Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

”امی! ہمیں بھی ایسا کھانا بنا دیں“ لاہور کی ایک مجبور اور باہمت ماں جو سموسے اور پکوڑوں کی ریڑھی لگا کر اپنی چار ننھی بیٹیوں کا پیٹ پال رہی تھیں آج شدید مشکلات کا شکار ہیں دو ماہ قبل کارپوریشن اہلکار اس کی ریڑھی اور تمام سامان اٹھا...

41,693 views • 3 months ago •via X (Twitter)

34 Comments

Parveen Akhtar's profile picture
Parveen Akhtar3 months ago

جناب علی عمران عباسی صاحب اس بہن کا مجھ سے direct رابطہ کروا دیں تاکہ کچھ مدد کر سکیں۔

Rayan waseem ⁱᴾⁱᵃⁿ's profile picture
Rayan waseem ⁱᴾⁱᵃⁿ3 months ago

وہ دوبارہ ریڑھی لگائیں گی اور رانی جی کے اہلکار پھر سے دندناتے ہوئے آئیں گے اور ریڑھی سمیت ساراسامان اٹھا کر لےجائیں گے بہت سےلوگوں کو جانتا ہوں جو اب بے روزگار ہو چکےہیں بی بی قبولیت کی مرہون منت ملک کو راجواڑہ بنا دیا ہے ظالموں نے نہ جانیں محفوظ نہ مال لوگ بھوک سے بلک رہے

Dare_Devil_Is_Back's profile picture
Dare_Devil_Is_Back3 months ago

کارپوریشن والوں کے خلاف کیس کریں عدالت سے نوٹس جاری کروائیں کہ وہ اس خاتون کا جرمانہ ادا کریں جو اسکا نقصان ہوا ہے۔۔۔ بجائے اسکو بھیک خیرات دے کر دوبارہ ریڑھی لیکر دیں۔۔۔ مخیر حضرات اس کے زریعے عدالت سے ان اہلکاروں کو نوٹس بھجوائیں اور انکو نوکری سے برخاست کروائیں

Asif Siddiqui's profile picture
Asif Siddiqui3 months ago

ایک لاکھ 20 ہزار لگا کر ریڑھی دوبارہ لگائیں گے تب بھی گارنٹی نہیں کہ غریب کو کام کرنے دیا جائے گا !!

Pir Farooq's profile picture
Pir Farooq3 months ago

ایسی حکومت پر لعنت جو روزگار کی بجاۓ بےروزگار کردے

Parveen Akhtar's profile picture
Parveen Akhtar3 months ago

بہن اپنا فون نمبر اور رابطہ دے دیں تا کہ کچھ مدد کر سکیں

Sam's profile picture
Sam3 months ago

اس مجبور اور باہمت ماں کا شوہر نامراد کدھر ہے جو بچے تو شوق سے پیدا کر رہا ہے لیکن کام کے لئے بیوی کو آگے لگایا ہو ہے-

DiGiTaL GoRiILa🦍's profile picture
DiGiTaL GoRiILa🦍3 months ago

استغفرُللہ یا اللہ ان ظالموں کو ذلیل و رسواء کر۔ انہیں نشان عبرت بنا میرے مولا۔ قیامت خود بتائے گی قیامت کیوں ضروری تھی

🚨H$N's profile picture
🚨H$N3 months ago

Details plz

ABK 804's profile picture
ABK 8043 months ago

@FaiziWithKhan Bhai en k lia proper restaurant ya shop ka arrangement kia jae kitny pyary masoom bachy ye yeh hmary apny bachy hy

shazeea khan's profile picture
shazeea khan3 months ago

مریم اپنے دھندے پر سب کو لگانا چاہتی ہے تاکہ معاشرے میں مساوات قائم کی جاسکے

Johnny's profile picture
Johnny3 months ago

جو غریبوں کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں اللہ ان کو بھی یہ دن دکھائے آمین ثم آمین

Shakeel Ahmad's profile picture
Shakeel Ahmad3 months ago

What is her Whatsapp number? I want to help!!

Rehan Gul's profile picture
Rehan Gul3 months ago

CM Punjab should take an immediate action on this issue and also order to arrest those culprits who have taken her cart...

