں سکھاتے ، اور رجب ، ڈکی ، سسٹرلوجی جیسے influencers ان کے رول ماڈل ہوتے۔ ۔ ۔ انا للّٰہ وانا الیہ الراجعون

Фото профиля Ayzal official
Ayzal official6 месяцев назад

استغفراللٰہ پر رمضان کہ مہنے میں اللّٰہ پاک کہ کلام کا مزاق بنایا ہے افسوس ہے

Фото профиля Z E E S H A N 🇵🇰 🇵🇸
Z E E S H A N 🇵🇰 🇵🇸6 месяцев назад

محمد عمیر کی وال سے کاپی تراویح کے دوران ازار بند نکالا جا رہا تک ٹاک ٹاک ، ویوز کے لئے

Фото профиля Kaptan Ka Tiger 🐅🥰🥰 Imran khan
Kaptan Ka Tiger 🐅🥰🥰 Imran khan6 месяцев назад

5 rupy cat over acting k

Фото профиля Rajputana
Rajputana6 месяцев назад

Chup Madarchod Dalay apna Bashan Apne Pas Rakh ye maa Ka lora Muslim gar ma paida howa eski Gashti ne nai samjaya ye kanjar log Hain Jo tiktok YouTube pe paisa kamanay k chakar ma apni maa b chodwa lety ab es maa k loray KO phansi Di Jaye Kal koi aur asa na Kare

Фото профиля غنیاء
غنیاء6 месяцев назад

جو سزا قانون میں بنتی ہے وہ ملنی چاہیئے تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو اور کوئی اور ایسی گستاخی کرنے کی ہمت نہ کرے اس سے پہلے بھی کئی لوگوں کو ایسے معاف کیا گیا اسی لئے دوسروں میں بھی ہمت ہوئی

Фото профиля SiNAN AFRIDI
SiNAN AFRIDI6 месяцев назад

Rony Sy pehly bachy ka tarbeyat thek Sy krna chahye

Фото профиля Not Influencer
Not Influencer6 месяцев назад

I agree

Фото профиля kash
kash6 месяцев назад

No protests from Mullahs about Molvis abusing children in mosques. No uproar about such pedophiles. It’s ok, it’s not considered blasphemy. Yet Islam is only threatened when it involves females and morality policing.

Фото профиля bahlol
bahlol6 месяцев назад

پلیز اس لڑکے کو معاف کر دو یار ماں کی حالت تو دیکھو خدا کے لیے معاف کر دو

Фото профиля Nimra Malik
Nimra Malik6 месяцев назад

What happened

Фото профиля Zohaib Mehar
Zohaib Mehar6 месяцев назад

ماں پر رہم کیا جاسکتا ہے، لیکن اُس کمبخت کو کبھی معاف نہیں کیا جاسکتا جس قرآن مجید کی پاک آیت کا مزاق اُڑایا۔ سخت سزا ملنی چاہیئے تاکہ کل کو کوئ بھی اُٹھ کہ مزاق نا بنائے۔

Фото профиля Chal Oye
Chal Oye6 месяцев назад

Chowk ma khara kr k goli maar di jaye

Фото профиля Ahsan Umar
Ahsan Umar6 месяцев назад

@grok کیا کیا تھا علی جٹ نے؟

Фото профиля Muhammad Shehryar
Muhammad Shehryar6 месяцев назад

He should be released immediately by ignoring whatever crime he did only due to the heartfelt testimony of his respected mother.

Фото профиля آزاد قیدی
آزاد قیدی6 месяцев назад

بلکل نہیں۔ قانون کے مطابق

Фото профиля T~Ahmed
T~Ahmed6 месяцев назад

ہمارا یہی تو مسئلہ ہے کہ ہم جذباتی قوم ہیں ہم قانون اور انصاف پہ فیصلہ ہونے ہی نہیں دیتے انصاف اور قانون کا یہی تقاضہ ہے کہ اس نے قران کی ایت کی بے حرمتی کی تو اس کو سزائے موت دینی چاہیے تاکہ اس سے باقی انے والی نسلیں سبق سیکھیں

Фото профиля Imran Hussain
Imran Hussain6 месяцев назад

@grook ali jutt kya kiya hy ...dtail btao

Фото профиля usmanghazi
usmanghazi6 месяцев назад

یہ غلطی نہیں، مستی تھی

Фото профиля Alina Ayat 🇵🇸
Alina Ayat 🇵🇸6 месяцев назад

Ye banany sy pehly sochna chaye tha har faltu trend ko follow krna zarori nh hota asa a Muslim insan ko itna pta hona chaye kia glt h kia sae

