Video wird geladen...

Video konnte nicht geladen werden

Zur Startseite

اسلام آباد پولیس اکیڈمی کی طرف سے سندھ پبلک سروس کمیشن کو لکھا گیا مراسلہ (دراصل ایک زناٹے دار تھپڑ)- مراسلے میں لکھا گیا:- "آپ ڈی ایس پی لیول کے جن افسران کو سندھ پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کروا کر ہماری اکیڈمی میں ٹریننگ کیلئے بھیجتے ہیں...

35,026 Aufrufe • vor 6 Tagen •via X (Twitter)

0 Kommentare

Keine Kommentare verfügbar

Kommentare vom Original-Post werden hier angezeigt

Ähnliche Videos

اس ویڈیو میں ایک خاتون ہاتھ جوڑ کر فریاد کرتی نظر آ رہی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے تشویشناک منظر ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر وفاقی دارالحکومت میں عوام کو انصاف اور سروس کے لیے اس طرح اپیلیں کرنا پڑیں تو پھر ذمہ داری کس کی بنتی ہے؟ دو سال گزرنے کے باوجود اگر اسلام آباد پولیس کی سروس ڈلیوری پر سوالات اٹھ رہے ہیں تو یہ وقت ہے کہ اس پورے نظام کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ پاکستان میں قابل اور تجربہ کار افسران کی کمی نہیں، اس لیے عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا وفاقی پولیس کو ایسے افسران کے سپرد نہیں ہونا چاہیے جو عملی تجربے کے ساتھ دارالحکومت کی پولیس کو بہتر انداز میں چلا سکیں۔اسلام آباد پولیس کے آپریشن ڈویژن کے حوالے سے بھی یہ تاثر سامنے آ رہا ہے کہ اختیارات کا توازن درست نہیں۔ ایس ایس پی آپریشن کو وسیع اختیارات حاصل ہیں جبکہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے سینئر عہدے کو مکمل طور پر مؤثر کردار ادا کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔حقیقت یہ ہے کہ ڈی آئی جی آپریشن جیسے تجربہ کار افسران اگر مکمل اختیارات اور سپورٹ کے ساتھ کام کریں تو اسلام آباد پولیس کا آپریشنل نظام کہیں زیادہ مضبوط اور مؤثر ہو سکتا ہے۔ عوام کی توقع صرف ایک ہے: دارالحکومت کی پولیس مضبوط، منظم اور حقیقی معنوں میں عوام دوست نظر آئے۔ Islamabad Police Mohsin Naqvi

Abbas Ahmed

12,152 Aufrufe • vor 5 Monaten

البدر ہائیر سیکنڈری اسکول میں پیش آنے والا واقعہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں کی حرمت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ سکول کی ایک قابل احترام، باحجاب، استانی کو صرف اس "جرم" کی پاداش میں زد و کوب کیا گیا کہ انہوں نے ایک طالبہ کو کلاس میں وقت کی پابندی نہ کرنے پر مختصر کھڑا کیا، طالبہ عیشال شاہد نے اگلے روز اپنی والدہ اور ماموں عبدالحفیظ (پولیس افسر، تعینات لیاری تھانے) کے ساتھ مل کر کلاس روم میں داخل ہو کر نہ صرف معزز استانی کے چہرے پر تھپڑوں کی بارش کر دی بلکہ ان کا نقاب پھاڑ کر انہیں لہو لہان کر دیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ایک استانی کی توہین ہے بلکہ اس قوم کی ماؤں، بہنوں اور تعلیم کے شعبے پر ایک حملہ ہے۔ ہم وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ سندھ اور آئی جی سندھ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ: عبدالحفیظ کو ملازمت سے برطرف کر کے فوری گرفتار کیا جائے۔ متاثرہ استانی کو مکمل تحفظ، انصاف اور علاج فراہم کیا جائے۔ وزیر تعلیم اور ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز واقعے کا نوٹس لے کر اسکول انتظامیہ سے باز پرس کریں کہ ادارے میں سیکیورٹی اور حدود کا خیال کیوں نہ رکھا گیا

Ch Asif Hamaiyon

65,256 Aufrufe • vor 1 Jahr