SON OF PAKISTAN ابن الباکستان's profile picture
SON OF PAKISTAN ابن الباکستان3 months ago

@aqeeljanjua47 اللّٰہ تعالیٰ غارت کرے ظالموں کو بمعہ حکمرانوں کو

Sunny's profile picture
Sunny3 months ago

Details Plz! I may help?

Rana Saleem Niaz's profile picture
Rana Saleem Niaz3 months ago

السلام و علیکم. بہن جی اپنا موبائل نمبر میسج کرے انشاءاللہ جتنی کوشش ہو گی اپکو ضروع بھیجے گے وہ نمبر جس پر کیش بھیجا جا سکے شکریہ

shahzadkhan's profile picture
shahzadkhan3 months ago

@TalatIqbal1973 یا اللہ ان کی مدد فرما اور ظالموں کو تباہ و برباد فرما۔آمین

Bebbi Ch's profile picture
Bebbi Ch3 months ago

Can you please send the contact and bank account details of this lady.....!

ismail makkawi's profile picture
ismail makkawi3 months ago

سب دی ماں کہاں ھے

Raja Salam's profile picture
Raja Salam3 months ago

بادشاہ واحد حل ورنا کتے تمسبکو کھائےگے

Hamad Hussain's profile picture
Hamad Hussain3 months ago

@M_Muzammil00 @MaryamNSharif

Zara's profile picture
Zara3 months ago

کارپوریشن کے اہلکاروں کے لیے تمغے کی بھی سفارش کریں ۔ کیونکہ برے کو برا تو ہم کہہ نہیں سکتے ۔

Hassan Ali's profile picture
Hassan Ali3 months ago

I can help as per my capacity if someone can provide contact or bank details

zain yar khan's profile picture
zain yar khan3 months ago

Which corporation was it?

Yousaf Werya's profile picture
Yousaf Werya3 months ago

@yourDactor Allah kareem 🙏 Bhn agar nikah karna chahti hon to contact karsakti hen Allah Madad farmaey Aameen.

Syed taimur pirzada's profile picture
Syed taimur pirzada3 months ago

Hi

muhammad saeed's profile picture
muhammad saeed3 months ago

اناللہ و انا الیہ راجعون

Ahmad Nagrah's profile picture
Ahmad Nagrah3 months ago

Please send me contact, thank you

Muhammad Farjad's profile picture
Muhammad Farjad3 months ago

@MaryamNSharif mam please have a look

Riaz ali's profile picture
Riaz ali3 months ago

@MaryamNSharif @Marriyum_A daddo charger required ....hahaha

umme qasim's profile picture
umme qasim3 months ago

افسوس

Powindah's profile picture
Powindah3 months ago

جب ایسی خبریں ملیں گی تو کیا کوئی کارپریشن کو پھول دے گا یا لعنتیں بھیجے گا۔

IMRAN KHALID's profile picture
IMRAN KHALID3 months ago

@IAmIshtiaqAli 😢

Related Videos

اما ہئوری کئی دن بسترِ مرگ پر رہنے کے بعد آج اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ اما ہئوری اُن ماؤں کے قافلے کی ایک توانا اور باہمت ساتھی تھیں جو اپنے جبری طور پر گمشدہ بیٹوں کی تلاش میں برسوں سے دربدر ہیں۔ اب ہمیں اس بات کا شدید دکھ رہے گا کہ دن بھر احتجاج اور دھرنوں کی تھکن کے بعد ہمیں ہنسا دینے، ہمارا حوصلہ بڑھانے والی اماں ہئوری اب ہمارے درمیان موجود نہیں ہوں گی۔ دہائی سے زائد عرصے تک اؔما ہئوری ہمارے ہر احتجاج اور ہر دھرنے میں شریک رہیں۔ وہ مسلسل اپنے گمشدہ بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ کرتی رہیں۔ مگر اس جدوجہد کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ وہ بھی بے شمار دوسری ماؤں کی طرح اپنے بیٹے کے انتظار اور اس کے غم کو دل میں لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ آج اماں ہئوری کی قبر تک تو پہنچ گئی ہے، مگر ان کے بیٹے کی تصویر اب بھی ان کی لاش کے سینے پر ایک خاموش چیخ بن کر وہی سوال دہرا رہی ہے۔ یہ تصویر اس ریاست کی بے حسی پر بڑا سوالیہ نشان ہے کہ ایک ماں نے چودہ برس تک پرامن احتجاج کیا، اپنے گمشدہ بیٹے کی واپسی کا سوال اٹھاتی رہی، مگر قبر تک پہنچ گئی اور یہ ریاست اس کے سوالوں کا کوئی جواب نہ دے سکی۔ #EndEnforcedDisappearances

