Loading video...

Video Failed to Load

Go Home

اسلام آباد میں کیا کیا خوفناک وارداتیں ہورہی ہیں۔ائی الیون سیکٹر ہر سال میں کیوں بارش پانی میں ڈوب جاتا ہے تو یہ ہوش ربا ویڈیو دیکھیں۔پانی کے فطری نالے میں مٹی /پتھر بھر کر اس پر دکانیں اور پلازے بنا کر بیچ دیے گئے۔ یہ کام سی ڈی...

64,931 views • 4 days ago •via X (Twitter)

0 Comments

No comments available

Comments from the original post will appear here

Related Videos

اس وقت رات کے 2:05 بج رہے ہیں اور اسلام آباد میں ایسی شدید بارش ہو رہی ہے کہ خدا کی پناہ۔ افسوس یہ ہے کہ ہم اس نعمتِ خداوندی سے فائدہ اٹھانے کے بجائے اربوں گیلن پانی ضائع کر دیتے ہیں، پھر پورا سال پانی کو ترستے ہیں۔ جن مقامات پر ہر بار پانی جمع ہوتا ہے یا نقصان پہنچاتا ہے، وہاں بے ہنگم تعمیرات کے بجائے چھوٹے ڈیم اور آبی ذخائر بنائے جائیں تو یہی پانی پورا سال ہماری ضروریات پوری کر سکتا ہے اور اسلام آباد کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی بات میں اپنے علاقے کے لیے بھی کرتا ہوں، جہاں قدرتی دریا اور نالے موجود ہیں اور پورے علاقے کو پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔ مگر وقتی سیاسی مفادات، ووٹ بینک اور لوگوں کو محتاج رکھنے کی سیاست کے باعث قدرتی آبی وسائل کو ترقی دینے کے بجائے بور اور ہینڈ پمپس پر انحصار کیا جاتا ہے، جو زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل کم کرنے کے ساتھ مستقبل میں سنگین ماحولیاتی مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔

Asad Younis Tanoli

22,019 views • 13 days ago

خیبرپختونخواہ میں یہ وہ درخت تھے جنہوں نے کلائوڈ برسٹ نہیں ہونے دینا تھا اور نہ ہی وہاں ان درختوں کی موجودگی میں انسانی آبادیوں پر پتھروں کی بارش ہوسکتی تھی۔ جن درختوں نے پتھروں کو باندھ رکھا تھا وہی کاٹ دیے گئے۔ ان درختوں نے پتھروں کو بارش کے سیلاب ساتھ آبادیوں پر گرنے سے روکنا تھا اور وہی بے رحمی سے کاٹ ڈالے گئے تو پھر بارش کا پانی پتھروں سمیت ہی آبادیوں پر گرنا تھا۔ یہ ایک دو سال پرانی ویڈیو پوسٹ کرنے پر خیبرپختونخواہ کے دوستوں سے فیس بک پر ہزاروں گالیاں کھائی تھیں کہ یہ لوگوں کا کاروبار ہے۔ تم ہمارے مامے لگتے ہو۔ تم کاروبار اور لوگوں کے دشمن ہو۔ وہ بھول گئے جب درخت کٹتے ہیں تو ساتھ پتھر بھی وہاں سے کاٹ کر ہٹائے جاتے ہیں۔ درختوں کی گہری جڑیں، پہاڑی مٹی اور پتھروں کی ایک دوسرے کے ساتھ جڑت ہوتی ہے جو ایک بھی درخت کاٹنے سے ڈسٹرب ہوتی ہے اور پانی کا ایک ریلہ ان بکھرے پتھروں کو کھسکا دیتا ہے۔ ان پتھروں کو صرف درختوں کے طاقتور تنے ہی روک سکتے تھے جو پہلے ہی کٹ چکے تھے۔ لہذا پتھروں کی بارش ہونی تھی جو بہت معصوم جانوں کو شکار کر گئی۔ کئی گائوں کے گائوں ان پتھروں اور mud میں گم ہوگئے۔ ویسے یہی حال اب اسلام آباد کے مارگلہ پہاڑوں کے ساتھ ہورہا ہے ۔ یقین نہیں آتا تو ڈی 12 سیکٹر سے اوپر شاہ اللہ دتہ میں جا کر دیکھ لیں کیسے پہاڑ کاٹے جارہے ہیں، گھر بنائے جارہے ہیں، بربادیوں کے قصے لکھے جارہے ہیں۔ ایک افغان وار لارڈ کے عزیز نے تو شاہ اللہ دتہ میں سب سے اونچی پہاڑی کو کاٹ اور کھود کر سب سے بڑا “وائٹ ہاوس” بنارکھا ہے۔ اس وارلارڈ کی دیکھا دیکھی اب وہاں سینکڑوں گھر ابھرے ہیں اور سارے پہاڑوں کو کھود اور درختوں کا کاٹ کر بنائے جارہے ہیں۔ سی ڈی اے اور اعلی حکام کو اپنی چونچ گیلی کرنے سے غرض ہے شہر سے نہیں۔ سی ڈی اے یہاں شہر کو کھودنے پر لگا ہوا ہے تو لوگ وہاں پہاڑ کھود رہے ہیں۔ اسلام آباد کے سرکاری بابوز اور حاکموں اس نعرے پر زندہ ہیں۔ آگ لگے بستی میں، ہم اپنی مستی میں۔ Shehbaz Sharif Capital Development Authority - CDA, Islamabad Muhammad Ali Randhawa SenatorSherryRehman Dr. Tariq Fazal Ch. Maryam Nawaz Sharif Ali Amin Khan Gandapur