Похожие видео

اس وقت پاکستان میں طاقت حق بن چکی ہے، اور ماحول ایسا بنا دیا گیا ہے کہ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس۔ طاقتور اسٹیبلشمنٹ جو چاہتی ہے وہی ہو رہا ہے۔ جج خود فیصلے نہیں لکھ رہے، فیصلے لکھوائے جا رہے ہیں، ڈکٹیٹ ہو رہے ہیں، اور عدلیہ اپنی ساکھ اور استقلال کھو چکی ہے۔ پارلیمنٹ کے ذریعے عوام پر ظلم ہو رہا ہے، عدلیہ کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے، پولیس کے ذریعے ظلم ہو رہا ہے۔ بے گناہوں کو قتل کیا جا رہا ہے، مبینہ پولیس مقابلے ہو رہے ہیں، اور یہ سب کچھ واضح طور پر اخبارات میں آ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام بھی غیر متعلق کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان کی پارلیمنٹ بھی غیر متعلق ہو چکی ہے۔ اب کوئی چیز اپنی جگہ پر باقی نہیں رہی۔ پاکستان میں جو کچھ نظر آ رہا ہے وہ کھنڈر ہیں۔ عدلیہ کی جو عمارتیں ہمیں پیچھے نظر آتی ہیں، وہ بھی اس وقت کھنڈر بن چکی ہیں۔ یہاں عادل نہیں ملتا، یہاں عدل و انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ پارلیمنٹ کے اندر پاکستان کے عوام کے حق میں قانون سازی نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے حق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ پولیس کیا کر رہی ہے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں، بیوروکریسی کیا کر رہی ہے—سب آپ کے سامنے ہے۔ ایک طرف پاکستان کی ریاست اور اس کی سالمیت پر یلغار ہے، اور دوسری طرف بدترین مہنگائی ہے۔ پھر ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جن سے عوام کو مزید تکلیف پہنچے۔ عمران خان صاحب کے ساتھ اس وقت پاکستان کے عوام کی نوّے فیصد اکثریت کھڑی ہے۔ جو بھی آج ان کا مخالف ہے، وہ دراصل انتہاکت واروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم سب ایک ہیں، اسی لیے ان کی پوری کوشش ہے کہ ہمیں مایوس کریں، ناامید کریں، اور لوگوں سے کہیں کہ آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ لیکن حقیقت میں یہ ان کی بزدلی اور پریشانی کی علامت ہے۔ یہ لوگ ہار چکے ہیں، اور جو اپنے عوام سے لڑتے ہیں وہ کبھی جیت نہیں سکتے۔ پاکستان کے نظام پر عوام کا اعتماد مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اس وقت پاکستان عوام کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔ یہ لوگ دنیا میں جا کر جو فیصلے اور معاہدے کر رہے ہیں، ان کی دو ٹکے کی حیثیت بھی نہیں۔ پاکستان کے عوام انہیں قبول نہیں کرتے۔ ہم آج ہونے والے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ قابلِ مذمت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ جس طرح کے ٹرائل ہو رہے ہیں، جس طرح کی صورتحال بنائی جا رہی ہے—جنوری سے عمران خان صاحب کے کیسز ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہیں، ان کی سماعت نہیں ہو رہی۔ یہ پک اینڈ چوز کی صورتحال ہے، اپنی مرضی کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ایسے فیصلے انہیں بچا لیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ استثنا لینے کے باوجود ان کا خوف ختم نہیں ہو رہا۔ ڈر کے سائے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ خدا نہ کرے کسی ملک پر بزدل، حقیر اور چھوٹے لوگ مسلط ہو جائیں۔ یہ لوگ پست ترین سطح پر جا کر مخالفت کرتے ہیں۔ ہم خداوندِ عبدالمطلب کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہمیں ان ظالموں، بونوں اور حقیر لوگوں سے نجات عطا فرمائے۔ یہاں آئین کی بالادستی ہو، قانون کی حکمرانی ہو، اور پاکستان کے عوام کو انصاف اور ان کا حق ملے۔

Senator Allama Raja Nasir

29,309 просмотров • 9 месяцев назад

”امی! ہمیں بھی ایسا کھانا بنا دیں“ لاہور کی ایک مجبور اور باہمت ماں جو سموسے اور پکوڑوں کی ریڑھی لگا کر اپنی چار ننھی بیٹیوں کا پیٹ پال رہی تھیں آج شدید مشکلات کا شکار ہیں دو ماہ قبل کارپوریشن اہلکار اس کی ریڑھی اور تمام سامان اٹھا کر لے گئے، جس کے بعد وہ روزگار سے محروم ہو گئی اب حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ اس کی سب سے چھوٹی تین ماہ کی بیٹی کے دودھ کے لیے بھی رقم موجود نہیں دل کو چیر دینے والا منظر یہ ہے کہ جب ہمسایوں کے گھر سالن پکنے کی خوشبو آتی ہے تو معصوم بیٹیاں حسرت بھری نظروں سے اپنی ماں سے کہتی ہیں ”امی! ہمیں بھی ایسا کھانا بنا دیں“مگر بے بس ماں کے پاس آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں آیااس غریب اور خوددار خاتون کا سہارا بنیں اور اسے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع دیں۔ ریڑھی اور سامان کی بحالی کے لیے تقریباً 1 لاکھ 20 ہزار روپے کی فوری ضرورت ہےآپ کی تھوڑی سی مدد ایک ماں کی امید اور چار بچیوں کے چہروں کی مسکراہٹ واپس لا سکتی ہے۔