Sammi Deen Baloch

24,010 views • 7 months ago

بے قصور بیٹی، ٹوٹا ہوا گھرانہ راولپنڈی کا ایک عام سا گھر… مگر اس گھر میں خوابوں کی دنیا بسی ہوئی تھی۔ ایک بیٹی، جو اپنی ماں کی آنکھوں کا تارا تھی، بہتر مستقبل کے لیے پردیس گئی۔ برسوں کی محنت، تنہائی اور جدائی برداشت کی، لیکن دل میں یہ سکون تھا کہ ماں باپ خوش ہیں اور اس کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔ پردیس میں وہ مسکرا کر زندگی گزار رہی تھی، مگر دل ہمیشہ وطن کے ساتھ دھڑکتا تھا۔ پھر ایک دن وطن میں ایسا طوفان اٹھا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔ ایک سازش کے تحت عوام کا محبوب وزیرِاعظم برطرف کر دیا گیا۔ اس کے بعد ظلم و جبر کا وہ سلسلہ شروع ہوا جس نے لاکھوں دل توڑ دیے۔ یہ خبر جب بیٹی نے سنی، تو اس کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ ظلم کے خلاف بولنے لگی، سچ کہنے لگی۔ لیکن طاقت کے ایوانوں کو ایک نازک سی لڑکی کی آواز بھی برداشت نہ ہوئی۔ انتقام میں اس کے والد اور بھائی کو اٹھا لیا گیا، دھمکایا گیا، اور حکم دیا گیا: "اپنی بیٹی سے کوئی بات نہ کرو، ورنہ انجام برا ہوگا۔" ایک ماں، جس کا دل ہر لمحہ اپنی بیٹی کے لمس کو ترستا تھا، اپنی جان سے بڑھ کر چاہی جانے والی بچی سے بات نہ کر سکی۔ وہ ماں روز آنسو بہاتی، راتوں کو جاگتی، بیٹی کی آواز سننے کو تڑپتی رہی۔ مگر جب سب دروازے بند کر دیے گئے تو اس کا دل بھی ٹوٹ گیا۔ ماں کی سانسیں مدھم ہونے لگیں۔ رخصتی کے وقت لبوں پر بس ایک ہی فریاد تھی: "میری بیٹی بے قصور ہے… میری بیٹی بے قصور ہے۔" یوں ایک ماں کا دل، ایک بیٹی کی آواز اور ایک گھرانے کا سکون، سب ظلم کی بھینٹ چڑھ گئے۔ Eshaal honey PTI PTI Faisal Khan Shehr Bano Official