Rauf Klasra

22,795 views • 1 year ago

آپ اسلام آباد کو اپنی آنکھوں کے سامنے بگڑتے دیکھ رہے ہیں۔ جو کام کبھی دیگر شہروں میں ہوتا تھا وہ اب یہاں شروع ہے۔ یہ جناح ایونیو ہے جہاں اب فٹ پاتھ پارکنگ بنتا جارہا ہے۔ سی ڈی اے ہو یا اسلام آباد ٹریفک پولیس ان کی ترجیح شہر کی خوبصورتی یا ٹریفک/پارکنگ ایشوز پر سختی کرنی نہیں رہ گئی۔ سی ڈی اے بابوز ویسے ہی پانچ دس ارب روپے کم پراجیکٹ سے کم میں ہاتھ نہیں ڈالتے۔ میں حیران ہوتا ہوں کیا سی ڈی اے کے دس بارہ ہزار ملازمین یا ضعلی انتظامیہ کے سینکڑوں ملازم:بابوز/افسران کو شہر کی بگڑتی صورت حال نظر نہیں آتی۔ کیا وہ شہر میں کبھی نہیں نکلے؟ سب شہروں کو دھیرے دھیرے بگاڑنے کے بعد اب اس طرح اپنے فرائض کو پورا کرنے میں ناکامی کے اب انہوں نے اسلام آباد کو بھی برباد کرنے کی ٹھان لی ہے۔ ہمارے بابوز ہوں یا پولیس یہ کام کیوں نہیں کرتے؟ اگر مین روڈ کے فٹ پاتھ پر پارکنگ بن گئی ہے تو اندازہ کر لیں باقی شہر میں یہ افسران اپنے کام میں کتنے سنجیدہ ہیں۔ یہ سب اعلی عہدے سفارشوں پر لیتے پیں لیکن ان عہدوں کے ساتھ جڑی بھاری ذمہ داریاں نہیں لیتے۔ انہیں یقین ہے اعلی عہدے کارگردگی نہیں خوشامد اور سفارش پر ملتے پیں لہذا یہ سب مست ہیں۔ ہوسکتا ہے یہ سب آپ کو بڑی معمولی بات لگے گی لیکن یہ معمولی باتوں کو نظر انداز کر کے ہی آپ نے اپنے شہر برباد کیے ہیں۔ یہی نتیجہ اب یہاں اسلام آباد میں بھی نکل رہا ہے۔ Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Sohail Raja Khurram Nawaz Palwasha Khan Sardar Ayaz Sadiq Capital Development Authority - CDA, Islamabad Islamabad Police Junaid Akbar Ahsan Iqbal Attaullah Tarar