Ali Imran Abbasi

41,693 просмотров • 3 месяцев назад

تم اپنی حکمتِ عملی میں بدنیت بھی ہو، تم چاہتے بھی نہیں ہو کہ ملک میں کوئی آرام آئے اور اطمینان آئے۔ اور کہتے ہو ریاست ماں ہے، ریاست ماں ہے۔ ماں وہ تو اولاد کو اکٹھا کرتی ہے۔ اگر اس کی اولاد میں کہیں کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے، اختلاف پیدا ہوتا ہے اور وہ تقسیم ہوتے ہیں، ماں پر کیا گزرتی ہے؟ ماں اپنے اولاد کو جوڑتی ہے۔ ہمیں اللہ نے ایسی ماں عطا کی ہے جو قوم کی تقسیم اور انتشار کی پالیسیاں بناتی ہے۔ لڑاؤ اور حکومت کرو، لڑاؤ اور حکومت کرو۔ قوم کو تقسیم کرنا، سیاسی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مذہبی جماعتوں کو تقسیم کرنا، مدارس کی تنظیموں کو تقسیم کرنا، لڑانا، ہر جگہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ، اور تم اس کو مارو اور اس کے ذریعے نیچے کرو۔ یہ حکمتِ عملی بنانا۔ اگر یہ ماں ہے تو ایسی ماں پہ لعنت، ماں اس طرح ہوتی ہے؟ ماں کی ممتا تڑپتی ہے، اپنے اولاد کی، اس کی خیرخواہی کے لیے، ان کی وحدت کے لیے۔ وہ اپنے اولاد کو ایک صف میں دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کے دل میں جو اپنے اولاد کے لیے رأفت اور رحمت ہوتی ہے، کیا ہم وہ دیکھ رہے ہیں؟ اس ملک پہ ماں اس طرح ہوتی ہے؟ یہ ماں تو نہیں ہوتی، یہ کوئی ڈائن ہوگی۔ ماں بناؤ ریاست کو، ماں بناؤ، قوم کو ایک قوم بناؤ۔ اور اس حالت پہ کہتے ہیں کہ جو صوبے پہلے سے بنے ہوئے ہیں، ان کو بھی توڑو۔ اب باقی کام رہ گیا ہے، صوبوں کو توڑنا۔ کس لیے؟ خوبصورت نعروں کو قوم کے سامنے رکھتے ہیں۔ ہر برے کام میں آپ اس کی ایک خوبصورت تصویر بنا دیتے ہیں، قوم کے سامنے پیش کرنے کے لیے۔ اب بہت سی باتیں اس کو اصول کے حوالے سے زیرِ بحث نہیں لے جاتی، عملی حوالے سے، ماحول کے حوالے سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ اور ہمیں تو حکمرانوں کی نیت پر بھی شک ہے کہ اٹھارویں ترمیم اور اس پہ صوبوں کے اختیارات ان کے حلق کا کانٹا بنے ہوئے ہیں، اندر نہیں جا رہا ہے۔ اب آئین کہتا ہے کہ صوبوں کے جو حقوق ہیں، NFC ایوارڈ، اس پہ اضافہ ہوگا، کم ہی نہیں ہو سکے گا۔ اب کہتے ہیں یہ تو سارے محصولات صوبے رکھ جاتے ہیں، تو جب صوبے ٹوٹ جائیں گے تو پھر نیا معاہدہ کرنا پڑے گا، نیا NFC ایوارڈ آئے گا۔ تو ہمارے ملک کی قوموں، مختلف صوبوں، اس کے اندر رہنے والے لوگوں، ان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے۔ تو میں نے یہ بات ضرور کہی ہے کہ کوئی بندہ لحاف میں لیٹا ہوا تھا، تو اس کے اندر ایک جوں اس کو لگ گیا ہے، تو جوں کو تلاش کرنے کی بجائے اور جوں کو مارنے کی بجائے، اس نے رضائی کو آگ لگا دی ۔ امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کا اسلام آباد میں ورکز کنونشن سے خطاب 25 اگست 2026

Jamiat Ulama-e-Islam Pakistan

13,489 просмотров • 1 месяц назад