Salman Iqbal

68,436 views • 1 year ago

” ذاکر جان، کہاں ہو تم؟ میں آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں “ ذاکر مجید بلوچ کی جبری گمشدگی کو سولہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سولہ برس ایک ماں کی آہوں، سسکیوں اور لرزتے ہونٹوں کا کربناک سفر۔ ذاکر کی والدہ، جو ہر دن اپنے بیٹے کے نام کی صداؤں میں گزارتی ہے، آج بھی “ذاکر جان، ذاکر جان” پکار رہی ہے۔ شاید الفاظ اس کے درد کا مکمل احاطہ نہ کر سکیں، مگر اس کی فریاد، اس کی خامشی، اس کی چیخیں، سب کچھ کہہ رہی ہیں۔ اس کی سب سے دل چیر دینے والی بات یہی ہے: “ذاکر جان، میں آپ کے گھر، آپ کے بلوچستان کو چھوڑ آئی ہوں، کیونکہ وہاں مجھے انصاف نہیں ملا۔ریاستِ پاکستان نے مجھے انصاف نہیں دیا” یہ جملہ صرف ایک ماں کی شکستگی نہیں، یہ ریاستی نظام پر ایک دھچکہ ہے۔ یہ اس ملک کے قانونی، آئینی اور اخلاقی نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیاں “پروپیگنڈا” ہیں، وہ اس ماں کی آنکھوں میں جھانکیں۔ ان کی بے بسی شاید اُن کے سوئے ضمیر کو جگا سکے۔ یہاں جو لوگ کشمیر اور فلسطین کی ماؤں کے ساتھ دکھ کا اظہار کرتے ہیں، جو کہ ہم سب کو کرنا بھی چاہیے۔ مگر جب بات بلوچستان کی ماؤں پر آتی ہے، تو کیوں ہمارے لب سل جاتے ہیں؟ کیا اس لیے کہ یہاں جبر ریاست پاکستان کے ہاتھوں ہو رہا ہے؟ کیا درد صرف سرحد پار کے مظلوموں کا ہی معتبر ہے؟ یہ ایک ماں کی فریاد ہے جو نہ صرف ذاکر مجید بلوچ کے لیے ہے، بلکہ اُن تمام جبری گمشدہ افراد کی درد کی عکاسی اور اجتماعی پکار ہے جو بلوچستان کی ماؤں، بہنوں اور خاندانوں کی زندگیوں کو سالوں سے ایک اذیت میں ڈالے ہوئے ہے۔

Sammi Deen Baloch

14,933 views • 1 year ago

سب سے بڑی غلطی جو عاصم منیر اور حکومت کرتے ہیں وہ یہ غلط فہمی ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی aliens آ کر پوسٹ کرتے ہیں۔ یہاں عوام اپنی رائے دیتی ہے، بس تھوڑا سا طریقہ مختلف ہے ان کی جوانی کے زمانے سے۔ اب کسی ٹی وی پروگرام کی ضرورت نہیں رہی، صرف ایک عدد سمارٹ فون کی ضرورت ہوتی ہے جو آجکل سب کے پاس ہے۔ دوسری بڑی غلطی وہ یہ کرتے ہیں کہ فارم ۴۷ والا طریقہ یہاں بھی چل جائے گا۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ، وہ اگر چل بھی جائے تو زیادہ دیر نہیں چلتا۔ قوم کے شعور کا جو عالم ہے اس میں تو جھوٹ، منافقت اور manipulation کی گنجائش ہی نہیں۔ Orya Maqbool Jan نے بلکل ٹھیک کہا (جس کی Imran Riaz Khan نے بھی تائید کی اپنی اس وڈیو میں) کہ حکومت اور عسکری ادارے اربوں روپے خرچ کرکے ، تنخواہ دار لوگوں سے عمران خان کے رضاکار سوشل میڈیا کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اسی لیے ساڑھے تین سال سے ہار رہے ہیں عمران خان اور عوام سے- سلام ہے پاکستان کے بے لوث سوشل میڈیا ٹائیگرز اور ٹائیگریسز کو۔ ہم سب ایک دوسرے کو نہیں جانتے مگر دل میں ایک دوسرے کی بہت عزت کرتے ہیں، کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ کسی کو پاکستان کی بہتری کے علاوہ اور کچھ نہیں چاہیے اور یہ بھی پتہ ہے کہ کن مشکل حالات میں اپنی پوری کوشش صبح شام کرتے ہیں۔ جیت تو ہم سب کا مقدر ہے اور اس بات کا پورا یقین ہے کیونکہ اللہ الحق ہے! #خان_قوم_تیرے_سنگ_رہے_گی