Rauf Klasra

65,630 views • 1 month ago

بہت سارے سرکاری افسران کو اچھا نہیں لگتا کہ اسلام آباد شہر کی بگڑتی صورت حال کو سامنے لایا جائے۔ چند وزیروں کو بھی اچھا نہیں لگتا اور شاید بعض دفعہ تو عوام کو بھی نہیں لگتا جو ہر گند اور گندگی اور ہلڑ بازی میں زندگی گزارنے کی عادی ہوچکی ہے۔ اب یہ ویڈیو دیکھ لیں ۔ کیا آپ یقین کرسکتے ہیں یہ بلیو ایریا اسلام آباد کی ہے۔ جب نالائقی اور سستی اور کام نہ کرنے کا مرض اس سطح پر پہنچ جائے تو پھر شہر تباہ ہوجاتے ہیں۔ کہیں سے لگتا ہے یہ اسلام آباد کا پوش ایریا یا مارکیٹ ہے۔ اب ہر جگہ اسلام آباد میں یہی صورت حال ہے۔ یہ اب new normal ہے شہر میں۔ ایسے مناظر اسلام آباد میں نہیں ملتے تھے۔ اب یہ سب نارمل ہوگیا ہے۔ کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔ افسران بقول خواجہ آصف مال کما کر بیرون ملک جائیدادیں اور شہریتیں لینے میں مصروف ہیں۔ شہر جانے شہری جانیں بچے یا نہ بچے۔ سی ڈی اے، عوام، بائیکرز اور دکاندار مل کر بڑی محنت سے شہر کو تباہ کررہے ہیں۔ یہ راجہ بازار پنڈی لگ رہا ہے اسلام آباد نہیں۔ جب افسران اور اہلکار نااہل ہوں گے تو شہر کی مارکیٹس یہی منطر پیش کریں گی۔ ویڈیو کرٹسی || امجد صدیق Capital Development Authority - CDA, Islamabad Muhammad Ali Randhawa DC Islamabad Islamabad Police Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Khawaja M. Asif SenatorSherryRehman Abdul Qadir Patel Nabil Gabol Dr. Tariq Fazal Ch.

Rauf Klasra

43,231 views • 1 year ago

یہ ارب پتی سردار تھا۔ اربوں روپیہ رائلٹی سوئی گیس کے نام پر یہ حکومت پاکستان سے لیتا تھا۔۔ اس کو پرائیویٹ جہاز دیے جاتے تھے۔۔ مگر اس کے اپنے علاقے میں سوئی گیس نہیں تھی کیونکہ نواب کو یہ پسند نہیں تھا کہ اس کے گھر میں گیس ہو اور سارے گاؤں کے گھروں میں بھی گیس ہو۔۔ اور یہ بات اس کو پروپگینڈا کرنے میں بھی مدد دیتی تھی کہ پاکستان ہمیں لوٹ رہا ہے دیکھیں پورے پاکستان کو سوئی گیس جاتی ہے اور سوئی میں گیس نہیں ہے ‌‌ ۔۔ یہ کمینہ یہ نہیں بتاتا تھا کہ اس نے خود منع کیا ہوا ہے کہ میرے گاؤں کو گیس نہیں دی جائے گی۔ اس نے اپنی ہی قوم کے لاکھوں لوگوں کو مار کر نکال دیا تھا اور ان کی زمینوں پر قبضہ کیا ہوا تھا۔‌ سرفراز بگٹی جو اج وزیراعلی ہے اس کا پورا خاندان بلوچستان سے نکال کر پنجاب میں خوار ہوتا تھا۔ مشرف نے صرف یہ کیا تھا کہ ان دربدر بلوچوں کو واپس لے جا کر ڈیرہ بگٹی میں اباد کر دیا۔‌ اس بات پر ناراض ہو کر اکبر بگٹی نے بغاوت کر دی۔ اور خودکشی کر لی اور ہمارے کئی جوان شہید کر دیے۔‌ اب لوگ اس کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اپ خود بکٹی قبیلے سے پوچھیں کہ یہ کتنا کمینہ اور ح**** تھا۔۔ بلوچستان کو ان سرداروں نے لوٹا ہے اور پتھر کے دور میں رکھتے تھے۔۔ جیسے پیپلز پارٹی اندرون سندھ کو پتھر کے دور میں رکھتی ہے ۔ ان نوابوں اور وڈیروں کا ایک ہی طریقہ واردات ہے۔