Jibran Ilyas

45,473 views • 9 months ago

خان ولی افریدی اس وقت تیراہ کے متاثرین کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ اس نے علاقے کے حالات کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ راستے مکمل طور پر بند ہونے کی وجہ سے زمینی آمدورفت ختم ہو گئی ہے۔ خان ولی افریدی کے مطابق لوگوں کے پاس خوراک اور روزمرہ استعمال کی اشیاء ختم ہو چکی ہیں۔ حالات اس قدر خراب ہیں کہ لوگ ٹافیوں اور معمولی چیزوں پر چائے بنا کر گزارا کرنے پر مجبور ہیں، یہاں تک کہ چینی بھی ختم ہو چکی ہے۔ اس نے کہا کہ تمام راستے بند ہیں اور انہیں کھولنے کے لیے بھاری مشینری کی اشد ضرورت ہے، مگر افسوس کہ حکومت اور اس کے متعلقہ ادارے اب تک موقع پر نہیں پہنچے۔ خان ولی افریدی نے مزید کہا کہ علاقے میں کسی قسم کی متبادل سہولت یا راستہ موجود نہیں، جس کی وجہ سے عام لوگ بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔ اگرچہ ہمارے پاس فور ویل گاڑی ہے، اس لیے ہمیں نسبتاً کم مشکلات کا سامنا ہے، اور اگر گاڑی پھسل بھی جائے تو دوستوں کی مدد سے کسی نہ کسی طرح واپس آ جاتے ہیں، مگر عام لوگ شدید مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں اور مدد کے منتظر ہیں۔ #PashtunsRejectTirahOperations

Saleem Afridi

14,482 views • 8 months ago

آج ان چار صوبوں کو توڑ کر ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے،جب فوج کی حکومت تھی انہی چار صوبوں کو ایک صوبہ مغربی پاکستان بنا کر ون یونٹ لگا دیا تھا،وہ بھی ہماری فوج کی سوچ تھی اور آج صوبوں کو توڑ کر تقسیم کرنا بھی اسی فوج کی سوچ ہے،خواہ مخواہ ایک "کاکے" کو آگے کردیا ہے۔ جب چاہیں پورے مغربی پاکستان کو ایک صوبہ بنا دیں اور جب چاہیں چار صوبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، جہاں ہر فیصلے کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کے اپنے عزائم ہوں وہاں کوئی قومی مفاد نہیں ہوتا۔ ہم نے اس ملک میں رہنا ہے تو خیرخواہی کی بنیاد پر اپنے ضمیر کی بات کرتے ہیں،ہم اپنی بھلائی اسی میں دیکھتے ہیں اور آپ کی بھی خیرخواہی اسی میں دیکھتے ہیں،مگر ان کا مزاج بن گیا ہے کہ ان کو خوشامدگروں کی زبان اچھی لگتی ہے۔ لیکن ہم ملک کو اسٹیبلشمنٹ کی ملکیت نہیں مانتے،یہ ملک ہمارا ہے،ہم اس کے شہری ہیں،اور ریاست عوام کے بغیر کچھ نہیں ہے۔ ہم اصولاً کسی یونٹ بنانے کے خلاف نہیں،دوسرے ملکوں میں بھی یونٹس بنتے ہیں لیکن وقت اور ماحول کو بھی دیکھنا چاہئے۔ ہم نے فاٹا کو صوبے میں انضمام کے وقت بھی کہا تھا یہ فاٹا کے عوام کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے، لہٰذا فاٹا کے عوام سے پوچھ لیا جائے لیکن آپ نے ان پر انضمام تھوپ دیا، آج اس کا کیا حشر ہے؟ اس وقت باجوہ صاحب تھے، جو مجھے کہتے تھے کہ آپ کیوں اس کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ہمارے لیے ضروری ہے اور جب میں نے ان کو جوابات دئے تو چند روز کے بعد مجھے ایک امریکی افسر گھر آ کر ملا، اور اس نے کہا کہ آپ کیوں فاٹا انضمام کی مخالفت کرتے ہیں؟ یہ تو ضروری اور لازمی ہے۔ آج ہمارا جنرل خود مجھے کہتا ہے کہ فاٹا انضمام کا فیصلہ غلط تھا۔ جب چاہو لوگوں کے سیاسی مستقبل کو داؤ پر لگا دو اور پھر جب چاہو طریقہ بدل دو، آپ کا فیصلہ جو آج ناگزیر ہے،کل آپ کا وہ فیصلہ غلط ثابت ہوتا ہے،کسی ایک فیصلے کی مثال بھی نہیں ملتی جس کے نتائج قوم کی حفاظت میں سامنے آئے ہوں۔ یہ وہ ساری چیزیں ہیں جس پر ڈیبیٹ ہونی چاہئے یک طرفہ فیصلہ مسلط نہ کریں،یہ عوام کا ملک ہے، یہاں عوام نے رہنا ہے،عوام کا مستقبل اس سے وابستہ ہے۔ صوبوں کی تقسیم کے پیچھے کیا مفادات ہیں؟ نمبر ایک، صوبوں کے اندر جو معدنی ذخائر ہیں، آئین کی اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبے اس کے مالک ہیں، صوبوں کے بچے اس کے مالک ہیں، اور یہ چیز انہیں مرکز میں ہضم نہیں ہو رہی ہے۔ دوسری چیز کہ این ایف سی ایوارڈ، قومی محصولات کا جو حصہ صوبوں کو ملتا ہے، وہ اب ستاون فیصد تک پہنچ گیا ہے، اور آئین کہتا ہے کہ اضافہ ہو سکتا ہے، کم ہی نہیں ہو سکتا،یہ بھی ان کو ہضم نہیں ہو رہا۔ اب صوبے تقسیم کرو تاکہ یہ لوگ ازسرِنو معدنیات اور این ایف سی ایوارڈ کے فیصلے پھر سے کریں۔ ہم صوبوں کو طاقتور دیکھنا چاہتے ہیں اور یہ لوگ سب کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اس حوالے سے سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ پیپلز پارٹی بات تو کرتی ہے، لیکن وہ صرف سندھ کی حد تک کرتی ہے۔اصولی طور پر بات کریں۔ مسلم لیگ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے، مرکز میں حکومت مسلم لیگ نون کی ہے، اور اتنے بڑے قومی سطح کے معاملات کاکے کے حوالے ہیں جس کی حیثیت ایک ذاتی ملازم سے ذیادہ اہم نہیں ہے،وہ کابینہ کا ممبر ہے۔ اسلام آباد ٹیریٹری کے لیے دو کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں۔ ایک کمیٹی میں بھی کاکا جی، دوسرے میں بھی کاکا جی، ایک کی رپورٹ کچھ، دوسری کی رپورٹ کچھ اس میں تضادات ہیں تو پاکستان ہم ان کے حوالے نہیں کرسکتے، یہ قوم کی چیز ہے، قوم کی امانت ہے اسکا فیصلہ بھی عوام نے کرنا ہے۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