اللہ کے بندے۔۔۔

68,230 views • 1 month ago

آج جب پوری دنیا پاکستان میں ایران امریکہ کے مزاکرات کی ٹینشن میں غرق ہے اس وقت وزیرداخلہ ایک دفعہ پھر محسن نقوی کلہاڑا اور بلڈوزر لے کر اسلام آباد کی خوبصورتی کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ پہلے سابق چیرمین رندھاوا کے زریعے ہزاروں درخت کٹوا ڈالے، جنگل اڑا دیے تو اب وہ نئے چیرمین سہیل اشرف کو لا کر مارگلہ پہاڑوں کے پیچھے پڑ گئے ہیں جہاں ایک ہزار ایکڑ ان کے نشانے پر ہے اور دنیا بھر سے بڑے بڑے بلڈرز نازل ہورہے ہیں جو اسلام آباد کو وزیرداخلہ کی فرمائش پر شنگھائی اور نیویارک بنائیں گے اور سکائی لین بنا کر دیں گے۔ حیران ہوں ایک وزیرداخلہ کا ان چیزوں سے کیا لینا دینا ہے؟ کیا اسلام آباد کے شہریوں نے ان سے ریکوسٹ کی کہ اسلام آباد کو مین ہیٹن اور شنگھائی بنا دیں یا کابینہ نے فیصلہ کیا یا پھر پارلیمنٹ میں کوئی بحث ہوئی اور قانون بنا کہ سب مارگلہ بلڈروز کر دو۔۔ ایک اکیلا وزیر کیسے اتنے بڑے فیصلے کرسکتا ہے جس کا اثر یہاں رہنے والے تیس لاکھ لوگوں پر پڑے گا ؟ مکمل پروگرام لنک 👇 via YouTube Neo News Rabeea Fawad Ahmed Nasrullah Malik Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Ahsan Iqbal SenatorSherryRehman Dr. Musadik Malik Shazia Atta Marri Raja Khurram Nawaz Palwasha Khan Hina Rabbani Khar Dr. Sharmila Sahibah Faruqui (Phd) s.i Pakistan Environmental Protection Agency, GoP Bilal Azhar Kayani Dr. Tariq Fazal Ch. Ishaq Dar Khawaja Saad Rafique Khawaja M. Asif Capital Development Authority - CDA, Islamabad Sohail Sher Afzal Khan Marwat

Rauf Klasra

71,486 views • 4 months ago

پی ٹی آئی کے باجوڑ سے رکن اسمبلی ڈاکٹر حمیدالرحمن کا بڑا دعوی ہفتے کے روز ضلع باجوڑ کی تحصیل خار میں سکیورٹی فورسز سپانسر لوگوں نے دہشتگردوں کی موجودگی کی بنا پر ایک گاؤں پر چھاپا مارا اور وہاں پر چادر اور چار دیواری کے تقدس کو پامال کیا اور اس چھوٹے بچے کو اپنی ماں کی گود میں شہید کر دیا اس کے ساتھ ساتھ اس گاؤں کے جتنے گھر تھے ان سب میں جتنا کچھ موجود تھا اسے مال غنیمت کے نام پر لے گئے جس میں سونا نقدی اور کپڑے بھی شامل ہیں اس کی تمام تفصیل بھی موجود ہے سید باچا کے گھر سے دو تولے سونا اور 72 ہزار روپے لے گئے فضل حیات کے گھر سے ایک لاکھ روپے ساتھ لے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ گھروں سے کپڑے بھی لے گئے اس کے بعد اہداف بھی حاصل نہیں کیے گئے وہاں لوگوں نے احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ ان لوگوں کے خلاف انکوائری ہو کیونکہ یہ ایک بار نہیں ہوا روزانہ کی بنیاد پر ان علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کے ادارے اور اہلکار مختلف شکلوں میں اور مختلف کپڑوں میں چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہیں اس کے علاوہ ہمارے علاقے چھوٹے ماموند میں مختلف علاقے ہیں جہاں روزانہ لاشیں اٹھانا معمول ہے اس پورے ایوان کو پتہ ہے کہ جون 2025 میں باجوڑ میں آپریشن کیا گیا علاقے کلیئر کیے گئے لوگ بھی گھر ہوئے خیموں میں جا کے رہے لیکن اس کے باوجود کلیر علاقوں میں آپریشن کر رہے ہیں اور تلاشی لے رہے ہیں اور ماٹر گولی فائر کر رہے ہیں اس کا کیا مطلب ہوا؟ ایک سال میں ابھی تک وہ علاقہ کلیئر نہیں ہو سکا رکن اسمبلی ڈاکٹر حمید الرحمن

Muhammad Faheem

11,320 views • 4 months ago

محسن نقوی صاحب جب بھی ملک سے باہر جاتے ہیں تو اپنے ساتھ چیرمین سی ڈی اے کو ضرور لے جاتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے چین گئے تو محمد علی رندھاوا کو لے گئے۔واپسی پر ان کی چھٹی ہوگئی۔اب ایران گئے ہیں تو نئے چیرمین سہیل اشرف کو لے گئے ہیں جس پر داخلہ کمیٹی چیرمین راجہ خرم نواز نے کہا ہے وزیرداخلہ خود بھی اجلاس میں نہیں آتے اور جن افسران نے آنا ہوتا ہے ان کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں جن سے کمیٹی میں کارگردگی پر سوالات کرنے ہوتے ہیں۔ راجہ صاحب نے کہا نقوی صاحب افسران تو پاکستان چھوڑ جایا کریں۔ ویسے تو محسن نقوی کا امریکہ ایران میں پیغام رسانی کا کام تو سمجھ آتا ہے کہ وہ ایران میں ہیں لیکن نئے چیرمین سی ڈی اے کو ساتھ ایران لے جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔ ویسے اگر سہیل اشرف صاحب ایک ہفتے سے ایران میں ہیں تو وہ زرا ایرانی افسران/اداروں سے یہ تو سیکھ لیں کہ شہروں کو صاف ستھرا کیسے رکھا جاتا ہے۔ کچھ ٹریننگ لے لیں۔ ہمارے حاکم واپسی پر ایران میں صفائی کی تعریف تو کرتے ہیں لیکن اسلام آباد کو لوٹ کر مزید گندہ کرتے ہیں۔تہران صاف ستھرا اس لیے بھی سب کو لگتا ہے کیونکہ ان حکمرانوں اور بابوز نے اسلام آباد کو گند اور گندگی کا ڈھیر بنا رکھا ہے۔ اگر صاف ستھرے اسلام آباد سے جاتے تو ایرانی صفائی کی تعریف یقینا کرتے لیکن بہت متاثر نہ ہوتے۔ مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ سب حکمران اور بابوز دنیا بھر کے صاف ستھرے شہروں کے سیر سپاٹے تو کرتے ہیں اور متاثر ہو کر بھی لوٹتے ہیں لیکن اپنے شہروں کو گند اور گندگی میں رکھ کر کیسے مطمئن رہتے ہیں؟ حکمرانوں، بیورکریٹس سے عوام تک ہمیں گند اور گندگی کیوں پسند ہے؟ Neo News Fawad Ahmed Nasrullah Malik Rabeea Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Sohail Capital Development Authority - CDA, Islamabad Raja Khurram Nawaz Sardar Ayaz Sadiq SenatorSherryRehman Palwasha Khan Shazia Atta Marri Hina Rabbani Khar Nafisa Shah Ishaq Dar Dr. Tariq Fazal Ch. Anjum Aqeel Khan Khawaja M. Asif Attaullah Tarar