33,905 views • 23 days ago

سات ستمبر کو یومِ فتح سے قبل ہم چھ ستمبر کو یومِ دفاع بھی مناتے ہیں،تسلسل کے ساتھ پاکستان ایک دن چھ ستمبر اور اگلے روز سات ستمبر کا دن مناتا ہے۔ چھ ستمبر 1965 کو جب سیالکوٹ اور لاہور کی سرحدات پر انڈیا کی فوجوں نے حملہ کیا اور ہماری افواجِ پاکستان نے اپنی جانوں پر کھیل کر دشمن کو پسپا کیا،وہ بھی تاریخی دن تھا۔ چھ ستمبر پاکستان کی جغرافیائی حدود کے تحفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اور سات ستمبر 1974 کا واقعہ پاکستان کی نظریاتی حدود کے تحفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تو یہ سمجھ دینا چاہیے کہ جہاں پاکستان کو جغرافیائی حدود کے تحفظ کی ضرورت ہے، وہاں پاکستان کو نظریاتی حدود کے تحفظ کی بھی ضرورت ہے، اور یہ دونوں مل کر ہمیں جاننے چاہیے۔ پاکستان کے عوام پاکستان اور اسلام سے محبت کرتے ہیں، البتہ دونوں حوالوں سے، پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کے حوالے سے بھی اور پاکستان کے نظریات کے حوالے سے بھی، پاکستان کا عوام اس وقت عدمِ تحفظ کے احساس سے وابستہ ہے۔ ہمیں ایک مضبوط پاکستان چاہیے اور ہمیں ایک اسلامی عادلانہ مملکت چاہیے، ایک ایسا نظامِ عدل جو انسانی حقوق کا محافظ ہے، جو قیامِ امن کا ضامن ہو، جو خوشحال معیشت کی ضمانت دیتا ہو۔

Maulana Fazl-ur-Rehman

19,972 views • 24 days ago