Rauf Klasra

60,297 views • 3 months ago

گاڑی پانی میں گر جائے تو کیا کرنا ہے؟ بہت سے لوگ صرف اس وجہ سے ڈوب گئے کہ وہ نہیں جانتے تھے:- اگر آپ خود کو گاڑی میں پانی کے اندر پاتے ہیں تو گھبرائیں نہیں۔ 1۔ دروازے کو دھکیلنے کی کوشش میں اپنی توانائی ضائع نہ کریں۔ 2۔ کھڑکی مت کھولیں، گاڑی میں داخل ہونے والا پانی آپ کو باہر نہیں نکلنے دے گا۔ اور اگر اندر داخل ہو گیا تو گاڑی مکمل پانی میں ڈوب جائے گی۔ شیشے اور دروازے بند رہنے دیں۔ 3۔ سر کے پیچھے والے ہیڈ ریسٹ کو کھینچ کر اوپر کی سمت نکالیں۔ 4۔ اس کی اسٹیل کی تیز نوک کا استعمال کریں اور پچھلی کھڑکی کے شیشے کو توڑ دیں جو ڈگی کے اوپر لگا ہوتا ہے۔ ▶️ انجنیئرنگ اور ڈیزائن کے لحاظ سے کار پانی میں تیرتی ہے اور پچھلی کھڑکی ہمیشہ باہر نکلنے کی سمت ہو گی۔ جیسا کہ تصویر میں دکھائی دے رہا ہے۔ یہ آپ کی جان بچا سکتا ہے۔ انجن بھاری ہوتا ہے اس لئے وہ حصہ پانی میں ڈوب جائے گا مگر ٹائروں کی ہوا کے باعث تیہہ تک نہیں جائے گا۔ پچھلے ٹائروں کی وجہ سے پچھلا حصہ تیرتا رہے گا اور پانی سے باہر رہے گا۔ گاڑی ڈوبے گی تب جب پانی اس کے اندر جا کر اسے بھاری کر دے گا۔ اپنے حواس ٹھیک رکھیں۔ پینک مت ہوں۔ دماغ اور سائنس کا استعمال کریں۔ تیرنا نہیں آتا تو بھی کوئی بات نہیں۔ پچھلی سیٹ میں سالڈ فوم ہوتا ہے وہ فلوٹ کر سکتی ہے۔ اسے آرام سے نکالیں اور پچھلے شیشے سے باہر نکال کر کچھ سواریوں کو اسے پکڑ کر پانی پر تیرنے دیں اس کے اوپر نہ چڑھیں بلکہ سائیڈوں پکڑ کر تیریں۔ کوئی چھوٹا بچہ البتہ بٹھا دیں اور اسے پکڑ کر رکھیں۔ کشتی کی طرح ہاتھوں سے پانی پیچھے کی طرف دھکیلتے ہوئے کنارے کی سمت بڑھیں۔ دوسرا سپیئر وہیل یا سٹپنی نکال کر اس کی مدد سے بھی تیرا جا سکتا ہے۔ پچھلی سیٹ کی بیک بھی آرام سے اتر سکتی ہے اسے بھی تیرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زندگی بچانے کے لئے اعصاب اور ڈر پر قابو پانے سے بہت مدد مل سکتی ہے۔ اپنی گاڑی میں لگی اور پڑی ہر چیز پر ریسرچ کیا کریں۔ یہ ریسرچ آپ کی جان بچانے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ انجن کی جانب سے اگر پانی اندر آنا شروع ہو تو فوری طور پر نکلنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں گاڑی بنانے والے نے ہر سوراخ سیل کیا ہوتا ہے۔ ہمارے مکینک ان کو کھول دیتے ہیں لاپرواہی سے۔ جو جان لیوا ہو سکتا ہے۔ احتیاط کریں۔ چیک کرتے رہا کریں اپنی گاڑی کو۔ اللہ پاک آپ اور ہم سب کو اپنی امان میں رکھیں۔

Pakistan Tourism

83,244 views • 1 year ago

خدا بیوروکریٹ/سی ڈی اے چیرمین محمد علی رندھاوا صاحب کو لمبی عمر دے لیکن اگر یہ ایک دو سال مزید چیرمین سی ڈی اے رہے تو یہ پورے اسلام آباد کو گنجا اور درختوں سے پاک صاف بلکہ برباد کر کے جائیں گے۔ ماحول دشمنی ان کے دور میں عروج پر ہے۔ شہر بدترین حالت میں ہے اور رندھاوا صاف کلہاڑی اٹھا کر جنگل کاٹنے نکل جاتے ہیں۔ پہلے ہم شکایت کرتے تھے کہ وزیرداخلہ/سی ڈی اے چیرمین/بابوز باہر سے آتے ہیں لہذا اس شہر کی صفائی، خوبصورتی یا ترقی سے کوئی کام نہیں ہوتا۔ رندھاوا صاحب کا پتہ چلا وہ تو یہیں کے ہیں۔ ان سے بہتر تو وہ چیرمین تھے جو یہاں کے نہیں تھے کہ انہوں نے وہ بربادی نہیں کی جو رندھاوا صاحب کے دور میں ہورہی ہے۔ وزیرداخلہ محسن نقوی سے بھی شدید گلہ ہے کہ ان کے سی ڈی اے معاملات سنبھالنے کے بعد یہاں جنگل اور درختوں کی تباہی زیادہ ہورہی ہے اور وہ ان افسران کو پروٹیکٹ کررہے ہیں جو شہر کی خوبصورتی کو تباہ کررہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف سے تو ہرگز گلہ نہیں کہ وہ تو پہلے لاہور میں اس طرح کے کام کر کے سموگ کے حوالے کر آئے تھے۔ ان کے نزدیک جنگل درخت اہم نہیں سریا سمینٹ اہم ہے۔ ماحولیات کے وزیر مصدق ملک صاحب تو امریکہ سے آئے تھے جہاں ہر طرف درخت ہی درخت ہیں وہ کہاں غائب ہیں۔ ان کا کام صرف ٹی وی شوز پر سیاسی شوز کرنا اور اپنے باس کی کرسی کا دفاع ہے؟ ان کا کیا جاب ہے کہ ماحول تباہ کیا جارہا یا جس طرح سی ڈی اے اسلام آباد کا ماحول تباہ کررہا ہے اس میں ان کی حمایت شامل ہے ؟ سینٹر شیری رحمن صاحبہ /ممبران کمیٹی کہاں غائب ہیں جو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ماحول کی چیرمین ہیں۔انہیں ہمارے خوبصورت شہر کی چیرمین سی ڈی اے کے ہاتھوں مسلسل بربادی نظر نہیں آرہی ؟ افسوس ہے یہ سب جنہوں نے ان درختوں شہر اور ماحول کی حفاظت کرنی تھی وہ اب اس کی بربادی میں شریک ہیں۔ خوبصورت شہر برباد ہورہا ہے اور ہر طرف خاموشی کا راج ہے۔ بابوز اور حاکم مل کر برباد اسے کررہے ہیں۔ یہ اس شہر کے ساتھ ظلم کررہے ہیں۔ Shehbaz Sharif Mohsin Naqvi Khawaja M. Asif Khawaja Saad Rafique Capital Development Authority - CDA, Islamabad SenatorSherryRehman Dr. Musadik Malik Maryam Nawaz Sharif Prime Minister's Office Muhammad Ali Randhawa Dr. Tariq Fazal Ch. Dr. Sharmila Sahibah Faruqui (Phd) s.i Shazia Atta Marri Nafisa Shah

Rauf Klasra

61,670 views • 8 months ago